Tech Solution PSR

Tech Solution PSR Tech Solution PSR

سنہ 1995ء میں بوسنیا کی جنگ کے دوران ایک ایسا تاریخی موڑ آیا جس نے اس جنگ کی سمت بدل دی، اور اس تبدیلی کا سبب یہ تھا:افغ...
30/07/2026

سنہ 1995ء میں بوسنیا کی جنگ کے دوران ایک ایسا تاریخی موڑ آیا جس نے اس جنگ کی سمت بدل دی، اور اس تبدیلی کا سبب یہ تھا:

افغانستان، پاکستان، ترکی، مصر، ایران، سعودی عرب اور کویت سے مختلف تعداد میں نوجوان رضاکار بوسنی مسلمان عوام کا دفاع کرنے کے لیے بوسنیا پہنچے، تاکہ بوسنی سرب افواج کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کا مقابلہ کر سکیں۔

یہ جانباز جب بوسنیا پہنچے تو سب سے پہلے "زاویدووچی" نامی ایک بوسنی گاؤں میں اترے، جہاں ان کی قیادت ایک بہادر البانوی مسلمان کمانڈر "صباح الدین" کر رہے تھے۔

اس وقت سرب افواج "زاویدووچی" شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں۔ وہ شہر سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر صنوبر کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں پر قابض تھیں۔ اس شہر میں تقریباً بیس ہزار مسلمان آباد تھے، جن پر سرب افواج نے چار ہزار ہاؤٹزر اور مارٹر گولے برسائے تھے۔

اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق، ان رضاکاروں کی آمد کے وقت شہر کے باشندوں اور اس کے محافظوں کی صورتحال انتہائی مایوس کن تھی، جبکہ یہ مجاہدین صرف ہلکے پیدل فوجی ہتھیاروں سے لیس تھے۔

آٹھ ماہ تک ان جانبازوں نے سرب افواج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش جاری رکھی، لیکن وہ جانتے تھے کہ صرف دفاع کافی نہیں، بلکہ محاصرہ مکمل طور پر توڑنے کے لیے ایک غیر معمولی کارروائی ضروری ہے۔ تاہم روایتی عسکری منصوبوں کے مطابق صرف ہلکی مشین گنوں اور دستی بموں کے ذریعے ایک مکمل مسلح فوج کا سامنا کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

اخبار کے مطابق بوسنی فوج نے سب سے خطرناک محاذ پر انہی مجاہدین کو تعینات کیا۔ اخبار ان کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر دن رات تکبیر کی صدائیں بلند کرتے رہتے تھے، جس سے سرب افواج میں خوف اور بے چینی پھیل جاتی تھی۔

وقت گزرتا رہا، انتظار طویل ہوتا گیا، اور یہ جانباز بے چینی اور جوش کے ساتھ اس گھڑی کے منتظر رہے جب حملے کا حکم ملے اور محاصرہ ختم کیا جا سکے۔

بالآخر اللہ کی مدد کا وقت آیا۔

ایک دن صبح چار بجے انہیں وہ اشارہ ملا جس کا وہ مدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اندھیرے کی آڑ میں یہ جانباز خاموشی سے اس پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے جو دو برس سے سرب افواج کے دفاعی نظام کا بنیادی مرکز تھا اور جس کا نام "بودسیجیلووو" تھا۔ یہ نہایت دشوار گزار اور انتہائی کھڑی پہاڑی تھی، جسے عبور کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔

ان جانبازوں کے پاس صرف بندوقیں، چھریاں اور دستی بم تھے۔ انہوں نے اچانک سرب افواج پر حملہ کر دیا اور بوسنی فوجیوں کے بیان کے مطابق دس منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کی خندقوں پر قبضہ کر لیا، ابتدائی مرحلے میں ساٹھ سرب فوجیوں کو ہلاک کیا، جبکہ ان کے اپنے پندرہ افراد مارے گئے۔

بیان کے مطابق تین سرب بٹالینیں مکمل طور پر ختم کر دی گئیں اور بوسنی فوج کا کہنا تھا کہ وہ یونٹ عملی طور پر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گئے۔

