Aamir Freelancer

Aamir Freelancer FOUNDER Skillify Trainings | Top Rated Freelancer | Digital Marketing Expert, Influencer | Trainer Hi there! Let's work together and make it happen.

I'm Aamir Freelancer, a top-rated freelancer from Quetta city, Pakistan. With over 10 years of experience in the field of content writing and SEO optimization, my services are designed to help you excel in the digital space. From creating compelling website content to developing impactful SEO strategies - I do it all! What makes me unique is my ability to understand your project requirements quickly and provide customized solutions that fit your needs perfectly. So, if you're looking for an experienced freelancer who can help you make your online presence felt loud and clear then don't hesitate reach out!

Darod e Pak Parh lainDua kijyga
25/09/2026

Darod e Pak Parh lain

Dua kijyga

11/09/2026
08/09/2026

پاکستان میں آن لائن کمائی کا سب سے بڑا دھوکا یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے پیسہ نہیں بنتا، اصل دھوکا یہ ہے کہ آپ کو یقین دلا دیا جائے کہ پیسہ ہنر سے پہلے آ سکتا ہے۔

ذرا ایک بے روزگار نوجوان کا تصور کیجیے۔ جیب تقریباً خالی ہے، گھر کا خرچ سامنے ہے، ڈگری ہاتھ میں ہے مگر نوکری نہیں، اور موبائل کھولتے ہی اسے ایک نئی دنیا دکھائی دیتی ہے۔

کوئی کہتا ہے یوٹیوب سے کمائیں، کوئی ٹک ٹاک، کوئی کرپٹو، کوئی بائنانس، کوئی ایفیلی ایٹ مارکیٹنگ، کوئی اے آئی اور کوئی صرف اکاؤنٹ بنا کر کمائی شروع کرنے کا راستہ دکھا رہا ہے۔

لیکن ذرا ٹھہریے۔

اگر پیسہ کمانا واقعی اتنا آسان ہو چکا ہے تو پھر اتنے نوجوان مہینوں اور سالوں بعد بھی وہیں کیوں کھڑے ہیں؟

اصل کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔

ان نوجوانوں کو لالچی کہنا آسان ہے، لیکن اکثر وہ لالچی نہیں ہوتے، مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں بجلی کا بل بھی دینا ہے، ماں باپ کا سہارا بھی بننا ہے، شادی بھی کرنی ہے اور اپنے دوستوں کو آگے بڑھتے بھی دیکھنا ہے۔

اسی لیے "گھر بیٹھے کمائیں" کا جملہ ان کے لیے اشتہار نہیں رہتا، امید بن جاتا ہے۔

مگر یاد رکھیے، امید اور سراب دونوں دور سے پانی جیسے دکھائی دیتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایک پیاس بجھاتا ہے اور دوسرا انسان کو مزید صحرا میں لے جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آن لائن کمائی خود کوئی سراب نہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ 2.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق تقریباً 22 لاکھ افراد کا بنیادی روزگار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا گِگ ورک سے وابستہ تھا۔

یعنی پیسہ موجود ہے، مارکیٹ موجود ہے اور مواقع بھی موجود ہیں۔

پھر خرابی کہاں ہے؟

خرابی ترتیب میں ہے۔

ہم نے کمائی کی سیڑھی الٹی دیوار سے لگا دی ہے۔ اصل ترتیب ہنر، مشق، مسئلہ، گاہک اور پھر آمدن ہے، جبکہ شارٹ کٹ کی دنیا پہلے آمدن دکھاتی ہے، پھر پلیٹ فارم، پھر اکاؤنٹ اور آخر میں شاید ہنر۔

یہ فرق معمولی نہیں، پورا مستقبل بدل دیتا ہے۔

یوٹیوب اس کی بہترین مثال ہے۔ یوٹیوب خود اشتہارات سے آمدن کے لیے اہلیت، مخصوص سبسکرائبرز اور واچ ٹائم یا شارٹس ویوز کی شرائط رکھتا ہے اور اس کے بعد بھی چینل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یعنی پلیٹ فارم بھی آپ سے پہلے کام مانگتا ہے، پیسہ بعد میں دیتا ہے۔

اب ٹریڈنگ کو دیکھیے۔

ہر ٹریڈنگ پلیٹ فارم فراڈ نہیں، لیکن پاکستان کا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن عوام کو ایسے غیر مجاز آن لائن ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری پلیٹ فارمز سے خبردار کر چکا ہے جو غیر معمولی منافع کے خواب دکھاتے ہیں۔

