12/10/2026
# گوگل ٹرانسلیٹ میں نیا فیچر متعارف، اب گفتگو خود بخود محفوظ ہوگی، لیکن اسمارٹ گلاسز پر پابندی!
گوگل اپنی ترجمہ کرنے والی ایپ **Google Translate** میں ایک نیا فیچر شامل کر رہا ہے، جس کی مدد سے صارفین کی گفتگو خود بخود محفوظ ہو سکے گی۔ اس فیچر کا نام **آٹو سیو ٹرانسکرپٹ (Auto-Save Transcript)** ہے۔
اس فیچر کی مدد سے جب صارف کسی دوسرے شخص کے ساتھ مختلف زبان میں گفتگو کرے گا تو سیشن ختم ہونے پر اس گفتگو کا تحریری ریکارڈ خود بخود محفوظ ہو جائے گا۔ اس طرح صارف کو ہر بار خود جا کر گفتگو محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
لیکن اس نئے فیچر کے ساتھ ایک اہم شرط بھی سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جب صارف اسمارٹ گلاسز کو استعمال کرتے ہوئے ترجمہ کرے گا تو گفتگو محفوظ کرنے کا آپشن بند ہو سکتا ہے۔ اس پابندی کی ممکنہ وجہ لوگوں کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کا تحفظ ہے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی (Android Authority) کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیچر گوگل ٹرانسلیٹ کے ورژن 10.39.34.995726622.4 میں سامنے آیا ہے۔
# # گوگل ٹرانسلیٹ کا نیا آٹو سیو فیچر کیا ہے؟
گوگل نے اگست 2025 میں اپنی ٹرانسلیٹ ایپ میں لائیو ٹرانسلیٹ (Live Translate) کا فیچر متعارف کرایا تھا۔ یہ فیچر جیمنی (Gemini) کی مصنوعی ذہانت یعنی AI ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف زبانوں میں ہونے والی گفتگو کا فوری ترجمہ کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کسی ایسے شخص سے بات کر رہے ہیں جسے انگریزی آتی ہے اور آپ اردو بولتے ہیں، تو لائیو ٹرانسلیٹ آپ دونوں کی گفتگو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس سے پہلے صارفین کو گفتگو کا تحریری ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے خود سیٹنگز میں جا کر **Save Transcript** کا آپشن منتخب کرنا پڑتا تھا۔
اب نئے آٹو سیو فیچر کے ذریعے یہ کام خود بخود ہو سکے گا۔ جب گفتگو ختم ہوگی تو ایپ اس کا تحریری ریکارڈ محفوظ کر دے گی۔
اس فیچر سے ان لوگوں کو خاص فائدہ ہو سکتا ہے جو کاروبار، تعلیم، سفر یا روزمرہ زندگی میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد سے بات کرتے ہیں۔
# # گوگل ایپ کی سیٹنگز میں بھی تبدیلی کر رہا ہے
گوگل ٹرانسلیٹ میں صرف گفتگو محفوظ کرنے کا فیچر ہی نہیں بلکہ سیٹنگز کے انداز میں بھی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایپ میں موجود پریفرنسز (Preferences) کے آئیکون پر کلک کرنے سے سیٹنگز کی ونڈو براہِ راست کھل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ فیس ٹو فیس موڈ (Face-to-face Mode) کو بھی آسانی سے استعمال کرنے کے لیے ٹیکسٹ کے سائز کی سیٹنگز کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔
فیس ٹو فیس موڈ اس وقت کام آتا ہے جب دو افراد آمنے سامنے بیٹھ کر مختلف زبانوں میں گفتگو کر رہے ہوں۔
ان تبدیلیوں کا مقصد ایپ کو زیادہ آسان بنانا ہے تاکہ صارفین کو مطلوبہ فیچرز تلاش کرنے میں زیادہ وقت نہ لگے۔
# # اسمارٹ گلاسز پر گفتگو محفوظ کرنے کا فیچر کیوں بند ہوگا؟
اس اپ ڈیٹ کا سب سے اہم حصہ اسمارٹ گلاسز سے متعلق ہے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی کے مطابق، ایپ کے کوڈ میں ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اسمارٹ گلاسز منسلک ہونے اور استعمال کیے جانے کے دوران گفتگو محفوظ کرنے کی سہولت بند رکھی جا سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں صارف نہ تو خود گفتگو محفوظ کر سکے گا اور نہ ہی اسے خود بخود محفوظ کرنے کا فیچر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
اس پابندی کی ممکنہ وجہ دوسروں کی پرائیویسی کا تحفظ ہے۔
اسمارٹ گلاسز عام چشموں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، لیکن بعض ماڈلز میں کیمرہ اور آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس وجہ سے آس پاس موجود لوگوں کو ہمیشہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی آواز یا گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے یا نہیں۔
کچھ اسمارٹ گلاسز میں کیمرہ چلنے کی اطلاع دینے کے لیے چھوٹی سی لائٹ موجود ہوتی ہے، لیکن مائیکروفون کے فعال ہونے کی اطلاع اتنی واضح نہیں ہو سکتی۔
