Look here everything

Look here everything All kinds of informative videos and information are provided on this page

10/05/2026

゚viralシfypシ゚ #

ایک لڑکا شہر میں پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا 😄تو گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوال کیا:"پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟"لڑکا بو...
10/05/2026

ایک لڑکا شہر میں پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا 😄

تو گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوال کیا:
"پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟"

لڑکا بولا:
"چوہدری صاحب، پڑھنے لکھنے سے 'لوجکس' کلیر ہو جاتی ہیں۔"

چوہدری:
"یہ 'لوجکس' کیا ہوتی ہیں؟"

لڑکا:
"'لوجکس' منطق کو کہتے ہیں۔"

چوہدری:
"یہ منطق کیا بلا ہے؟" 🤔

لڑکا بولا:
"میں سمجھاتا ہوں آپ کو..."

یہ کہہ کر اس نے پوچھا:
"چوہدری صاحب، آپ کے گھر میں کتا ہے؟" 🐕

چوہدری:
"ہاں، کتا تو ہے۔"

لڑکا:
"اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا؟
(جس کی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہوا ہے)"

چوہدری:
"ہاں، گھر بھی بڑا ہے۔"

لڑکا:
"پھر آپ کے ہاں نوکر چاکر بھی کافی ہوں گے؟
(بڑے گھر کی دیکھ بھال کے لیے)"

چوہدری:
"ہاں جی، نوکر بھی کافی سارے ہیں۔"

لڑکا:
"اس کا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہوگی؟"

چوہدری:
"بالکل، آمدنی بھی اچھی خاصی ہے۔"

لڑکا:
"اس کا مطلب آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ❤️
اور وہ قبول بھی ہوئیں…
یعنی آپ کی ماں ایک نیک عورت تھیں۔"

چوہدری:
"بس… بس… اب میں سمجھ گیا کہ پڑھنے لکھنے سے 'لوجکس' کیسے کلیر ہوتی ہیں!" 😌

اگلے دن…

شیدا چوہدری صاحب کی ٹانگیں دباتے ہوئے بولا:
"چوہدری صاحب! یہ جو لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر آیا ہے،
اس کو پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہوا؟"

چوہدری:
"شیدے! پڑھنے لکھنے سے 'لوجکس' کلیر ہو جاتی ہیں۔"

شیدا:
"چوہدری صاحب! یہ 'لوجکس' کیا ہوتی ہیں؟"

چوہدری:
"'لوجکس' منطق کو کہتے ہیں۔"

شیدا:
"بھلا منطق کیا چیز ہے؟"

چوہدری:
"میں سمجھاتا ہوں تم کو…"

"کیا تمہارے گھر میں کتا ہے؟"

شیدا:
"نہیں چوہدری صاحب! میرے گھر میں کتا نہیں ہے۔"

چوہدری:
"اس کا مطلب تمہاری ماں کوئی نیک عورت نہیں تھی!"

🤣🤣🤣🤣🤣🤣

Page Follow Like Share Tag Comment

Apki zaban yani language mein isay Kya kehty hain       ゚viralシfypシ゚
24/04/2026

Apki zaban yani language mein isay Kya kehty hain
゚viralシfypシ゚

سہاگ رات کا زہر: جب نیم حکیمی جنازہ بن جائے19 اپریل کو چوک اعظم کے وارڈ نمبر 7 میں شہنائیاں گونج رہی تھیں۔ محمد عمران چو...
23/04/2026

سہاگ رات کا زہر: جب نیم حکیمی جنازہ بن جائے

19 اپریل کو چوک اعظم کے وارڈ نمبر 7 میں شہنائیاں گونج رہی تھیں۔ محمد عمران چوہان الیکٹریشن، دولہا بنے بیٹھے تھے۔ 20 اپریل کو ولیمہ تھا۔ اسی دن جنازہ اٹھ گیا۔

وجہ؟ ایک پڑیا۔ ایک کیپسول۔ ایک "کشتہ" جو نیم حکیم نے طاقت کے نام پر پکڑایا تھا۔

سہاگ رات کو نئی زندگی کی شروعات سمجھا جاتا ہے۔ عمران کے لیے وہ زندگی کی آخری رات بن گئی۔ مقامی پنسار سٹور سے لیا گیا کشتہ پیٹ میں جاتے ہی زہر بن گیا۔ گردے بند، جسم نیلا، ہسپتال کے ڈاکٹر سر پکڑ کر رہ گئے۔ بھرپور کوشش کے باوجود 24 گھنٹے میں سانس کی ڈور ٹوٹ گئی۔

یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ قتل تھا — جہالت کا، لالچ کا، اور ہمارے سماجی دباؤ کا۔

کشتہ: سونا یا سیسہ؟
اصل کشتہ یونانی و آیورویدک طب کا پیچیدہ ترین عمل ہے۔ دھات کو 40 دن آگ میں جلانا، مصفیٰ کرنا، بار بار کشتہ کرنا، پھر لیبارٹری ٹیسٹ۔ مقصد: دھات کو جسمانی نظام کے لیے قابلِ ہضم بنانا۔

نیم حکیم کیا کرتا ہے؟ بازار سے 10 روپے کا سنکھیا، ہڑتال، یا پارہ لایا، توے پر 2 گھنٹے جلایا، راکھ کو کیپسول میں بھرا، اوپر "شاہی طاقت کورس" کا لیبل لگا دیا۔ اندر سیسہ، پارہ، آرسینک ویسے کا ویسا موجود۔ ایک خوراک میں 500 گنا زہریلی مقدار۔

جدید میڈیکل سائنس اسے Acute Heavy Metal Poisoning کہتی ہے۔ گردے پہلے گھنٹے میں جواب دے جاتے ہیں۔ جگر گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب۔ موت خاموشی سے، تکلیف سے، آتی ہے۔

قاتل کون؟ صرف نیم حکیم نہیں
1 وہ دوست جس نے شادی سے پہلے ہنستے ہوئے کہا: "کچھ لے لینا یار، پہلی رات ہے"۔
2. وہ پنسار جس نے 200 روپے کے لیے زہر کا کیپسول بیچ دیا اور پوچھا تک نہیں کہ کس مرض کے لیے ہے۔
3. وہ معاشرہجس نے مرد کو سکھایا کہ بستر مردانگی کا میدانِ جنگ ہے، اور کمزوری موت سے بدتر ہے۔
4. جس کا ڈرگ انسپکٹر صرف میڈیکل سٹور کا رجسٹر چیک کرتا ہے، پنسار کی الماریاں کھولنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ڈرگ ایکٹ 1976 موجود ہے، سزا 10 سال ہے، مگر پرچہ کبھی کٹتا نہیں۔

ہر سال کتنے عمران
پنجاب کے ہسپتالوں کے ایم ایل او ریکارڈ اٹھا لیں۔ ہر مہینے 2–3 نوجوان دولہا "نامعلوم زہر خورانی" سے مرتے ہیں۔ والدین شرم سے پوسٹ مارٹم نہیں کراتے۔ "دل کا دورہ" لکھوا کر دفنا دیتے ہیں۔ اس لیے نیم حکیم بچ جاتا ہے، اگلا شکار ڈھونڈنے کے لیے۔

حل کیا ہے؟ تین گولی، تین کام
قانون کی گولی*: ڈی سی لیہ اس پنسار سٹور کو فوراً سیل کرے۔ نیم حکیم پر دفعہ 322 قتلِ خطا نہیں، دفعہ 302 قتلِ عمد کا پرچہ دے۔ کیونکہ زہر جان کر دینا غلطی نہیں، ارادہ ہے۔

شعور کی گولی نکاح کے خطبے میں مولوی صاحب یہ جملہ شامل کریں: "بیٹا، اگر جسمانی مسئلہ ہے تو یورالوجسٹ کے پاس جاؤ۔ کشتہ قبر ہے، علاج نہیں"۔ شرم تب ٹوٹے گی جب مسجد سے آواز آئے گی۔

: پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن پنسار سٹورز کے لیے قانون بنائے۔ کوئی بھی "کشتہ" بغیر ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے نہ بکے۔ خلاف ورزی پر 5 سال قید، ضمانت نہیں۔

*
عمران کی ماں نے ایک دن میں دو جوڑے کپڑے نکالے — ایک سہرے والا، ایک کفن والا۔ اس کے گھر کی دیواریں اب بھی مہندی کی خوشبو اور بین کی چیخ کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔

جب تک ہم "مردانگی" کا معیار بستر سے ناپیں گے، اور "طاقت" پنسار کی پڑیا میں ڈھونڈیں گے، تب تک ہر ولیمے کے بعد کوئی نہ کوئی جنازہ اٹھتا رہے گا۔

کشتے بند کرو۔ نیم حکیم بند کرو۔ یا پھر جنازے گنتے رہو۔
,
, ,

22/04/2026

very funny things question and answers Hahahaa
゚viralシfypシ゚

21/04/2026

very funny things question and answers
゚viralシ

17/04/2026

بندا 100روپے پٹرول ریلیف رجسٹریشن کروانے گیا، وہاں اس بائیک کے 46 Eچلان نکل آئے۔ بائیک تھانے بندکردی گئی۔ سائل کو پیدل گھربھیج دیا گیا




💑 ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ د...
15/04/2026

💑 ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اسے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا، تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے اسے ایک بیٹا دیا، اور وہ اپنی زندگی اسی بیٹے کے ساتھ گزارے گا

جیسے ہی بیٹا بڑا ہوا، اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کے سپرد کر دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا کسی دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا

بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے گھر کا مکمل انتظام اپنی بہو کے سپرد کر دیا۔
بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا دفتر سے آیا۔ وہ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے

کھانا کھانے کے بعد والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا

حیرت انگیز خبر:
کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!" والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟"

بیٹے نے جواب دیا، "بابا، میں آپ کے لیے اپنی ماں کو واپس نہیں لا رہا، نہ ہی اپنی بیوی کے لیے ایک ساس۔ میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا، تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔"

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین ہمارے لیے اے ٹی ایم کارڈز نہیں بلکہ اصل میں ہمارے دلوں کی دولت ہیں۔ وہ ہماری مرضی پر نہیں بلکہ ہم ان کی خدمت اور احترام کے ذریعے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ دنیا کے تمام والدین کو زندہ باد! ہر گھر میں ایسے مثالی رویے اپنائے جانے چاہئیں

بشکریہ اقبال قریشی
۔۔۔597۔۔۔
✍ سͩــⷷیⷱــⷱـــ᩺ـد ثــͬمᷧــͫــͣــ᩺ــر احͩــⷷمͫــͪــⷣــد
سی ای او ۔ لائف لائن مینٹورنگ
(ٹریننگز، ازدواجی اور ذاتی کوچنگ، ریسرچ)
لاہور
13 اپریل, 2026

پروفیشنل سیشن بک کرنے یا مزید تفصیلات کے واٹس ایپ کے لیے رابطہ کیجیے

🙏 تحریمؒ شاہ کی مغفرت اور اعلیٰ درجات کی دعائیں جاری رکھیے
💑خوش گوار ازدواجی زندگی کا حصول💑

لارنس پور ضلع اٹک کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو جی ٹی روڈ کے کنارے آباد ہےکسی زمانے میں یہ پاکستان کا چھوٹا سا برینڈ تھا‘ م...
14/04/2026

لارنس پور ضلع اٹک کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو جی ٹی روڈ کے کنارے آباد ہےکسی زمانے میں یہ پاکستان کا چھوٹا سا برینڈ تھا‘ ملک کی ایک بڑی بزنس فیملی نے 1950ءمیں اٹک کے قریب وولن کپڑے کی مل لگائی‘ دنیا میں گرم کپڑے کی ڈیمانڈ تھی‘ یہ لوگ میدان میں آئے اور چار برسوں میں وول کے میدان میں چھا گئے‘ یہ لوگ پانچ پانچ سال کے لیے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ساری اُون اٹھا لیتے تھے‘ بحری جہازوں میں اُون آتی تھی‘ کپڑا بنتا تھا اور پھر دنیا بھر کی مارکیٹوں میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتا تھا‘ مل سال میں 16 لاکھ میٹر گرم کپڑا بناتی تھی۔

