23/07/2024
دوڑ کے مقابلوں میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا ایتھلیٹ عبدالمطیع سب سے آگے تھا، وہ سمجھا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے۔ اس کے بالکل پیچھے اسپین کا رنر ایون فرنینڈس دوڑ رہا تھا- اس نے جب دیکھا کہ عبدالمطیع غلط فہمی کی بنیاد پر رک رہا ہے تو اس نے اسے آواز دی
"دوڑو ابھی فنش لائن کراس نہیں ھوئی"
عبدالمطیع اس کی زبان نہیں سمجھتا تھا اس لئیے وہ بالکل سمجھ نہیں سکا۔ یہ بہترین موقع تھا کہ فرنینڈس اس سے آگے نکل کے دوڑ جیت لیتا مگر اس نے عجیب فیصلہ کیا اس نے عبدالمطیع کو دھکا دے کر فنش لائن سے پار کروا دیا۔ میدان میں ہزاروں تماشائی فرنینڈس کی اس اسپورٹس مین اسپرٹ پر بہت دیر تک تالیاں بجاتے رہیں، فرنینڈز ہار کے باوجود ہیرو بن چکا تھا۔
ایک صحافی نے بعد میں فرنینڈس سے پوچھا تم نے کینیا کے ایتھلیٹ کو کیوں جیتنے دیا جبکہ تم باآسانی یہ دوڑ جیت سکتے تھے؟"
فرنینڈس نے جواب دیا " یہ دوڑ اسی کی تھی. وہ تو ویسے ہی جیت رہا تھا۔اور پھر میں اس طرح جیت کر اپنی ماں کا سامنا کیسے کرتا۔ فرنینڈس نے مزید کہا
"میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں کوئی دوسرے کو اس لئے دھکا دے تاکہ وہ جیت سکے۔"
(محمد سجاد خان 22 جولائی2024)