DivaTv Katlang ڈیوہ ٹی وی کاٹلنگ

DivaTv Katlang ڈیوہ ٹی وی کاٹلنگ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from DivaTv Katlang ڈیوہ ٹی وی کاٹلنگ, Mardan.

ادبی بنجاری اکمل لیونے  کے گاوں شموزئی شموزئی تحصیل کاٹلنگ کا ایک قدیم گاؤں ہے۔ یہ کاٹلنگ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور پ...
18/08/2026

ادبی بنجاری اکمل لیونے کے گاوں شموزئی
شموزئی تحصیل کاٹلنگ کا ایک قدیم گاؤں ہے۔ یہ کاٹلنگ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور پہاڑی سلسلے کے دامن میں آباد ہے۔ ایک قدیم برطانوی جغرافیائی ریکارڈ میں شموزئی کو کاٹلنگ سے تقریباً چار میل شمال مشرق میں واقع گاؤں بتایا گیا ہے۔ اس ریکارڈ کے مطابق یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں تھا۔ موجودہ سرکاری ریکارڈ میں بھی شموزئی کو تحصیل کاٹلنگ کے دیہی علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ شموزئی نام کی اصل کے بارے میں الگ پہلو سامنے آتے ہیں۔ یوسفزئی قبائلی تقسیم میں شموزئی (Shamozai) ایک معروف نام ہے۔ یوسفزئی کی مختلف شاخوں میں شموزئی کا نام بھی تاریخی طور پر ملتا ہے۔ قدیم جغرافیائی ریکارڈ میں کاٹلنگ کے شموزئی کو یوسفزئی کے بائیزئی علاقے میں واقع گاؤں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ گاؤں کا نام کسی قدیم قبائلی/خاندانی نسبت سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم دستیاب ماخذ یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کرتے کہ موجودہ گاؤں کا نام براہِ راست کسی ایک شخص "شمو" کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مقامی لوگوں میں نام کی اصل کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ایسی روایات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، لیکن ان کی تصدیق کے لیے پرانے شجرہ ہائے نسب، زمین کے ریکارڈ، جرگہ ریکارڈ یا باقاعدہ تاریخی دستاویزات درکار ہیں۔ لہٰذا تاریخی طور پر زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے۔ شموزئی نام غالباً ایک قدیم قبائلی یا خاندانی نسبت سے وابستہ ہے، لیکن "شموزئی" نام رکھنے کی ایک قطعی اور متفق علیہ وجہ موجودہ دستیاب ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتی۔ شموزئی کا ذکر 19ویں صدی کے تاریخی جغرافیائی ریکارڈ میں ملتا ہے۔ پرانے ریکارڈ کے مطابق شموزئی یوسفزئی علاقے کا ایک گاؤں تھا۔ اسی ریکارڈ میں شموزئی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں پہاڑ کے دامن میں واقع تھا، اس کے گرد پہاڑی ابھار موجود تھے اور اس زمانے میں گاؤں میں دکانیں اور مسجد بھی موجود تھیں۔ یہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ شموزئی کوئی نئی آبادی نہیں بلکہ کم از کم 19ویں صدی سے ایک باقاعدہ شناخت رکھنے والا گاؤں تھا۔ شموزئی میں مختلف قبائل کے لوگ آباد رہے ہیں، لیکن جدید رپورٹ کے مطابق یہاں آبادی کی اکثریت یوسفزئی پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق شموزئی کے یوسفزئی باشندوں کے بارے میں یہ روایت موجود ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کئی دہائیاں پہلے سوات کی طرف سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ اس سے شموزئی کی تاریخ کا تعلق وسیع تر یوسفزئی ہجرت اور سوات و مردان کے تاریخی تعلق سے جوڑا جا سکتا ہے۔ قدیم اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ 19ویں صدی میں بھی شموزئی ایک قابلِ ذکر گاؤں تھا۔ تاریخی آبادی کے جدولوں میں 1868ء اور 1891ء کے حوالے سے شموزئی کا اندراج ملتا ہے۔ ایک تحقیقی ماخذ میں 1868ء کے لیے شموزئی کی آبادی 655 اور 1891ء کے لیے 991 درج کی گئی ہے۔ یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ برطانوی دور سے پہلے اور اس دور کے ابتدائی زمانے میں بھی شموزئی ایک منظم اور آبادی رکھنے والی بستی تھی۔ شموزئی کی سب سے دلچسپ تاریخی خصوصیات میں سے ایک سیڑھیوں والا قدیم کنواں، جسے باؤلی کہا جاتا ہے، ہے۔ اس باؤلی کو تقریباً 2300 سال قدیم قرار دیتے ہوئے اسے اشوک کے دور سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً 30 سیڑھیوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ 2300 سال قدیم ہونے اور اشوک کے دور سے تعلق کا دعویٰ کسی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی یا سائنسی تاریخ بندی سے ثابت شدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے بہتر تاریخی بیان یہ ہے کہ شموزئی میں ایک قدیم سیڑھیوں والا کنواں موجود ہے، جس کے بارے میں مقامی و ثقافتی ذرائع اسے بہت قدیم قرار دیتے ہیں۔ قدیم زمانے میں شموزئی کے لوگوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ یہی قدرتی کنواں تھا۔ 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی میں اس کنویں کا پانی وافر تھا اور لوگ اسے پینے کے ساتھ ساتھ کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ آبادی میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے معیار کے مسائل پیدا ہوئے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1970ء کی دہائی میں حاجی آدم خان نے پرانے کنویں سے گھروں تک پانی پائپوں کے ذریعے پہنچانے کا انتظام کیا تھا۔ شموزئی کی سب سے بڑی جغرافیائی اور معدنی اہمیت اس کے گلابی ٹوپاز (Pink Topaz) کے ذخائر ہیں۔ پاکستان کے جیولوجیکل سروے کی اشاعت میں کاٹلنگ کے دو معروف ٹوپاز ذخائر کا ذکر ہے:
گھنڈو ٹوپاز ذخیرہ، شموزئی گلابی ٹوپاز ذخیرہ، اسی سرکاری جیولوجیکل ماخذ کے مطابق شموزئی ٹوپاز کان کا رقبہ چھ ایکڑ کے لیز شدہ علاقے پر مشتمل تھا اور 1998ء میں اسے دس سال کے لیے نیلام کیا گیا۔ بعد میں 2002ء میں کان میں دوبارہ کام شروع ہوا، تاہم بعد میں کان کی کان کنی بند ہو گئی۔ اسی ماخذ کے مطابق 1981ء سے 1992ء کے دوران کاٹلنگ کے علاقے سے تقریباً 0.54 ملین قیراط خام گلابی ٹوپاز نکالا گیا تھا۔ یہ معدنی دولت شموزئی کو صرف ایک زرعی گاؤں نہیں بلکہ پاکستان کے اہم جواہراتی علاقوں میں بھی نمایاں کرتی ہے۔ شموزئی کی جغرافیائی ساخت میں پہاڑی اور میدانی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پرانے زمانے میں پانی کی بہتر دستیابی کی وجہ سے یہاں کھیتی باڑی ہوتی تھی۔ جدید رپورٹ کے مطابق مقامی لوگ کھیتوں میں فصلیں اور سبزیاں بھی اگاتے تھے۔ آج بھی زراعت مقامی زندگی اور معیشت کا اہم حصہ ہے۔
شموزئی اور روایتی کھیل "مخہ" شموزئی کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ پشتونوں کا روایتی کھیل مخہ ہے۔ مقامی کھلاڑیوں کے مطابق ان کے بزرگوں کے زمانے سے شموزئی میں یہ کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں مقامی کھلاڑی نے بتایا کہ بزرگوں کے مطابق شموزئی اور گردونواح میں مخہ کی روایت 1870ء کے قریب سے چلی آ رہی ہے۔ مردان کے جن دیہات میں مخہ کی روایت خاص طور پر بیان کی جاتی ہے، ان میں شموزئی، بابوزئی، میاں خان اور سنگاؤ شامل ہیں۔ اس طرح مخہ شموزئی کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
قدیم ریکارڈ میں شموزئی میں مسجد اور دکانوں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ آج یہ ایک باقاعدہ آباد گاؤں ہے۔ گاؤں کے لوگ روایتی طور پر زراعت، تجارت، معدنی کام، محنت مزدوری، تعلیم اور مختلف پیشوں سے وابستہ رہے ہیں۔ شموزئی میں سرکاری تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ سرکاری تعلیمی ریکارڈ میں شموزئی کے نام سے تعلیمی اداروں کا اندراج ملتا ہے، جو مقامی بچوں کی بنیادی تعلیم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ علاقے میں تعلیم کا رجحان بڑھا ہے اور نئی نسل مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ شموزئی کا نام معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کا تعلق شموزئی سے تھا اور وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد حاجی آدم خان نے 1970ء کی دہائی میں پرانے کنویں سے گھروں تک پانی پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ رحیم اللہ یوسفزئی پاکستان کے معروف صحافیوں میں شمار ہوتے تھے اور پشتون علاقوں، افغانستان اور خطے کے حالات پر اپنی صحافتی رپورٹنگ کے لیے معروف تھے۔ شموزئی کی تاریخ کو چند ادوار میں سمجھا جا سکتا ہے۔ علاقہ قدیم انسانی آبادیوں اور پانی کے قدرتی ذرائع سے منسلک رہا۔ قدیم باؤلی اسی پرانی انسانی موجودگی کی ایک اہم علامت ہے، اگرچہ اس کی درست عمر کے لیے باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی تحقیق درکار ہے۔ یہ علاقہ یوسفزئی آبادی اور قبائلی نظام کا حصہ بنا اور شموزئی نام ایک مستقل مقامی شناخت کے طور پر سامنے آیا۔ 19ویں صدی کے تاریخی جغرافیائی ریکارڈ میں شموزئی ایک باقاعدہ گاؤں کے طور پر درج ہوا۔ اس وقت یہاں مسجد، دکانیں اور منظم آبادی موجود تھی۔ شموزئی تحصیل کاٹلنگ، ضلع مردان کا ایک اہم گاؤں ہے، جہاں زراعت، تعلیم، روایتی ثقافت اور معدنیات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ شموزئی کی اصل اہمیت اس کے کئی تاریخی پہلوؤں کے مجموعے میں ہے۔ شموزئی قدیم آبادی ، یوسفزئی ثقافت ، پہاڑی جغرافیہ قدیم باؤلی ، زراعت ، گلابی ٹوپاز ، مخہ کی روایت۔ اور جہاں تک سوال ہے کہ "شموزئی نام کی جڑ ایک قدیم قبائلی/خاندانی نسبت سے وابستہ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ شموزئی یوسفزئی قبائلی نام کے طور پر بھی معروف ہے؛ تاہم موجودہ گاؤں کے نام رکھنے کی قطعی وجہ اور کسی مخصوص بانی شخص سے اس کی نسبت کا مستند ثبوت ابھی سامنے نہیں آتا۔

