Nizami Alchemy

Nizami Alchemy Hello, I’m Nizami! Purpose of this page is to share the Experience of life and Industry.

07/10/2024

ٹاٹا اسٹیل کے چیئرمین جمشید پور میں ٹاٹا اسٹیل کے عملے کے ساتھ ہفتہ وار میٹنگ کر رہے تھے...
ایک کارکن نے مسئلہ اٹھایا کہ کارکنوں کے لیے ، بیت الخلاء کا معیار اور صفائی بہت خراب ہے جبکہ ایگزیکٹیو ٹوائلٹس کی صفائی ہمیشہ بہت اچھی۔
چیئر مین نے اپنے اعلیٰ ایگزیکٹو سے پوچھا کہ اسے درست کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔؟
ایگزیکٹو نے اسے درست کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگا۔
چیئرمین نے کہا کہ میں یہ کام ایک دن میں کروں گا ٫ مجھے بڑھئی بھیج دیں ۔
اگلے دن جب بڑھئی آیا تو اس نے صرف سائن بورڈز بدلنے کا حکم دیا۔ ورکرز کے ٹوائلٹ پر سائن بورڈ "ایگزیکٹیو" اور ایگزیکٹوز کے ٹوائلٹ پر "مزدور" لکھ دیا گیا.
چیئرمین نے پھر ہدایت کی، اس نشان کو ہر 15دن بعد تبدیل کیاجائے
اگلے تین دن میں دونوں بیت الخلاء کا معیار برابر ہو گیا۔
"قیادت" ایک ایگزیکٹیو ہونے سے کہیں زیادہ اوپر کی چیز ہے.
کچھ ایسی تبدیلیوں کی پاکستان میں بھی ضرورت ہے۔۔۔

کاپیڈ در کاپیڈ پوسٹ

*‏کتے کی گواہی*       *ایک بستی تھی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور**جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے**اسی بستی میں ایک مرد و عو...
06/10/2024

*‏کتے کی گواہی*

*ایک بستی تھی جس کے باسی جھوٹ بولنے اور*

*جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھے*

*اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ نکاح کرلیا تمام تر شرعی احکام بجا لائے گئے سوائے اعلانِ نکاح کے*

*قاضی بھی موجود تھا ،گواہ بھی تھے اور ایجاب و قبول بھی ہوا*

*کچھ عرصے کے بعد میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور ان دونوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا لیکن شوہر نے عورت کو تمام تر شرعی حقوق سے محروم رکھا جس پر عورت نے معاملہ قاضی کی عدالت میں پہونچا کر اپنے حقوق حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو شوہر نے عورت کو سرے سے جاننے سے ہی انکار کردیا*

*جس پر عورت نے کہا کہ میرے نکاح کے گواہ موجود ہیں انہیں طلب کیا جائے*

*گواہوں کو طلب کیا گیا تو گواہوں نے بھی عورت کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا*

*قاضی نے عورت سے کہا تمہارے گھر میں کتے ہیں۔۔؟؟*

*عورت نے اثبات میں سر ہلایا تو قاضی نے کہا۔۔!*

*ھَلْ تَقْبِلِیْنَ بِشَہَادَةِ کِلَابِہِمْ وَحُکْمِہِمْ۔۔؟؟*

*کہ کیا آپ ان کی گواہی اور فیصلے کو قبول کریں گی۔؟؟*

*عورت نے اثبات میں سر ہلایا*

*تو قاضی نے ایک عجیب وغریب فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عورت کو اس کے گھر لے جاؤ* ،

*عورت کو دیکھ کر اگر کتے بھونکنے لگے تو عورت جھوٹی ہے کیوں کہ کتا نامانوس فرد کو دیکھ ہی بھونکتا ہے اگر عورت سچی ہے تو کتے نہیں بھونکیں گے کیوں کہ وہ اس سے مانوس ہوں گے*

*یہ فیصلہ سننا تھا کہ شوہر اور گواہوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بغلیں جھانکنے لگے*

*کیوں کہ ان کی جھوٹی گواہی کی قلعی کھل چکی تھی اور انہوں نے اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلیا*

*اس وقت قاضی نے ایک تاریخی جملہ کہا اگر کسی میں رتی بھر شرم و حیا اور غیرت ہو تو یہ جملہ اس کی زندگی سنوارنے کےلئے کافی ہے اور جن میں رتی بھر بھی نہ ہوں تو پھر وہ جو چاہے کرتا رہے*

*قاضی نے کہا*

*بئس القریٰ اللتی کلابھا اصدق من اہلہا*

*بدترین ہے وہ بستی جس کے کتے وہاں کے باسیوں سے زیادہ سچے ہوں*

(عربی کتاب سے ماخوذ)

