Sambrialnews

Sambrialnews Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sambrialnews, Sambrial.

🏡 Sambrial's First Information & Entertainment Page.
اگر آپ پیج پر نئے ہیں تو لائیک اور شئیر ضرور کیجئے گا-اگر پیج کے بارے کوئی رائے، مشورہ یا خبر دینا چاہیں یا اپنے کاروبار یا پروفیشن کی فری ایڈ پیج پر لگانے کے لئے بغیر ہچکچاہٹ میسج کیجئے ۔ شکریہ ! 🌷 www.sambrialnews.com is a private run first online urdu website to provide local area News especially for the people who are abroad & residing in foreign countries, who need to know up-to date information and news about their city using internet and sitting in their homes and offices or any other place.This site is accessible via PC's, iPhone and other all devices no matter where you are !All information and latest News are accessible and readable all over the world, with just one click. The software developer of sambrial News is trying to make it more attractive and powerful and easy to access all content, and even in next step everyone will be able to directly make comments on every individual news and other content, not only on page, but also in www.sambrialnews.com website. This site is made on a software system named PurplePhp and any person can purchase this software to build their very own news website, this software is not only for news but can also be used for any purpose to show interesting stuff and site can be given any name(URL).If you like to directly contact developer of this software then you can reach him on 0313-7918-377
Another thing to mention here is that this software is recently launched and is in beta (testing) mode, but is fully 100% in working condition, as you can see it in action on www.sambrialnews.com

🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉تمام مسلمانان اسلام کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت بہت مبارک ہو۔ 🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌷 طَ...
26/08/2026

🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉

تمام مسلمانان اسلام کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت بہت مبارک ہو۔

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

🌷 طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا 🌷

🌷 مِنْ ثَنِيَّاتِ الوَدَاعْ 🌷

🌷 چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہوا 🌷

🌷 وادی وداع سے 🌷

🌷 وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا 🌷

🌷 مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعْ 🌷

🌷 ہم پر شکر واجب ہے 🌷

🌷 جب کوئی اللہ کے لیے بلانے والا بلائے 🌷

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟

🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉🌹🎉

📬 ایک بنگلہ دیشی خاندان اپنی بہن نِلا آپا کو کراچی، کورنگی میں تلاش کر رہا ہے۔ براہِ کرم پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے ...
23/08/2026

📬 ایک بنگلہ دیشی خاندان اپنی بہن نِلا آپا کو کراچی، کورنگی میں تلاش کر رہا ہے۔ براہِ کرم پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ اگر کسی کو ان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو خاندان سے رابطہ کریں۔

محبوب حسین خان (بابو)، جو پاکستانی شہری ہیں، نے میری پیاری بہن سے شادی کی اور سال 2000 میں اسے اپنے ساتھ پاکستان لے گئے۔ اس کے بعد سے ان کا ہم سے رابطہ نہیں رہا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری بہن کے ساتھ کیا ہوا، یا کہیں اسے کسی اور جگہ تو نہیں بھیج دیا گیا۔

میری بہن نِلا کی جدائی کے صدمے اور پریشانی کی وجہ سے میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ میری والدہ اس وقت بسترِ مرگ پر ہیں۔ ہم پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ براہِ کرم نِلا آپا کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔

یہ واقعہ تقریباً 26 سال پہلے کا ہے۔ اس وقت ہمارا خاندان بہت خوشحال اور پُرسکون تھا۔ ہم دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ میری بڑی بہن کے شوہر اپنے کاروبار کے سلسلے میں پاکستانی شہری محبوب حسین خان بابو سے ملے تھے۔

شادی کے بعد محبوب حسین خان میری بہن کو پاکستان لے گئے۔ اُس وقت انہوں نے اپنے سسرال/والد کے گھر کا پتہ بھی دیا تھا۔ نِلا کے شوہر کا نام محبوب حسین خان بابو ہے اور ان کے والد کا نام خلیل اللہ تھا۔ ان کے والدین اب حیات نہیں ہیں۔

میری بہن 20 مارچ 2000 کو بنگلہ دیش سے پاکستان گئی تھیں۔ 11 اکتوبر 2002 تک ہمارا ان سے رابطہ رہا، لیکن اس کے بعد اچانک تمام رابطہ منقطع ہوگیا۔ محبوب کے ایک بھائی کا نام عابد تھا اور ان کی ایک بہن کا نام گڑیا بتایا جاتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے۔