18/08/2026

کیمیائی کھاد کی بندش زراعت دشمنی ہے، گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ — اجمل شاہ روغانی

انجمن کاشتکاران کے صوبائی صدر اجمل شاہ روغانی نے کیمیائی کھاد کی بندش اور عدم دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے زراعت اور کسان دشمن اقدام قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں اجمل شاہ روغانی نے کہا کہ کیمیائی کھاد فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے بنیادی ضرورت ہے، اس کی بندش سے نہ صرف کسان مشکلات سے دوچار ہوں گے بلکہ گندم کی پیداوار بھی نمایاں طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے، ایسے میں کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ کسانوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو مقررہ نرخوں پر بروقت اور وافر مقدار میں کیمیائی کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کھاد کی مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

اجمل شاہ روغانی نے خبردار کیا کہ اگر کھاد کی فراہمی کا مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف کسان بلکہ مجموعی طور پر ملکی غذائی پیداوار پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسان خوشحال ہوگا تو زراعت مضبوط ہوگی اور ملک غذائی طور پر مستحکم ہوگا، اس لیے حکومت فوری طور پر کسانوں کے مسائل کا ازالہ کرے۔

کہوئی برمول !!!!!!!!!!!!!!!کہوئی برمول (Kohi Barmol) تحصیل کاٹلنگ کا ایک معروف علاقہ اور یونین کونسل ہے۔ دستیاب حوالوں م...
16/08/2026