یہ سارا کپڑا باہر چلا جاتا تھا‘ مدر کیئر جیسے برینڈ اپنے سارے وولن ڈریس لارنس پور سے بناتے تھے‘ سیٹھ نیک لوگ تھے‘ یہ ورکروں کا بے تحاشا خیال رکھتے تھے‘ مل میں بارہ سو ملازمین تھے‘ ان کے اہل خانہ ملا کر یہ تعداد پانچ ہزار ہو جاتی تھی‘ مالکان ان پانچ ہزار لوگوں کو 75 پیسے میں روزانہ ناشتہ‘ لنچ‘ ڈنر اور شام کی چائے دیتے تھے‘ کسی گھر میں کھانا نہیں پکتا تھا‘ ملازمین اور ان کے خاندان مل سے کھانا کھاتے اور گھر بھی لے جاتے تھے‘ رمضان میں تمام ملازمین کو افطاری دی جاتی تھی اور ہر عید پر ہر ورکر کو 20 میٹر کپڑا ملتا تھا‘ ملازمین کالونی میں رہتے تھے اور ان کے یوٹیلٹی بلز‘ میڈیکل اور تعلیم سب کمپنی کی ذمہ داری ہوتی تھی‘ لارنس پور کی کریڈیبلٹی کا یہ عالم تھا ان کا کوئی ورکر دنیا کے کسی بھی ملک میں چلا جاتا تھا تو اسے وہاں شہریت اور نوکری مل جاتی تھی لیکن پھر کیا ہوا؟ وہی ہوا جو پاکستان کے تمام نجی اور سرکاری اداروں کے ساتھ ہوا‘ یہ برینڈ تیزی سے بیٹھ گیا
آج حالت یہ ہے کہ ملک کے معاشی حالات،اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور قیمتوں میں اضافے نے لاگت ،منافعے سے زیادہ ہونے کی بدولت لارنس پور کی تمام مشینری بنگلہ دیش منتقل کر دی
اور لانس پور انٹرنیشنل برینڈ جس کی دنیا میں مانگ تھی ختم ہو کر رہ گئی

روس کا ریلوے نظام اور اس کی انوکھی سروس جو دنیا کا سب سے طویل ترین ریلوے سفر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ۔ایک تو ریل کی مخصوص...
13/04/2026

