23/06/2026
ہماری کائنات میں کھربوں کھرب سیارے موجود ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر آپ ہر سیکنڈ میں ایک سیارہ گنیں تو تمام سیاروں کو گننے میں کروڑوں بلکہ اربوں سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا اتنی وسیع کائنات میں زندگی صرف زمین پر ہی موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں اس کا امکان بہت کم ہے۔ اتنی بڑی کائنات میں کہیں نہ کہیں ایسے سیارے ضرور موجود ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کی کسی نہ کسی شکل نے جنم لیا ہو۔ شاید وہ زندگی ہمارے جیسی ہو۔۔۔۔ شاید بالکل مختلف ہو لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے زندگی کا صرف زمین تک محدود ہونا ایک بہت بڑا سوال ہے۔۔۔۔۔۔اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے سائنس دان دن رات ایسے سیاروں اور ستاروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔۔۔جہاں زندگی کے لیے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایسے ستاروں کی ایک فہرست تیار کی ہے جن کے گرد ایسے سیارے موجود ہو سکتے ہیں جہاں زندگی کے لیے موزوں حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ ستارے مستقبل کی تحقیق کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے گرد چکر لگانے والی دنیاؤں میں پانی مناسب درجۂ حرارت اور زندگی کے لیے ضروری دیگر عناصر موجود ہوں۔۔۔۔۔۔۔ شاید مستقبل میں ایک نئی دوربین انہی ستاروں کا تفصیل سے مشاہدہ کرے گی۔ اس کا بنیادی مقصد ایسے سیاروں کو تلاش کرنا ہوگا جو زمین کی طرح ہوں اور جہاں زندگی موجود ہونے کا امکان ہو۔۔۔۔۔ سائنس دان خاص طور پر ان ستاروں کو منتخب کرتے ہیں جن کے گرد قابل رہائش خطہ موجود ہو۔ یہ وہ فاصلہ ہوتا ہے جہاں نہ بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے اور نہ بہت زیادہ سردی۔۔۔۔ اگر کسی سیارے پر درجہ حرارت مناسب ہو تو وہاں مائع پانی موجود رہ سکتا ہے، اور پانی زندگی کے لیے سب سے اہم چیزوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔۔۔اس فہرست میں ہمارے قریب موجود کئی ستارے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایپسلون ایریدانی زمین سے تقریبا 10.5 نوری سال دور واقع ہے اور کافی عرصے سے سائنس دان اس کا مطالعہ کر رہے ہے۔ اسی طرح بیٹا نیا نوجوان ستارہ ہے ۔جس کے گرد سیاروں اور گرد و غبار کا وسیع نظام موجود ہے۔۔۔۔۔اور اس میں ہمارے سب سے نزدیک ستاروں میں پروکسیما سینٹوری الفا سینٹوری اے اور الفا سینٹوری بی بھی شامل ہیں۔ یہ ہمارے سورج کے بعد قریب ترین ستاروں کے نظام کا حصہ ہیں۔۔۔۔ اور تقریبا 4.3 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں۔ پروکسیما سینٹوری کے گرد ایک مشہور سیارہ پروکسیما سینٹوری بی بھی دریافت کیا جا چکا ہے یہ اپنے ستارے سے ایسے پوزیشن پر ہے کہ شاید وہاں زندگی موجود ہو سکتا ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ نظام سائنس دانوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر مستقبل میں کبھی انسان اتنا ترقی کرے کہ وہ دوسرے ستاروں کی طرف سفر کرے تو یہ نظام اولین امیدواروں میں شامل ہوگا۔ کیونکہ یہ نظام ہمارے بہت قریب ہے ۔۔۔۔۔اور سائنس دان صرف سیاروں کو تلاش نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کے ماحول کا بھی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ جب کسی سیارے کی روشنی کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس کے ماحول میں موجود گیسوں کا پتا چل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آکسیجن میتھین یا پانی کے بخارات زندگی کی موجودگی کے ممکنہ اشارے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔
تخریر ....عالم نامہ Aalam nama