29/09/2024

aur kyā dekhne ko baaqī hai

aap se dil lagā ke dekh liyā
فیض احمد فیض

میری بچپن کی عادت ہے میں ذہنی تناؤ یا ٹینشن میں کسی پارک میں چلا جاتا ہوں۔ ایک دو چکر لگاتا ہوں اور پھر کسی بینچ پر چپ چ...
25/09/2024

میری بچپن کی عادت ہے میں ذہنی تناؤ یا ٹینشن میں کسی پارک میں چلا جاتا ہوں۔ ایک دو چکر لگاتا ہوں اور پھر کسی بینچ پر چپ چاپ بیٹھ جاتا ہوں۔ وہ بینچ میری ساری ٹینشن، میری ساری پریشانی چوس لیتا ہے اور میں ایک بار پھر تازہ دم ہو کر گھر واپس آ جاتا ہوں ۔ میں اس دن بھی شدید ٹینشن میں تھا۔ میں نے پارک کا چکر لگایا اور سر جھکا کر بینچ پر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک نیم خواندہ پشتون کسی سائیڈ سے آیا اور بینچ پر میرے ساتھ بیٹھ گیا ۔ اسے شاید بڑبڑانے کی عادت تھی یا پھر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا چنانچہ اس نے مجھے بار بار انگیج کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آٹے کی مہنگائی کا ذکر کرتا تھا، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا رونا روتا تھا اور کبھی لوگوں کے غیر اسلامی لباس پر تبصرے کرتا تھا۔ میں تھوڑی دیر اس کی لغویات سنتا رہا لیکن جب بات حد سے نکل گئی تو میں نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے ۔

اس نے حیرت سے نوٹوں کو دیکھا رہا،اور پھر مسکراتے ہوۓ نوٹ واپس میرے ہاتھ پر رکھتے ہوۓ بولا۔
آپ دوسروں کو بھکاری کیوں سمجھتے ہیں۔ آپ لوگوں کا خیال ہوتا ہے آپ کے ساتھ اگر کوئی غریب شخص بات کر رہا ہے تو اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ آپ سے مدد لینا چاہتا ہے۔
بابو صاحب ! مجھ پر ﷲ کا بڑا کرم ہے۔ چوکی داری کرتا ہوں، روٹی پانی مالک کریم دے دیتا ہے اور میں بس آپ کو پریشان دیکھ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
میرا والد کہتا تھا پریشان آدمی کو حوصلہ دینا بہت بڑی نیکی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں جہاں کسی کو پریشان دیکھتا ہوں میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ہوں مگر آپ نے مجھے بھکاری سمجھ لیا۔"

میری نے شرمسار ہوتے ہوۓ ان سے معافی مانگی ۔ وہ ہنسا اور داڑھی کھجاتے کھجاتے مجھ سے پوچھا۔ "کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟"

میں نے چند لمحوں تک اس سوال پر غور کیا اور پھر جواب دیا۔ "ہاں تین چار ہیں۔
وہ بولا۔ " تم کو پتا ہے آج کل پٹرول کی کیا قیمت ہے؟"
میں نے ہنس کر جواب دیا۔ "مجھے نہیں پتا، ڈرائیور پٹرول ڈلواتا ہے۔"
اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ "اور تم پھر بھی پریشان بیٹھے ہو؟"

میں نے حیرت سے جواب دیا۔
"گاڑی کا پریشانی کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے خان؟"
وہ سنجیدہ ہو کر بولا۔ "بڑا گہرا تعلق ہے۔

کیا مکان تمہارا اپنا ہے۔؟" میں نے جواب دیا۔ "ہاں میرا اپنا ہے بلکہ دو ,تین ہیں۔"
اس نے پھر پوچھا "کیا بیوی بچے بھی ہیں؟"
میں نے فوراً ہاں میں جواب دیا۔

اس نے پوچھا۔ "بچہ لوگ کیا کرتے ہیں؟" میں نے جواب دیا "بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں اور بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔"

اس نے پوچھا " اور کیا تمہاری بیگم صاحبہ کی صحت ٹھیک ہے؟"میں نے فوراً جواب دیا "ہاں الحمد للہ۔ ہم دونوں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ کوئی بیماری و تکلیف نہیں ہے

وہ بولا " کیا خرچہ پورا ہو جاتا ہے؟" میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور جواب دیا "الحمد للہ۔ خرچے کی کبھی تنگی نہیں ہوئی۔"

اس نے قہقہہ لگایا اور میرے بازو پر اپنا کھردرا ہاتھ رکھ کر بولا۔ "اور بابو صاحب آپ اس کے بعد بھی پریشان ہے؟
آپ نے پھر بھی منہ بنا رکھا ہے۔ آپ کو پتا ہے آپ بنی اسرائیل ہو چکے ہیں۔"

