Aalam Nama عالم نامہ۔

Aalam Nama عالم نامہ۔ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aalam Nama عالم نامہ۔, etaleia, Etale.

عالم نامہ | Aalam Nama
یہ صفحہ کائنات کے راز، سائنس کی حیرت انگیز دریافتیں، خلائی مشنز، سیاروں کی دنیا، اور انسانی علم کی نئی جہتوں کو آسان الفاظ میں بیان کر رہا ہے

ہماری کائنات میں کھربوں کھرب سیارے موجود ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر آپ ہر سیکنڈ میں ایک سیارہ گنیں تو...
23/06/2026

ہماری کائنات میں کھربوں کھرب سیارے موجود ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر آپ ہر سیکنڈ میں ایک سیارہ گنیں تو تمام سیاروں کو گننے میں کروڑوں بلکہ اربوں سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا اتنی وسیع کائنات میں زندگی صرف زمین پر ہی موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں اس کا امکان بہت کم ہے۔ اتنی بڑی کائنات میں کہیں نہ کہیں ایسے سیارے ضرور موجود ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کی کسی نہ کسی شکل نے جنم لیا ہو۔ شاید وہ زندگی ہمارے جیسی ہو۔۔۔۔ شاید بالکل مختلف ہو لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے زندگی کا صرف زمین تک محدود ہونا ایک بہت بڑا سوال ہے۔۔۔۔۔۔اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے سائنس دان دن رات ایسے سیاروں اور ستاروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔۔۔جہاں زندگی کے لیے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایسے ستاروں کی ایک فہرست تیار کی ہے جن کے گرد ایسے سیارے موجود ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کے لیے موزوں حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ ستارے مستقبل کی تحقیق کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے گرد چکر لگانے والی دنیاؤں میں پانی مناسب درجۂ حرارت اور زندگی کے لیے ضروری دیگر عناصر موجود ہوں۔۔۔۔۔۔۔ شاید مستقبل میں ایک نئی دوربین انہی ستاروں کا تفصیل سے مشاہدہ کرے گی۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے سیاروں کو تلاش کرنا ہوگا جو زمین کی طرح ہوں اور جہاں زندگی موجود ہونے کا امکان ہو۔۔۔۔۔ سائنس دان خاص طور پر ان ستاروں کو منتخب کرتے ہیں جن کے گرد قابل رہائش خطہ موجود ہو۔ یہ وہ فاصلہ ہوتا ہے جہاں نہ بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ بہت زیادہ سردی۔۔۔۔ اگر کسی سیارے پر درجہ حرارت مناسب ہو تو وہاں مائع پانی موجود رہ سکتا ہے، اور پانی زندگی کے لیے سب سے اہم چیزوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔۔۔اس فہرست میں ہمارے قریب موجود کئی ستارے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایپسلون ایریدانی زمین سے تقریبا 10.5 نوری سال دور واقع ہے اور کافی عرصے سے سائنس دان اس کا مطالعہ کر رہے ہے۔ اسی طرح بیٹا نیا نوجوان ستارہ ہے ۔جس کے گرد سیاروں اور گرد و غبار کا وسیع نظام موجود ہے۔۔۔۔۔اور اس میں ہمارے سب سے نزدیک ستاروں میں پروکسیما سینٹوری الفا سینٹوری اے اور الفا سینٹوری بی بھی شامل ہیں۔ یہ ہمارے سورج کے بعد قریب ترین ستاروں کے نظام کا حصہ ہیں۔۔۔۔ اور تقریبا 4.3 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں۔ پروکسیما سینٹوری کے گرد ایک مشہور سیارہ پروکسیما سینٹوری بی بھی دریافت کیا جا چکا ہے یہ اپنے ستارے سے ایسے پوزیشن پر ہے کہ شاید وہاں زندگی موجود ہو سکتا ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ نظام سائنس دانوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر مستقبل میں کبھی انسان اتنا ترقی کرے کہ وہ دوسرے ستاروں کی طرف سفر کرے تو یہ نظام اولین امیدواروں میں شامل ہوگا۔ کیونکہ یہ نظام ہمارے بہت قریب ہے ۔۔۔۔۔اور سائنس دان صرف سیاروں کو تلاش نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کے ماحول کا بھی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ جب کسی سیارے کی روشنی کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس کے ماحول میں موجود گیسوں کا پتا چل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آکسیجن میتھین یا پانی کے بخارات زندگی کی موجودگی کے ممکنہ اشارے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔
تخریر ....عالم نامہ Aalam nama

چیونٹیوں کی پوری کالونی میں کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں ہوتا.... جو سب کو حکم دے....... اس کے باوجود ہزاروں بلکہ لاکھوں چیون...
22/06/2026

