23/10/2020
فیصل آباد:( اسپیشل سروے رپورٹ
طیب احمد+ آفتاب نواز، عکاسی غلام نبی)
سپریم کورٹ آف پاکستان کی اجازت پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری تجاوزات کے خلاف آپریشن کے باوجود چوک گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں میں قبضہ مافیا سرگرم، گول لکڑ والا کا 50 فٹ چوڑا بازار صرف پندرہ سے بیس فٹ کا رہ گیا جو کہ ٹریفک اور پیدل آنے والے خریداروں کے رش کی وجہ سے اکثر بند رہتا ہے۔ شہری مشکلات سے دوچار ہونے لگے۔ مبینہ طور پر کارپوریشن کے عملہ کی ملی بھگت کے ساتھ ساتھ تجاوزات قائم کرنے والے قبضہ مافیا کو کچھ بااثر مسیاسی شخصیات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ۔ جس کی وجہ سے متعلقہ ادارے صوبائی و ضلعی حکومت کے سخت اقدامات کے باوجود ناکام نظر آتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق قبضہ مافیا کی طرف سے متعلقہ لینڈ انسپکٹر کو بھاری نذرانے دئیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جاتی اور اگر ضلعی افسران کی زیرنگرانی ہونے والے انسداد تجاوزات آپریشنز کے دوران وقتی طور پر کاروائی ہوتی ہے تو معمولی جرمانوں یا رشوت کی چمک سے ان بااثر افراد کو دوبارہ تجاوزات قائم کرکے کاروبار کرنے کی اجازت دے جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں جب متعلقہ لینڈ انسپکٹر شیر زمان سے موقف جاننے کی کوشش کی تو موصوف نے صاف انکار کرکے فون کاٹ دیا اور دوبارہ رابطے کی کوشش پر کال ریسیو نہیں کی۔ چوک گھنٹہ گھر کے آٹھوں بازاروں میں آج کل قبضہ مافیا کا راج ہے جن کی دھونس اور دھاندلی کی وجہ سے پورا بازار ہی تجاوزات کی نذر ہو کر رہ گیا ہے۔
پیدل چلنے والوں کیلئے فٹ پاتھوں پر بھی قبضہ مافیا براجمان ہے، یہی نہیں پارکنگ کے مسائل بھی سب کے سامنے ہیں۔ ٹریفک کا گزرنا تو دور پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔ سٹی ٹریفک پولیس کو بھی ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے لئے انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ۔ تجاوزات کی وجہ سے پریشان شہری درحقیقت اب عاجز آ چکے ہیں اور اس کا دہر پا حل چاہتے ہیں
اس گھمبیر صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن میونسپل کارپوریشن پنجاب حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کروانے میں کامیاب ہو گی یا پھر شہر میں جنگل کا قانون نافذ رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر محمد علی اکثر و بیشتر اپنے میڈیا بیانات میں یہ دعوی کرتے دکھائی دئیے کہ اب کی بارتجاوزات مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاون ہو گا۔
تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی سمیت حادثات اور پیدل چلنے والے افراد کی مشکلات کم کرنے کے لیے پنجاب حکومت کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ تاحال سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھا سکی جو کہ شہریوں کے لئے باعث تشویش ہے ۔