اس لیے اگلی مرتبہ کوئی آپ کو کمائی کا نیا طریقہ دکھائے تو فوراً یہ مت پوچھیے، "کتنے پیسے بنیں گے؟"

پہلے پوچھیے، "میں اس میں قابل کس چیز کا بنوں گا؟"

پھر دوسرا سوال کیجیے، "میری اس قابلیت کے پیسے کون دے گا اور کیوں دے گا؟"

یہ دونوں سوال شاید آپ کے کئی مہینے اور لاکھوں روپے بچا دیں۔

کیونکہ مارکیٹ آپ کی غربت پر ترس کھا کر پیسے نہیں دیتی، مارکیٹ مسئلہ حل کرنے کی قیمت دیتی ہے۔

آپ ویڈیو بنانا جانتے ہیں تو کوئی آپ کی ویڈیو کی قیمت دے گا۔ آپ سیلز جانتے ہیں تو کوئی آپ کو گاہک لانے کے پیسے دے گا۔ آپ پروگرامنگ، ڈیزائن، مارکیٹنگ یا اے آئی آٹومیشن جانتے ہیں تو کوئی اپنے کاروباری مسئلے کے حل کی قیمت دے گا۔

لیکن صرف یہ جاننا کہ "پیسے کہاں سے کمائے جا سکتے ہیں" بذات خود کوئی ہنر نہیں۔

اور شاید یہی وہ بات ہے جو ہمیں اپنے نوجوانوں کو سب سے پہلے سمجھانی چاہیے۔

ہمیں انہیں آن لائن کمائی نہیں سکھانی، ہمیں انہیں آن لائن قابل بننا سکھانا ہے۔

کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ "میں انٹرنیٹ سے پیسے کیسے کماؤں؟"

اصل سوال یہ ہے، "میں انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کس انسان کا کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہوں؟"

جس دن ایک نوجوان نے یہ سوال دل سے پوچھ لیا، اس دن اس کا موبائل قسمت آزمانے کی مشین نہیں رہے گا، اس کا اوزار بن جائے گا۔

اور شاید اسی دن اس کی اصل آن لائن کمائی شروع ہوگی۔

08/09/2026

ذہین لوگوں کو جمع کرنا بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ جہاں تک ریوڑ کو جمع کرنے کا تعلق ہے، تو اس کے لیے بس ایک چرواہے۔ اور کتے کی ضرورت ہے

07/09/2026

Chatgpt ASTRA

31/08/2026

پاکستان میں بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے کا تجربہ دکھا رہے تھے، گاڑی پولیس کی وین سے جا ٹکرائی، ڈز کی آواز آئی!!!🤣😂

30/08/2026

شبیر حسین یو بی ایل بینک کی موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرتے تھے۔ ایک روز اچانک ان کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے نکل گئے۔ اسی طرح سلطان مسعود بھی یو بی ایل کی موبائل بینکنگ ایپ کے صارف تھے۔ ٹھیک تین روز بعد ان کے اکاؤنٹ سے بھی ساڑھے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم منتقل کر دی گئی۔

دونوں متاثرین نے بینک سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ انہوں نے خود اپنی پرانی سم بلاک کروا کر نئی ڈپلیکیٹ سم حاصل کی، اس کے بعد نئے موبائل فون میں بینکنگ ایپ انسٹال کی اور رقم خود منتقل کی۔

متاثرین نے اس معاملے کی شکایات PTA میں درج کروائیں۔ پی ٹی اے کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں متاثرین کی ڈپلیکیٹ سمیں بہاولپور میں موجود "فائن ٹیلی کام" نامی جاز موبائل فرنچائز سے جاری کی گئی تھیں۔

پی ٹی اے کی شکایت پر NCCIA نے باقاعدہ مقدمہ درج کیا۔ فائن ٹیلی کام پر چھاپہ مار کر سمیں جاری کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

مزید تفتیش سے انکشاف ہوا کہ یہ ایک منظم فراڈ تھا، جس کے ذریعے یو بی ایل کے کم از کم چھ اکاؤنٹ ہولڈرز متاثر ہوئے اور اسی طریقۂ واردات کے ذریعے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم منتقل کی گئی۔

فراڈ کا طریقۂ واردات کیا تھا؟

تفتیش کے مطابق یو بی ایل کے اندر موجود بعض ملازمین صارفین کا خفیہ ڈیٹا، رجسٹرڈ موبائل نمبرز اور اکاؤنٹس سے متعلق معلومات حاصل کرکے آگے فراہم کرتے تھے۔

