20/05/2026
فیسکو کا 1.8 لاکھ کا ڈیٹیکشن بل عدالت میں خارج: عام شہری فلک شیر کی لاہور ہائی کورٹ میں بڑی جیت! ⚖️
کیا واپڈا یا کوئی بھی بجلی سپلائی کمپنی (جیسے FESCO) اپنی مرضی سے آپ پر بجلی چوری کا الزام لگا کر بھاری جرمانہ یا ڈیٹیکشن بل عائد کر سکتی ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ تاریخی فیصلے نے واپڈا کے من مانے فیصلوں کے سامنے بندھ باندھ دیا ہے۔
📜 کیس کا پس منظر اور فیسکو کے جھوٹے دعوے
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) نے ایک عام شہری فلک شیر کو 1,83,305 روپے کا بھاری بھرکم ڈیٹیکشن بل تھمایا اور دعویٰ کیا کہ وہ "ناجائز ذرائع" سے بجلی چوری کر رہے تھے۔ فلک شیر نے اس ظلم کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور بل کو سول کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
سول کورٹ اور پھر اپیلٹ کورٹ چنیوٹ نے فیسکو کے خلاف اور صارف کے حق میں فیصلہ سنایا۔ فیسکو نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں یہ کیس جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی کی عدالت میں سماعت کے لیے لگا۔
🛑 عدالت میں فیسکو کے تضادات کا بھانڈا پھوٹ گیا!
عدالتی کارروائی کے دوران فیسکو اپنے ہی بیانات اور دستاویزات کے جال میں بری طرح الجھ گئی:
دورانیے کا تضاد: تحریری جواب میں کہا کہ بل دسمبر 2014 سے مارچ 2015 کا ہے، گواہ نے کٹہرے میں آکر کہا کہ رقم مئی 2010 سے جولائی 2010 کی ہے، جبکہ محکمے کے اپنے کاغذات مئی 2011 سے جولائی 2011 کا دورانیہ دکھا رہے تھے!
الزام میں تضاد: پہلے "ناجائز ذرائع" کا مبہم الزام لگایا، پھر گواہی میں اسے "براہ راست سپلائی" کہا، اور آخر میں ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ میٹر تو "جلا" ہوا تھا!
عدالت کا حیرت کا اظہار: اگر میٹر جلا ہوا تھا یا بجلی چوری ہو رہی تھی، تو نہ کوئی ٹیکنیکل رپورٹ تیار کی گئی اور نہ ہی موقع پر موجود کسی انسپکشن آفیسر کی گواہی پیش کی جا سکی۔ فیسکو کا پورا کیس محض ہوائی باتوں پر مبنی تھا۔
⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی رولنگ اور صارف کے حقوق
فیسکو کے وکیل نے یہ قانونی نکتہ اٹھایا کہ بجلی چوری کے معاملات میں سول کورٹ کو مداخلت کا اختیار ہی نہیں ہے۔ مگر جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے اس منطق کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا:
"جب ایک سرکاری ادارہ اپنے ہی طے شدہ قواعد و ضوابط (Consumer Service Manual) کی دھجیاں اڑا دے اور کسی شہری کو صفائی کا موقع دیے بغیر (بغیر شوکاز نوٹس) بھاری جرمانہ عائد کر دے، تو سول عدالتیں خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتیں!"
لاہور ہائی کورٹ نے فیسکو کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے فلک شیر کے حق میں ماتحت عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا۔
💡 عوام کے لیے اہم قانونی معلومات (ڈیٹیکشن بل رولز)
واپڈا رولز کے مطابق کسی بھی صارف کے بل میں Detection Bill ڈالنے سے پہلے درج ذیل طریقہ کار لازمی ہے:
بذریعہ نوٹس آگاہی: بجلی سپلائی کمپنی کے لیے لازمی ہے کہ وہ صارف کو پہلے باقاعدہ نوٹس بھیجے۔ (Under 31 A(C) POLICY AND PROCEDURES ON Detection Bill)
ٹیکنیکل معائنہ: کسی ماہر یا انسپکشن آفیسر کی موجودگی میں ٹیکنیکل رپورٹ مرتب کی جائے۔
حاصل کلام: اختیارات کا استعمال قانونی ضوابط کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر آپ کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہو، تو قانون آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے!
کیا آپ کو بھی کبھی واپڈا کی طرف سے ایسے ناجائز بل کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور قانون کی آگاہی کے لیے اس پوسٹ کو شیئر کریں۔
Affairs Court