کہوئی برمول !!!!!!!!!!!!!!!
کہوئی برمول (Kohi Barmol) تحصیل کاٹلنگ کا ایک معروف علاقہ اور یونین کونسل ہے۔ دستیاب حوالوں میں اسے کاٹلنگ کے اتمان خیل آبادی والے علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ کہوئی برمول کا علاقہ کاٹلنگ کے شمالی/شمال مشرقی حصے میں پہاڑی سلسلے کے قریب واقع ہے۔ اس کے گردونواح میں میاں خان اور سنگاؤ جیسے علاقے بھی شامل ہیں۔ میاں خان اور سنگاؤ کو کہوئی برمول یونین کونسل سے منسلک بتایا گیا ہے۔
یہ علاقہ میدانی اور پہاڑی جغرافیے کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے تاریخی طور پر زراعت، مال مویشی اور پہاڑی وسائل سے وابستہ آبادی کے لیے موزوں رہا ہے۔ کہوئی برمول کی تاریخ کا ایک اہم پہلو اتمان خیل قوم کی آبادکاری ہے۔ اتمان خیل ایک پشتون قبیلہ ہے جسے عام طور پر کرلاڼی پشتون قبائلی سلسلے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اتمان خیل کی بڑی آبادیاں باجوڑ، ملاکنڈ، مہمند، دیر اور مردان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ مردان میں اتمان خیل آبادی کے اہم علاقوں میں کہوئی برمول، میاں خان، سنگاؤ اور باجوڑ وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔ اتمان خیل اور مردان کے علاقے کا تعلق قدیم قبائلی نقل مکانی اور علاقائی سیاسی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ بعض قبائلی تاریخی روایات کے مطابق اتمان خیل نے یوسف زئی قبائل کے ساتھ مل کر مردان کے میدانوں میں دلازک قبائل کے خلاف لڑائیوں میں حصہ لیا، جن میں کاٹلنگ اور شہباز گڑھی کے معرکوں کا ذکر آتا ہے۔ تاہم ان روایات کی تمام جزئیات کو قطعی مستند تاریخ سمجھنے کے بجائے قبائلی روایت اور تاریخی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔
کہوئی برمول نام کی قطعی وجۂ تسمیہ کے بارے میں مجھے ایسا مستند تاریخی ماخذ نہیں ملا جو حتمی طور پر بتاتا ہو کہ یہ نام کس شخص، قبیلے یا واقعے کی وجہ سے رکھا گیا۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ’’کہوئی‘‘ یا ’’برمول‘‘ کا نام لازماً فلاں شخص سے نکلا ہے، جب تک مقامی پرانی دستاویز، زمین کا ریکارڈ، معتبر تاریخ یا بزرگوں کی مسلسل روایت اس کی تصدیق نہ کرے۔ کاٹلنگ اور اس کے پہاڑی دامن کا علاقہ بہت پرانے زمانے سے انسانی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ایک مقامی نسب نامے میں کہوئی برمول میں رہنے والے بعض اتمان خیل خاندانوں کو اسماعیل خیل سے منسوب کیا گیا ہے، اور ایک سلسلہ عمر خان خیل تک دیا گیا ہے۔ یہ ایک خاندانی/مقامی شجرہ ہے، اس لیے اسے پورے کہوئی برمول کے تمام خاندانوں کا حتمی شجرہ نہیں کہا جا سکتا۔اسی طرح اتمان خیل کے مختلف قبائل اور شاخوں کے نام مختلف ذرائع میں الگ الگ انداز سے بیان ہوئے ہیں؛ اس لیے مقامی خاندانوں کی درست تفصیل کے لیے مقامی شجرہ ہائے نسب زیادہ اہم ہوں گے۔ کہوئی برمول میں تعلیم اور دینی سرگرمیوں کا بھی ذکر تاریخی و سوانحی مواد میں ملتا ہے۔ مثال کے طور پر مولانا سلطان غنی عارف اور مولانا آمین گل باباجی کی سوانح کے مطابق وہ موضع کہوئی برمول، تحصیل کاٹلنگ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور بعد میں کاٹلنگ میں تعلیم جاری رکھی۔ یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ علاقے میں مقامی سطح پر دینی اور تعلیمی روایت بھی موجود رہی ہے۔ آج کہوئی برمول ایک آباد اور ترقی پذیر علاقہ ہے۔ یہاں رہائشی آبادی کے ساتھ بازار، تعلیمی ادارے، طبی سہولیات اور دیگر روزمرہ ضروریات موجود ہیں۔ حالیہ مقامی معلومات میں مین بازار کہوئی برمول کا بھی واضح ذکر ملتا ہے۔ کہوئی برمول کی اہمیت بنیادی طور پر تین پہلوؤں سے بنتی ہے
تاریخی__ یہ کاٹلنگ کے قدیم اور پہاڑی دامن والے علاقے کا حصہ ہے۔
قبائلی__ یہاں اتمان خیل آبادی اور اس سے متعلق مختلف خاندان آباد ہیں۔
جغرافیائی__پہاڑ، زرعی زمین اور قریبی بستیاں اس علاقے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
کہوئی برمول صرف ایک موجودہ گاؤں یا یونین کونسل کا نام نہیں بلکہ کاٹلنگ کے اس خطے کا حصہ ہے جہاں قدیم انسانی آبادکاری، اتمان خیل قبائلی تاریخ، پہاڑی جغرافیہ، زراعت، دینی روایت اور جدید تعلیمی و معاشرتی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ البتہ اس علاقے کی مکمل مقامی تاریخ، اصل وجۂ تسمیہ، پہلے آباد ہونے والے خاندان، زمینوں کی تقسیم اور تمام خاندانوں کا شجرہ ابھی باقاعدہ مستند تاریخی دستاویز کی صورت میں دستیاب نہیں ملا۔///////

