اچھے لوگوں کی اچھی نصیحتیں

اچھے لوگوں کی اچھی نصیحتیں اللہ پاک ھمکو ایمان پر زندہ رکھے اور ھم سب کو آسان عزت والی ایمان پہ موت نصیب فرمائے اور مغفرت فرمائے

Awards can give you a tremendous amount of encouragement to keep getting better, no matter how young or old you are. The key to wisdom is this - constant and frequent questioning, for by doubting we are led to question and by questioning we arrive at the truth.

13/07/2024

مولانا روم سے 5 سوال پوچھے گئے، مولانا روم کے جواب غور طلب ہیں۔
سوال ۔ 1 ۔
خوف کس شے کا نام ہے ؟
جواب ۔ غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے ۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مُہِم جُوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے
سوال ۔ 2 ۔
حَسَد کِسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ دوسروں میں خیر و خُوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حَسَد ہے ۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
سوال ۔ 3 ۔
غُصہ کس بلا کا نام ہے ؟
جواب ۔ جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے ۔ اسے تسلیم نہ کرنے کا نام غُصہ ہے ۔ اگر کوئی تسلیم کر لے کہ یہ امر اُس کے قابو سے باہر ہے تو غصہ کی جگہ عَفو ۔ درگذر اور تحَمّل لے لیتے ہیں
سوال ۔ 4۔
نفرت کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ کسی شخص کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے ۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اُسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے.
سوال. 5 ۔
زہر کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ” زہر“ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو ۔ انانیت ہو ۔ دولت ہو ۔ بھوک ہو ۔ لالچ ہو ۔ سُستی یا کاہلی ہو ۔ عزم و ہِمت ہو ۔ نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.

04/07/2024

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

*چند قیمتی گذارش
ضرور پڑھیں۔۔۔۔۔

● گرمیوں میں کپڑوں کے نیچے بنیان پہنیں،
اور خدارا Deodorant's کا استعمال کریں۔ دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنا مذہب اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے.

● کان اور ناک کے بال صاف کریں اور ناک کے بال اکھاڑنے کیلئے عوامی مقامات مناسب جگہ نہیں، برائے مہربانی یہ فریضہ گھر پر انجام دیں۔ دوسرے لوگوں کو اس فعل سے گھن آتی ہے جس کا آپ کو احساس نہیں ہوتا۔

● اسی طرح عوامی مقامات پہ ناک اور کان میں انگلی گھما کر صفائی کا اہتمام کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے، مزید ایسی حرکات کرنے کے بعد جب آپ دوسرے لوگوں سے مصافحہ کا شوق فرماتے ہیں تو آپ ان کو انتہائی آکورڈ صورتحال میں مبتلا کر رہے ہوتے ہیں۔

● کرنسی نوٹ گنتے ہوئے اپنے لعاب کا بے دریغ استعمال کرنا بند کریں اگر ضرورت ہو تو پانی کا استعمال کریں۔ ویسے بھی آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ نوٹ کن کن جگہوں اور کتنے گندھے ہاتھوں سے ہو کر آپ تک پہنچے ہیں۔۔

● گاڑی چلاتے وقت تنگ سڑکوں پر اوورٹیک سے اجتناب کریں۔ گاڑی پارک کرتے وقت اتنا خیال رکھیں کہ دوسرے لوگ اس سے اذیت میں مبتلا نہ ہوں اور بلاوجہ اس طرح پارک نہ کریں کہ دو گاڑیوں کی جگہ گھیر کر کھڑے ہو جائیں۔

● اپنے والد، بھائی یا کسی عزیز کے عہدے کی وجہ سے بلا ضرورت privileges لینے سے باز رہیں اور پبلک سروس کے محکموں میں دوسروں کو کیڑے مکوڑے اور حقیر ہونے کا احساس نہ دلائیں۔

● زیادہ نمازیں روزے وغیرہ کا تعلق آپ کے اور آپ کے معبود کے درمیان ہے، اپنے زعم تقویٰ میں دوسروں کے ساتھ حقارت سے پیش نہ آئیں اور نہ ہی ان سے ان کی عبادات کے متعلق بے جا سوالات کریں کہ لوگوں کے اعمال کا حساب رکھنے کا فریضہ آپ کو تفویض نہیں ہوا۔