تصویر میں میری بہن نِلا کی تصویر ہے۔

گزشتہ 26 سالوں کے دوران ہم نے اپنی بہن کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

اس وقت ہم ڈھاکہ، شانتی باغ، ماگا حاجی گلی، شاہنشاہ صاحب کے گھر میں رہتے تھے۔

میرے والد جنات/جنتا بینک، بنگلہ دیش میں ملازمت کرتے تھے۔

والد کا نام: نور نبی
والدہ کا نام: نور جہاں بیگم
بڑے بھائی کا نام: ناظمل ہدیٰ نجو
بڑی بہن کا نام: نسرین
میری بڑی/درمیانی بہن (لاپتہ): نرگس سلطانہ نِلا
چھوٹی بہن کا نام: نُپور
میرا نام: نافع/نافیعُل ہدیٰ بابو

اگر کسی پاکستانی بھائی، بہن یا کسی دوسرے شخص کو نِلا آپا کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا انہیں کراچی، کورنگی یا پاکستان کے کسی علاقے میں دیکھا گیا ہو، تو براہِ کرم اس نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع دیں:

Whatsapp: +923257060422
Mehbub Ali Saudi Arabia number: 966561891537

اللہ تعالیٰ آپ کو اس خاندان کی مدد کرنے کا اجر دے۔

Aik Bangladeshi khandan apni behen Nila Apa ko Karachi, Korangi mein talaash kar raha hai. Barah-e-karam Pakistani bhaiyon aur behnon se guzarish hai ke agar kisi ko un ke baare mein koi maloomat ho to khandan se rabta karein.

Mehboob Hossain Khan (Babu), jo Pakistani shehri hain, ne meri pyari behen se shadi ki aur saal 2000 mein use apne saath Pakistan le gaye. Is ke baad se un ka hum se rabta nahi raha. Humein nahi maloom ke hamari behen ke saath kya hua, ya kahin use kisi aur jagah to nahi bhej diya gaya.

Meri behen Nila ki judai ke sadme aur pareshani ki wajah se mere walid ka inteqal ho gaya. Meri walida is waqt bistar-e-marg par hain. Hum Pakistani bhaiyon aur behnon se nihayat iltija karte hain ke barah-e-karam Nila Apa ko talaash karne mein hamari madad karein.

Yeh waqia taqreeban 26 saal pehle ka hai. Us waqt hamara khandan bohat khushhaal aur pur-sukoon tha. Hum do bhai aur teen behnein hain. Meri bari behen ke shohar apne karobar ke silsile mein Pakistani shehri Mehboob Hossain Khan Babu se mile thay.

Shadi ke baad Mehboob Hossain Khan meri behen ko Pakistan le gaye. Us waqt unhon ne apne sasural/walid ke ghar ka pata bhi diya tha. Nila ke shohar ka naam Mehboob Hossain Khan Babu hai aur un ke walid ka naam Khalilullah tha. Un ke walidain ab zinda nahi hain.

Meri behen 20 March 2000 ko Bangladesh se Pakistan gayi thin. 11 October 2002 tak hamara un se rabta raha, lekin us ke baad achanak tamam rabta munqate ho gaya. Mehboob ke ek bhai ka naam Abid tha aur un ki ek behen ka naam Gudiya bataya jata hai. Un ke bare bhai ka inteqal ho chuka hai.

Tasveer mein meri behen Nila ki tasveer hai.

Pichhle 26 saalon ke dauran hum ne apni behen ko talaash karne ki bohat koshish ki, lekin aaj tak un ke baare mein koi maloomat nahi mil saki.

Us waqt hum Dhaka, Shantibagh, Maga Haji Goli, Shahenshah Sahib ke ghar mein rehte thay.

Mere walid Janata Bank, Bangladesh mein mulazmat karte thay.

Walid ka naam: Nur Nabi
Walida ka naam: Nur Jahan Begum
Bare bhai ka naam: Nazmul Huda Naju
Bari behen ka naam: Nasrin
Meri behen (lapata): Nargis Sultana Nila
Chhoti behen ka naam: Nupur
Mera naam: Nafiul Huda Babu

Agar kisi Pakistani bhai, behen ya kisi doosre shakhs ko Nila Apa ke baare mein koi maloomat ho, ya unhein Karachi, Korangi ya Pakistan ke kisi bhi ilaqe mein dekha gaya ho, to barah-e-karam is number par WhatsApp ke zariye ittila dein:

WhatsApp: +92 325 7060422

Allah Ta'ala aap ko is khandan ki madad karne ka ajar de.

🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲کشمیر کے ان جنگلوں میں ہزاروں لاکھوں سال سے جانور رہتے تھے، مگر یہ جگہیں صاف تھیں۔ لیکن پھر انسان آنے لگ...
18/08/2026

🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲🌳🌲

کشمیر کے ان جنگلوں میں ہزاروں لاکھوں سال سے جانور رہتے تھے، مگر یہ جگہیں صاف تھیں۔ لیکن پھر انسان آنے لگے۔ گرمی سے گھبرائے انسان، کیری ڈبہ بھرا، راستے سے بریانی پارسل کروائی، سیدھے پہاڑوں کی چوٹی پر، وہاں پر ٹھونس ٹھونس کر بریانی کھائی، ٹھنڈی بوتلیں پی، چند سیلفیاں بنوائیں، کچرا وہیں پر پھینکا اور واپس چل دیے۔

شاید پاکستان دنیا کا اکلوتا ملک ہے جہاں یہ سب نارمل سمجھا جاتا ہے، اور اگر اس رویے پر تنقید کی جائے تو لوگ مائنڈ کر جاتے ہیں۔

لیکن، جتنا ہو سکے، ان رویوں کو بے رحمی سے ہدف تنقید بنائیں۔ سامنے ایسے سیاح نظر آئیں تو ان پر ایسے ہی غصہ کریں جیسے فیسبک پر کرتے ہیں۔ یہ رویے لحاظ کے لائق نہیں.



https://www.facebook.com/share/1BSnh2dHCr/

مشہور ٹک ٹاکر گیلمنہ کا آخری سفر مکمل ہوگیا، اسلام آباد کے فیصل ہلز میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے...
17/08/2026

مشہور ٹک ٹاکر گیلمنہ کا آخری سفر مکمل ہوگیا، اسلام آباد کے فیصل ہلز میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت، ویوز اور فالوورز عارضی ہیں، اصل اہمیت انسان کے کردار، اخلاق اور اچھے اعمال کی ہے۔

خدارا! چند ویوز اور فالوورز کے لیے اپنی عزت، اقدار اور کردار کو داؤ پر نہ لگائیں۔

ٹک ٹاکر عائشہ گلونامہ کے ق ت ل کیوں گیا گیا ؟ ملزمان کون تھے کیا معاملہ ٹک ٹاک گفٹنگ سے جڑا تھا ٹک ٹاک لائیو کے اندھے کاروبار کے ہولناک انکشاف۔۔

ٹِک ٹاک کی دنیا میں شہرت کی چمک نے ایک اور جان نگل لی ہے اور اس بار نشانہ بننے والی وہ لڑکی تھی جس کے فالوورز کی تعداد تیرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

شمشو بی بی المعروف عائشہ گلونہ نامی یہ ٹک ٹاکر کے پی کے سے تعلق رکھتی تھی شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں تھی اور اس کے باوجود اس کی مقبولیت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اس کی صرف دو تین ویڈیوز پر تین کروڑ سے زائد لائیکس موجود تھے۔

ٹیکسلا میں مقیم اس لڑکی کی زندگی چار برس پہلے تک ایک عام سی زندگی تھی مگر ٹک ٹاک کی راہ نے اسے راتوں رات شہرت اور دولت دونوں سے ہمکنار کر دیا۔

عائشہ کو کاشف عرف کاشی نامی ایک شخص کا فون آیا جس پر وہ اکیلی نہیں بلکہ اپنے بھائی نعمت اللہ اور بہن کو ساتھ لے کر روانہ ہوئی۔ گاڑی جب گھر کے قریب پیٹرول پمپ کے پاس سگنل پر رکی تو ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان نمودار ہوئے۔

سیاہ لباس میں ملبوس ایک نوجوان موٹر سائیکل اسٹارٹ رکھے رہا جبکہ دوسرا اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا اور صرف ایک گولی چلائی جو براہ راست عائشہ کی گردن پر لگی۔ گاڑی بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی بھائی اور بہن زخمی ہوئے مگر گولی صرف عائشہ کو نشانہ بنانے کے لیے چلائی گئی تھی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اندھا دھند فائرنگ نہیں بلکہ سوچی سمجھی ٹارگٹ کلنگ تھی۔ حملہ آور موقع پر عائشہ کی موت کی تصدیق کے بعد بآسانی فرار ہو گئے۔