چیونٹیوں کی پوری کالونی میں کوئی ایک ایسا لیڈر نہیں ہوتا.... جو سب کو حکم دے....... اس کے باوجود ہزاروں بلکہ لاکھوں چیونٹیاں مل کر ایک درست اور زبردست نظام سے چلتی ہیں۔۔۔۔ یہ نظام اتنا درست اور ترتیب سے ہوتا ہے کہ اسے دیکھ کر لگتا ہے جیسے پوری کالونی کا ایک ہی دماغ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔سائنس دان اس صلاحیت کو اجتماعی ذہانت کہتے ہیں۔یعنی سب چیونٹیوں کا مل کر سمجھداری سے کام کرنا۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیونٹی اکیلے میں زیادہ ذہین نہیں ہوتی اور صرف چند سادہ اصولوں پر عمل کرتی ہے، لیکن جب ہزاروں چیونٹیاں ایک ساتھ کام کرتی ہیں تو وہ ایک بڑے اور ذہین نظام کی طرح کام کرنے لگتی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے ایک اینٹ سے گھر نہیں بنتا لیکن ہزاروں اینٹیں مل کر ایک مضبوط عمارت بنا دیتی ہیں......چیونٹیوں کے آپس میں رابطے کا سب سے اہم طریقہ کیمیکل سگنلز ہیں جنہیں فیرومونز کہا جاتا ہے۔ یہ خاص قسم کی خوشبو یا کیمیکل ہوتے ہیں جو چیونٹیاں زمین پر چھوڑتی جاتی ہیں۔ جب کسی چیونٹی کو کھانا ملتا ہے تو وہ اپنے گھونسلے کی طرف واپس جاتے ہوئے راستے میں فیرومون کا نشان چھوڑتی ہے۔ دوسری چیونٹیاں اس بو کو محسوس کرتی ہیں اور اسی راستے پر چل پڑتی ہیں.....
یہ ایسا ہے۔۔ کہ کسی گاؤں میں ایک شخص کو پانی کا نیا کنواں مل جاتا ہے۔ وہ واپس آتے ہوئے راستے میں نشان لگاتا جاتا ہے تاکہ دوسرے لوگ بھی وہاں پہنچ سکیں۔ اب جتنے زیادہ لوگ اس راستے سے گزریں گے اتنا ہی وہ راستہ واضح ہوتا جائے گا۔ چیونٹیوں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ جس راستے پر زیادہ چیونٹیاں چلتی ہیں وہاں فیرومون کی بو زیادہ مضبوط ہو جاتی ہےاور باقی چیونٹیاں بھی اسی راستے کو اختیار کرنے لگتی ہیں۔
اسی طریقے سے چیونٹیاں بہترین اور سب سے چھوٹا راستہ تلاش کر لیتی ہیں۔ اگر دو راستے موجود ہوں، ایک چھوٹا اور ایک لمبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو چھوٹے راستے سے چیونٹیاں جلدی واپس آئیں گی اور زیادہ فیرومون چھوڑیں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ تر چیونٹیاں اسی راستے کو استعمال کرنے لگیں گی جبکہ لمبے راستے کی بو آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔ یوں پوری کالونی خود بخود سب سے بہتر راستہ منتخب کر لیتی ہے، حالانکہ کسی نے انہیں یہ حکم نہیں دیا ہوتا۔۔۔چیونٹیوں کی ایک اور حیرت انگیز خوبی کام کی تقسیم ہے۔ کالونی میں ہر چیونٹی ایک جیسا کام نہیں کرتی۔ کچھ چیونٹیاں خوراک تلاش کرتی ہیں۔ کچھ گھونسلے کی صفائی کرتی ہیں۔ کچھ بچوں اور انڈوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور کچھ کالونی کی حفاظت کرتی ہیں۔
مزدور چیونٹیاں روزانہ گھونسلے سے باہر نکلتی ہیں اور خوراک ڈھونڈتی ہیں۔ اگر انہیں کوئی خوراک مل جائے تو وہ اسے اٹھا کر یا گھسیٹ کر واپس لے آتی ہیں۔ فوجی چیونٹیاں نسبتا بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں۔ ان کا کام دشمنوں، مکڑیوں دوسرے کیڑوں یا حملہ آور چیونٹیوں سے کالونی کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔۔۔کالونی میں ایک ملکہ چیونٹی بھی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملکہ پوری کالونی کو حکم دیتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ملکہ کا بنیادی کام صرف انڈے دینا اور نئی نسل پیدا کرنا ہے۔ باقی چیونٹیاں اپنے کام خودکار طریقے سے انجام دیتی ہیں۔۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چیونٹیوں کو کوئی سکول یا تربیتی مرکز نہیں سکھاتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ ان کا کام اکثر ان کی عمر اور کالونی کی ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان چیونٹی شروع میں گھونسلے کے اندر کام کرتی ہے، لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے وہ باہر جا کر خوراک تلاش کرنے لگتی ہے۔ اس طرح کالونی میں ضرورت کے مطابق کام تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔چیونٹیاں صرف خوراک ہی نہیں ڈھونڈتیں بلکہ اجتماعی فیصلے بھی کرتی ہیں۔ اگر انہیں نیا گھونسلہ بنانا ہو تو کچھ چیونٹیاں مختلف جگہوں کا جائزہ لینے نکلتی ہیں۔ وہ ہر جگہ کی حفاظت نمی درجہ حرارت اور جگہ کی وسعت کو پرکھتی ہیں۔ پھر جو چیونٹیاں بہتر جگہ تلاش کرتی ہیں وہ دوسری چیونٹیوں کو بھی وہاں لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔۔۔۔اگر ایک جگہ واقعی اچھی ہو تو زیادہ چیونٹیاں اس کی حمایت کرنے لگتی ہیں۔ آہستہ آہستہ پوری کالونی اسی جگہ پر متفق ہو جاتی ہے اور وہاں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل ووٹنگ کی طرح ہوتا ہے، لیکن یہاں کوئی بیلٹ پیپر زبان یا ہاتھ اٹھانا نہیں ہوتا۔ صرف چیونٹیوں کا رویہ اور ان کی تعداد فیصلہ کرتی ہے۔۔ان کے گھونسلے بھی انجینئرنگ کا شاہکار ہوتے ہیں۔ بہت سی اقسام زمین کے اندر پیچیدہ سرنگیں اور کمرے بناتی ہیں۔ ان میں خوراک ذخیرہ کرنے کے الگ حصے بچوں کی پرورش کے الگ حصے اور آرام کے الگ حصے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔بعض گھونسلوں میں ہوا کی آمدورفت کا ایسا نظام ہوتا ہے کہ اندر تازہ ہوا پہنچتی رہتی ہے، حالانکہ یہ سب ایک چھوٹے سے کیڑے نے بنایا ہوتا۔۔۔۔کچھ چیونٹیاں مستقبل کے لیے خوراک بھی جمع کرتی ہیں۔ جب خوراک آسانی سے مل رہی ہو تو وہ اضافی خوراک ذخیرہ کر لیتی ہیں تاکہ مشکل وقت میں استعمال کر سکیں۔ یہ عادت انسانوں کی گودام بنانے کی عادت سے کافی ملتی جلتی ہے۔۔۔۔سائنس دان چیونٹیوں کے نظام کو ایمرجنٹ سسٹم Emergent System کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے چھوٹے اور سادہ کام مل کر ایک بڑا اور پیچیدہ نظام بنا دیتے ہیں۔ ایک چیونٹی اکیلے میں محدود صلاحیت رکھتی ہے، لیکن ہزاروں چیونٹیاں مل کر ایسے مسائل حل کر لیتی ہیں جو ایک چیونٹی کبھی حل نہیں کر سکتی۔۔۔۔یعنی چیونٹیاں قدرت کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے پاس کوئی مرکزی دماغ نہیں۔۔۔۔۔ کوئی وزیر یا بادشاہ نہیں۔۔ پھر بھی وہ خوراک تلاش کرتی ہیں گھونسلے بناتی ہیں دشمنوں سے لڑتی ہیں، بچوں کی پرورش کرتی ہیں اور اجتماعی فیصلے کرتی ہیں۔

