21/05/2026
سوشل میڈیا اور قربانی سنت ابراہیمی
ذوالحج کا چاند نظر آنے سے قبل ہی ہمارے مسلمان بھائی بہن عید مبارک کے مختلف پوسٹ بنا کر شیئر کر ہے ہیں۔ ان پوسٹس میں سنت ابراہیمی کی ادائیگی، اس کے فضائل، اس کی اصل روح سے ناواقف طریقوں سے پوسٹ شیئر کیے جارہے ہیں۔ کوئی گوشت کو محفوظ کرنے کے طریقے بتا رہا ہے، تو کوئی اس کو مختلف ڈشز بنانے میں جُٹا ہوا ہے۔ میں نے ابھی تک ایک پوسٹ بھی نہیں دیکھی جس میں اسلامی، شرعی اور سنت کے مطابق تقسیم کا کسی نے بتا یا ہو۔
میں آپ سب کا تھوڑا وقت اس معاملے پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
قربانی کے گوشت کا حکم کیا ہے؟
قربانی کا گوشت حلال، پاکیزہ اور تقسیم کے قابل ہوتا ہے۔ اسلام نے اس گوشت کے استعمال اور تقسیم کے بارے میں درج ذیل احکامات دیے ہیں:
🔹 1. گوشت کے تین حصے کرنا سنت ہے:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ:
> "رسول اللہ ﷺ اپنا قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرتے: ایک حصہ فقرا کو، ایک رشتہ داروں کو، اور ایک حصہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے رکھتے۔"
(بیہقی، شعب الایمان)
🔹 2. غریبوں کو دینا لازم ہے:
قربانی کا ایک حصہ لازمی طور پر محتاجوں اور غریبوں کو دینا چاہیے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
🔹 3. قربانی کے گوشت کو بیچنا جائز نہیں:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی فروخت نہ کرو، نہ گوشت، نہ کھال اور نہ کچھ اور۔"
(صحیح بخاری)
🔹 4. قصائی کو گوشت بطور اُجرت دینا منع ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "ہم نے قصائی کو اُجرت میں قربانی کا کچھ حصہ نہیں دیا۔"
(بخاری و مسلم)
🔹 5. قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا جائز ہے:
پہلے 3 دنوں سے زیادہ گوشت رکھنا ممنوع تھا، بعد میں نبی ﷺ نے اجازت دی:
> "اب تم کھا بھی سکتے ہو، ذخیرہ بھی کر سکتے ہو اور صدقہ بھی کر سکتے ہو۔"
(صحیح مسلم)
بہتر یہ ہے کہ تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔
✅ خلاصہ:
قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنا افضل ہے۔
غریبوں، رشتہ داروں اور اپنے لیے رکھنا جائز ہے۔
بیچنا یا قصائی کو اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں۔
تحریر اچھی لگے تو آگے ضرور شیئر کرنا
0301 4448841 سکسیس انسٹیٹیوٹ سلانوالی
عثمان حیدر اعوان مینجنگ ڈرایکٹر