اس کے بعد صارفین کی اصل سمیں بلاک کروائی جاتیں اور بائیومیٹرک ڈیوائس کو مبینہ طور پر کم فریکوئنسی پر چلا کر یا VPN کے ذریعے حاصل کیے گئے کاغذی فنگر پرنٹس استعمال کرکے ڈپلیکیٹ سم جاری کروائی جاتی۔

ڈپلیکیٹ سم کو نئے موبائل فون میں ڈال کر بینک کی موبائل ایپ انسٹال کی جاتی اور بعد ازاں اکاؤنٹ میں موجود رقم ملزمان کے اپنے یا دیگر اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جاتی۔

یو بی ایل نے بھی اس معاملے کی داخلی انکوائری کی، جس میں تین ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ ان میں محمد عاطف نامی افسر کو مبینہ طور پر مرکزی کردار قرار دیا گیا۔ الزام کے مطابق عاطف صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے آگے فراہم کرتا تھا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد اس نے ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

ملزم عاطف کا مؤقف

لاہور ہائیکورٹ میں ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سم جاری کرنے والے افراد یا رقم وصول کرنے والے ملزمان کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ ثابت نہیں ہوا۔ اس نے اس فراڈ سے کوئی مالی فائدہ بھی حاصل نہیں کیا۔

یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ محض صارفین کے اکاؤنٹس یا ڈیٹا کو دیکھ لینا بذاتِ خود جرم میں شرکت یا SIM Swap Fraud میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔ ملزم کے مطابق اس نے "یو بی ایل اومنی" کے ملازم فیاض کے کہنے پر صرف تصدیق کے مقصد سے ڈیٹا دیکھا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستِ ضمانت کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ PECA اور تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی متعلقہ دفعات ایک ہی مقدمے میں بیک وقت لاگو ہو سکتی ہیں۔

عدالت کے مطابق کسٹمر کا بینک ڈیٹا، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 405 تا 409 کے مقاصد کے لیے قانونی طور پر "Property" کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اگر کوئی بینک ملازم اپنی قانونی رسائی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صارفین کا ڈیٹا بددیانتی سے لیک کرے تو اس کے خلاف مجرمانہ خیانتِ امانت (Criminal Breach of Trust) کا معاملہ بنتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی مدنظر رکھا کہ بطور Branch Services Supervisor عاطف کو صارفین کے ڈیٹا تک قانونی رسائی حاصل تھی۔ بینک کی داخلی انکوائری کے مطابق اس کی آئی ڈی کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے آگے منتقل کیا گیا۔

عدالت کے مطابق دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت جرم کا معاملہ بنتا ہے، جس کی سزا سخت نوعیت کی ہے اور یہ جرم امتناعی شق کے دائرے میں آتا ہے۔

لہٰذا لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد عاطف کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔

عوام کے لیے اہم احتیاط

وٹس ایپ ہو یا موبائل بینکنگ ایپ، اسے ایسے موبائل نمبر پر ہرگز رجسٹر نہ کریں جو مستقل طور پر آپ کے زیرِ استعمال نہ ہو۔

اگر آپ کے موبائل فون کے سگنلز اچانک غائب ہو جائیں، سم بند ہو جائے یا موبائل نیٹ ورک اچانک کام کرنا چھوڑ دے تو اسے محض معمولی تکنیکی خرابی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ فوراً اپنی موبائل کمپنی اور بینک سے رابطہ کریں اور اپنے اکاؤنٹس کی سکیورٹی چیک کروائیں۔

کیونکہ SIM Swap Fraud کے ذریعے فراڈ کرنے والے آپ کی ڈپلیکیٹ سم حاصل کرکے موبائل بینکنگ ایپ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور آپ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم منتقل کی جا سکتی ہے۔
تحریر: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
قانونی آگاہی کے لیے اس معلومات کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔











26/08/2026

دارالحکومت سرکاری ہسپتال میں بچے جھلس کے مر گئے لیکن حکمران شرم سے نہ مر سکے

23/08/2026

🚨 Important Security Notice — SkillifyOnline.com

SkillifyOnline.com recently experienced a cybersecurity incident involving unauthorized activity and content on our website.

We have taken immediate security measures, removed unauthorized accounts/content, secured affected areas, and started a detailed technical investigation using database records and available logs.

Our investigation is ongoing, and we are working to identify the source and prevent any recurrence.

The security of our students, teachers, staff, and users remains our highest priority.

We sincerely apologize for any inconvenience and thank everyone for their patience and cooperation.

— SkillifyOnline Team 🔐

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aamir Freelancer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aamir Freelancer:

Shortcuts

Share