بابِ کاٹلنگ — ایک خوبصورت مستقبل کی جانب قدم 🌿🏛️کاٹلنگ زمونږ د ټولو! ❤️کاٹلنگ چیچاڑ فرش کے مقام پر بابِ کاٹلنگ گیٹ کے لی...
16/08/2026

بابِ کاٹلنگ — ایک خوبصورت مستقبل کی جانب قدم 🌿🏛️
کاٹلنگ زمونږ د ټولو! ❤️
کاٹلنگ چیچاڑ فرش کے مقام پر بابِ کاٹلنگ گیٹ کے لیے یہ مجوزہ ڈیزائن پیش کیا گیا ہے۔ اس خوبصورت اور تاریخی دروازے کی تعمیر کا باقاعدہ کام جلد شروع کیا جائے گا۔
اہلیانِ کاٹلنگ سے گزارش ہے کہ اس ڈیزائن کے حوالے سے اپنی قیمتی تجاویز، آراء اور مشاورت ضرور دیں، تاکہ بابِ کاٹلنگ کو مزید خوبصورت، شاندار اور کاٹلنگ کی ثقافت و شناخت کا عکاس بنایا جا سکے۔
آپ کی رائے، کاٹلنگ کی خوبصورتی اور پہچان کے لیے اہم ہے۔

14/08/2026
14/08/2026

پیس ٹیلی کام / جشن ازادی کے موقع پر بڑی افر

14/08/2026

//////دارالعلوم فاروقیہ کاٹلنگ توسیع منصوبہ زور و شور سے جاری اہل ثروت سے تعاون کی اپیل //////

خالص دودھ کے نام پر معاشرے سے خیانت.???!!!!!????!?بقلم: (مفتی اسم خان محمدی)کبھی کبھی ایک معمولی سا واقعہ انسان کو معاشر...
12/08/2026