عائشہ کے والد صاحبزادہ فضل نے مقدمہ درج کرایا اور دو افراد کے نام لیے، جاوید عرف شاہین اور کوثر۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان دونوں کے ساتھ کسی مالی لین دین کا تنازع چل رہا تھا جس کے تناظر میں ان کی بیٹی کو دھمکیاں مل رہی تھیں ۔

کاشف کے بارے میں والد کا کہنا ہے کہ وہ عائشہ کا دوست تھا، جسے وہ جانتی تھی، جس کا نمبر اس کے موبائل میں محفوظ تھا۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ کاشف نے عائشہ کو کس بہانے بلایا اور یہ کوئی منظم پھندا یعنی ہنی ٹریپ تھا یا کچھ اور۔

پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ اصل حملہ آور وہی نہیں تھے جنہوں نے فون کیا بلکہ انہیں کرائے پر بلوایا گیا تھا اور شواہد بتاتے ہیں کہ دونوں مشتبہ افراد خیبر پختونخوا کی جانب فرار ہوئے۔ چار پانچ سہولت کار ٹیکسلا سے پکڑے جا چکے ہیں مگر اصل ماسٹر مائنڈ اور مقصد قتل تاحال بے نقاب نہیں ہو سکا۔

اس پورے معاملے میں سب سے تشویشناک پہلو اسلام آباد پولیس کی نااہلی قرار دی جا رہی ہے۔ عائشہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دھمکیوں کی شکایت پہلے ہی پولیس کو دی تھی مگر نہ کوئی کارروائی ہوئی، نہ مشتبہ افراد کو طلب کیا گیا۔

کرائم جرنلسٹ نعیم مصطفیٰ نے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو شاید یہ قتل رکنے کا امکان تھا۔ انہوں نے اس واقعے کا موازنہ اسلام آباد میں ہونے والے سنا یوسف کے قتل سے بھی کیا۔

جس میں عدالت نے ریکارڈ مدت میں ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، مگر اس کے باوجود ٹک ٹاکرز کے خلاف تشدد کا سلسلہ نہیں رکا۔ لاہور کے ہربنس پورہ میں ایک سابق شوہر کے ہاتھوں ٹک ٹاکر کا قتل، سیالکوٹ اور قصور کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

اس رجحان کے پیچھے موجود ایک تہہ در تہہ نظام کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ٹک ٹاک لائیو پر ہونے والی گفٹنگ محض تحفے نہیں بلکہ ایف آئی اے کی ادارہ این سی سی آئی اے کے مطابق باقاعدہ جوئے کی ایک شکل ہے۔

جس میں راتوں رات امیر ہونے کے مواقع دیکھ کر محبتیں اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔ گاڑیاں زیورات گھر تک تحفے میں دیے جاتے رہے۔

اور ایک متاثرہ لڑکی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک نوجوان نے دو کروڑ روپے سے زائد کی خریداری کروانے اور مہنگی گاڑی دلوانے کے بعد جب مطالبات پورے نہ ہونے پر لڑکی پر حملہ کیا تو اس نے خود اعتراف کیا کہ وہ سبق سکھانے کے لیے ایسا کر رہا تھا۔

کرائم جرنلسٹ نے معاشرتی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنی اولاد پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں کس کے کہنے پر جا رہے ہیں اور پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔

انہوں نے پارلیمنٹ علما دانشوروں اور معاشرے کے ہر طبقے سے اپیل کی کہ اس بگاڑ کو روکنے کے لیے مشترکہ کوشش کی جائے، ورنہ آئے روز نئی عائشہ اور نئی سنا یوسف اسی طرح قتل ہوتی رہیں گی۔
پولیس کی تفتیش تاحال ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچی، تاہم موبائل ڈیٹا اور سی ڈی آر ریکارڈ کی بنیاد پر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تفتیش ایمانداری سے آگے بڑھائی جائے تو اصل ملزمان تک پہنچنا ممکن ہے اور انہیں سزا دلوا کر عوام کے سامنے مثال بنانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی اور عائشہ اسی طرح گولی کا نشانہ نہ بنے۔

゚

جشن آزادی پر بزرگوں ۔ بیماروں۔ ضعیفوں اور آرام کرنے والوں کو بڑے بڑے ٹرکوں والے ہارن جیسے باجوں کی تکلیف دہ آوازوں سے تن...
14/08/2026

