16/09/2026
چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکوگُل محمد زاہد نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، صاف اور صحت مند ماحول کے فروغ اور میپکو ریجن کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے شجرکاری کو باقاعدہ اور مسلسل سرگرمی کے طور پر جاری رکھا جائے۔ درخت ماحول کے تحفظ، درجہ حرارت میں کمی، صاف ہوا کی فراہمی اور قدرتی حسن میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں اس لئے ہر فرد اور ادارے کو شجرکاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے میپکو کی تمام فارمیشنز کے سربراہان اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ اپنی اپنی فارمیشنز، دفاتر، گرڈ اسٹیشنز، ڈویژنل و سب ڈویژنل دفاتر اور دیگر دستیاب مقامات پرکم از کم 10 پھلدار اور 10پھولدار پودے لازمی لگائے جائیں۔ شجرکاری کا یہ ہدف ہر فارمیشن کے لئے بنیادی ذمہ داری ہے اور تمام افسران ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میپکو ہیڈ کوارٹر میں شجر کاری مہم کے سلسلہ میں پودا لگانے کے موقع پر کیا۔ چیف ایگزیکٹوآفیسرنے کہا کہ صرف پودوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ ان کی بقاء اور افزائش کو یقینی بنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔شجرکاری محض ایک روزہ یا موسمی مہم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ پودے لگانے کے بعد ان کی مناسب نگہداشت، بروقت پانی، کھاد اور ضروری حفاظتی اقدامات بھی کئے جائیں تاکہ لگائے گئے پودے تناور درخت بن سکیں۔ چیف (ہیومن ریسورسز اینڈ کیرئیرپلاننگ) آفیسر میپکو میاں محمد سہیل افضل نے کہا کہ ہر فارمیشن میں لگائے جانے والے پودوں کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب کیا جائے اور ایسے پھلدار و پھولدار پودے لگائے جائیں جو مقامی موسمی حالات کے مطابق بہتر نشوونما پا سکیں۔ متعلقہ افسران پودوں کی حفاظت کے لئے ٹری گارڈز، پانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں تاکہ شجرکاری کا عملی اور دیرپا فائدہ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ میپکو ایک بڑے ادارے کی حیثیت سے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے اور ادارے کی سطح پر سرسبز ماحول کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ میپکو کے دفاتر اور تنصیبات کے اطراف زیادہ سے زیادہ سبزہ پیدا کرنے سے نہ صرف ماحول خوشگوار ہوگا بلکہ ملازمین اور صارفین کے لئے بھی صحت مند اور بہتر ماحول میسر آئے گا۔انہوں نے تمام افسران و ملازمین پر زور دیا کہ شجرکاری کو قومی خدمت اور اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بھرپور حصہ لیں اور اپنے اردگرد کے ماحول میں بھی درخت لگانے کی ترغیب دیں۔ شجر کاری مہم میں چیف ایچ آر اینڈ سی پی آفیسر میاں محمد سہیل افضل، چیف فنانشل آفیسر میاں انصار محمود، چیف سپلائی چین مینجمنٹ آفیسر سید محمد مبشررضوی، چیف سٹریٹیجی آفیسر سہیل احمد بھٹی، ڈائریکٹر ایچ آر ایم حیدر عثمان اٹھنگل اور ایڈیشنل ایکسین سول راؤ محمد افضل صابر نے پودے لگائے۔ اس موقع پرچیف انجینئر کسٹمرسروسز سید جواد منصوراحمد، چیف انجینئر ڈویلپمنٹ زاہد اختر، ڈائریکٹر آئی ٹی رشید احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)انتظامیہ نے 3آفس سپریٹنڈنٹس کو ٹائم سکیل اپ گریڈیشن کے تحت بنیادی سکیل 17 میں اپ گریڈ کردیاہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر (کیرئیرمینجمنٹ) میپکو ہیڈکوارٹر ملتان محمد یونس کی جانب سے جاری ہونے والے آفس آرڈر کے مطابق بنیادی سکیل 16میں خدمات سرانجام دینے والے میپکو ہیڈ کوارٹر ملتان کے آفس سپریٹنڈنٹ خضر حیات کو 22جنوری 2022ء سے، راجن پور آپریشن ڈویژن کے آفس سپریٹنڈنٹ اختر اقبال سرانی کو 31اگست 2026ء سے اور کنسٹرکشن ڈائریکٹوریٹ کے آفس سپریٹنڈنٹ ظفرا قبال کو 29اگست 2026ء سے ٹائم سکیل اپ گریڈیشن کے تحت بنیادی سکیل 17میں اپ گریڈ کیاگیاہے۔
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) ریجن میں بجلی چوری کے خاتمے اور نادہندگان سے واجبات کی وصولی کے لئے ڈسکو سپورٹ یونٹ اور آپریشن ٹیموں کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔مختلف آپریشن سرکلوں میں میپکو افسران، رینجرز اور پولیس کے ہمراہ کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی، متعدد میٹرز اور ٹرانسفارمرز منقطع و ضبط اور لاکھوں روپے کے واجبات وصول کئے گئے۔سپریٹنڈنگ انجینئر آپریشن میپکو رحیم یار خان سرکل عبدالحفیظ بھٹی اور ونگ کمانڈر رینجرز کی نگرانی میں میاں والی قریشیاں سب ڈویژن کے علاقوں میں نادہندگان کے خلاف آپریشن کیاگیا۔ ایس ڈی او میاں والی قریشیاں سب ڈویژن کی سربراہی میں ٹیم نے بستی ہندانی، بستی سرب خان اور بستی حافظ خان گوپانگ میں 9لاکھ90ہزار روپے سے زائد واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر 4نادہندہ زرعی ٹیوب ویلوں کے کنکشنز منقطع کرکے ٹرانسفارمرز اور تنصیبات اُتارلیں اور ایک ڈیفالٹرکو موقع سے گرفتارکرلیا جبکہ آپریشن کے دوران رننگ اور ڈیڈ ڈیفالٹرز سے 10لاکھ64ہزارروپے کی ریکوری کی گئی۔ ایس ڈی او احمد پور لمہ سب ڈویژن صادق آباد کی سربراہی میں رینجرز، پولیس اور میپکو افسران کے ہمراہ کارروائیوں کے دوران متعدد بڑے نادہندگان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔26لاکھ روپے واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر مستقل نادہندگان کے تھری فیز میٹرز اور ٹرانسفارمرز اُتارلئے جبکہ رننگ اور ڈیڈ ڈیفالٹر سے2لاکھ 10ہزارروپے واجبات وصول کئے گئے۔