Blog with Arslan

Blog with Arslan کہا ملتے ہیں معصوم لوگ ، دل کے صاف لوگ ، سادہ باتیں کرنے والے لوگ ، لوگوں میں خوشیاں بانٹنے والے لوگ

21/05/2026

😲

20/05/2026

تمہیں تو میری محبت کی لاج رکھنی تھی
تمہیں تو مجھ سے مکرنے کی کوئی لوڑ نہ تھی

14/05/2026

اس کے پاس دنیا تھی لوگ تھے وہ خوش ہے میرا فقط وہ ایک تھا بچھڑ گیا مجھے دکھ ہے

13/05/2026

حقیقت اور ہی کُچھ ہے، مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
جو اپنا ہو نہیں سکتا، اُسے اپنا سمجھتے ہیں

یہ درسِ اوّلیں مُجھ کو مِلا اپنے بزرگوں سے
بہت چھوٹے ہیں وہ، اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں

نہ جانے کیوں ہماری اُنکی اِک پل بھی نہیں بنتی
جو اپنا قبلۂ دِل، دولتِ دُنیا سمجھتے ہیں

اُن اہلِ نظر کی اِس شانِ استغنا کا کیا کہنا
جو تاجِ خُسروی کو خاکِ زیرِ پا سمجھتے ہیں

خُدا و مصطفٰےؐ سے ہٹ کے، وہ ہیں سخت دھوکے میں
جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں

بُرے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے، لیکن
جو اچھے ہیں، بُرے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں

نہیں ہے احتیاجِ لب کُشائی رُو برُو اُن کے
کہ اہلِ دِل، زبانِ دیدۂ بِینا سمجھتے ہیں

جو گُل کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں رُخِ گُلشن
وہ اربابِ نظر، قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں

کوئی درپردہ کس سے چل رہا ہے کتنی چالیں
سمجھ ہر چند ناقص ہے، مگر اتنا سمجھتے ہیں

نہ پُوچھو کُچھ، کہ کیا کُچھ دے دیا دینے والے نے
بڑا ہو لاکھ کوئی، ہم کسی کو کیا سمجھتے ہی

بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گُل فشانی پر
وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں

جو نکلیں جُستجو کا شوق لے کر راہِ جاناں میں
وہ ہر منزل کو اپنے پاؤں کا چھالا سمجھتے ہیں

قیامت سر پہ جو ٹُوٹے مصیبت دِل پہ جو آئے
حقیقت میں اُسے ہم مرضیِ مولا سمجھتے ہیں

لگا دی تہمتِ بادہ کشی اُن پر بھی واعظ نے
نصِیرؔ اُن کی نظر کو جو مے و مِینا سمجھتے ہیں۔

Address

Sillanwali

Opening Hours

Monday 12:00 - 13:00
Tuesday 03:00 - 04:00
Wednesday 01:00 - 12:00
Thursday 20:00 - 21:00
Friday 14:45 - 15:00
Saturday 13:00 - 14:00
Sunday 00:00 - 13:00

Telephone

+923021676557

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Blog with Arslan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Blog with Arslan:

Share