● لوگوں کی ذاتی و نجی زندگی سے متعلق سوالات کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی ان کی آمدنی جاننے کا اختیار ۔ ایسے سوالات لوگوں کو کوفت میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ مثلاً ابھی تک آپ کے بچے کیوں نہیں ؟
آپ کے بچے فلاں سکول میں کیوں نہیں پڑھتے، آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟؟ وغیرہ ۔

● جگہ جگہ تھوکنے، کھانے پینے کی چیزوں کے خالی ریپرز ، چھلکے، سڑک پر پھینکنے اور عوامی مقامات پر پھینکنے سے اجتناب کریں۔ گاڑی میں ایک بڑا شاپنگ بیگ رکھ لیں اور چیزیں اس میں اکھٹی کرتے رہیں اور مناسب جگہ پر ڈمپ کریں۔

● پبلک ٹوائلٹس کو اس طرح سے استعمال کریں اور اس حالت میں چھوڑیں جیسے آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔
پبلک ٹوائلٹس کسی بھی قوم کی اجتماعی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہاں پر صفائی کا مناسب انتظام رکھیں،اپنی خطاطی، ادبی ذوق ، سیاسی و مذہبی منافرت، خواتین کے ناموں کی بے حرمتی، یا + 18 پینٹنگز کے نمونے مت چھوڑیں۔ یہ نفسیاتی بیماری کی نشانی ہے۔۔۔

● جسم کے پرائویٹ اعضاء پر بلاجواز یا عادتاً خارش کرنے سے پرہیز کریں۔ عوامی مقامات پر ایک سائیڈ پہ ہوکے اطمینان کرلیں۔

● اپنے ناخن مناسب وقت پر کاٹیں اور ان میں پھنسی ہوئی میل کچیل نکالتے رہیں یہ حفظان صحت کےلئے بھی ضروری ہےاور اپنی شخصیت کا تاثر قائم رکھنے کے لئے بھی اہم ہے۔

● دوستوں کی کال کا لازمی جواب دیں چاہے وہ بے وقت ہی کیوں نہ ہو۔۔اپنی مصروفیت بتاکر معذرت کرسکتے ہیں لیکن دوست بناکر یا تعلق رکھ کر نظر انداز کرنا تکبر کی نشانی ہے۔۔۔ یاد رکھیں وہ اس تحقیر کا آپ سے بدلہ ضرور لے گا۔۔طریقۂ انتقام مختلف ہوسکتا ہے۔۔

● خریداری سے قبل دوست کو مشورہ ضرور دیں لیکن ضد کرکے اپنا مشورہ نہ منوائیں۔۔ خریداری کے بعد منفی کمنٹس کرکے ان کے چوائس پر اعتراض سے پرھیز کریں۔۔۔
یہ ہدایات معاشرتی اصلاح کی نیت سے شیئر کی جا رہی ہیں خود عمل کرکے اپنے بچوں اور سٹوڈنٹس کے ساتھ شئیر کریں۔۔۔اللہ ہمیں اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ سے تبدیلی کا آغاز کرنے کی توفیق دے۔۔شکریہ۔

01/07/2024

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ خدا کی قسم! تم ضرور نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا اور تم ضرور ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ لینا اورا سے ضرور حق پر عمل کے لئے مجبور کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل بھی ایک جیسے کر دے گا پھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی گئی۔ (ابو داؤد، اول کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴ / ۱۶۳
اب سوال پیدا ھوتا ھے کہ
نمںبر 1 کیا ھم نیکی کی دعوت دیتے ھیں؟
نمبر 2 اس میں تاقید زیادہ ظلم کرنے والے کے ھاتھ پکڑ لینا اور اسے حق پر عمل کے لئے مجںور کرنا حکم کے معاملے میں ھے
نیکی کی دعوت سے بھی زیادہ ضور ظالم کو ظلم سے روکنا ھے کیا منحاس القوم ھم ایسا کرتے کیا ھمارے سامنے کسی کے ساتھ کوئی ادارہ یا کو ئی وڈیرہ ظلم کرتا تو کیا ھم اس سے ڈر کر خاموش نہیں ھو جاتے کیا یہ خوف کے بت نہیں ۔
اللہ پاک ھمیں حق سچ کا ساتھ دینے اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