اس کے بعد ان جانبازوں نے فوزوکا شہر کی طرف پیش قدمی کی۔ بوسنی سرب رہنما رادووان کارادژچ نے اس شہر کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا دفاع اسی شدت سے کرے گا جیسے دوسری عالمی جنگ میں روسیوں نے اسٹالن گراڈ کا دفاع کیا تھا، لیکن مصنف کے مطابق اس کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر کی فوجی چھاؤنی تباہ کر دی گئی اور پانچ سو سرب فوجی مارے گئے۔

ایک مسلمان فوجی، جس نے ان کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں، ان جانبازوں کی بابت یہ الفاظ نقل کرتا ہے:

"وہ قیدی بنانے کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی چھریوں سے لڑنا اور قتل کرنا پسند کرتے تھے۔"

ان کارروائیوں کے بعد، مضمون کے مطابق، یورپ میں شدید ردِ عمل پیدا ہوا اور امن کانفرنسوں اور مختلف سفارتی اقدامات کا آغاز کیا گیا، کیونکہ یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر مزید مجاہدین یورپ پہنچے تو وہ ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، یہاں تک کہ ان میں سے اکثر کو بوسنیا سے نکلنا پڑا، جبکہ چند افراد بوسنی خواتین سے شادی کرنے کے بعد وہیں مقیم رہے۔

تصویر میں بوسنی کمانڈر ناصر اوریچ دکھائے گئے ہیں۔

اگر آپ نے مکمل تحریر پڑھ لی ہے تو نبی کریم محمد ﷺ پر درود بھیجیں۔
منقول

اس مؤرخ کے مطابق ،مدینہ میں اس افواہ کو سچ مانا گیا اور مسلمانوں کے چہروں پر اس کے اثرات بھی دیکھے گئے۔جب رسولِ کریمﷺ تک...
30/07/2026