روس کا ریلوے نظام اور اس کی انوکھی سروس جو دنیا کا سب سے طویل ترین ریلوے سفر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ۔
ایک تو ریل کی مخصوص ردھم، اس پہ بلکل ہی انجان سفر ، جو ٹوٹل بارہ دن کا ہے، چھ دن ایک طرف اور چھ دن واپسی کے ۔۔۔،لیکن ظاہر ہے صرف میں ریل میں بیٹھے بیٹھے تو آپ یہ تجربہ حاصل نہی کرسکتے، سوچ کے ہی بور ہوجائے بندہ، مسلسل ایک جگہ بیٹھے اپ چالیس پچاس سے زیادہ ملک و شہر سے گزرو اور ادھر جاناسکو ۔۔۔۔۔۔ فائدہ ایسے سفر کا ۔۔
تو بہتر یہ ہے، تیاری ایسے کی جائے کہ ہر اسٹیشن کی معلومات اور اگلی ریل کی ٹائمنگ معلوم ہو، جہاں اترنا ہو اتر جایا جائے، اگلی ٹرانس سائبرین ریل کا ٹکٹ لے لیا جائے، ایسے ایک طرف کے چھ دن یقیناََ بارہ تیرہ دن ہوسکتے ہیں، لیکن کیا ہرج ہے اس میں بھی، اب بندہ بار بار تو ایسے سفر پہ نہی نکلتا نا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اب تصور کریں، ولاڈو واسٹوک (Vladivostok) کے اسٹیشن پہ کھڑے، ریل کا انتظار کررہے ہیں، جس کا خواب اپ نے نجانے کب دیکھا تھا ۔۔۔ اور فائنلی بیگ ٹکٹس اور چند وسوسوں کے ساتھ اپ دھڑکتے دل کے ہمراہ ایک دلکش وسل سنتے ہیں، جواپنی آغوش میں لیے اپ کو نجانے کتنے شہروں اور دریاؤں کے ساتھ اونچے نیچے پہاڑوں سے چھک چھک کرتی چلے جائےگی
اطلاع کے لیے عرض ہے، فرنگی ٹرین میں بھی، اے سی اور نان اے سی سیٹس ہیں، تین کیٹگری ہیں ۔۔ اے کلاس بی کلاس اور سی کلاس۔۔۔۔ اے کلاس کیبن میں، صرف دو سیٹ ہیں، بی کلاس میں چار، اور سی کلاس میں کیبن نہی پوری بوگی ہے۔۔۔ اپنی جیب کے مطابق بندہ بشر کو خرچ کرنے کی سہولت ہے،
شنید ہے جو پانی کی بوتل 50 روپل میں کسی اسٹیشن پہ ملتی ہے جو 80 روپل کی ٹرین کے اندر دستیاب ہوتی ہے، یعنی کم از کم ہم پاکستانیوں کو فیلنگ شاکڈ نہی ہوگا ۔۔۔۔ کیونکہ ہم ویسے ہی عادی ہیں اس سسٹم کے ۔۔۔ خیر اس نخریلی اور مہنگی حسینہ کا ، پہلا اسٹاپ دس گھنٹے بعد آتا ہے، بےشک آپ منت سماجت کرتے رہو، وہ وقت کی پابند ہے، اپنے راستے سے نہی بھٹکتی، چاہے ہم جیسا بھٹکا انسان ہی اس کا مسافر کیوں نا ہو ۔۔۔ہم لوگ بھٹک کے اسی اسٹیشن اتر سکتے ہیں اور کچھ دن رنگ رلیاں منا کے ۔۔۔ اوہ سوری، میرا مطلب ہے، ایک دو دن گھوم پھر کے دوبارہ صراط مستقیم پہ چڑھ سکتے ہیں ۔۔۔۔
ویسے اس سفر میں دنیا کا سب سے طویل پل بھی ملتا ہے، جو دریائے آمور پہ بنا ہوا ہے، لگ بھگ دو کلو میٹر لمبا ۔۔ اس کے بعد اتنی ہی لمبی سرنگ بھی منتظر ہوتی ہے ۔۔حیرت کا سفر ادھر ہی ختم نہی ہوتا، مشرق سے مغرب تک اس سفر میں مختلف ٹائم زون سے بھی واستہ پڑتا ہے ۔۔۔۔ اندازہ لگائیں زرا، اپ سفر میں مستقل اپنی گھڑی کا وقت بدل رہے ہیں. جبکہ آپ کا سفر جاری ہے ۔ کتنے لوگ کلچر اور ورائٹی ملتی ہے اس ایک سفر کی بدولت ۔۔۔
جھیل بیکل یا بائیکل بھی اس سفر کی کشش ہے، یہ جھیل دنیا کا %22 سے %23 فیصد تازہ صاف پانی رکھتی ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ، 1996 میں یونیسکو نے اس جھیل کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔۔۔۔ اس کے علاوہ ٹرانس سائبیرین ریل سفر کی اہم بات یہ بھی ہے کہ، یہ دو بر اعظموں یورپ اور ایشیا کو آپس میں جوڑتی ہے۔۔ محدود اندازے کے مطابق، اس ریلوے ٹریک کا 19% حصہ یورپ اور 81% حصہ ایشیاء سے گزرتا ہے ۔ٹرانس سائبیرین ٹرین سفر کے دوران " کوہ اورال "سے بھی گزراجاتا ہے ، جو مغربی روس کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔۔۔۔ قازقستان کی شمالی سرحدوں سے شروع ہوکر شمال میں بحر منجمد شمالی کے ساحلوں پر ختم ہوتا ہے، اس سلسلے کو ایشیاء اور یورپ کے درمیان سرحد مانا جاتا ہے، یعنی آپ دو براعظموں سے گزرتے ہیں ۔
یقیناََ یہ ٹریک بنانا آسان تو نہی رہا ہوگا، تاریخ بتاتی ہے۔۔ یہ جو دنیا کا سب سے طویل ریلوے ٹریک ہے، روس کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ 9 ہزار 3 سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئ ہے۔ اسکی ریلوے لائن1891۔۔ 1916 میں تعمیر کی گئی تھی اور ٹریک کے اوپر بجلی کا سسٹم 1929۔۔۔ 2002 میں مکمل ہوا۔۔۔
اب اگر ہم روس کے ریلوے نظام کی بات کریں تو، ادھر ریلوے لا‏‏ئنیں مغرب سے مشرق تک بچھی ہوئ ہیں- ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ کو ملانے والی ریلوے لائن روس کی سب سے پرانی ریلوے لائنوں میں سے ایک ہے- اس کی لمبائ کوئ 700 کلومیٹر ہے۔۔ حال ہی میں اس ریلوے لائن کو جدید ترکیا گیا ہے اور یہ ایک تیزرفتار ریلوے لائن میں تبدیل ہوگئ ہے۔
کچھ تاریخ کی طرف نظر کریں تو، روس میں ریلوے نظام کا آغاز1837 میں ہوا تھا ۔ پہلی ٹرین کا سفر۔۔ چھوٹے انجن اور 8 ڈبوں والی ریل گاڑی پہ مشتمل تھا، اس گاڑی کا پہلا سفر 33 منٹ ریکارڈ پہ ہے۔
کسے معلوم تھا 1837 میں بنانے والا ریلوے سسٹم، کچھ ہی صدی بعد دنیا کا سب سے طویل ریلوے سفر ہونے کا فخر پاسکےگا۔
ہمارے پاس ریلوے کا کوئی مضبوط ڈھانچہ نہی، ورنہ ہم لوگ بھی شاید کچھ پلان کرسکتے، ہنوز دلی دور است ۔۔کم لکھے کو زیادہ جانیں، ہم سب بھگت چکے ہیں اپنے ریلوے نظام
ویسے ہمارے ملک کو چھوڑ کے اگر سرسری سا بھی جائزہ لیا جائے،تو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ایک دنیا ریلوے نظام سے فائدے اٹھارہی ہے، کیونکہ یہ سستا بھی ہے پرلطف بھی ۔ خاص طور پہ مال گاڑیوں کے لیے یہ بہترین ہے ،بھاری سامان، اناج، وغیرہ باسانی شہروں شہروں منتقل ہوتا ہے ۔۔
خیر ابھی صرف روس کی بات کرتے ہیں، ریلوے اس ملک کی بنیادی ٹرانسپورٹ بن چکی ہے، روسی ریلوے لائنوں کی مجموعی لمبائ 86 ہزار کلومیٹر ہے- تقریبا ً 50 فی صد ریلوے لائنوں پر گاڑیاں بجلی سے چلتی ہیں ۔۔ دو تہائ ریلوے لا‏ئنیں روس کے یورپی حصے میں واقع ہیں- یہ ریلوے لائنیز ماسکو سے شروع ہوکر روس کے دیگر علاقوں تک جاتی ہیں-

