05/10/2026
"میرے اساتذہ میرے محسن"
تحریر: یوسفی بلوچ
"یہ مارچ کا مہینہ تھا،موسم بہار کا آغاز،ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی ۔گھنٹی بج چکی تھی،بچے اسمبلی کے لیے میدان میں جمع ہورہے تھے۔کچھ اساتذہ بچوں کو لائنوں میں کھڑا کررہے تھے۔میں شش و پنچ میں تھا کہ کس لائن میں کھڑا ہوجاؤں،اتنے میں ایک استاد نے گال پر تپڑ رسید کردی اور بازو سے پکڑ کر پیچھے ایک لائن میں کھڑا کردیا"۔
یہ تھا میرا اسکول کا پہلا دن ،سکول تھا گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی محمد شہی ضلع مستونگ،یہ تین دہائی قبل کی بات ہے،یہ ٹاٹ،تختی اور سلیٹ کادور تھا۔ یہ وہ دور تھاجب استاد اور شاگرد کا رشتہ روحانی تھا،جب یہ رشتہ آج کی طرح کمرشلائز نہیں ہوا تھا۔جب استاد کی نصحیت مشعل راہ سمجھی جاتی تھی۔یہ وہ دورتھا جب استاد کی مار کو برکت سمجھ کر برداشت کیا جاتا تھااور پھر استاد کی مار برداشت کرنے والوں پر قسمت کی دیوی مہربان ہوجاتی تھی۔لیکن یہ سب گئے وقتوں کی باتیں ہیں۔ آج کے وقتوں میں اس طرح کی باتیں افسانوی اور کتابی معلوم ہوتی ہیں۔یا شاہد یہ سین اب کسی ڈرامے میں دیکھنے کو ملے۔
5 اکتوبراساتذہ کا عالمی دن ہے۔گزشتہ چند سال سے پاکستان میں بھی یہ دن منایا جانے لگا ہے۔اس دن کی مناسبت سے تقریبات دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔
راقم العروف نے ابتدائی تعلیم ضلع مستونگ کے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی محمد شہئی سے حاصل کی۔گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی محمدشہئی نہ صرف ضلع مستونگ بلکہ پورے بلوچستان میں بہترین ساکھ کا تعلیمی ادارہ ہے۔ اور یہ سب اس اسکول کے اساتذہ کی محنت،اخلاص اور کمنٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔
ہماری طالب علمی کے دوران حاجی عبدالنبی صاحب محمدشہی مرحوم اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔جبکہ ہائی اسکول بننے کے بعد میراحمد جاوید صاحب ہیڈ ماسٹر بنا دیئے گئے۔حاجی عبدالرحیم قاضی صاحب،حاجی محمد یعقوب بھٹی صاحب اور محمد ہاشم صاحب کچی جماعت کے ہمارے اساتذہ تھے۔خدائیداد صاحب،عبدالقدوس محمد شہئ صاحب اورعبدالغفور خواجہ خیل صاحب جماعت اوّل،منیر احمد محمد شہئی صاحب دوئم،حاجی غلام مصطفیٰ صاحب محمد شہئی سوم،حاجی محمد قاسم صاحب گرانی چہارم اور حاجی عبدالستار محمد شہئی صاحب جماعت پنجم کے کلاس انچارج تھے۔جبکہ مولوی فیض اللہ صاحب اور جناب نند لال صاحب بھی ہمارے پرائمری کے اساتذہ تھے۔اس دور میں انگلش بطور سبجیکٹ جماعت ششم سے پڑھایا جاتا تھا۔نندلال صاحب نوجوان تھے اور فریش ٹیچر تھے۔محمد شہئی ہائی اسکول میں ان کی تقرری ہوئی تھی۔انہوں نے آتے ہی چوتھی جماعت سے انگلش پڑھانا شروع کردیا۔یہ اسکول نے اپنے لیول پر فصلہ کیا تھا۔انہوں نے بچوں سے چندہ جمع کرکے انھیں کتابیں لاکر دی۔مڈل اور ہائی کلاسسز میں جناب حاجی محمد ایوب صاحب محمدشہئی،محمد امین صاحب محمد شہئی،گل محمد صاحب لہڑی،قادر محمد شہئی صاحب،آدم خان صاحب محمد شہئی،حاجی محمد انور صاحب قمبرانی،سیدمحمد شاہ صاحب،عبدالمنان صاحب علیزئی،حاجی عبدالوحید صاحب،عبدالغفار صاحب،حاجی عبدالسلام صاحب گرانی(JDM)،منظور احمد صاحب،حاجی ابراہیم صاحب،عبدالرحمان صاحب لہڑی،حاجی رحیم بخش صاحب ،حاجی عابد صاحب شاہونی(پی ٹی آئی) ہمارے اساتذہ تھے ۔یہ سب ٹیچنگ کے شعبے سے کمٹٹڈ لوگ تھے۔ہم سب اپنے اساتذہ کے احسانات کے مقروض ہیں ۔نہ صرف 5اکتوبر،نہ صرف سال کا ایک بلکہ ہر روز ہر لمحہ اپنے اساتذہ کےلیے دل سے دعا،دل سے احترام،جو اس دنیا میں ہیں اللہ تعالیٰ انھیں صحت و تندستی والی لمبی زندگی دے جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے امین ثم امین۔
تحریر: یوسفی بلوچ
تصاویر بشکریہ،حاجی غلام اصغر صاحب،محمد نعیم صاحب
ایڈیٹنگ: یوسفی بلوچ