01/07/2024

ہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ ساٸنس پہلے سوچتی ہے ہم بعد میں اسے follow کرتے ہیں but i am tryin to do this کہ میں ساٸنس سے دس سال آگے سوچتا ہوں اس کی تصدیق اب ہو رہی ہے اصولاً یہ credit قرآن کو جانا چاہیۓ مجھے نہیں جانا چاہٸے but i am trying to say کہ قرآن کتاب حیات ختم کرچکا ہے وہ تو قیامت بھیج چکا ہے اس نے آپ کو علامات بتادی ہیں کہ ایسے ہوگا ایسے ہوگا ایک جملہ خدا نے بولا ہے وہ دیکھنے میں بالکل ایسے ہی آپ نظری طور پہ اس سے گزر جاٶ گے ۔
"اَلَا یَعلَمُ مَن خَلَقَ"۔ الملک
" تمھارا یہ خیال ہے کہ میں تخلیقات سے بے خبر ہوں "
وہ تو یہ کہہ رہا ہے میں اکیسویں صدی کے ساٸنس دان سے بے خبر ہوں؟ میں nano technology سے بے خبر ہوں ؟خدا تمہیں یہ کہنے کی کوشش کررہا ہے کہ میں باخبر ہوں میں تمہیں اس سے آگے کی خبر دے رہا ہوں ۔
"اِذا زُلزِلَتِ الاِرضُ زِلزَالَھَا ۔۔۔۔۔وَاَخرَاجَتِ الاَرضُ اَثقَالَھَا" الزلزلہ
جب زمین بڑے زور سے ہلادی جاۓ گی ۔ اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی ۔
تم میرے سامنے پیش کیۓ جاٶ گے جب کاٸناتِ بالا سے جو main office ہے اس کا جب عرش زمین پہ آۓ گا ۔
"وَاَشرَقَتِ الاَرضُ بِنُورِ رَبِّھا" الزمر
"اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک جاۓ گی"
"لِمِنَ المُلکَ الیَوم " الغافر
"آج کس کی بادشاہی ہے"

از استادِ محترم پروفیسراحمدرفیق اختر

30/06/2024

💢سوال: بہت سی خواتین پردہ کے بارے میں یہ جاننا چاہتی ہیں کہ چہرہ ڈھانپنا ضروری ہے یا نہیں؟