اس مؤرخ کے مطابق ،مدینہ میں اس افواہ کو سچ مانا گیا اور مسلمانوں کے چہروں پر اس کے اثرات بھی دیکھے گئے۔جب رسولِ کریمﷺ تک یہ افواہ پہنچی اور یہ اطلاع بھی کہ بعض مسلمانوں پر خوف و ہراس کے اثرات دیکھے گئے ہیں تو رسولِ کریمﷺ نے باہر آ کر لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا:’’کیا ﷲ کے نام لیوا صرف یہ سن کر ڈر گئے ہیں کہ قریش کی تعداد زیادہ ہو گی؟کیا ﷲسے ڈرنے والے آج بتوں کے پجاریوں سے ڈرگئے ہیں ؟اگر تم قریش سے اس قدر ڈر گئے ہو کہ ان کی للکار پر تم منہ موڑ گئے ہو تو مجھے قسم ہے خدائے ذوالجلال کی !جس نے مجھے رسالت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ میں بدر کے میدان میں اکیلا جاؤں گا۔‘‘رسولِ خداﷺ کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے لیکن رسالتِ مآبﷺ کے شیدائیوں نے نعروں سے آسمان کو ہلا ڈالا۔یہ سراغ نہ مل سکا کہ افواہ کس نے اڑائی تھی لیکن رسول ﷲ ﷺ کی پکار پر قریش کی پھیلائی ہوئی افواہ کے اثرات زائل ہو گئے اور مسلمان جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ دن تھوڑے سے رہ گئے تھے۔ کوچ کے وقت مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی۔ ان میں صرف پچاس گھوڑ سوار تھے۔جن یہودیوں کو افواہ پھیلانے کیلئے مدینہ بھیجا گیا تھا انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ’’ افواہ نے پہلے پورا کام کیا تھا لیکن ایک روز محمد)ﷺ( نے مسلمانوں کو اکھٹا کرکے چند ہی الفاظ کہے تو مسلمان بدر کو کوچ کیلئے تیار ہو گئے۔ان کی تعداد مدینہ میں ہماری موجودگی تک ڈیڑھ ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ہمارا خیال ہے کہ تعداد اس سے کم یا زیادہ نہیں ہو گی۔‘‘آج مدینہ کو جاتے ہوئے اس واقعہ کی یاد نے خالد کو اس لیے شرمسار کر دیا تھا کہ وہ اس وقت محسوس کرنے لگا تھا کہ ابو سفیان کسی نہ کسی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ خالد کو جب مسلمانوں کی تعداد کا پتا چلا تو وہ بھڑکا بپھرا ہوا ابو سفیان کے پاس گیا ۔’’ابو سفیان !‘‘خالد نے اسے کہا۔’’ سردار کی اطاعت ہمارا فرض ہے ۔میں اہلِ قریش میں سردار کی حکم عدولی کی روایت قائم نہیں کر نا چاہتا لیکن مجھے قریش کی عظمت کا بھی خیال ہے۔آپ اپنے رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قبیلہ قریش کی عظمت کا احساس مجھ میں اتنا زیادہ ہو جائے کہ میں آپ کے حکم اور رویہ کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔ ‘‘’’کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ میں نے یہودیوں کو مدینہ کیوں بھیجا تھا۔‘‘ ابو سفیان نے پوچھا۔’’ میں مسلمانوں کو ڈرانا چاہتا تھا۔
’ابو سفیان!‘‘ خالد نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے کہا۔’’ لڑنے والے ڈرا نہیں کرتے۔ کیا آپ نے مسلمانوں کو قلیل تعداد میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا؟ دوسرے ہی دن مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ مسلمان مدینہ سے بدر کی طرف کوچ کر گئے ہیں ۔اب ابو سفیان کے کیلئے اس کے سوا اورکوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کوچ کاحکم دے ۔قریش کی جوتعداد بدر کو کوچ کیلئے تیار ہوئی وہ دو ہزار تھی اور ایک سو گھڑ سوار اس کے علاوہ تھے۔قیادت ابو سفیان کی تھی اور اس کے ماتحت خالد ،عکرمہ اور صفوان نائب سالار تھےمسلمان رسولِ اکرمﷺ کی قیادت میں ۴ اپریل ۶۲۶ء بمطابق یکم ذ ی القعد ۴ ہجری کے روز بدر کے میدان میں پہنچ گئےلیکن صبح طلوع ہوتے ہی ابو سفیان نے اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دینے کے بجائے اکھٹا کیا اور لشکر سے یوں مخاطب ہوا :’’قریش کے بہادرو! مسلمان تمہارے نام سے ڈرتے ہیں۔ اب ان کے ساتھ ہماری جنگ فیصلہ کن ہو گی۔ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا ہم نام و نشان مٹا دیں گے۔ نہ محمد اس دنیا میں رہے گا نہ کوئی اس کانام لینے والا۔ لیکن ہم ایسے حالات میں لڑنے جا رہے ہیں جو ہمارے خلاف جا سکتے ہیں اور ہماری شکست کا باعث بن سکتے ہیں ۔تم دیکھ رہے ہو کہ ہم اپنے ساتھ پورا اناج نہیں لا سکے ۔مزید اناج ملنے کی امید بھی نہیں کیونکہ خشک سالی نے قحط کی صورت پیدا کردی ہے پھر اس گرمی کو دیکھو۔ میں فیصلہ کن جنگ کیلئے موزوں حالات کا انتظار کروں مکہ کو کوچ کرو۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ قریش کے لشکر نے دو طرح کے نعرے بلند کیے۔ ایک ان کے نعرے تھے جو انہی حالات میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے تھے۔ دوسرے نعرے ابو سفیان کے فیصلے کی تائید میں تھے لیکن حکم سب کو ماننا تھا۔ خالد، عکرمہ اورصفوان نے ابو سفیان کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
لیکن ابو سفیان پر ان کے احتجاج کا کچھ اثر نہ ہوا۔ ان تینوں نائب سالاروں نے یہ جائزہ بھی لیا کہ کتنے آدمی انکے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ جائزہ ان کے خلاف ثابت ہوا ۔لشکر کی اکثریت ابو سفیان کے حکم پر مکہ کی طرف کوچ کر گئی۔ خالد اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو مجبوراً لشکر کے پیچھے پیچھے آنا پڑا۔خالد کو وہ لمحہ یاد آ رہاتھا جب وہ اہلِ قریش کے لشکر کے پیچھے پیچھے عکرمہ اور صفوان کے ساتھ مکہ کو چلا جا رہا تھا۔ا س کا سر جھکا ہوا تھا ۔

انہوں نے خسروؒ کو بلایا ، یہ رات کا وقت تھا ۔ باہر خواجہ نصیر الدین چراغؒ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب انہوں نے کئی مرتبہ پوچھا ت...
30/07/2026