سکرین پر جو تصویر اپ دیکھ رہےہیں  یہ تصویر مارس  یعنی مریخ کی ہے۔۔۔۔۔۔ اس عجیب و غریب  تصویر کو ناسا کے پرسیویئرنس روور ...
21/06/2026

سکرین پر جو تصویر اپ دیکھ رہےہیں یہ تصویر مارس یعنی مریخ کی ہے۔۔۔۔۔۔ اس عجیب و غریب تصویر کو ناسا کے پرسیویئرنس روور نے مارچ 2025 میں لی تھی۔ پہلی نظر میں یہ تصویر کسی عام پتھر کی نہیں لگتی بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے دانے موتی یا مچھلی کے انڈے ایک جگہ جمع ہوں۔۔۔۔۔۔۔ بعض لوگوں کو یہ انگور کے چھوٹے گچھے یا چاکلیٹ پر لگے دانوں جیسی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
اس چٹان کو سائنسدانوں نے سینٹ پالز کا نام دیا ہے۔۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والے یہ گول دانے صرف چند ملی میٹر سائز کے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ پوری چٹان انہی سے ڈھکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کچھ دانے بالکل گول ہیں، کچھ لمبوتری شکل رکھتے ہیں جبکہ بعض ٹوٹے ہوئے یا درمیان سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ چند دانوں میں ننھے ننھے سوراخ بھی موجود ہیں۔۔۔۔جب ناسا کے روور نے یہ تصویر زمین پر بھیجی تو سائنسدان حیران رہ گئے، کیونکہ مریخ پر اس طرح کی چٹانیں بہت کم دیکھی گئی ہیں۔ اب ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ عجیب و غریب گول دانے آخر بنے کیسے۔۔۔۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ پر زیر زمین پانی موجود تھا۔ ۔۔۔۔جب پانی چٹانوں کے اندر سے گزرتا ہے تو وہ معدنیات کو جمع کر کے آہستہ آہستہ گول شکلیں بنا سکتا ہے۔ اگر یہ خیال درست ثابت ہو جائے تو یہ مریخ پر ماضی میں پانی کی موجودگی کا ایک اہم ثبوت ہوگا۔
۔۔۔۔ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ دانے کسی آتش فشانی سرگرمی کے دوران بنے ہوں۔ جب پگھلا ہوا پتھر فضا میں اچھلتا ہے تو اس کے چھوٹے قطرے ٹھنڈے ہو کر گول شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ بعد میں یہی قطرے چٹان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اور تیسرا امکان یہ بھی ہے کہ کسی بڑے شہابیے کے مریخ سے ٹکرانے کے بعد شدید گرمی پیدا ہوئی ہو۔ اس عمل کے دوران پتھر پگھل کر یا بخارات بن کر دوبارہ جم گئے ہوں اور گول دانوں کی شکل اختیار کر لی ہو۔۔۔۔۔ لیکن فی الحال کوئی بھی یقین سے نہیں جانتے کہ ان دانوں کی اصل وجہ کیا ہے، لیکن ماہرین اس پراسرار چٹان کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ ننھے ننھے گول دانے مریخ کی قدیم تاریخ وہاں موجود پانی آتش فشانی سرگرمیوں یا کسی بڑے شہابی تصادم کے راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہوں۔۔۔۔۔۔
تخریر ۔۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

سورج کا پڑوسی سیارہ زہرہ پر کیلنڈر اور گھڑی دونوں عجیب انداز میں کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون 2026 میں شائع ہونے والی ا...
21/06/2026

سورج کا پڑوسی سیارہ زہرہ پر کیلنڈر اور گھڑی دونوں عجیب انداز میں کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون 2026 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی رپورٹ کے مطابق زہرہ نظام شمسی کے سب سے عجیب سیاروں میں سے ایک ہے۔ اس سیارے کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ایک دن، ایک سال سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔زمین پر ہم ایک دن کو 24 گھنٹے اور ایک سال کو 365 دن سمجھتے ہیں۔۔ لیکن زہرہ پر صورتحال بالکل مختلف ہے۔ زہرہ اپنے محور کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں تقریبا 243 زمینی دن لیتا ہے، جبکہ سورج کے گرد ایک چکر صرف 225 زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔ یعنی زہرہ پر ایک دن اس کے ایک سال سے بھی لمبا ہے۔
یہ شاید نظام شمسی کی ان چند حقیقتوں میں سے ایک ہے جو پہلی بار سننے پر غلط محسوس ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن سائنسی طور پر یہ بالکل درست ہے۔ زہرہ اپنا سال مکمل کر لیتا ہے جبکہ اس کا دن ابھی جاری ہوتا ہے۔۔۔۔اور اس سیارے پر سورج مشرق سے نہیں بلکہ مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اگر کوئی وہاں کھڑا ہو تو اسے آسمان کا منظر زمین کے بالکل الٹ نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہرہ اپنے محور پر زیادہ تر سیاروں کے برعکس الٹی سمت میں گھومتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
تخریر عالم نامہ Aalam nama