خالص دودھ کے نام پر معاشرے سے خیانت.???!!!!!????!?
بقلم: (مفتی اسم خان محمدی)
کبھی کبھی ایک معمولی سا واقعہ انسان کو معاشرے کی ایک بہت بڑی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ پچھلے سال کالام کے ایک سرکاری دورے کے دوران میرے بعض ساتھی، جن میں جناب سجاد عزیز صاحب، جناب امیر نواب صاحب اور مولانا انوارالاسلام صاحب بھی شامل تھے، ایک دودھ کی دکان پر گئے۔ دکان کے باہر ایک نمایاں بورڈ لگا ہوا تھا: "خالص دودھ"۔
میرے بھائی اور ساتھی جناب امیر نواب صاحب نے دودھ فروش سے بڑا سادہ مگر معنی خیز سوال کیا:
"بھائی! خالص دودھ اور دودھ میں کیا فرق ہے؟"
دودھ فروش نے معمول کے انداز میں جواب دیا۔ پھر امیر نواب صاحب نے پوچھا:
"یہ دودھ گائے یا بھینس کا ہے؟"
اس نے کہا: "جی ہاں۔"
پھر سوال ہوا:
"کیا آپ اس بات کی قسم کھا سکتے ہیں کہ یہ واقعی خالص دودھ ہے اور گائے یا بھینس ہی کا دودھ ہے؟"
دودھ فروش نے فوراً کہا:
"نہیں، میں کیوں قسم کھاؤں؟"???????????????
یہ جواب بظاہر چند الفاظ تھے، مگر اپنے اندر ایک پورا سوالیہ نشان لیے ہوئے تھا۔ اگر دودھ واقعی خالص ہے، اگر دکان پر "خالص دودھ" کا بورڈ لگا ہے، اگر خریدار کو اسی عنوان سے قیمت وصول کی جا رہی ہے، تو پھر اس دعوے کی سچائی پر قسم کھانے سے گریز کیوں؟?????????
یہ واقعہ میرے ذہن میں ایک گہرا سوال چھوڑ گیا: آخر "دودھ" اور "خالص دودھ" کے درمیان فرق صرف دو لفظوں کا ہے یا دو کرداروں کا؟????????????????
حقیقت یہ ہے کہ خالص دودھ صرف وہ نہیں جس میں پانی شامل نہ ہو؛ خالص دودھ دراصل خالص دیانت کی علامت بھی ہے۔ جس ہاتھ سے دودھ میں ملاوٹ ہوتی ہے، وہ صرف ایک برتن میں پانی نہیں ڈالتا، بلکہ وہ اپنے کاروبار میں خیانت، اپنے رزق میں مشتبہ کمائی اور معاشرے کے اعتماد میں زہر شامل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو سخت تنبیہ فرمائی:
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۝ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
"تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔"
(سورۃ المطففین: 1–3)
یہ آیات صرف ترازو کے ایک پلڑے کی بات نہیں کرتیں؛ یہ تجارت میں دیانت اور خیانت کا پورا اصول بیان کرتی ہیں۔ آج اگر کوئی شخص دودھ کے نام پر پانی، کیمیکل یا کوئی دوسری غیر متعلق چیز شامل کرکے اسے خالص دودھ کے طور پر فروخت کرتا ہے تو یہ بھی اسی اخلاقی بیماری کی ایک شکل ہے: خریدار سے اس چیز کی قیمت لینا جو حقیقت میں اسے دی ہی نہیں گئی۔
قرآن مجید ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ
"اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔"
(سورۃ البقرۃ: 188)
سوچنے کی بات ہے کہ ایک مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے، رمضان میں روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرتا ہے، تسبیح پڑھتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے، مگر اگر اسی کے ہاتھ سے کسی کے مال اور صحت کے ساتھ خیانت ہو رہی ہو تو اسے اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے تجارت اور معاملات میں خیانت کے بارے میں نہایت سخت الفاظ فرمائے:
مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا
"جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمارے لیے ایک بہت بڑا آئینہ ہے۔ ملاوٹ صرف کاروباری جرم نہیں، یہ اخلاقی اور دینی مسئلہ بھی ہے۔ دودھ میں ملاوٹ کرنے والا شاید یہ سمجھتا ہو کہ وہ صرف چند روپے زیادہ کما رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے گاہک کے اعتماد کو توڑ رہا ہوتا ہے۔
اور سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ ملاوٹ اکثر ان لوگوں کے گھروں تک پہنچتی ہے جہاں معصوم بچے بھی وہی دودھ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ایک شخص دوسروں کے گھر کی صحت سے کھیل کر اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ وہ حرام یا ناجائز طریقے سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے بچوں کے لیے لباس خریدتا ہے، کھانا لاتا ہے اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔ مگر اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رزق صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں، رزق کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا
"اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔"
(سورۃ المؤمنون: 51)
اسلام ہمیں صرف زیادہ کمانے کا درس نہیں دیتا؛ اسلام ہمیں حلال اور پاکیزہ کمانے کا درس دیتا ہے۔ چند اضافی روپے اگر کسی دوسرے انسان کے حق، صحت یا اعتماد کو پامال کرکے حاصل کیے جائیں تو وہ دولت بظاہر جیب میں بڑھ سکتی ہے، مگر انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف دودھ فروش تک محدود نہیں۔ آج ہمیں دودھ، گوشت، مصالحہ جات، شہد، تیل اور دیگر اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کے خلاف اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن تاجر کا ضمیر بھی ایک ادارہ ہے اور اللہ کا خوف سب سے بڑی نگرانی ہے۔
دکان کے باہر "خالص دودھ" کا بورڈ لگانا آسان ہے؛ خالص دودھ بیچنے کے لیے خالص نیت اور خالص کردار چاہیے۔
میرے لیے اس واقعے کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر ہم اپنے کاروبار کے دعوے پر اللہ کے سامنے قسم کھانے سے گھبراتے ہیں، تو پھر ہمیں اپنے ضمیر کے سامنے کھڑے ہونے سے بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔
ہم نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، حج کریں، عمرہ کریں، داڑھی رکھیں، ٹوپی پہنیں، تسبیح ہاتھ میں رکھیں—یہ سب اپنی جگہ عظیم عبادات ہیں؛ لیکن معاملات میں دیانت اسلام کے بنیادی مطالبات میں سے ہے۔ عبادات انسان کو اللہ سے جوڑتی ہیں اور دیانت اس تعلق کا عملی ثبوت پیش کرتی ہے۔
آئیے عہد کریں کہ نہ ملاوٹ کریں گے، نہ ملاوٹ خریدیں گے، نہ جھوٹی "خالص" کی تختی لگائیں گے، نہ کسی کے اعتماد کو چند روپوں کے عوض فروخت کریں گے۔
کیونکہ یاد رکھیے:
دودھ میں پانی ملانے سے صرف دودھ خراب نہیں ہوتا، معاشرے کا اعتماد بھی خراب ہوتا ہے؛ اور حرام کمائی سے صرف جیب نہیں بھرتی، انسان کا ضمیر بھی خالی ہوتا ہے۔
خالص دودھ کا اصل مطلب صرف یہ نہیں کہ اس میں پانی نہیں؛ اصل "خالص" وہ ہاتھ ہے جس میں خیانت نہیں، وہ دل ہے جس میں خوفِ خدا ہے، اور وہ کمائی ہے جس پر انسان دنیا میں بھی مطمئن ہو اور آخرت میں بھی جواب دے سکے۔