انہوں نے خسروؒ کو بلایا ، یہ رات کا وقت تھا ۔ باہر خواجہ نصیر الدین چراغؒ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب انہوں نے کئی مرتبہ پوچھا تو وہی جواب ملا ۔ تب انہوں نے کہا نظام چاہے امیر کو اور اللّٰہ چاہے نصیر کو تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ تو حضرت نظام الدین اولیاء رح نے خلافت نصیر الدین چراغ دہلویؒ کو دے دی اور پھر فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا اختیار رکھتا ہوں کہ میرا اور امیر خسرو ؒ کا عرس ایک ہی جگہ پر ہوا کرے گا ۔

اگر کبھی آپ وہاں جائیں تو دیکھیں گے کہ اِدھر امیر خسروؒ کا مزار شریف ہے اور اُدھر محبوبِ الہٰی کا مزار مبارک ہے اور عرس درمیان میں ہوتا ہے بلکہ امیر خسرو ؒ کا عرس ان کے آستانے پر نہیں ہوتا وہ بھی حضرت محبوب الہٰی رح کے مزار مبارک پر ہوتا ہے ۔ ودیعت والی خلافت بھی وہ خسرو ؒ کو دینا چاہتے تھے مگر انہوں نے فرمایا کہ خلافت اللّٰہ کریم کی طرف سے تھی اور ادھر کا حکم تھا ، سو ہم نے دے دی پھر فرمایا کہ میں چاہوں امیر کو اور اللّٰہ چاہے نصیر کو ، تو میں کیا کر سکتا ہوں ، اور پھر خواجہ نصیر الدینؒ کو خلافت عطا فرما دی ۔

پھر جب خواجہ نصیر الدین چراغ ؒ کا وصال ہو گیا تو فقراء سناتے ہیں کہ ادھر دکن سے ایک آدمی آیا ، انہوں نے آ کر دیکھا کہ یہاں تو ساری خلافتیں بانٹ دی گئی ہیں تو جس چار پائی پر میت اٹھائی گئی اس کی پائنتی لے کر خود ہی کہنے لگے کہ یہ میری خلافت ہے ۔ تو آپ کو پتہ ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ وہ تھے خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ ۔ اور اس پائنتی کے فیض سے انہوں سارا دکن مسلمان کیا ۔

کہنے کا مدعا یہ ہے کہ خلوص جو ہے یہ کسی خلافت کا محتاج نہیں ہے ۔ تو خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کو ان کے خلوص کے ساتھ فیض میں داخل کر لیا گیا اور پھر اللّٰہ کریم نے ان سے بڑا کام لیا ۔ امیر خسرو ؒ سے بھی بڑا کام ہوا، میرا خیال ہے کہ محبت کا کام تو ان کے نام سے چلتا ہے ۔ تو آج بھی ”خسرو ؒ نظام کے بل بل جائیے “ پر صوفیاء اور درویش لوگ رقص کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ خسرو ؒ کا نام آئے تو کہتے ہیں کہ واہ جی واہ کیا نام ہے! وہ خسرو ؒ کیا کہتے ہیں کہ

زِ قید دو جہاں آزاد گشتم
اگر تو ہم نشینِ بندہ باشی

فرماتے ہیں کہ دو جہاں کی قید ختم ہو جاتی ہے جب آپ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ تو یہ پکی بات ہے کہ امیر خسرو ؒ محبت ہی محبت ہیں اور ان کے پاس بات ہی بات ہے چاہے بات مختصر ہو اور لمبی ہو ۔

وہ اگر بات ”نمی دانم“ سے شروع کریں تو بات کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتے ہیں ۔ تو یہ سارے فیض ہیں اور یہ سارے فیض آنے والے زمانے کے لیے ہیں ۔ فیض جب بھی ملا اللّٰہ کی طرف سے ملا ۔ جب بھی کوئی دریا آیا کناروں کو سیراب کرنے کے لیے آیا اور لوگوں کو ڈرانے کے لیے نہیں آیا کہ میں بہت بڑا دریا ہوں .....