ہماری زمین خلا میں ایسے ہی کھلی نہیں پڑی ہوئی بلکہ اس کے اردگرد قدرت نے ایک بہت مضبوط حفاظتی نظام بنایا ہے جس میں دو بڑی...
20/06/2026

ہماری زمین خلا میں ایسے ہی کھلی نہیں پڑی ہوئی بلکہ اس کے اردگرد قدرت نے ایک بہت مضبوط حفاظتی نظام بنایا ہے جس میں دو بڑی ڈھالیں شامل ہیں ایک فضا اور دوسرا مقناطیسی میدان .....فضا زمین کے گرد ہوا کی ایک موٹی تہہ ہے جو تقریبا سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے جیسے جیسے ہم اوپر جاتے ہیں ہوا کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ تہہ بہت اہم ہے .............جب خلا سے کوئی چیز جیسے شہاب ثاقب خلائی گرد و غبار یا چھوٹے بڑے پتھر زمین کی طرف آتے ہیں تو وہ اس فضا میں داخل ہو کر بہت تیز رفتار سے رگڑ کھاتے ہیں اور اس رگڑ کی وجہ سے بہت زیادہ گرم ہو کر جل جاتے ہیں اسی لیے ہم آسمان پر جو ٹوٹتے ستارے دیکھتے ہیں وہ اصل میں یہی جلتے ہوئے پتھر ہوتے ہیں ........اگر فضا نہ ہوتی تو روزانہ زمین پر بہت خطرناک پتھر گرتے اور زندگی مشکل ہو جاتی...... اس کے بعد دوسری بڑی ڈھال زمین کا مقناطیسی میدان ہے جو زمین کے اندر پگھلے ہوئے لوہے کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے یہ میدان زمین کے گرد ایک طاقتور حفاظتی حصار بنا دیتا ہے جو خاص طور پر سورج سے آنے والے خطرناک ذرات کو روکتا ہے..............سورج سے مسلسل شمسی ہوا نکلتی رہتی ہے جو برقی ذرات پر مشتمل ہوتی ہے اگر یہ سیدھا زمین تک پہنچ جائے تو سیٹلائٹ خراب ہو سکتے ہیں موبائل اور انٹرنیٹ نظام متاثر ہو سکتا ہے اور بجلی کا نظام بھی بند ہو سکتا ہے لیکن زمین کا مقناطیسی میدان ان ذرات کو سیدھا آنے نہیں دیتا بلکہ انہیں موڑ کر زمین کے گرد گھما دیتا ہے...... اسی طرح سورج پر بڑے دھماکے بھی ہوتے ہیں جنہیں شمسی شعلے کہتے ہیں یہ بہت زیادہ توانائی خلا میں پھینکتے ہیں جو اگر زمین تک پہنچ جائیں تو ریڈیو سگنلز GPS نظام اور خلا میں موجود خلابازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں..... لیکن مقناطیسی میدان ان کا زیادہ تر حصہ روک لیتا ہے اس کے علاوہ سورج سے گیس اور ذرات کے بڑے بادل بھی نکلتے ہیں جنہیں coronal mass ejection کہا جاتا ہے اگر یہ زمین سے ٹکرائیں تو جیو میگنیٹک طوفان آ سکتے ہیں بجلی کے نظام میں خرابی ہو سکتی ہے لیکن بعض اوقات اس سے آسمان پر خوبصورت روشنیوں کے پردے بھی نظر آتے ہیں جنہیں اورورا کہا جاتا ہے اس کے ساتھ خلا میں بہت سے پتھر بھی گردش کرتے ہیں جنہیں شہاب ثاقب کہتے ہیں جب یہ زمین کی طرف آتے ہیں تو زیادہ تر فضا میں جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور صرف بہت کم بڑے ٹکڑے زمین تک پہنچتے ہیں اسی طرح کائنات سے بہت تیز توانائی والی شعاعیں بھی آتی ہیں جنہیں کائناتی شعاعیں کہا جاتا ہے یہ انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں لیکن فضا اور مقناطیسی میدان انہیں کمزور کر دیتے ہیں .....یعنی فضا ایک جسمانی اور حرارتی ڈھال ہے اور مقناطیسی میدان ایک برقی ڈھال ہے یہ دونوں مل کر زمین کو خلا کے خطرناک اثرات سے بچاتے ہیں اسی وجہ سے زمین پر زندگی ممکن ہے اور یہ سیارہ ہمارے لیے ایک محفوظ جگہ بنا ہوا ہے

انسانی دماغ ایک قدرتی سپر کمپیوٹر ہےجو بہت زیادہ معلومات کو ایک خاص اور انتہائی پیچیدہ طریقے سے محفوظ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس ...
20/06/2026