12/08/2026

خوش خبری!
تحصیل کاٹلنگ و مضافات میٹرک پاس مستحق طلبا و طالبات (Male &Female)کے لیے👉
دی ​آربٹ کالج کاٹلنگ کیمپس اور مالک فاؤنڈیشن کے مابین ایک شاندار معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت کاٹلنگ اور اس کے مضافات کے تیس (30) طلباء و طالبات کو بالکل مفت تعلیم کے لیے اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:
​ٹیسٹ کی تاریخ: مالک فاؤنڈیشن کا ٹیسٹ 15 اگست بروز ہفتہ بوقت صبح 8بجے مردان میں منعقد ہوگا۔
​درخواست دینے کا طریقہ: جو لوگ اپلائی کرنا چاہتے ہیں، وہ درج ذیل رابطہ نمبروں پر رابطہ کر کے جلد از جلد اپنا اپلائی مکمل کریں تاکہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جائے:
​رابطہ نمبر: 03009302292
03321781910

مزید معلومات کے لیے جلد از جلد
دی آربٹ کالج کاٹلنگ کیمپس سے رابطہ کرے۔شکریہ
منجانب: انتظامیہ آربٹ کالج کاٹلنگ
پرنسپل فہیم خان:03423357060
واٸس پرنسپل واجدعلی واجد:
03101238635

Address

Mardan
23200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DivaTv Katlang ڈیوہ ٹی وی کاٹلنگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to DivaTv Katlang ڈیوہ ٹی وی کاٹلنگ:

Shortcuts

Share