آج کی باتکون کون سے سجادہ نشین اورچوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟اصطبل میں ترے اجداد ہوا کرتے تھےتیری جاگیر سے بو آتی ہے غد...
30/07/2026

آج کی بات

کون کون سے سجادہ نشین اورچوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
اصطبل میں ترے اجداد ہوا کرتے تھے
تیری جاگیر سے بو آتی ہے غداری کی
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺮﺍﺏ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮬﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮬﮯ …
“Punjab and the War of Independence 1857”

۔
ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻧﻮﺍﺯﺷﺎﺕ ﺳﮯ ﻓﯿﻀﯿﺎﺏ ﮬﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮬﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔
Griffin punjab chifs Lahore ;1909
ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺩﮦ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﯿﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﯿﺪ ﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ 300 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮩﺎﺅﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 20 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻓﺮﺍﮬﻢ ﮐﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ 25 ﺁﺩﻣﯽ ﻟﯿﮑﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺋﮯ۔
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺭﮬﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ 1750 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻥ 150 ﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﻮ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﺎ ﮬﮯ ﻭﮬﯽ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﻧﺜﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﮬﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺒﺮﯼ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﯾﻮﻧﯿﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺍﻭﺭ 500 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔
Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab .
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﺎﻣﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﭼﭩﮭﮧ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﭼﭩﮭﮧ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮑﻠﺴﻦ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔
ﻗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﺧﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺷﯿﺪ ﻗﺼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ 100 ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ 2500 ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﻨﺸﻦ ﺩﯼ۔
” ۔'' ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﮞ ﮐﮭﺮﻝ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺟﻠﺪ ﯾﺎ ﺑﺪﯾﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﺎ ﮐﮭﺮﻝ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ 10 ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ 10 ﻣﻠﮯ ﮔﮯ۔ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ 69 ﮐﻮ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺷﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻤﺎ ﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﻣﻊ ﺩﺱ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﭖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﮌﺍﺩﯾﺎ ﮐﺮ ﺍﮌﺍﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺁﺧﺮ ﺟﻮ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻘﯿﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭨﻮﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭﺗﮧ ﺗﯿﻎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﻞ ﺷﻮﺍﻟﮧ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺑﮩﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﮐﯽ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻣﺤﻤﻮﺩ۔ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﮩﺘﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﯾﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﻟﮑﮍ ﺩﺍﺩﺍ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ، ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻏﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺷﯿﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﮐﯽ۔ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ۔ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﮐﭽﮫ ﮈﻭﺏ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺑﺤﻠﭻ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﭘﺎﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﺳﻠﻄﺎﻥ ﻗﺘﺎﻝ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺁﻑ ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﻋﻠﯽ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﺁﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﻟﯽ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮕﺎﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺴﮯ ﭘﯿﺮ ﻣﮩﺮ ﭼﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ، ﺳﺮﮔﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭﻟﻨﮕﺮﯾﺎﻝ، ﺳﺮﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭﻟﻨﮕﺮﯾﺎﻝ ﮐﯽ۔ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﻣﮩﺮ ﺷﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﺳﯿﺪ ﻓﺨﺮﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮍﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺳﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﺌﻊ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﮯ۔ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﻮ 1857 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﭽﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﺒﻠﻎ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺟﺎﮔﯿﺮﺳﺎﻻﻧﮧ ﺳﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﻣﻌﺒﺎﺭﺕ ﻣﺤﻤﻮﺩ۔ ﺳﻮﺍﺳﯽ ﺭﻭﭘﮯ ﺁﭨﮫ ﭼﺎﮨﺎﺕ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭﺍﻡ ﻋﻄﺎﮨﻮﺋﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ 1860 ﺀ ﻭﻋﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﺋﯽ ﺑﻼﻋﻨﺪ ﺀ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﺋﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﺳﯿﻊ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ۔

1975 کے ایک دن، نئی دہلی کے مصروف فٹ پاتھ پر ایک ہندوستانی نوجوان "پی کے" (برادیومن کمار مہاناندیا) بیٹھا ہوا تھا۔ وہ لو...
30/07/2026

