30/06/2025
نونہال سے مکالمہ
آصف محمود
یہ علی امین گنڈا پور تمہارا وزیر اعلی ہے ۔ ایسے آدمی کو وزیر اعلی بنانا یہ انسانی شعور کی توہین نہیں ؟
گنڈا پور کو چھوڑو ، تم ہمارے خان کو دیکھو۔
تم نے پنجاب جیسا صوبہ عثمان بزدار کو سونپ دیا۔ کیا اس سے بڑی مضحکہ خیز حرکت کوئی ہو سکتی ہے؟ کہاں ہے اب عثمان بزدار؟
عثمان بزدار کو چھوڑو ، تم ہمارے خان کو دیکھو۔
تم نے وزارت اطلاعات فواد چودھری کو دے دی کیا یہ تھا تمہارا حقیقی چہزہ؟
فواد چودھری ک چھوڑو تم ہمارے خان کو دیکھو۔
تم نے پرویز الہی جیسے روایتی سیاست دان کو جسے ایک زمانے میں تم ہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا کرتے تھے پارٹی کا اہم عہدہ دے دیا، کیا یہ تبدیلی تھی؟
پرویز الہی کو چھوڑو ، تم ہمارے خان کو دیکھو۔
تم نے نواز شریف کے کرپشن کے مقدمات کا دفاع کرنے والے نواز شریف کے وکیل کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنا دیا؟
تم سلمان اکرم راجہ کو چھوڑو ، آصف بھائی ، تم ہمارے کپتان کو دیکھو۔
تم نے فردوس عاشق اعون کو بھی وزارت دے دی؟
تم فردوس عاشق اعوان کو چھوڑو ، تم ہمارے کپتان کی بات کرو۔
تمہاری ساٹھ فی صد کابینہ دوسری پارٹیون سے ائے لوگوں پر مشتمل تھی ، کیا یہ تبدیلی تھی؟
تم ان لوٹوں کو چھوڑو آصف بھائی ، تم ہمارے کپتان کی بات کرو۔
تم نے وزارت قانون ایم کیو ایم کے بندے کو دے دی؟
تم فروغ نسیم کو چھوڑو ، تم ہمارے کپنان کی بات کرو۔
تم نے کتنےلوٹوں کو تبدیلی کا دلہا بنایا؟
آصف بھائی لوٹوں پر لعنت بھیجو تم ہمارے کپتان کی بات کرو۔
( یہاں آ کر نونہال بھائی نے ایک لمحے کو سنجیدہ اور مدبر ہونے کی پوری کوشش کرتے ہوئے کہا : دیکھو آصف بھائی جب اوپر کپتان ٹھیک ہوتا ہے تو نیچے سب کچھ ٹھک ہوتا ہے۔ اس لیے یہ اہم نہیں کہ ٹیم میں لوٹے کتنے تھے ، اہم یہ ہے کہ ٹیم کا کپتان کون ہے۔ بس تم ہمارے کپتان کی بات کرو)۔
اچھا تمہارے کپتان کی بات کر لیتے ہیں ،ا س نے وزارت عظمی میں کون سا اچھا اور برا کام کیا ، ذرا یہ گنوا دو؟
آصف بھائی تم بغض کا شکار ہو گئے ہو ، بھلا ایک اکیلا کپتان کیا کرے جب اس کے ساتھی ہی چور تھے۔ کپتان تو چاہتا تو ساری عمر شہزادوں کی طرح لندن میں گزار سکتا تھا ، بے چارا قوم کی خاطر دھکے کھاتا رہا۔ قصور کپتان کا نہیں ، اس کی ٹیم ہی نالائق ہے)۔
لیکن تم تو کہہ رہے تھے ٹیم کے لوٹے غیر اہم ہوتے ہیں اصل چیز صرف کپتان ہوتا ہے؟
تمہیں کہا ہے نا آصف بھائی تم ایسی باتیں نہ کرو ، بس تم ہمارے کپتان کو دیکھو، لیکن تم تو اس سے بغض رکھتے ہو ، توبہ توبہ ، مرشد سے بغض رکھتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف محمود