🌺جواب: نہیں! اگر مختصر جواب ہے تو نہیں۔ چہرے کا پردے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ پہچان ہے شناخت ہے اور اس کا Expression ان چیزوں سے ہے جو لباس کے externals کو ظاہر کرتی ہیں۔ چہرہ ڈھانپنا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ بہتر ہے let say کہ جی جب آپ مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور شروع سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ
We make a lot of mistakes by adding a little to it.
ہم خود اپنی طرف سے جیسے ایک مولوی صاحب سے میں نے پوچھا بابِ صلوة میں ایسا کوئی واقعہ یا روایت ملتی ہے کہ نماز کے دوران سر پہ ٹوپی لینا ضروری ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں! مگر رکھ لیں تو بہتر ہے۔ تو میں نے پوچھا رکھ لیں تو بہتر کیوں ہے؟ کون ہے جو تھوڑی سی بہتری سے فائدہ نہیں اٹھاتا؟ تو بہتری کس طرح ہے۔ دراصل ہمارے پاس کوئی ایسی Sanctions موجود نہیں ہوتی مگر فرض کرو میرے باپ نے رکھی، میرے دادا نے رکھی، میرے پیر نے رکھی، میرے مرشد نے رکھی تو میں اپنی روایت پرستی کو مذہب میں ایک دلیل کے طور پر داخل کر لیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ شرع کے معاملے میں بندے کو بے لوث رہنا چاہیے۔ اور اس میں کسی قسم کی ایسی چیز کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ فرض کیجئے اگر مجھے سات نمازیں پڑھنے کا حق حاصل ہے یا نو نمازیں پڑھنے کا حق حاصل ہے تو میرا نہیں خیال کہ اب میں لوگوں کو یہ جاکے بتاؤں کہ عشاء صرف سترہ رکعتوں میں ہوتی ہے۔ نمازوں میں جب آپ نوافل چھوڑ سکتے ہو تو بتاتے ہوئے سترہ نہیں کہنی چاہیں۔ نماز میں جتنی رکعتیں پڑھنا لازمی ہے اتنے ہی بتانی چاہیے۔ لوگوں پر آسانی کرنا علماء کا فرض ہے۔ اگر علماء ہی انہیں اتنی کثرت سے تاکید کریں گے اور ان سے کچھ Extraordinary فرمائشیں کریں گے تو پھر لوگ بھاگ جاتے ہیں۔ حضور گرامیٔ مرتبتﷺ نے بڑی وضاحت سے ان اصحاب کو ڈانٹا ہے۔ جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہا کو اس بات پہ ڈانٹا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ لوگ اللہ کے دین سے نکل جائیں۔ تم اتنی لمبی قرات کیوں کر رہے ہو۔ تمھیں نہیں پتہ کہ نماز میں چھوٹے بچے اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مذہب کا بھی تو کوئی وقت ہوتا ہے۔ تم ہر وقت مذہب کی بات نہ کیا کرو اور لوگوں کو پریشان نہ کیا کرو۔ جب لوگوں کو تیار پاؤ خدا کی بات سننے کے لیے پھر خدا کی بات کیا کرو۔ تو i think Prophet (PBUH) knew the psychology جیسے کسی کام کسی فریضے کی اہمیت اور اس کے انداز کی اہمیت ہمیں پتا ہوتی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ شاید دنیا میں سب سے بہتر یہ جانتے تھے کہ تبلیغ کا بہترین وقت کیا ہے؟ کہنا کب ہے، کیسے کہنا ہے، کس کو کہنا ہے، کتنا اس میں ٹائم لینا ہے، کس کو کتنی رخصت دینی ہے۔ اور یہی بات، جب یہ Technology of Prophet (PBUH) ختم ہو گئی۔ اللہ کے رسول ﷺ جیسی ذہانت تو اور لوگوں میں نہیں تھی۔ اس لئے بعض اوقات ہمیں مذہب کی کچھ جو مخصوص بندشیں ہیں اگرچہ اسلامی نہیں ہیں پھر بھی ہمیں ان کا احساس رہتا ہے۔