جشن آزادی پر بزرگوں ۔ بیماروں۔ ضعیفوں اور آرام کرنے والوں کو بڑے بڑے ٹرکوں والے ہارن جیسے باجوں کی تکلیف دہ آوازوں سے تنگ نہ کریں۔۔ یہ باجوں۔ ٹیں ٹیں ۔ پیں پیں۔ پاں پاں والا دن بنتا جارہا ہے۔ آزادی کا دن تو لگتا ہی نہیں۔ ہم اس دن اپنا ملکی فریضہ سمجھ کر ان کو بیچنا اور انکی خریداری کو اپنا فرض بنا بیٹھے ہیں۔
لوگ اپنے بچوں کو پانچ پانچ فٹ لمبے توطے اور باجے خرید دیتے ہیں اور کہتے ہیں گھر میں نہ بجانا۔ جاو کسی اور گلی اور کسی اور کے دروازے کے آگے جا کر بجا آو۔ پھر بچے اکٹھے ہو کر دوسروں کی گلیوں اور دروازوں کے آگے ایسا کہرام بھرپا کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ ! پچھلے پانچ دس سالوں میں پیدا ہوئے بچے 14 اگست کو ایسے باجے یوں خریدتے ہیں جیسے پاکستان بناتے وقت قائداعظم اس پر عمل کرنے کا حکم دے گئے ہوں۔
چند روپوں کی خاطر ہر دکاندار یہ عذاب اور آفت بیچ رہا ہے کیا ایسی کمائی ٹھیک ہے؟ جو دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے؟ زرا سوچئیے

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹السلام علیکم۔ تمام اہل وطن کو جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو ! پاکستان زندہ باد
14/08/2026

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

السلام علیکم۔ تمام اہل وطن کو جشن آزادی بہت بہت مبارک ہو !
پاکستان زندہ باد

🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ… 23  سال ...
11/08/2026

🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️🙋‍♂️
13 سال کی عمر میں بچھڑنے والا محب اللہ…
23 سال بعد بھی گھر والے منتظر ہیں!
یہ تصویر محب اللہ کی ہے۔
سال 2003 میں جب محب اللہ کی عمر صرف 13 سال تھی، وہ اسلام آباد سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اُس وقت وہ اسلام آباد کے ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کر رہا تھا۔

محب اللہ کے والد قاری عبداللہ مدنی مسجد، F-8 اسلام آباد کے امام تھے۔ چند سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن اپنے بیٹے کی واپسی کی حسرت اپنے ساتھ لے گئے۔

محب اللہ کی والدہ حنیفہ بی بی آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اس کے بھائی وصی اللہ، منیب اللہ، امداد اللہ اور عباد اللہ اور بہنیں سلمیٰ، تسلیم، ام ہانی اور حبیبہ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کا بچھڑا ہوا بھائی ایک دن اچانک دروازے پر آ کھڑا ہوگا۔
آبائی تعلق: گاؤں بیڑ، ضلع بٹگرام۔۔۔ رہائش: F-8/2، اسلام آباد
گھر میں محب اللہ کی یہی ایک تصویر موجود ہے۔ تصویر وقت کے ساتھ سیاہ پڑ چکی ہے، مگر اس تصویر میں آج بھی اس کے گھر والوں کو امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔
ماں کی آنکھیں آج بھی دروازے پر لگی ہیں… شاید کبھی اس کا بیٹا واپس آ جائے۔
محب اللہ! اگر آپ یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اور آپ دنیا میں کہیں بھی موجود ہیں، تو اپنی ماں کی بے قراری اور اپنے بہن بھائیوں کی برسوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کریں۔
آپ کے گھر والے آج بھی آپ کے منتظر ہیں۔
اگر محب اللہ تک یہ پوسٹ نہ بھی پہنچ سکے، تو ممکن ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اسے جانتا ہو، اور یوں 23 سال سے بچھڑا ہوا بیٹا اپنی ماں سے مل جائے۔

کسی بھی معلومات کی صورت میں رابطہ کریں:
+92 316 2529829

10 اگست 2026
👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦👨‍👩‍👧‍👧

💔 میری ماں! آپ جہاں کہیں بھی ہیں، ایک بار واپس آ جائیں...میں اسد اللہ ہوں۔ آج برسوں بعد بھی میری زندگی کی سب سے بڑی خواہ...
09/08/2026

