01/04/2026
مارچ کا مہینہ اور موسم بہار
صحن میں رنگ رنگ کے پھول کھلے تھے ۔ رنگ برنگی تتلیاں پھولوں کے گرد چکر لگاتیں۔ پرندے بھی نئے موسم میں خوش اور چہچہانے اور گھونسلے بنانے کی تیاری کرتے۔ تاکہ انڈے بچے نکال سکیں۔ مجھے اچھے لگتے تھے۔ مٹی کے دو برتنوں میں باجرے جوار اور دوسرے اناج پرندوں کے لئے ایک برتن میں ڈال دیتا اور دوسرے میں پانی ڈال کر چھت پر رکھ دیتا۔ کچھ روٹی کے ٹکڑے پھینک دیتا تاکہ کوے بھی کھا سکیں ایک لنگڑا کوا ہمیشہ ہمارے چھت پر آتا شائد کسی نے غلیل سے اس کہ ٹانگ توڑ دی تھی۔ صبح کا وقت پرندوں کے چہچہانے کا ہوتا ہے۔
مُوسمِ بہار درختوں کی ہریالی اور پھولوں کے کُھلنے کا موسم ہے.پھولوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی ہے، پھولوں کے گرد تتلیاں طواف کرتی ہیں،پرندے چہچہاتے ہیں،چوپاۓ خوش ہوکر چرتے ہیں۔
قدرت رنگا رنگ پھولوں،پتوں اور کونپلوں سے کھیتوں ،میدانوں اور کوہساروں کو بھر دیتی ہے، چاروں طرف خوشبو ہی خوشبو محسوس ہوتی ہے.اُجلی اُجلی سے فضا خوشگوار معلوم ہوتی ہے۔
اس موسمِ بہار میں لوگ خوش اور چست نظر آتے ہیں، اس میں زندگی نۓ روپ میں نظر آتی ہے، لوگ پارکوں،باغوں اور وادیوں کی سیر کو کِھنچے چلے جاتے ہیں،
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ موسم بہار میں دیہات اورقریہ جات میں واقع جنت نما بستیوں میں خوش حال زندگی بسر کرتے ہیں۔
یہاں فصلِ ربیع میں جا بہ جا زمیں سبز چادر اوڑھ لتی ہے، جگہ جگہ گھاس پات کے سرسبز و شاداب بچھونے اور ہرے بھرے ٹیلے نظر آتے ہیں۔
گھروں کے آس پاس اور گاٶں کے اطراف میں شاداب درخت پاٸے جاتے ہیں جہاں سدا چڑیا نغمہ سراٸی کرتی پھرتی ہیں، فصل بہار میں کوٸل اپنی سریلی آواز میں کوکو کر کےدیہی زندگی میں بہار لاتی ہیں۔
وقتِ سحر مرغ آذان دے کر بستی والوں کو جگاتے ہیں اور سویرے چڑیا بڑی دیر تک چہچہاتی پھرتی ہے۔
فضا صاف ستھری، ہوا خوش گوار اور ماحول جاں فزا ہوتا ہے۔
لہراتی نباتات اور لہلہاتی کھیتیاں گاٶں کے حسن کو چارچاند لگاتی ہیں۔
صبح کے وقت جانوروں کو خطِ آزادی دینا ، کھیتوں میں بیل کی جوڑی، بکریوں کا ریوڑ اور طرح طرح کے پرنددوں کا جھنڈ قدرت کا کرشمہ دکھاتے ہیں۔
باد بہار، باد بریں، بادِ صبا، باد سموم اور شام کی خنک ساز ہواٸیں گاٶں کی زندگی کو رونقیں بخشتی ہیں۔ پرندے شائد اپنا پیٹ بھرنے کے عادی ہو چکے تھے۔ اس لیے روز آتے تھے۔ صحن میں ایک کیکر کا بہت اونچا درخت تھا اس موسم کلچیٹ جس کو کالی چڑی بھی بولتے ہیں صبح سویرے بولتی بہت اچھی لگتی ۔ اس نے کیکر کی چوٹی پر ایک گھونسلا بنایا تھا۔ کلچیٹ بہت لڑاکی ہوتی ہے کوے کو اور چیل کو بھی مار لیتی ہے۔ صحن کھلا تھا ایک کنال سے کچھ زیادہ تھا۔ والد صاحب پودوں اور پھولوں کے شوقین تھے کافی پھولدار پودے اور توتوں کے دریک کے درخت تھے۔ ۔ کھلے موسم میں کھلی جگہ رات کی چاندنی میں لیٹنا یا تارے دیکھنا۔