بنیادی انحراف
منقول

13/06/2024

ہر تالے کی چابی الگ ہوتی ہے۔۔۔
"ڈیپریشن دراصل اور کچھ نہیں بس 'ایمان کی کمزوری' کی نشانی ہے "
یہ وہ جملہ تھا جس نے دل و دماغ میں غدر مچا دیا۔۔۔
سارا وقت دماغ میں "ایمان کی کمزوری" ہی کنڈلی مارے بیٹھا رہا۔۔۔
کچھ لفظ کیسے وجود ہلا دینے والے ہوتے ہیں ناں۔۔۔۔!
دل کیا۔۔۔ اس کمنٹ کا جواب دوں۔۔۔کہ
لوگو۔۔۔!
ہتھ ہولا رکھا کرو۔۔۔
اتنے بڑے بڑے جملے۔۔۔
اتنے سفاک۔۔۔
جس چیز سے کبھی گزرے نہ ہوں اسکے بارے میں اتنے بڑے بڑے جملے نہیں بولا کرتے۔۔۔
جانے ان 'کمزور ایمان' والوں میں سے کتنے ہوں گے
جنہوں نے ڈیپریشن کی انتہاوں میں کہ جب لفظ بھی گم ہو جاتے ہوں گے۔۔۔کہ جب چند لفظ بولنے پر بھی تھکن سے ہانپتے ہوں گے۔۔۔
انکی خالی آنکھوں نے حسرت سے آسمان کو کتنے لمحے تکا ہو گا۔۔۔
اللہ آپ تو سب جانتے ہیں ناں۔۔۔ ان خالی آنکھوں کے سوال اللہ نے دیکھے ہوں گے۔۔
کتنے ہی ہوں گے۔۔۔
جہنوں نے کئ کئ گھنٹے سجدے کی حالت میں گزارے ہوں گے۔۔۔ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے۔۔۔۔ اللہ مجھے بھی ان اندھیروں سے نکال۔۔ جسطرح تو نے اپنے نبی یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا۔۔۔ مجھے بچا لے۔۔۔ سکینت دے دے۔۔۔ کی گردان کرتے ہوئے۔۔۔
اور آپ کو کیا پتہ۔۔۔ انہیں میں سے کسی 'کمزور ایمان' والے نے استغفار۔۔۔ آیت کریمہ کی تسبیحات سانسوں کے آنے جانے کی طرح کی ہوں گی۔۔۔
ہر panic attack پر جائے نماز کی طرف لپکتا ہو گا۔۔۔ اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کے لئیے۔۔۔۔
کئ کئ گھنٹے قرآن کی تلاوت کی ہو گی۔۔۔ دل کی ویرانی ختم کرنے کے لئیے۔۔۔
کئ کئ دن مسلسل آنسووں سے اللہ سے فریاد کی ہو گی کہ بس آپ میرے سے نظر مت ہٹائیے گا۔۔۔ بس میرے ساتھ رہئیے گا۔۔۔ اپنے ہونے کا احساس بس رکھئیے گا۔۔۔
اللہ کو اسکا امتحان شائد اسطرح ہی مقصود ہو گا۔۔۔
اس امتحان کی وجہ سے ہی سہی۔۔۔ اللہ کو اسکا یوں بھاگ بھاگ کے اپنی طرف آنا جانے کتنا پسند ہو گا۔۔۔ چاہے رونے کے لئیے ہی سہی۔۔۔
وہ اگر غلطی سے کبھی کسی کو کچھ بتا بھی بیٹھے۔ اس آس میں کہ شائد کوئ 'سننے' والا مل جائے
تو اسکو آپکا طنزیہ اور افسوس بھرے انداز میں کیا جانے والا سوال کہ
"ابھی تک اس غم سے نہیں نکلے۔۔۔۔؟؟؟ اس بیماری سے نہیں نکل سکے۔۔۔؟؟؟"
کتنے ہی خولوں میں سمیٹ جاتا ہو گا
اور اگلی دفعہ آپ سے تو کیا، کسی سے بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں پائے گا کہ آپ تو فٹ فتوٰی جڑ دیں گے: " اصل میں تم خود ہی اس بیماری سے نہیں نکلنا چاہتے"
اور بہت سوں کو تو پھر مر جانا آسان لگتا ہو گا۔۔۔ ایک تو درد کی انتہائیں۔۔ اور اوپر سے کوئ ہاتھ بڑھا کر مدد کرنے والا بھی جب دور دور تک کوئ نہ دکھے۔۔۔۔۔
کیا کبھی آپ نے کسی کینسر کے مریض سے کہا کہ تم اس لئیے اس بیماری سے نہیں نکل پا ریے کہ اصل میں تم خود ہی ٹھیک ہونا نہیں چاہتے۔۔۔؟
تمہارا تو دراصل ایمان ہی کمزور ہے۔۔
جن کا ایمان اللہ پہ مضبوط ہو وہ کینسر میں مبتلا نہیں ہوتے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
تو میرے پیارے لوگو۔۔۔۔!!!
یقین کیجئیے۔۔۔
جسطرح ہر تالے کی چابی الگ ہوتی ہے۔۔اسطرح ہر دل الگ ہوتا ہے۔۔۔
اور ہر دل کو آزمانے کے۔۔۔ امتحان لینے کے اللہ کے طریقے الگ۔۔۔
ہر ایک کا پرچہ الگ۔۔۔۔
ایمان کی کمزوری، ناشکراپن، اور اللہ سے دوری کا ٹیگ لگانے سے پہلے
بس یہ دیکھ لیا کریں کہ
اردگرد ماحول کتنا اور کس حد تک غیر فطری ہے۔۔ جب کبھی آپ کے نظامِ تعلیم نے غم کو برتنے کا۔۔۔ ٹراما سے گزرنے کا طریقہ ہی نہ سکھایا ہو۔۔
جہاں اداسی، ڈیپریشن، غم اور anxiety جیسے ایموشنز پر جی بھر کر شرمندہ کیا جاتا ہو۔۔
وہاں انسانوں کا mental health issues کا شکار ہو جانا کوئ ایسی انہونی بات تو نہیں۔۔۔
منقول

