18/08/2026
ادبی بنجاری اکمل لیونے کے گاوں شموزئی
شموزئی تحصیل کاٹلنگ کا ایک قدیم گاؤں ہے۔ یہ کاٹلنگ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور پہاڑی سلسلے کے دامن میں آباد ہے۔ ایک قدیم برطانوی جغرافیائی ریکارڈ میں شموزئی کو کاٹلنگ سے تقریباً چار میل شمال مشرق میں واقع گاؤں بتایا گیا ہے۔ اس ریکارڈ کے مطابق یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں تھا۔ موجودہ سرکاری ریکارڈ میں بھی شموزئی کو تحصیل کاٹلنگ کے دیہی علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ شموزئی نام کی اصل کے بارے میں الگ پہلو سامنے آتے ہیں۔ یوسفزئی قبائلی تقسیم میں شموزئی (Shamozai) ایک معروف نام ہے۔ یوسفزئی کی مختلف شاخوں میں شموزئی کا نام بھی تاریخی طور پر ملتا ہے۔ قدیم جغرافیائی ریکارڈ میں کاٹلنگ کے شموزئی کو یوسفزئی کے بائیزئی علاقے میں واقع گاؤں کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ گاؤں کا نام کسی قدیم قبائلی/خاندانی نسبت سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ تاہم دستیاب ماخذ یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کرتے کہ موجودہ گاؤں کا نام براہِ راست کسی ایک شخص "شمو" کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مقامی لوگوں میں نام کی اصل کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ایسی روایات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں، لیکن ان کی تصدیق کے لیے پرانے شجرہ ہائے نسب، زمین کے ریکارڈ، جرگہ ریکارڈ یا باقاعدہ تاریخی دستاویزات درکار ہیں۔ لہٰذا تاریخی طور پر زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے۔ شموزئی نام غالباً ایک قدیم قبائلی یا خاندانی نسبت سے وابستہ ہے، لیکن "شموزئی" نام رکھنے کی ایک قطعی اور متفق علیہ وجہ موجودہ دستیاب ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتی۔ شموزئی کا ذکر 19ویں صدی کے تاریخی جغرافیائی ریکارڈ میں ملتا ہے۔ پرانے ریکارڈ کے مطابق شموزئی یوسفزئی علاقے کا ایک گاؤں تھا۔ اسی ریکارڈ میں شموزئی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں پہاڑ کے دامن میں واقع تھا، اس کے گرد پہاڑی ابھار موجود تھے اور اس زمانے میں گاؤں میں دکانیں اور مسجد بھی موجود تھیں۔ یہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ شموزئی کوئی نئی آبادی نہیں بلکہ کم از کم 19ویں صدی سے ایک باقاعدہ شناخت رکھنے والا گاؤں تھا۔ شموزئی میں مختلف قبائل کے لوگ آباد رہے ہیں، لیکن جدید رپورٹ کے مطابق یہاں آبادی کی اکثریت یوسفزئی پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق شموزئی کے یوسفزئی باشندوں کے بارے میں یہ روایت موجود ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کئی دہائیاں پہلے سوات کی طرف سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ اس سے شموزئی کی تاریخ کا تعلق وسیع تر یوسفزئی ہجرت اور سوات و مردان کے تاریخی تعلق سے جوڑا جا سکتا ہے۔ قدیم اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ 19ویں صدی میں بھی شموزئی ایک قابلِ ذکر گاؤں تھا۔ تاریخی آبادی کے جدولوں میں 1868ء اور 1891ء کے حوالے سے شموزئی کا اندراج ملتا ہے۔ ایک تحقیقی ماخذ میں 1868ء کے لیے شموزئی کی آبادی 655 اور 1891ء کے لیے 991 درج کی گئی ہے۔ یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ برطانوی دور سے پہلے اور اس دور کے ابتدائی زمانے میں بھی شموزئی ایک منظم اور آبادی رکھنے والی بستی تھی۔ شموزئی کی سب سے دلچسپ تاریخی خصوصیات میں سے ایک سیڑھیوں والا قدیم کنواں، جسے باؤلی کہا جاتا ہے، ہے۔ اس باؤلی کو تقریباً 2300 سال قدیم قرار دیتے ہوئے اسے اشوک کے دور سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً 30 سیڑھیوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ 2300 سال قدیم ہونے اور اشوک کے دور سے تعلق کا دعویٰ کسی باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی یا سائنسی تاریخ بندی سے ثابت شدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس لیے بہتر تاریخی بیان یہ ہے کہ شموزئی میں ایک قدیم سیڑھیوں والا کنواں موجود ہے، جس کے بارے میں مقامی و ثقافتی ذرائع اسے بہت قدیم قرار دیتے ہیں۔ قدیم زمانے میں شموزئی کے لوگوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ یہی قدرتی کنواں تھا۔ 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی میں اس کنویں کا پانی وافر تھا اور لوگ اسے پینے کے ساتھ ساتھ کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ آبادی میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے معیار کے مسائل پیدا ہوئے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1970ء کی دہائی میں حاجی آدم خان نے پرانے کنویں سے گھروں تک پانی پائپوں کے ذریعے پہنچانے کا انتظام کیا تھا۔ شموزئی کی سب سے بڑی جغرافیائی اور معدنی اہمیت اس کے گلابی ٹوپاز (Pink Topaz) کے ذخائر ہیں۔ پاکستان کے جیولوجیکل سروے کی اشاعت میں کاٹلنگ کے دو معروف ٹوپاز ذخائر کا ذکر ہے:
گھنڈو ٹوپاز ذخیرہ، شموزئی گلابی ٹوپاز ذخیرہ، اسی سرکاری جیولوجیکل ماخذ کے مطابق شموزئی ٹوپاز کان کا رقبہ چھ ایکڑ کے لیز شدہ علاقے پر مشتمل تھا اور 1998ء میں اسے دس سال کے لیے نیلام کیا گیا۔ بعد میں 2002ء میں کان میں دوبارہ کام شروع ہوا، تاہم بعد میں کان کی کان کنی بند ہو گئی۔ اسی ماخذ کے مطابق 1981ء سے 1992ء کے دوران کاٹلنگ کے علاقے سے تقریباً 0.54 ملین قیراط خام گلابی ٹوپاز نکالا گیا تھا۔ یہ معدنی دولت شموزئی کو صرف ایک زرعی گاؤں نہیں بلکہ پاکستان کے اہم جواہراتی علاقوں میں بھی نمایاں کرتی ہے۔ شموزئی کی جغرافیائی ساخت میں پہاڑی اور میدانی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پرانے زمانے میں پانی کی بہتر دستیابی کی وجہ سے یہاں کھیتی باڑی ہوتی تھی۔ جدید رپورٹ کے مطابق مقامی لوگ کھیتوں میں فصلیں اور سبزیاں بھی اگاتے تھے۔ آج بھی زراعت مقامی زندگی اور معیشت کا اہم حصہ ہے۔
شموزئی اور روایتی کھیل "مخہ" شموزئی کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ پشتونوں کا روایتی کھیل مخہ ہے۔ مقامی کھلاڑیوں کے مطابق ان کے بزرگوں کے زمانے سے شموزئی میں یہ کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں مقامی کھلاڑی نے بتایا کہ بزرگوں کے مطابق شموزئی اور گردونواح میں مخہ کی روایت 1870ء کے قریب سے چلی آ رہی ہے۔ مردان کے جن دیہات میں مخہ کی روایت خاص طور پر بیان کی جاتی ہے، ان میں شموزئی، بابوزئی، میاں خان اور سنگاؤ شامل ہیں۔ اس طرح مخہ شموزئی کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
قدیم ریکارڈ میں شموزئی میں مسجد اور دکانوں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ آج یہ ایک باقاعدہ آباد گاؤں ہے۔ گاؤں کے لوگ روایتی طور پر زراعت، تجارت، معدنی کام، محنت مزدوری، تعلیم اور مختلف پیشوں سے وابستہ رہے ہیں۔ شموزئی میں سرکاری تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ سرکاری تعلیمی ریکارڈ میں شموزئی کے نام سے تعلیمی اداروں کا اندراج ملتا ہے، جو مقامی بچوں کی بنیادی تعلیم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ علاقے میں تعلیم کا رجحان بڑھا ہے اور نئی نسل مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ شموزئی کا نام معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کا تعلق شموزئی سے تھا اور وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد حاجی آدم خان نے 1970ء کی دہائی میں پرانے کنویں سے گھروں تک پانی پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ رحیم اللہ یوسفزئی پاکستان کے معروف صحافیوں میں شمار ہوتے تھے اور پشتون علاقوں، افغانستان اور خطے کے حالات پر اپنی صحافتی رپورٹنگ کے لیے معروف تھے۔ شموزئی کی تاریخ کو چند ادوار میں سمجھا جا سکتا ہے۔ علاقہ قدیم انسانی آبادیوں اور پانی کے قدرتی ذرائع سے منسلک رہا۔ قدیم باؤلی اسی پرانی انسانی موجودگی کی ایک اہم علامت ہے، اگرچہ اس کی درست عمر کے لیے باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی تحقیق درکار ہے۔ یہ علاقہ یوسفزئی آبادی اور قبائلی نظام کا حصہ بنا اور شموزئی نام ایک مستقل مقامی شناخت کے طور پر سامنے آیا۔ 19ویں صدی کے تاریخی جغرافیائی ریکارڈ میں شموزئی ایک باقاعدہ گاؤں کے طور پر درج ہوا۔ اس وقت یہاں مسجد، دکانیں اور منظم آبادی موجود تھی۔ شموزئی تحصیل کاٹلنگ، ضلع مردان کا ایک اہم گاؤں ہے، جہاں زراعت، تعلیم، روایتی ثقافت اور معدنیات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ شموزئی کی اصل اہمیت اس کے کئی تاریخی پہلوؤں کے مجموعے میں ہے۔ شموزئی قدیم آبادی ، یوسفزئی ثقافت ، پہاڑی جغرافیہ قدیم باؤلی ، زراعت ، گلابی ٹوپاز ، مخہ کی روایت۔ اور جہاں تک سوال ہے کہ "شموزئی نام کی جڑ ایک قدیم قبائلی/خاندانی نسبت سے وابستہ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ شموزئی یوسفزئی قبائلی نام کے طور پر بھی معروف ہے؛ تاہم موجودہ گاؤں کے نام رکھنے کی قطعی وجہ اور کسی مخصوص بانی شخص سے اس کی نسبت کا مستند ثبوت ابھی سامنے نہیں آتا۔