21/08/2026
پیمنٹ کے چکر
کاروبار کے کچھ ایسے اصول ہوتے ہیں جو آپ خود اپنے لیے طے کرتے ہیں۔ کسی کے لاکھ بتانے سمجھانے پر بھی کچھ چیزیں دماغ کے نعمت خانے میں نہیں رکھی جاتیں۔ بات تبھی سمجھ میں آتی ہے جب سڑے ہوئے پھل سے باس آنے لگے اور وہ کسی کام کا نہ رہے۔ عقل مند شخص پھر بھی وہی ہوتا ہے جو دوسروں کے تجربے سے سیکھے نہ کہ خود ٹھوکر کھائے۔
6 سال کے کاروباری دور میں نے بھی کچھ چیزیں دوسروں کے تجربے سے سیکھیں اور کچھ اصول طے کیے۔ جب جب اپنے اصول سے انحراف کیا یقین جانیے 80 فیصد نقصان اٹھایا۔
خیر یہاں میرے چند اصول ہیں ملاحظہ ہوں:
1۔ ریٹ فکس رکھا ہوا ہے۔ ایک دام بتا کر پتھر پر لکیر ہوجاتی ہے۔ سٹاف کو بھی ہمیشہ یہی سمجھایا ہے۔ کسٹمرز الجھتے بھی ہیں لیکن جو جو الجھے اسے اخلاق کے دائرے میں ایک ہی بات کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے کیا ہوا ہے تاکہ نہ آپ کا وقت ضائع ہو نہ ہمارا۔
2۔ پیمنٹ ہمیشہ ایڈوانس لیتا ہوں الا یہ کہ کوئی مستقل ہمارے ساتھ چل رہا ہو اور اس کے لین دین اور مزاج کا خوب پتا چل چکا ہو۔ بڑے آڈر پر بھی کم از کم آدھے منافع سمیت ایڈوانس کی ترتیب ہے۔ (متعدد مرتبہ اس اصول سے انحراف کیا اور کئی بار پریشانی بنی۔)
نوٹ: یہ اصول کسٹمائز سروسز کی وجہ سے ہے۔ اگر نان کسٹمائز ہوں تو کیش آن ڈیلیوری کا ہی مشورہ دوں گا۔
3۔ مال کی خریداری ہمیشہ ایڈوانس پیمنٹ پر کرتا ہوں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائے جاتے ہیں، قرضوں سے نجات رہتی ہے اور کسی کا احسان نہیں آتا۔ اس اصول کی وجہ سے مال ہمیشہ وقت پر ملتا ہے بلکہ مشکل وقت میں پریارٹی ملتی ہے کیوں کہ پارٹی کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سے ہمیشہ ایڈوانس پیمنٹ آتی ہے۔
اس میں ایک نقصان کا بھی امکان ہے اور وہ یہ کہ ڈیلر پیمنٹ لے کر کئی مرتبہ دیر لگا دیتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے اور صرف نان پروفیشنل ڈیلر ہی ایسا کام کرسکتا ہے۔
4۔ آؤٹ سورس کام نہ ہونے کے برابر کرنا اور جو کرنا اس میں دو گنا وقت اپنے کلائنٹ سے مانگنا تاکہ وعدہ متاثر نہ ہو۔
5۔ نقصان ہونے پر سٹاف سے کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں۔ نہ تنخواہ میں کٹ، نہ اضافی ورک لوڈ اور نہ ہی ایک سے دوسری مرتبہ ناراضی کا اظہار۔ بس ایک بار احساس دلا کر خاموشی اختیار کرنا۔
6۔ بڑے آڈر کی وجہ سے چھوٹے آڈر پر توجہ کم نہ کرنا۔
7۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں کلائنٹ کو مسلسل رسپانس کرنا۔ (یہ بیماری اکثر سیلرز میں پائی جاتی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہونے کی صورت میں رسپانس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ شرمندگی کی وجہ سے یا باتیں سننے کے ڈر سے جواب نہیں دیتے، کال اٹینڈ نہیں کرتے لیکن میرا مزاج اس سے بالکل الٹ ہے۔ اس سے کسٹمر بدظن نہیں ہوتا)
8۔ آخری اور نہایت اہم اصول یہ کہ شراکت داری اور قرض یا اقساط پر کاروبار سے متعلقہ کوئی انوسٹمنٹ نہیں کرتا کیوں کہ اپنے ایمان کو اتنا مضبوط ہی نہیں پاتا۔
آپ نے کیا اصول اپنائے ہوئے ہیں ضرور بتائیے ہم سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔
تحریر: مصعب شاہین
(زین آرٹ پرنٹنگ پریس راولپنڈی)