انسانی دماغ ایک قدرتی سپر کمپیوٹر ہےجو بہت زیادہ معلومات کو ایک خاص اور انتہائی پیچیدہ طریقے سے محفوظ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ صرف معلومات کو جمع نہیں کرتا بلکہ اسے سمجھ کر احساسات کے ساتھ تجربات کے ساتھ اور حالات کے ساتھ یاد رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ بچپن میں کسی خاص دن آئس کریم کھا رہے تھے اور اس دن بہت زیادہ خوش تھے تو بعد میں جب بھی آئس کریم دیکھیں گے تو صرف ذائقہ ہی نہیں یاد آئے گا بلکہ وہ خوشی وہ جگہ اور وہ دن بھی یاد آ جائے گا۔۔۔۔۔۔یعنی دماغ ایک ہی چیز کو یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ جڑے ہوئے جذبات اور حالات بھی محفوظ کر لیتا ہے۔۔۔دماغ میں تقریبا 86 ارب نیورون ہوتے ہیں ۔۔جو بہت چھوٹے خلیے ہوتے ہیں جنہیں نیورون کہتے ہیں یہ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور ان کے درمیان بننے والے راستوں کو Synapses کہا جاتا ہے اسی طرح جب ہم سائیکل چلانا سیکھتے ہیں تو شروع میں بار بار گرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ رابطے کمزور ہوتے ہیں لیکن جتنا زیادہ ہم پریکٹس کرتے ہیں اتنا ہی دماغ میں نئے راستے بنتے ہیں اور پرانے راستے مضبوط ہو جاتے ہیں اسی لیے بار بار کرنے سے چیزیں آسانی سے یاد بھی رہتی ہیں اور بہتر طریقے سے سیکھ بھی لی جاتی ہیں
دماغ کمپیوٹر کی طرح سیدھی فائلوں میں ڈیٹا محفوظ نہیں کرتا بلکہ یہ ایک بہت بڑا نیٹ ورک کی طرح کام کرتا ہےجہاں ہر یاد دوسری یاد کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔مثلا اگر آپ کو بچپن کا کوئی لمحہ یاد آتا ہے تو اس کے ساتھ آپ کو آواز، جگہ، چہرے، خوشبو اور احساسات سب کچھ ایک ساتھ یاد آتا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ صرف معلومات نہیں بلکہ پورا تجربہ محفوظ کرتا ہے۔۔سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ کی ڈیٹا سٹوریج صلاحیت تقریبا 2.5 پیٹابائٹس کے برابر ہو سکتی ہےیہ اندازہ مختلف سائنسی تحقیق اور نیورل نیٹ ورک ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہےایک پیٹابائٹ میں تقریبا 10 لاکھ گیگا بائٹس ہوتے ہےاس حساب سے دماغ لاکھوں گیگا بائٹس کے برابر معلومات محفوظ کر سکتا ہےاس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی دماغ میں اتنی صلاحیت ہو سکتی ہے کہ وہ لاکھوں فلمیں، اربوں تصاویر اور بے شمار کتابوں کے برابر معلومات محفوظ کر سکےلیکن یہ ایک بالکل فکس نمبر نہیں ہےکیونکہ دماغ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کی طرح سیدھا حساب نہیں رکھتا۔۔دماغ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ڈیٹا کو compress بھی کرتا ہےاور غیر ضروری معلومات کو کم اہم بنا دیتا ہےاور صرف ضروری چیزوں کو زیادہ مضبوطی سے محفوظ رکھتا ہےاسی وجہ سے ہم ہر چھوٹی بات یاد نہیں رکھتے لیکن اہم اور جذباتی باتیں ہمیشہ یاد رہتی ہیں دماغ کا ایک حصہ فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہےایک حصہ یاد رکھنے کے لیے اور ایک حصہ سیکھنے کے لیے کام کرتا ہےیہ سب حصے مل کر ایک مکمل نظام بناتے ہیں۔۔۔انسانی دماغ کی طاقت صرف اسٹوریج نہیں بلکہ سوچنا سمجھنا تجزیہ کرنا فیصلہ کرنا اور تخلیق کرنا بھی ہےیہی وجہ ہے کہ انسان نئی چیزیں ایجاد کرتا ہے، زبانیں سیکھتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوچ سکتا ہےاگر کمپیوٹر کو صرف اسٹوریج مشین کہا جائے تو دماغ ایک زندہ ذہین نظام ہےجو خود کو بہتر بھی کرتا رہتا ہے۔۔یعنی انسانی دماغ دنیا کی سب سے پیچیدہ اور طاقتور چیزوں میں سے ایک ہےجو آج تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا اور اس پر تحقیق ابھی بھی جاری ہے۔۔۔۔
تخریر ۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

سائنس دان ایسے جدید روبوٹ بنا رہے ہیں جو خود فیصلے کر سکیں گے اپنا راستہ خود تلاش کریں گے اور خود تجربات بھی انجام دے سک...
20/06/2026

سائنس دان ایسے جدید روبوٹ بنا رہے ہیں جو خود فیصلے کر سکیں گے اپنا راستہ خود تلاش کریں گے اور خود تجربات بھی انجام دے سکیں گے۔۔۔۔۔ یہ روبوٹ ہمیں چاند مریخ اور دوسرے سیاروں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے میں مدد دیں گے۔۔۔۔مستقبل میں کچھ روبوٹ ایسے بھی ہوں گے جو انسانوں سے پہلے چاند اور مریخ پر جا کر وہاں رہنے کی تیاری کریں گے۔ یہ روبوٹ پانی تلاش کرنے، آکسیجن بنانے اور محفوظ جگہیں تیار کرنے جیسے کاموں میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس طرح مستقبل میں انسانوں کے لیے وہاں رہنا آسان ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔اس کی ایک مثال ناسا کا جدید روور ارنسٹ ہے۔۔۔۔ یہ ایک تجرباتی روبوٹ ہے جسے مشکل اور ناہموار زمین پر چلنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی آزمائش امریکہ کے صحرائی علاقوں میں کی گئی، جہاں اس نے تقریبا 26 کلومیٹر کا سفر کیا اور زیادہ تر وقت کم انسانی مدد کے ساتھ کام کیا۔۔۔ارنسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خود راستہ منتخب کر سکتا ہے۔۔۔۔ رکاوٹوں کو پہچان سکتا ہے اور ان سے گزرنے کا طریقہ بھی خود ڈھونڈ سکتا ہے۔ اس میں جدید کمپیوٹر نظام اور مصنوعی ذہانتاستعمال کی گئی ہے، جس کی مدد سے یہ حالات کو سمجھ کر بہتر فیصلے کر سکتا ہے
تخریر۔۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