اگر ایسے چشموں کے ذریعے ہونے والی گفتگو خود بخود محفوظ ہونے لگے تو کسی کی اجازت کے بغیر نجی گفتگو کا ریکارڈ بننے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے گوگل اسمارٹ گلاسز کے ذریعے ترجمہ کرتے وقت گفتگو محفوظ کرنے کی سہولت محدود کرنے پر کام کر رہا ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس پابندی کی مکمل تفصیلات اور حتمی دستیابی کی ابھی مزید تصدیق ضروری ہے۔
# # اسمارٹ گلاسز پر ترجمہ کیسے کیا جا سکے گا؟
ایپ کے کوڈ سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ مستقبل میں اسمارٹ گلاسز کے ذریعے ترجمہ کرنا مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔
صارف کو ہر بار موبائل فون نکال کر ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے وہ آواز کے ذریعے ترجمے کا سیشن شروع کر سکے گا۔
مثال کے طور پر، صارف کہہ سکتا ہے:
**“Hey Google, start translating French”**
اس کا مطلب ہے کہ گوگل کو فرانسیسی زبان کا ترجمہ شروع کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
اس کے بعد ترجمے کا سیشن شروع ہو سکتا ہے۔ اسے بند کرنے کے لیے صارف چشموں کے سائیڈ پر موجود ٹچ پیڈ پر انگلی پیچھے کی طرف پھیر سکتا ہے۔
اس طرح صارف اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر ترجمے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔
یہ فیچر خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے جو بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں، غیر ملکی افراد سے بات کرتے ہیں یا ایسے کام کرتے ہیں جن میں ہاتھوں کو آزاد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ تفصیلات ایپ کے کوڈ سے ملنے والے اشاروں پر مبنی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ تمام فیچرز اس وقت عام صارفین کے لیے دستیاب ہوں۔
# # اس نئے فیچر سے صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟
گوگل ٹرانسلیٹ کی اس اپ ڈیٹ سے صارفین کو کئی فائدے مل سکتے ہیں۔
**1۔ گفتگو خود بخود محفوظ ہوگی**
صارف کو ہر بار الگ سے گفتگو محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
**2۔ وقت کی بچت ہوگی**
سیٹنگز میں جا کر ٹرانسکرپٹ محفوظ کرنے کے بجائے ایپ خود یہ کام کر سکے گی۔
**3۔ مختلف زبانوں میں بات کرنا آسان ہوگا**
صارفین غیر ملکی زبان بولنے والے افراد سے گفتگو کرتے وقت ترجمے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
**4۔ اسمارٹ گلاسز کے ذریعے آسان ترجمہ**
مستقبل میں آواز کے ذریعے ترجمہ شروع کرنے اور ٹچ پیڈ سے بند کرنے جیسی سہولتیں گفتگو کو مزید آسان بنا سکتی ہیں۔
**5۔ لوگوں کی پرائیویسی کا تحفظ**
اسمارٹ گلاسز پر گفتگو محفوظ کرنے کی پابندی دوسروں کی اجازت کے بغیر گفتگو کا ریکارڈ بننے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
# # کیا یہ فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے؟
رپورٹ کے مطابق، آٹو سیو ٹرانسکرپٹ کا فیچر متعارف ہونے کے مرحلے میں ہے، لیکن ضروری نہیں کہ یہ ہر صارف کے موبائل فون پر فوراً نظر آئے۔
اس کی دستیابی ایپ کے ورژن، موبائل فون اور گوگل کی جانب سے جاری کیے جانے والے اپ ڈیٹس پر منحصر ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کو یہ فیچر ابھی نظر نہیں آ رہا تو گوگل پلے اسٹور پر جا کر Google Translate کی اپ ڈیٹ چیک کر سکتے ہیں۔ تاہم، ایپ اپ ڈیٹ کرنے کے بعد بھی اس فیچر کا فوراً دستیاب ہونا ضروری نہیں۔
# # نتیجہ
گوگل ٹرانسلیٹ میں آٹو سیو ٹرانسکرپٹ کا نیا فیچر مختلف زبانوں میں گفتگو کرنے والے افراد کے لیے ایک مفید تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی مدد سے گفتگو کا تحریری ریکارڈ خود بخود محفوظ کرنا آسان ہو جائے گا۔
دوسری طرف، اسمارٹ گلاسز کے ذریعے گفتگو محفوظ کرنے پر ممکنہ پابندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی میں سہولت کے ساتھ لوگوں کی پرائیویسی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اگر گوگل ان فیچرز کو کامیابی سے متعارف کرا دیتا ہے تو مستقبل میں غیر ملکی زبان سمجھنا، دوسرے لوگوں سے بات کرنا اور مختلف زبانوں میں رابطہ رکھنا پہلے سے زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔
**نوٹ:** اس خبر میں بیان کردہ کچھ تبدیلیاں ایپ کے کوڈ سے سامنے آنے والی معلومات پر مبنی ہیں۔ ان کے حتمی اجرا اور تمام صارفین کے لیے دستیابی کی تصدیق ضروری ہے۔