💔 میری ماں! آپ جہاں کہیں بھی ہیں، ایک بار واپس آ جائیں...
میں اسد اللہ ہوں۔ آج برسوں بعد بھی میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش صرف ایک ہے کہ مجھے میری ماں بی بی زہرا مل جائیں۔
سن 2010 میں قانونی کارروائی کے باعث ہم بہن بھائی اپنی والدہ سے جدا ہو گئے۔ تقریباً دو سال ہم اپنی ماں سے دور رہے۔ اس دوران میری والدہ پشاور کے علاقے اشنغری، مومن ٹاؤن، بورڈ بازار میں رہائش پذیر تھیں۔
اہلِ علاقہ کے مطابق میری ماں تقریباً دو سال تک ہر روز سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہمارے واپس آنے کا انتظار کرتی رہیں۔ لیکن جب ہم رہائی کے بعد واپس آئے تو معلوم ہوا کہ میری ماں طویل انتظار کے بعد کہیں چلی گئی تھیں، اور پھر آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
میری والدہ کا نام: بی بی زہرا
میرے نانا کا نام: سردار محمد
میرے ماموں کا نام: خان محمد
میرے مرحوم والد کا نام: امین اللہ
ہم تین بہن بھائی ہیں:
👦 بڑا بھائی: عزیز اللہ
👦 میں: اسد اللہ
👧 میری بہن: شکوفہ
آج 12 سال گزر چکے ہیں۔ ہم اپنی ماں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہوں گی، لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو آج بھی اپنے بچوں کو یاد کرتی ہوں گی، اور ہم بھی ہر دن صرف ان کی ایک جھلک دیکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
امی! اگر آپ یہ پیغام کہیں سن رہی ہیں، یا کوئی یہ پیغام آپ تک پہنچا دے، تو جان لیجیے کہ آپ کے بچے آج بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں، بس ایک بار آپ کو دیکھنا، آپ کو گلے لگانا اور آپ کے قدم چومنا چاہتے ہیں۔
🙏 خدارا، میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اب ہماری امید اور سہارا آپ جیسے دردِ دل رکھنے والے لوگوں سے ہے۔ شاید آپ کی ایک شیئر ہماری برسوں کی جدائی ختم کر دے اور ہمیں ہماری ماں سے ملا دے۔
📞 اگر کسی شخص کو میری والدہ بی بی زہرا کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں تو براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
رابطہ نمبر:
0317-8235986
آپ کی ایک شیئر شاید برسوں سے بچھڑے ہوئے ایک خاندان کو دوبارہ ملا دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔

🚨👈 ایزی پیسہ جاز کیش استعمال کرنے والے ہوشیار رہیں۔۔ فراڈئیے پھر متحرک ہوگئے ہیں۔ تحریر مکمل اور لازمی پڑھ کر شئیر کریں۔...
07/08/2026

🚨👈 ایزی پیسہ جاز کیش استعمال کرنے والے ہوشیار رہیں۔۔ فراڈئیے پھر متحرک ہوگئے ہیں۔ تحریر مکمل اور لازمی پڑھ کر شئیر کریں۔ ہو سکتا ہے آپکے ایک شئیر سے کسی کی محنت کی کمائی اور پیسہ لٹنے سے بچ جائے۔ 👮🏻‍♂️👮‍♀️

🎭 ایک شہری نے بتایا کہ اسے ایک موبائل نمبر سے کال آئی 📱 (ذہن میں رکھئے کال موبائیل نمبر سے آرہی ہے)۔ کال اٹینڈ کی گئی تو آگے ایک نمائیندہ (فراڈیا) بولا کہ سر آپ کو ایزی پیسہ کے ہیڈ آفس سے کال کی جارہی ہے آپ کا اکاونٹ بلاک کیا جارہا ہے۔ آپکی ویری فیکیشن درکار ہے۔😮 کہ آپ ہی ایزی پیسہ استعمال کررہے ہیں یا کوئی اور۔آپ کا اکاونٹ سائبر کرائم والے بلاک کررہے ہیں۔ 🕷

🚦ویری فیکیشن کروائیے ورنہ آپ کا ایزی پیسہ اکاونٹ فورا" بلاک کیا جا رہا ہے۔ آپ کو 3737 سے ایس ایم ایس موصول ہوگا جس میں OTP اور دوسری ہدایات موجود ہوں گی ان پر عمل کیجئے۔ 👮‍♀️👮🏻‍♂️