ہم اپنے سورج کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے......سائنس دانوں کے مطابق سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر تقریبا ...
19/06/2026

ہم اپنے سورج کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے......سائنس دانوں کے مطابق سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر تقریبا 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔یعنی اگر زمین ایک چھوٹی گیند کے برابر ہو تو سورج ایک بہت بڑا گولہ نظر آئے گا............لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارا سورج کائنات کے سب سے بڑے ستاروں میں شامل نہیں ہے۔خلا میں ایسے ستارے موجود ہیں جو سورج سے کئی گنا زیادہ بڑے ہیں۔ایٹا کیرینائے نامی ستارہ سورج سے 150 گنا بڑا اور لاکھوں گنا زیادہ روشن ہے۔۔۔۔۔۔اس کے بعدبیٹلجیوس نامی ایک سرخ دیو ستارہ آتا ہے جو سورج سے 700 سے 1,000 گنا بڑا ہے۔اگر اسے ہمارے نظام شمسی کے درمیان رکھ دیا جائے تو اس کا حجم کئی سیاروں کے مدار تک پھیل جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوتی۔سائنس دانوں نے وی وائے کینس میجورس نامی ایک اور دیوہیکل ستارہ بھی دریافت کیا ہے۔یہ سورج سے1,400 سے 2,000 جتنا بڑا ہے اگر اسے سورج کی جگہ رکھ دیا جائے تو اس کا حجم مشتری کے مدار کے قریب تک پہنچ جائے گا۔ایسے ستاروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات میں کتنی عظیم چیزیں موجود ہیں۔۔۔۔۔اب ایک اور حیران کن حقیقت جانتے ہیں۔
ہمارا سورج ان گنت ستاروں میں سے صرف ایک ستارہ ہے۔یہ ملکی وے نامی کہکشاں میں موجود ہے۔سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں تقریبا 100 ارب سے 400 ارب ستارے موجود ہیں۔ان میں سے بہت سے ستاروں کے گرد سیارے بھی گردش کر رہے ہیں۔ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ سیارے زمین جیسے ہوں۔۔۔۔۔۔ہماری ملکی وے کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ روشنی کو اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں تقریبا ایک لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔۔۔۔۔یاد رہے کہ روشنی ایک سیکنڈ میں تقریبا 3 لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے۔اس کے باوجود اسے پوری کہکشاں پار کرنے میں ایک لاکھ سال درکار ہوتے ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری کہکشاں کتنی وسیع ہے۔۔۔۔۔لیکن ہماری کہکشاں بھی کائنات کی سب سے بڑی کہکشاؤں میں شامل نہیں۔
ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا ہے جو ہم سے تقریبا 25 لاکھ نوری سال دور ہے۔اس میں بھی اربوں ستارے موجود ہیں۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینڈرومیڈا میں ہماری کہکشاں سے بھی زیادہ ستارے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ کائنات میں ایسی بہت بڑی کہکشائیں بھی موجود ہیں جن میں کھربوں ستارے موجود ہیں۔ان میں سے بعض ہماری کہکشاں سے کئی گنا زیادہ بڑی ہیں۔جب اربوں ستارے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو ایک کہکشاں بنتی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن کہکشائیں بھی اکیلی نہیں ہوتیں۔بہت سی کہکشائیں مل کر ایک گروپ بناتی ہیں۔ہماری کہکشاں جس گروپ میں موجود ہے اسے لوکل گروپ کہا جاتا ہے۔اس گروپ میں درجنوں کہکشائیں شامل ہیں۔ان میں ملکی وے اور اینڈرومیڈا سب سے بڑی کہکشائیں ہیں۔۔۔۔۔۔اس سے بھی آگے جائیں تو بہت سے گروپ اور کلسٹر مل کر سپر کلسٹر بناتے ہیں۔ہمارا علاقہ ایک بہت بڑے سپر کلسٹر کا حصہ ہے جسے لانیاکیا سپر کلسٹر کہا جاتا ہے۔اس میں ایک لاکھ سے زیادہ کہکشائیں موجود ہیں۔یہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا سائز کروڑوں نوری سالوں تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ حرکت میں ہے۔زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں میں سفر کر رہا ہے۔کہکشائیں خلا میں حرکت کر رہی ہیں۔یہاں تک کہ سپر کلسٹر بھی کائنات میں اپنی جگہ قائم نہیں ہیں بلکہ مسلسل حرکت کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کائنات میں صرف ستارے اور سیارے ہی نہیں ہیں۔یہاں بلیک ہول بھی موجود ہیں جو اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ روشنی تک کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔کہیں بہت بڑے ستارے زبردست دھماکوں سے پھٹ رہے ہوتے ہیں۔کہیں نئی ستاروں کی پیدائش ہو رہی ہوتی ہے۔کہیں دو کہکشائیں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہیں اور مستقبل میں آپس میں ٹکرا جائیں گی۔۔۔جتنا زیادہ سائنس دان خلا کا مطالعہ کرتے ہیں اتنا ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ انسان نے ابھی تک کائنات کا صرف ایک بہت چھوٹا حصہ ہی دریافت کیا ہے۔آج بھی بے شمار راز ایسے ہیں جن کے جواب ہمارے پاس موجود نہیں۔۔۔۔۔۔شاید اسی لیے کائنات انسان کو حیران کر دیتی ہے۔اتنے بڑے ستارےاربوں کہکشائ کھربوسیارے،لاکھوں نوری سالوں پر پھیلے ہوئے عظیم ڈھانچے اور یہ سب ایک منظم نظام کے تحت حرکت کر رہے ہیں۔ان حقائق کو جاننے کے بعد انسان خود سے یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ کیا اتنا عظیم اور حیرت انگیز نظام محض اتفاق سے وجود میں آ سکتا ہے یا اس کے پیچھے کوئی عظیم منصوبہ ساز اور خالق موجود ہےجو بھی جواب ہو،ایک بات یقینی ہے کہ ہم اس عظیم کائنات کے مقابلے میں انتہائی چھوٹے ہیں اور کائنات کے بیشتر راز اب بھی ہماری دریافت کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔۔
تخریر عالم نامہ۔۔۔۔۔Aalam nama