کسی کواچھا لگے یا برا گورو میں تو جارہاہوں پاکستان بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پنجاب اسمبلی کے رکن  نوجت سنگھ سدھو...
11/04/2026

کسی کواچھا لگے یا برا گورو میں تو جارہاہوں پاکستان بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پنجاب اسمبلی کے رکن نوجت سنگھ سدھو نے میلے میں شرکت کیلئے پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوکہا کہ آئی پی ایل کی کمنٹری چھوڑ کر جارہا ہوں کمنٹری اس سال نہیں تو اگلے سال ہی سہی لیکن پاکستان جانا میرے لیے اب ضروری ہے میرے دادا پاکستان سے تھے اور بیساکھی میلے میں اگر میں شرکت نہ کروں تو یہ میرے لیے افسوناک ہوگا پاکستان میں میرے لیے کیا مسئلہ ہے جو زبان ان کی ہے وہ میری ہے جو وہ کھاتے ہے وہ میں کھاتا ہوں اس لیے میری پتنی بھی دوسری بار میلے میں شرکت کرئے گی میرے ساتھ کسی کو برا لگے یا اچھا حقیقت تو یہی ہے پاکستان کو تو ہم نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ اگر پاکستان کو ہم چھوڑیں گے تو پھر ہم کو گورو نانک بھی چھوڑنا پڑے گا پاکستان آنا جانا ہمیشہ لگا رہے گا آج میں زندہ ہوں جارہا ہوں کل کو میرے اولاد جائیں گے یہ سلسلے کوئی روک نہیں سکتا ہے پاکستان کو میں اپنا چھوٹا بھائی مانتا تھااور مانتا رہوں گا

Address

Lahore
54700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Look here everything posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share