🏡 شہری نے بتایا کہ اسے واقعی 3737 سے دو میسج کال کے دوران ہی موصول ہوگئے تو نمائیندے (فراڈئیے) نے کہا کہ سر آپ کو اس سے پہلے بھی 3737 سے کئی بار وارننگ میسج کئے گئے (حالانکہ کوئی ایسا وارننگ میسج موصول نہیں ہوا تھا)۔ 👮🏻‍♂️👮‍♀️

🃏 نمائیندے نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ ہم ہیڈ آفس سے آپ کو میسج کررہے ہیں جس کا ثبوت یہی ہے کہ آپ کو 3737 سے میسج موصول ہوا ہے۔ شہری نے کہا کہ اسے واقعی محسوس ہوا کہ یہ اصل نمائیندہ ہے (یاد رکھئیے یہی وہ پوائینٹ ہے جہاں اکاونٹ ہولڈر دھوکا کھا جاتے ہیں اور فراڈیوں کو اصل ہیڈ آفس کا نمائیندہ سمجھ کر باقی کی اپنی ذاتی تفصیل وغیرہ بتانا شروع کردیتے ہیں)۔ 👮🏻‍♂️👮‍♀️

🎯 نمائیندے (فراڈئیے) نے کہا کہ سر آپ کو OTP وصول ہوگیا ہے لہذا اب آپ اپنے ایزی پیسہ اکاونٹ میں فورا" سائن ان ہوں۔۔۔۔ پھر باقی کی تفصیل بتاتا ہوں کہ اکاونٹ ویری فیکیشن ایپ سے کیسے کرنی ہے۔ لہذا شہری نے کہا کہ وہ فورا" گبھراہٹ سے سائن ان ہوگیا۔ اب نمائیندے (فراڈئیے) نے کہا کہ سر آپ اپنا بیلنس چیک کیجئے پورا شو ہورہا ہے کوئی فیک یا ایسی ٹرانزیکشن تو نہیں ہوئی جس کا آپ کو علم نہیں؟👮‍♀️👮🏻‍♂️

🤾‍♀️ شہری نے کہا کہ ہاں پورا بیلنس شو ہورہا ہے۔ نمائیندے (فراڈئیے) نے کہا کہ سر آپ کے اکاونٹ کی ویری فیکیشن کا عمل آپ کو بتاتا ہوں۔ شہری نے کہا کہ دیکھئے میرے شہر میں ایزی پیسہ کا دفتر موجود ہے اور بینک بھی موجود ہے میں وہاں جا کر باقی کا پروسیس مکمل کروا دیتا ہوں۔ لیکن نمائیندے (فراڈئیے) نے کہا کہ سر ایسا نہیں ہوسکتا آپ کا کیس ہیڈ آفس اور سائیبر کرائم کے پاس ہے🤔😲 لہذا صرف ہم ہی ہیڈ آفس سے آپکی ویری فیکیشن کرسکتے ہیں ٹائم کم ہے آپ کا اکاونٹ ابھی بلاک کردیا جائے گا۔ تو شہری نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ اگلا پروسیس بتائیں۔👮🏻‍♂️👮‍♀️

🤡 نمائیندے( فراڈئیے) نے کہا کہ سر آپ آیپ میں سائن ان ہوں وہاں لیفٹ سائیڈ پر اوپر آپکے پروفائیل کی فوٹو تین لائینوں کے ساتھ نظر آرہی ہے اس پر کلک کریں۔ پھر آپ کو ایک مینیو نظر آئے گا وہاں چھٹے یا ساتویں نمبر پر My Approvals لکھا نظر آئے گا وہاں کلک کریں۔ شہری نے وہاں کلک کیا تو اگلے پیج پر ایک میسج شو رہا تھا کہ آپ کو وہاں اوکے یا یس پریس کرنا ہے ( دراصل فراڈیے نے مجھے ایک 6000 روپے کی پیمنٹ کرنے اور اسے منظور کرنے کا میسج بھیجا تھا۔ اگر میں اوکے یا yess پریس کردیتا بغیر اس میسج کو پڑھے تو صرف ایک سیکنڈ میں میرے اکاونٹ سے 6000 روپے اس نے اڑا لے جانے تھے۔😫

👽 پھر نہ نمائیندہ(فراڈیا) نظر آنا تھا نہ اس کی کوئی کال ۔ میرے گھبراہٹ اور شش و پنج سے فائدہ اٹھا کر میرے ایک کلک سے میرے اکاونٹ سے فورا" 6000 روپے اڑ جانے تھے۔👮‍♀️👮🏻‍♂️