سائنس دانوں نے خلا میں ایک بہت دور کہکشاں سے آنے والا ایک بہت ہی عجیب سگنل نوٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سگنل آواز نہیں تھا بلکہ...
19/06/2026

سائنس دانوں نے خلا میں ایک بہت دور کہکشاں سے آنے والا ایک بہت ہی عجیب سگنل نوٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سگنل آواز نہیں تھا بلکہ ریڈیو لہریں تھیں جنہیں بہت بڑے ریڈیو ٹیلیسکوپ کے ذریعے پکڑا گیا۔۔۔۔۔۔۔یہ سگنل اتنا دور تھا کہ اس کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں کروڑوں سال لگتے ہیں۔شروع میں یہ سگنل بالکل عام نہیں لگ رہا تھا کیونکہ یہ ایک بار اکر ختم نہیں ہوا بلکہ بار بار آتا رہا اور پھر اچانک بند ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔کبھی یہ چند دن مسلسل آتا تھا جیسے کوئی مسلسل نبض چل رہی ہو اور پھر اچانک مکمل سناٹا ہو جاتا تھا۔۔۔۔پھر کچھ وقت بعد وہی پیٹرن دوبارہ شروع ہو جاتا تھا۔۔۔ جیسے کوئی چیز کائنات میں ایک مقررہ وقت کے بعد خود کو دہرا رہی ہو۔یہی بات سائنس دانوں کے لیے سب سے زیادہ حیران کن تھی کیونکہ کائنات میں زیادہ تر سگنل اتنے باقاعدہ انداز میں آن اور آف نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔۔اس سگنل میں ایک اور عجیب بات یہ بھی تھی کہ اس کی طاقت ہر بار ایک جیسی نہیں تھی، کبھی یہ بہت مضبوط ہوتا تھا اور کبھی کمزور ہو جاتا تھا۔ جیسے کوئی چیز دور سے قریب اور پھر دور ہو رہی ہو۔۔۔۔۔۔کچھ بار یہ سگنل اتنا صاف تھا کہ سائنس دان اس کے چھوٹے چھوٹے جھٹکوں کو بھی الگ الگ محسوس کر سکتے تھے۔۔۔سائنس دانوں نے اس کو Fast Radio Burst یعنی FRB کا نام دیا۔۔۔۔۔یہ بہت طاقتور توانائی کے انتہائی مختصر جھٹکے ہوتے ہیں جو صرف چند ملی سیکنڈ میں خلا میں پھیل جاتے ہیں۔تحقیق کے دوران ایک بات اور بھی عجیب سامنے آئی کہ یہ سگنل صرف ایک جگہ سے نہیں بلکہ ایک خاص پیٹرن کے ساتھ آ رہا تھا۔۔ جیسے کوئی چیز چکر لگا رہی ہو اور ہر چکر میں مخصوص وقت پر سگنل دے رہی ہو۔۔۔اسی وجہ سے کچھ سائنس دانوں نے اسے کائناتی گھڑی جیسا نظام بھی کہا۔۔۔۔۔۔ابتدائی طور پر کچھ لوگوں نے یہ خیال بھی کیا کہ شاید یہ کسی خلائی مخلوق کا پیغام ہو۔۔۔۔کیونکہ اس میں باقاعدگی اور ترتیب بہت زیادہ تھی۔۔ لیکن بعد میں سائنس نے اس خیال کی کوئی مضبوط دلیل نہیں پائی۔زیادہ مضبوط نظریہ یہ ہے کہ یہ سگنل ایک بہت ہی خاص قسم کے مردہ ستارے سے آ رہا ہے جسے میگنیٹار کہتے ہیں۔۔۔میگنیٹار ایک ایسا ستارہ ہوتا ہے جس کا مقناطیسی میدان اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ خلا میں زبردست توانائی کے جھٹکے پیدا کر سکتا ہے۔جب یہ ستارہ گھومتا ہے تو کبھی اس کا طاقتور رخ زمین کی طرف آتا ہے اور ہم سگنل دیکھتے ہیں، اور کبھی وہ رخ دوسری طرف ہو جاتا ہے تو سگنل غائب ہو جاتا ہے۔۔۔۔اسی وجہ سے یہ سگنل کبھی آن اور کبھی اف لگتا ہے۔اب بھی سائنس دان اس سگنل کا مکمل راز جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس میں ابھی بھی کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جو مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئیں۔ جیسے اس کی باقاعدہ ٹائمنگ اور بعض اوقات اس کا غیر معمولی طور پر صاف اور مضبوط ہونا۔۔۔۔۔۔ مگر ۔یہ سگنل آج بھی کائنات کے سب سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار مشاہدات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ابھی تک سائنس دان اس کی پوری حقیقت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے۔اگرچہ انہوں نے اس کے بارے میں بہت سی تحقیق کر لی ہے لیکن پھر بھی کچھ سوالات ایسے ہیں جن کا واضح جواب موجود نہیں ہے۔مثال کے طور پر یہ سگنل کبھی بہت باقاعدہ انداز میں اتا ہے اور پھر اچانک خاموش ہو جاتا ہے، اور یہ پیٹرن کیوں بنتا ہے یہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔
تخریر۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