1975
کے ایک دن، نئی دہلی کے مصروف فٹ پاتھ پر ایک ہندوستانی نوجوان "پی کے" (برادیومن کمار مہاناندیا) بیٹھا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کے چارکول سے پورٹریٹ بنا کر چند روپے کماتا تھا۔ وہ کوئی عام فنکار نہیں تھا۔ اس کی انگلیوں میں ایک غیر معمولی صلاحیت تھی جو سب کو متوجہ کرتی تھی۔ اس کی آنکھوں کے پیچھے ایک ایسے شخص کی کہانی چھپی تھی جو ہندوستانی معاشرے کے سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن زندگی میں پیچھے رہنے کو تیار نہیں تھا۔

اسی لمحے، اس کے سامنے ایک سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والی غیر ملکی لڑکی کھڑی ہو گئی۔ وہ شارلٹ فون شیڈوِن تھیں—ایک سوئیڈش اشرافیہ خاندان کی لڑکی، جو روحانی تلاش میں ہندوستان آئی تھی۔ اس نے ایک ایسے فنکار کے بارے میں سنا تھا جو تصویروں میں جان ڈال دیتا ہے، تو اس کے سامنے بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

ہر لکیر کے ساتھ، ان کے درمیان ایک نئی کہانی بن رہی تھی۔ ایک نظر، پھر مسکراہٹ، پھر شرمیلی گفتگو، اور پھر وہ محبت جو چارکول اور کاغذ کے درمیان جنم لے چکی تھی۔ یہ کوئی منطقی کہانی نہیں تھی، لیکن یہ سچی تھی۔ چند ہفتوں میں، انہوں نے ہندوستانی روایات کے مطابق کھلے آسمان تلے شادی کر لی۔

لیکن خوشیاں زیادہ دیر نہیں رہیں۔ شارلٹ کو سوئیڈن واپس جانا تھا۔ اس نے پی کے کو ساتھ چلنے کو کہا اور اپنے پیسوں سے اس کا ٹکٹ لینے کی پیشکش کی۔ لیکن پی کے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"میں تمہارے پاس اپنے طریقے سے آؤں گا۔ میرا انتظار کرنا۔"

اور جو اس نے بعد میں کیا، وہ محض ایک وعدہ نہیں تھا وہ ایک افسانہ تھا۔

1978
کے شروع میں، پی کے نے اپنے گھر والوں اور دوستوں کو الوداع کہا، اپنی سائیکل پر ایک چھوٹا سا بیگ باندھا، اور نئی دہلی سے سوئیڈن تک کا سفر شروع کیا۔
ہاں، صرف ایک سائیکل پر!

وہ پاکستان، افغانستان، ایران، ترکی، یوگوسلاویہ، جرمنی اور ڈنمارک سے گزرا بغیر کسی ڈیجیٹل میپ کے، بغیر موبائل کے، صرف ایمان، محبت اور کاغذ پر لکھے پتوں کے سہارے۔ کبھی سڑکوں پر سویا، کبھی لوگوں کے دیے ہوئے کھانے پر گزارہ کیا، اور کبھی راستے میں تصویریں بنا کر پیسے کمائے۔ لیکن وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔

چار مہینے اور
7000
کلومیٹر کے بعد، وہ آخرکار سوئیڈن پہنچ گیا۔
اور جب اس نے شارلٹ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو کوئی الفاظ نہیں تھے—صرف آنسو تھے۔

شارلٹ نے اسے اپنے وعدے کے مطابق خوش آمدید کہا، اور ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ انہوں نے قانونی طور پر شادی کی، سوئیڈن میں بس گئے، بچے پیدا کیے، اور ان کی محبت آج تک قائم ہے۔

آج پی کے ایک معروف فنکار ہیں اور سوئیڈش معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی کہانی حقیقی محبت اور عزم کی ایک عظیم داستان کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔

یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک سچی کہانی ہے جو ہمیں بتاتی ہے:
جب دل سچا ہو اور محبت حقیقی ہو، تو ایک سائیکل بھی براعظموں کو پار کر سکتی ہے، اور ایک خواب وفا کی راہ بن سکتا ہے۔
منقول۔

30/07/2026
23/07/2026
21/07/2026

دہی بھلے کا مزہ — اس کے مصالحے میں ہے۔

مگر اکثر مصالحے ٹھیک نہیں بنتے — کیونکہ اجزاء درست نہیں ہوتیں۔

آج میں آپ کے ساتھ بلکل درست مقدار کے ساتھ مصالحے کی ریسپی شئیر کر رہی ہوں۔

انشاللہ آپ کا مصالحہ بہترین بنے گا۔

---

اجزاء (Ingredients):