1963 میں موسم صاف ہوتا تھا۔ گرد وغبار گاڑیوں کا دھواں نہ ہونے کے برابر تھا جہزوں کی آمدورفت کم تھی ۔ بےشمار تارے اور کہلشاں بھی نظر آتی تھی۔ چھت پر گرمیوں میں لیٹنے کا اپنا ہی مزہ تھا ۔ دن کو پھولوں کی بہار۔ دو بیریاں تھیں۔ توتوں کی ٹہنیوں سے کھارے بناتے جو چوزوں والی۔مرغی کو رات کو روکنے کے لئے استعمال ہوتی۔ بڑی مرغیاں دریک کی ٹہنی پر رات کو چڑھ جاتیں۔ اور ادھر بیٹھے بیٹھے سو جاتیں۔ صبح مرغے کی ازان ہوتی تو نیچے اترتی ۔ ہم بیر اور شہتوت کھاتے میٹھا ہوتا تھا۔ جب گرمی میں کوئی گڑھ پھوڑا نکلتا تو والد صاحب مرحوم دریک کے کڑوے پتے اتار کر لنگری میں پیس کر ہمیں دیتے۔ بہت کڑوا شربت تھا۔ والد صاحب کہتے یہ گڑ بہت کھاتے ہیں اس لئے ان کو پھوڑے نکلتے ہیں۔
[ ] جب ساون کا مہینہ آتا تو والد صاحب اپنے کھیتوں کے کناروں اور بنجر ٹیلوں پر پھلائی اور کیکر کے بیج کھرپے سے دبا دیتے۔ یوں ہماری زمینوں میں پھلائی ۔کیکر شیشم کے کافی درخت تھے۔ والد صاحب مرحوم کو پھلائی اور کیکر کی مسواک بہت پسند تھی ہمیں بھی بنا کر دیتے کہ اسے دانت مظبوط ہوتے ہیں۔ ہمارے کھیتوں میں کافی درخت تھے۔ ہم دس بہن بھائی تھے۔ چار بہنیں اور چھ بھائی تھے ۔ جب کسے کی شادی ہوتی تو ایک درخت کاٹتے تاکہ دیگیں بھی پک جائیں ۔ کبھی مسجد میں بھی کوئی درخت دے دیتے تاکہ سردیوں میں پانی گرم ہو۔ گیس نہیں تھی۔ گھر میں بھی پھلائی کیکر کی لکڑی سے چولہا اور تندور جلتا۔
مارچ کا مہینہ اور موسم بہار میرا پسنیدہ مہینہ ہے۔ اس موسم میں ایک تو سالانہ امتحان ہوتے تھے ۔ نتیجہ بھی عموماً 31 مارچ کو نکلتا اور میں جب نتیجہ سننے کے لئے جاتا تو ولدہ ستبرگے اور گلاب چمبیلی کے پھولوں کا ہار سوئی دھاگے سے پرو کر دیتی کہ گلے میں ڈال کر جاو اور پاس ہونے کی صورت میں استاد جی کے گلے میں ڈال دینا۔ کیسا اچھا زمانہ تھا۔ نئی کلاس میں ترقی ہوتی اس دفعہ میں آٹھویں سے پاس ہوکر جماعت نہم میں آیا نئی کتابوں کی لسٹ ملی۔ پہلی تاریخ کو میں والد مرحوم کے ساتھ جا کر نویں کلاس کی کتابیں خرید کر جلدیں چڑھا لیں تاکہ سال پورا چل سکیں۔ 15 اپریل کو نئی کلاس شروع ہونی تھی۔ مجھے پڑھنے کا شوق تھا۔ نئی کتابیں کلاس شروع ہونے سے پہلے ہو پڑھتا رہتا تھا۔ خاص کر اردو کی کتابیں جن میں کہانیاں مضامین افسانے وغیرہ ہوتے تھے۔ غلام عباس کا افسانہ اور کوٹ اچھا لگتا تھا اس کے علاوہ۔ لکڈی کی ٹانگ اور پریم چند کا بہترین افسانہ پنچائت بہت پسند تھا۔ اس میں ہمارے دیہاتی کلچر کی عکاسی کی گئی تھی ۔ شاعری کی کتاب میں غالب کی غزلیں میر تقی میر رفیع سودا۔ میر درد وغیرہ پڑھتا ۔لیکن غالب کی ایک غزل بار بار پڑھتا ۔ غالب کی غزل۔۔