السلام علیکم دوستوآج میں آپ سب کے ساتھ اپنے دل کی چند باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں....سب سے پہلے مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوش...
19/06/2026

السلام علیکم دوستو
آج میں آپ سب کے ساتھ اپنے دل کی چند باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں....سب سے پہلے مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرے اس سائنسی پیج کو تقریبا دو مہینے مکمل ہونے والے ہیں۔.... جب میں نے یہ پیج شروع کیا تھا تو میرے ذہن میں صرف ایک مقصد تھا کہ آسان اردو میں سائنس اور خلائی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جائیں۔.... مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنے کم وقت میں اتنے لوگ اس سفر کا حصہ بن جائیں گے۔.اج جب میں اپنے پیج کو دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے کہ لاکھوں لوگ سائنسی معلومات کو پسند کر رہے ہیں۔۔۔ انہیں پڑھ رہے ہیں اور ان پر گفتگو کر رہے ہیں۔ میری اکثر پوسٹوں پر بہت سے سوالات اتے ہیں۔ کوئی خلا کے بارے میں پوچھتا ہے، کوئی بلیک ہول کے بارے میں، کوئی مریخ کے بارے میں اور کوئی مستقبل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بعد جب کام سے واپس آتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ بیٹھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کےسوالات کے جواب دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ سوال کرنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو انسان سوال کرتا ہے وہی سیکھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات کچھ لوگ سوال کرنے کے بجائے ذاتی حملے بھی کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں یا نامناسب تبصرے کرتے ہیں۔ لیکن میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں تحمل صبر اور محبت سے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔۔ کیونکہ میرا مقصد کسی سے بحث کرنا نہیں بلکہ علم کو عام کرنا ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی عزت کریں اور دلیل کے ساتھ بات کریں تو ہم سب کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔ایک بات میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سائنس کسی ایک قوم ایک ملک یا ایک زبان کی میراث نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس صرف مغربی دنیا یا انگریزوں کی چیز ہے، لیکن تاریخ اس کے برعکس بتاتی ہے۔۔۔۔۔ایک وقت تھا جب مسلمان سائنس ریاضی، فلکیات طب، کیمیا اور انجینئرنگ میں دنیا کی قیادت کر رہے تھے۔ الخوارزمی نے الجبرا کی بنیاد رکھی ۔۔۔۔ابن الہیثم نے روشنی اور بصارت پر ایسی تحقیق کی جسے جدید آپٹکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ البیرونی نے زمین اور کائنات کے بارے میں حیرت انگیز مشاہدات کیے، ابن سینا کی طبی کتابیں صدیوں تک دنیا کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔۔۔ جبکہ جابر بن حیان کو کیمیا کے ابتدائی بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔اس دور میں بغداد قرطبہ دمشق اور سمرقند علم کے بڑے مراکز تھے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے وہاں آتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ہم نے تحقیق، مطالعہ، سائنس اور تعلیم پر توجہ کم کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو قومیں کبھی علم میں آگے تھیں، وہ پیچھے رہ گئیں اور دوسری قومیں آگے نکل گئیں۔۔۔۔لیکن مایوس ہونےکی ضرورت نہیں۔ علم کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ اگر ہم پڑھنے سمجھنے تحقیق کرنے اور نئی نسل کو سائنس کی طرف راغب کرنے کا فیصلہ کر لیں تو ہم دوبارہ ترقی کی راہ پر چل سکتے ہیں۔۔۔۔۔آج میرے پیج پر لاکھوں ویوز آ رہے ہیں اور آج جب میں نے اپنا پیج کھولا تو مجھے Content Monetization Challenge کا یہ آپشن نظر آیا۔ سچ کہوں تو مجھے نہیں معلوم کہ یہ آپشن سب کو آتا ہے یا صرف کچھ لوگوں کو، لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ اگر مجھے یہ موقع ملا ہے تو اس میں آپ سب لوگوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔آپ کے لائکس شیئرز کمنٹس سوالات اور حوصلہ افزائی کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ یہ صرف میری کامیابی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ کامیابی ہے۔ آپ سب اس سفر کے ساتھی ہیں۔۔۔۔۔۔میں آپ سب کو ایک دعوت دینا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو میری کوئی تحریر پوسٹ یا معلومات پسند آئے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔ میری تحریروں کو کاپی کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اگر کسی کو فائدہ پہنچتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی۔ مقصد نام کمانا نہیں بلکہ علم کو پھیلانا ہے۔۔۔۔آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق روبوٹکس جدید طب کوانٹم کمپیوٹنگ اور نئی ٹیکنالوجیز مستقبل کا رخ متعین کر رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھنے والی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کو علم اور تحقیق کی طرف متوجہ نہ کیا تو ہم مزید پیچھے رہ جائیں گے۔۔۔۔اس لیے میری آپ سب سے گزارش ہے کہ سائنس کو عام کریں سوال کریں سیکھیں دوسروں کو سکھائیں اور علم کو پھیلائیں۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور محنت سے ترقی کرتی ہیں۔

آخر میں ایک بار پھر آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ آپ کی محبت، حوصلہ افزائی اور اعتماد ہی میری اصل طاقت ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم حاصل کرنے سچ کو سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔
تخریر۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

Address

Etaleia
Etale
122

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aalam Nama عالم نامہ۔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share