🤓 مگر شہری نے حاظر دماغی سے کام لیتے ہوئے پہلے اس My Approvals میں آئے میسج کو غور سے پڑھا تو حیران رہ گیا کہ فراڈیا درحقیقت کسی پکسل وویو یا اسی طرح کی کسی ایپ کو میرے اکاونٹ سے پیسے بھیجنے کی کوشش کررہا تھا۔ (لہذا اس کیس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایسے فراڈئیوں نے کئی apps پر اپنے پیڈ اکاونٹ بنائے ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کو اپنی الٹی سیدھی سروسز بھی پرووائیڈ کرتے ہیں مگر منتھلی یا سال بھر کی فیس خود ادا نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو جعلی نمائیندے بن کر کال کرتے ہیں اور ان کے ایزی پیسہ یا جازکیش اکاونٹ یا دوسرے اکاونٹس سے اپنی پیمنٹ کروا دیتے ہیں۔ اور پھر غائب ہوجاتے ہیں۔👮🏻‍♂️👮‍♀️

😎 شہری نے کہا کہ اس نے نمائیندے(فراڈئیے) سے کہا کہ وہ اسے اوکے نہیں کرے گا۔ 🧙‍♂️ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا گیم کھیلی جارہی ہے لہذا اس نے فورا" اس میسج کو رد کردیا۔ 👮🏻‍♂️👮‍♀️

👹 نمائیندہ (فراڈیا) ایسے ایکٹنگ کررہا تھا کہ جیسے وہ مجھ سے زیادہ فکر مند، پریشان اور جلدی میں ہے۔ کہنے لگا اس کو ok کرو ورنہ میں آپکا ایزی پیسہ اکاونٹ بلاک کررہا ہوں۔ شہری نے دل میں کہا کہ تو جا بھاڑ میں اور تیری کال اور سب کچھ بھی۔ میں نے فورا" کال کاٹ دی۔👮‍♀️👮🏻‍♂️

🍟 شہری نے کہا کہ اس نے سوچا کہ ایسی فیک جعلی کالوں سے پتہ نہیں کتنے درجنوں سینکڑوں لوگوں کو ان فراڈیوں نے اب تک لوٹا ہوگا۔ 🐉 مگر مجھے میری حاظر دماغی اور اللہ پاک کے کرم نے بچا لیا۔🐥

🐤 کال بند کرنے کے بعد میں نے کئی بار ایپ میں سائن ان کیا کوئی مسئلہ نہیں ہوا نہ اکاونٹ بلاک ہوا نہ کچھ اور۔۔ مگر مجھے حیرت اس بات کی ہوئی کہ فراڈئیے نے ایزی پیسہ والوں کے نمبر 3737 سے مجھے میسج کیسے بھیج دئیے؟ کیا یہ کوئی ایزی پیسہ والوں کا اپنا ہی ملازم تھا یا کوئی ایزی پیسہ کا سافٹ وئیر چوری یا ہیک کرکے استعمال کررہا تھا؟ 🤔

🌹کچھ خراج تحسین اس قدر غیر معمولی ہوتے ہیں کہ وہ دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ Frédéric de Lanouvelle نے پورے فرانس میں ت...
03/08/2026

🌹کچھ خراج تحسین اس قدر غیر معمولی ہوتے ہیں کہ وہ دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ Frédéric de Lanouvelle نے پورے فرانس میں تقریباً 5,750 کلومیٹر سائیکل چلائی، 🚴‍♂️ احتیاط سے ایک ایسے راستے کی منصوبہ بندی کی جس نے نقشے پر ایک بڑا پھول بنا دیا 😮۔

اس کا ناقابل یقین سفر ان کی والدہ کی یاد کے لیے وقف تھا، جس نے الزائمر کی بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کرتے ہوئے ان کی زندگی کا احترام کیا۔ ہر کلومیٹر بیماری سے متاثرہ خاندانوں کے لیے محبت، عزم اور امید کی عکاسی کرتا ہے۔

اس قابل ذکر کارنامے نے اسے گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرایا، جس نے یہ ثابت کیا کہ سائیکل کی سواری یاد اور ہمدردی کی طاقتور علامت بن سکتی ہے۔🌹

Address

Sambrial
51070

Telephone

+923137918377

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sambrialnews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share