ڈبویا مجھ جو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
اس مصرعے پر بہت غور کرتا۔ کہ غالب نے ایسا کیوں لکھا۔ کیا وہ اپنی زندگی سے اتنا تنگ تھا۔
اس کے علاوہ تاریخ میں بھی دلچسپی تھی اور جغرافیہ بھی فیورٹ تھا۔ سائینس میں بھی دلچسپی تھی ۔ مختلف تجربے غور سے پڑھتا۔ مثلاً نیوٹن کی چھاتی پر سیب گرا تو وہ خوشی سے چیختا چلاتا دوڑ پڑا۔ مل گیا جواب مل گیا۔ آئن سٹائین بھی اچھا لگتا۔ کیونکہ فلکی علوم میں دلچسپی تھی۔ خاص کر گیلیلیو کی دور بین۔ سولویں صدی میں اٹلی میں اس نے بتایا کہ زمین گول ہے اور زمین جیسے اور سیارے اور چاند دریافت کئے ۔انگلش کی کتاب میں ایک ناول تھا گولیورز ٹریولز۔ Guliver's Travels. اسمیں گولیور انگلینڈ سے ایک بحری سفر پر روانہ ہوتا۔ بد قسمتی سے طوفان سے جہاز ٹوٹ جاتا۔ اور گولیور ایک لکڑی کے تختے پر ایک جزیرے liliput میں پہنچ جاتا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کو نیند آ جاتی ۔ جب آنکھ کھلتی تو چھوٹے چھوٹے بندے جن کا قد 5 انچ تھا اس کے سر سینے اور پورے جسم پر چڑھے ہوئے تھے ۔ وہ آپس میں کچھ اپنی زبان میں بات کرتے لیکن گولیور کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے ایک lilliputian کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنے کان کے قریب لے گیا۔ وہ بونا چیخ چیخ کر بات کر رہا تھا لیکن بے سود۔ اتنے میں انہوں نے گولیور کو موٹے موٹے رسوں سے کلے ٹھونک کر باندھ دیا۔ بہت دلچسپ کہانی تھی۔
وہاں سے جان چھوٹتی تو وہ انگلینڈ واپس آ کر ڈائری میں داستان لکھی۔ پھر دوبارہ ایک بحری سفر پر روانہ ہوتے۔ پھر بحری جہاز طوفان کی زد میں آ جاتا۔ اور وہ ایک اور جزیرے پر پہنچ جاتے ۔ وہ ایک مکئی کی فصل میں چھپ گیا ۔ مکئی کے تنے درختوں کی طرح موٹے تھےگولیور نے چھلی تک پہنچنے کے لئے کافی جمپ مارے لیکن چھلی کافی اونچی تھی۔ اتنے میں ایک بہت بڑا گھوڑے جتنا چوہا اس کے پاس سے گزرا گولیور خوف زدہ ہو گیا۔ لیکن چوہے کی نظر اس بونے گولیور پر نہیں پڑی۔ تھوڑی دیرمیں ایک مرد اور عورت مکئی کاٹنے کے لئے آئے ۔ ان کے قد 60 فٹ کے لگ بھگ تھے۔ وہ باتیں کر ریے تھے تو گولیور کو کانوں میں انگلیاں ٹھونسنی پڑیں۔ان کی آواز لوڈ سپکر کی طرح تھی۔ وہ مکئی کاٹ رہے تھے۔ گولیور کو بھوک لگی وہ رینگتا ہوا ایک چھلی تک پہنچا لیکن کافی سخت اور موٹی تھی۔ ان لوگوں کی نظر گولیور پر پڑی تو انہوں نے گولیور کو اوپر اٹھایا۔ گولیور کچھ کہنے کی کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے اس کوپکڑ کر اپنے کان کے قریب کیا۔ لیکن گولیور کے چیخنے کے باوجود وہ اس کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ گولیور ڈر رہا تھا اگر انہوں نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی۔ بہت دلچسپ ناول تھا۔