بنیادی مصالحے (برابر مقدار میں):

· گول سرخ مرچ — 12 عدد (یا 2 کھانے کے چمچ کٹی ہوئی)
· سفید زیرہ — 2 کھانے کے چمچ
· خشک دھنیا — 2 کھانے کے چمچ

نمک (کل مصالحے کا چوتھائی حصہ):

· سفید نمک — ¼ کھانے کا چمچ
· کالا نمک — ¼ کھانے کا چمچ
(دونوں ملا کر = ½ کھانے کا چمچ — جو کل مصالحے کا ¼ حصہ ہے)

کھٹاس کے لیے (اختیاری — کوئی ایک):
· ٹاٹری (ٹارٹرک ایسڈ) — ¼ چائے کا چمچ
یا
· چاٹ مصالحہ — 2 کھانے کے چمچ (اگر ٹاٹری نہیں ہے)

---

ترکیب — مرحلہ وار:

---

مرحلہ 1: مصالحے کو بھونیں

1. ایک پین میں ڈالیں:
· 12 گول سرخ مرچ (یا 2 کھانے کے چمچ کٹی ہوئی)
· 2 کھانے کے چمچ سفید زیرہ
· 2 کھانے کے چمچ خشک دھنیا
1. لو فلیم پر 1 سے 2 منٹ بھونیں
2. بس ہلکا سا سیکنا ہے — جلانا نہیں!
3. جب خوشبو آنے لگے — اتار لیں

مرحلہ 2: مصالحے کو ٹھنڈا کریں

· بھنے ہوئے مصالحے کو پلیٹ میں نکالیں
· مکمل ٹھنڈا ہونے دیں

مرحلہ 3: مصالحے کو پیسیں (موٹا موٹا!)

1. ٹھنڈے مصالحے کو گرائنڈر میں ڈالیں
2. باریک پاؤڈر نہ بنائیں!
3. موٹا موٹا پیسنا ہے
4. دہی بھلے کے مصالحے میں موٹا مصالحہ بہت اچھا لگتا ہے

مرحلہ 4: نمک شامل کریں

1. ¼ کھانے کا چمچ سفید نمک ڈالیں
2. ¼ کھانے کا چمچ کالا نمک ڈالیں
3. (دونوں ملا کر ½ کھانے کا چمچ = کل مصالحے کا ¼ حصہ)

مرحلہ 5: کھٹاس شامل کریں

آپشن 1 — ٹاٹری (ترجیحی):
· ¼ چائے کا چمچ ٹاٹری ڈالیں
· نوٹ: ٹاٹری بہت کھٹی ہے — تھوڑی سی کافی ہے

آپشن 2 — چاٹ مسالہ (اگر ٹاٹری نہیں):
· 2 کھانے کے چمچ چاٹ مصالحہ ڈالیں
· (باقی مصالحوں کے برابر مقدار میں)

مرحلہ 6: اچھی طرح مکس کریں

· تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں
· مصالحہ تیار ہے — استعمال کریں

---

اہم نکات:

· ✅ تینوں بنیادی مصالحوں (مرچ، زیرہ، دھنیا) کی مقدار برابر رکھیں
· ✅ نمک کل مصالحے کا ¼ حصہ ہونا چاہیے
· ✅ مصالحے کو موٹا موٹا پیسیں — باریک نہیں
· ✅ لو فلیم پر بھونیں — جلانا نہیں
· ✅ ٹاٹری نہ ہو تو چاٹ مصالحہ (برابر مقدار) استعمال کریں
· ✅ خوشبو آنے لگے تو فوراً اتار لیں

---

فارمولا (یاد رکھیں):

مرچ = زیرہ = دھنیا (برابر)
نمک = کل مصالحے کا ¼ حصہ
ٹاٹری = بس ایک چٹکی

---

مکمل تفصیلات کمنٹ میں نیچے موجود ہیں…👇👇

Address

Ameen Center Shop No 05, Infront Of Alfalfa Bank Kochehry Road
Pasrur
51480

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tech Solution PSR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category