27/05/2024

اگر یہ خبر درست یے تو سوچو ہمارا اللہ ہی حافظ یے
‏انگلینڈ میں مقیم چند پاکستانی پیر صاحبان کی معلوم دولت کا تخمینہ ( آف شور دولت اور ٹرسٹ اس میں شامل نہیں )

نمبر 1۔ صوفی جنید نقشبندی Grandson صوفی عبداللہ نقشبندی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ گھمکول شریف ، برمنگھم 132 ملین پاؤنڈ۔ پاکستانی 290 ارب تقریباً.

‏نمبر 2۔ پیر سلطان نیاز الحسن باہو ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم۔ 80 ملین پاؤنڈ ، 176 ارب روپے تقریباً

نمبر 3۔ پیر سلطان فیاض الحسن باہو ، اسسٹنٹ سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم 83 ملین پاؤنڈ ، 183 ارب روپے تقریباً

‏نمبر 4۔ پیر نورالعارفین صدیقی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ نیریاں شریف ، برمنگھم ، 77 ملین پاؤنڈ ، 170 ارب روپے تقریباً

نمبر 5۔ پیرزادہ امداد حسین ، مہتمم جامعہ الکرم نوٹنگھم ، 76 ملین پاؤنڈ ، 168 ارب روپے تقریباً

‏نمبر 6۔ پیر معروف حسین شاہ نوشاہی ، آستانۂ عالیہ نوشاہیہ بریڈفورڈ ، 68 ملین پاؤنڈ ، 150 ارب روپے تقریباً

نمبر 7۔ پیر سید عبدالقادر جیلانی سابق خطیب ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی ، مہتمم دارالعلوم قادریہ جیلانیہ لندن ، 62 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 139 ارب روپے تقریباً

‏مبر 8۔ پیر منور حسین جماعتی سجادہ نشین آستانۂ علیہ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ برمنگھم ، 60 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 134 ارب روپے تقریباً

نمبر 9۔ پیر حبیب الرحمن محبوب ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ ڈھانگری شریف ، بریڈفورڈ ، 32 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 71 ارب روپے تقریباً

‏نمبر 10۔ پیرعرفان مشہدی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بکھی شریف بریڈفورڈ ، پیر عرفان شاہ صاحب ان پیروں میں سب سے غریب ترین پیر ہیں کیونکہ ان کی دولت 2 ملین پاؤنڈ یعنی پاکستانی صرف 44 کروڑ روپے ہے۔

مندرجہ بالا تمام دس پیر صاحبان کا تعلق پاکستان و آزاد کشمیر سے ہے۔ جو برٹش ‏نیشنیلٹی ہولڈر اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔

طاہر القادری سمیت وہ تمام پیر صاحبان جنہوں نے اپنی دولت ٹرسٹ ( این جی اوز ) کے پردے میں چھپائی ہوئی ہے۔ وہ اس لسٹ میں شامل نہیں۔

نیز پاکستان میں مقیم جو پیر صاحبان سالانہ یہاں سے اربوں روپے کے نذرانے بٹورنے کے لیے تشریف لاتے ہیں وہ ‏بھی اس لسٹ میں شامل نہیں۔

مندرجہ بالا دس پیر صاحبان کی اجتماعی دولت سے کئی گنا زیادہ دولت کے مالک “ پیر ہاشم الگیلانی البغدادی “ ہیں ، جو آستانۂ عالیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح بغداد کے گدی نشین ہیں ، یہ پیر صاحب بھی برٹش نیشنلیٹی ‏ہولڈر اور مقیمِ برطانیہ ہیں۔ جیسے پاکستانی نژاد برطانوی پیر کبھی کبھی پاکستان دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں ،اسی طرح یہ بھی کبھی کبھی بغداد کے دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں۔

10/09/2023

‏‎‎یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا

اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے

کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے

تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے

کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ

اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت

اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ

Address

Pak Sir Zameen
Lahore
566

Telephone

03009431857

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اچھے لوگوں کی اچھی نصیحتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to اچھے لوگوں کی اچھی نصیحتیں:

Share