ایک English poetry کی کتاب تھی اس کی ایک poem sand of dee مجھے بہت پسند تھی۔۔Dee ایک دریا ہےجو انگلینڈ میں بھتا ہے۔ اس کی ریت پر زبردست poem لکی گئی تھی میں نے کاسز شروع ہونےسے پہلے اس کو غور سے پڑھا اور سمجھا تھا۔ 15 اپریل کو کلاس شروع ہوتی تو میں کافی کچھ پڑھ چکا ہوتا۔
مارچ میں سالانہ۔امتحانات ہوتے تھے۔ میں نے جب آٹھویں جماعت کا امتحان دیا ۔ امتحان 20 مارچ کو تقریباً ختم ہو جاتا تھا۔ اور نتیجہ کا انتظار تھا۔ سالانہ امتحان کا نتیجہ عموماً 31 مارچ کو نکلتا تھا۔ یہ 1963 کی بات ہے مارچ میں بہار کی آ مد ہوتی ہے اور رنگ رنگ کے چھوٹے بڑے پھول کھلے ہوتے ہیں۔ ہمارے ٹیکنیکل ہائی سکول چکلالہ میں بہت عمدہ چار بڑے بڑے لان تھے۔ درمیان میں ایک پانی کا فوارہ اس کے ارد گرد پانی کا تالاب جس میں رنگ رنگ کی مچھلیاں تیرتی رہتی تھیں ۔ اسکے علاوہ ہاکی فٹبال کے بڑے بڑے میدان تھے۔ ایک والی بال رسہ کشی اتھیلیٹک دوڑنے اور ہائی جمپ لانگ جمپ۔ نیزہ یعنی جیولن تھرو اور لوہے کا گولہ پھینکنے کے لئیے تھا۔ ایک بڑا ہینگر ٹیکنیکل ٹریننگ کے لئے تھا۔ صبح بڑے میدان میں اسمبلی ہوتی تلاوت نعت رسولﷺ ۔ قومی ترانہ اور اقبال کی دعا مجھے بہت پسند تھی۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے، ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
سکول میں ڈسپلن بہت تھا۔ آرمی کی طرح تھا سکول میں مینجمنٹ آرمی کی تھی پہلے اس کا نام ASC سکول تھا۔Arm Strong Public school. جسکے انچارج کرنل عبداللہ جان تھے۔ انہوں نے سکول کی نئی بلڈنگ بنوائی۔ چاروں طرف کلاس رومز ایک بزم ادب کے لئیے بڑا ہال۔ درمیان میں فوارہ اور مچھلیوں کے لئیے تالاب۔ اس کے چاروں طرف چار قطعے پھولوں والے۔ ایک لائیبریری ایک لیبارٹری۔ ایک بھت بڑا ہاکی فٹبال گرونڈ۔ ایک بڑی بلڈنگ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لئے تھی۔ گراونڈ بہت بڑا تھا۔ کبھی تفریح میں ہم وہاں کرکٹ وغیرہ بھی کھیل لیتے تھے۔ یا قاضی سے کراۓ پر سائکلیں لے آتے اور گراونڈ میں چلاتے تھے۔ میرا ایک کلاس فیلو الیاس پیراں فقیراں سےاتا تھا میٹرک کےبعد ائر فورس میں بھرتی ہوا ۔ دو آنے کا کرایہ ادھا گھنٹا ہوتا تھا۔ فٹبال گراونڈ کے ساتھ ایک والی بال کا میرا کلاس فیلو الیاس مشرقی پاکستان میں 1971 کی لڑائی میں شہید ہو گیا ۔ بہت اچھا سپورٹس مین تھا۔ فٹبال گراؤنڈ میں سلو سائیکلگ کامقابلہ وہی جیتتا۔ وہ پانچ منٹ تک سائیکل پر بیلنس رکھتا اور ایک جگہ پاوں زمین پر لگائے بغیر کھڑا ہوتا۔ فٹبال گراونڈ کے یک زرے سے دوسرے سرے تک سب سے آخر میں پہنچتا اور کپ لیتا۔ ہاکی گراونڈ بھی ہوتا تھا۔ کبھی کبھی رسہ کشی اور ہائی جمپ یا لانگ جمپ اور دوسرے ااتھلیٹک مقابلے ہوتے تھے
امتحان 20 مارچ کو ختم ہوتے 31 مارچ کو نتیجہ نکلتا۔ اور 15 اپریل کو نئی کلاس شروع ہوتی۔ ہم زمیندار تھے موسم بہار کی یا گرمیوں کی یا موسم سرما کی چھٹیوں میں کھلی زمینوں پر کھیلتے کودتے اور مال مویشی بھی ساتھ کھول کر لے آتے۔ ہمارے گاوں سے لیکر ریلوے لائن تک کوئی آبادی نہیں تھی ۔ گاوں سے کورنگ تک ہماری زمینیں اور کھنہ ڈاک سے رن وے تک ہمارا play ground تھا ۔ آجکل میں دیکھتا ہوں کہ چوٹے گھروں اور دس بارہ مرلے کی کوٹھیوں میں سکول کھلے ہیں۔ کھیلنے کودنے کاانتظام نہیں۔ کھیلوں سے بچے گلی محلے میں اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔کھلی جگہ کھیلنے سے ذہن کھلتا ہے۔ لیکن آجکل پلے گراونڈ نہیں ۔ ہمیں کھیلنے کے سکول اور گاوں میں بہت موقع ملتا تھا۔ اس وقت کے مطاق گلی ڈنڈا ہماری پسندیدہ گیم تھی۔ یہ کرکٹ کی ابتدائی شکل تھی۔
1950 کی دھائی میں زمین زیادہ تھی اور لوگ کم تھے۔ جنگلی جانوروں کی بہتات تھی۔ گیدڑ لومڑ نیولا اور کانٹوں والی سیخ۔ بھیڑیے اور ہر قسم کے پرند چرند۔ تیتر۔ بٹیر طوطے مینا لٹورے فاختہ نیل کنٹھ۔ کلچیٹ گرمیوں کے شروع می آتی تھی۔ مرغابیاں کورنگ میں آکر بیٹتی تھیں۔ کورنگ جس پر اب راول ڈیم بنا دیا گیا ہے اس کا پانی بہت صاف ہوتا تھا۔ مچھلیاں پانی میں تیرتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ مال مویشی۔ گاۓ بیل بھینس اور بکریاں سب صاف پانی پیتے تھے۔ ہم بھی کورنگ سے پانی پی لیتے تھے۔ اب دارلخلافہ بننے کے بعد وہ بات نہیں رہی۔ کورنگ کے پانی سے بدبو آتی ہی۔ جہاں جنگلی جانور اور پرندے تھے وہاں گھر بن گیے ۔ پہلے لوگ کم تھے اب بےشمار لوگ پتہ نہیں کہاں سے آ گئے۔ لوکل آدمی کم اور دوسرے زیادہ۔ اب نہ پہلے والی زمین ہے نہ وہ پہلے والے لوگ۔ کھیل بھی پرانے تھے کرکٹ کم اور گلی ڈنڈا۔ اور کبڈی۔آنکھ مچولی۔ پکوڑا چھپاتی۔ چینجو۔ بارہ ماہ جو زمین پر بارہ خانے بنا کر۔ چھوٹے کنکروں سے کھیلتے تھے۔ لڈو اس کی جدید شکل ہے۔ غرض بہت سارے کھیل تھے جن کو کھیل کر بہت مزہ آتا تھا۔ گاوں کے چاروں طرف ہماری زمینیں تھیں۔ کورنگ کے طرف جاو تو ہماری ذمین ۔ خوب نہاتے تھے پانی صاف تھا۔ مچھلیاں بھی پکڑتے تھے۔ دوسری طرف جنگل اور کھڈے اور ٹوبے۔ اور ٹبے۔ یعنی زمین کی سطح ہموار نہیں تھی۔