میں بے اختیار ہنس پڑا اور پہلی مرتبہ اس کی گفتگو میں دلچسپی لینے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا۔ "میں بنی اسرائیل کیسے ہوگیا اور بنی اسرائیل کیا ہوتا ہے؟"

وہ سنجیدگی سے بولا۔ "آپ اگر قرآن مجید پڑھیں تو اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل سے کہتا ہے
میں نے تمہیں یہ بھی دیا، وہ بھی دیا، ملک بھی دیا، کھیت بھی دیے، دشمنوں سے بھی بچایا، تمہارے لیے آسمان سے کھانا بھی اتارا، باغ اور مکان بھی دیے، عورتیں اور بچے بھی دیے اور غلام اور کنیزیں بھی دیں مگر تم اس کے باوجود ناشکرے ہو گئے۔ تم نے اس کے باوجود میرا احسان نہیں مانا۔

ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں ساری نعمتوں کے بعد بھی جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اس کے احسان یاد نہیں کرتا , اسباب ہونے کے باوجود بھی دوسروں کے لیے باعثِ رحمت نہیں ہوتا اسانیاں تقسیم نہیں کرتا تو وہ بنی اسرائیل ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرح ذلیل کرتا ہے۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون اور امن سے محروم ہو جاتا ہے اور آپ بھی مجھے بنی اسرائیل محسوس ہو رہے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتیں موجود ہیں مگر آپ ان کے باوجود بینچ پر اداس بیٹھے ہیں۔ مجھے آپ پر ترس آ رہا ہے۔"

اب مجھے جھٹکا سا لگا اور میں شرمندگی اور خوف سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

میں اپنے آپ کو پڑھا لکھا اورتجربہ کار سمجھتا تھا۔ بچپن سے اسلامی کتابیں بھی پڑھ رہا ہوں اور عالموں کی صحبت سے بھی لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں لیکن آپ یقین کریں بنی اسرائیل کی یہ تھیوری میرے لیے بالکل نئی تھی۔ میں نے قرآن مجید میں جب بھی بنی اسرائیل کے الفاظ پڑھے مجھے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ ناشکرے اور نافرمان یہودیوں سے مخاطب ہے۔ سورت الماعون کا ترجمہ یاد آگیا کہ ھا جو روزِ جزا کو جھٹلاتا ہے ، یتیم کو دھکے دیتا ہے ، مسکین کو کھانا نہیں دیتا۔ دوسروں کو) معمولی چیز (بھی) دینے سے انکار کرتا ہے۔ یہ انھیں اپنے احسانات یاد کرا رہا ہے لیکن کیا ﷲ تعالیٰ کی نظر میں ہر احسان فراموش بنی اسرائیل ہو سکتا ہے اور کیا قدرت اس کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ وادی سینا اور اسرائیل میں کیا تھا۔؟

یہ بات میرے لیے نئی تھی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اس ان پڑھ پشتون کے ہاتھ کو بوسا دیا اور پارک سے چپ چاپ باہر آ گیا۔

میں پورے راستے ﷲ کی ایک ایک نعمت یاد کرتا رہا، اس کا شکر ادا کرتا رہا اور اپنی آستینوں سے اپنے آنسو صاف کرتا رہا۔ میں کیا تھا اور میرے رب نے مجھے کیا بنا دیا مگر میں اس کے بعد بھی پریشان اور مایوس رہتا ہوں۔ مجھ سے زیادہ بنی اسرائیل کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔!!

منتخب

پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی۔ بادشاہ نے لڑ...
21/09/2024

پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی۔ بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا آخر تم میں ایسا کیا ہے جو سارے بازار سے تمہاری قیمت زیادہ ہے، لڑکی نے کہا؛ بادشاہ سلامت یہ میری ذہانت ہے، جس کی قیمت طلب کی جا رہی ہے۔۔

بادشاہ نے کہا اچھا میں تم سے کچھ سوالات کرتا ہوں
اگر تم نے درست جواب دیے تو تم آزاد ہو نہیں توتمہیں قتل کر دیا جائے گا۔

لڑکی آمادہ ہوگئی تب بادشاہ نے پوچھا؛

سب سے قیمتی لباس کونسا ہے۔؟؟
سب سے بہترین خوشبو کونسی ہے۔؟؟
سب سے لذیذ کھانا کونسا ہے۔؟؟
سب سے نرم بستر کونسا ہے۔؟؟
اور سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے۔؟؟

لڑکی نے اپنے تاجر سے کہا میرا گھوڑا تیار کرو کیونکہ میں آزاد ہونے لگی ہوں۔ پھر پہلے سوال کاجواب دیا۔

سب سے قیمتی لباس کسی غریب کا وہ لباس ہے جس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو، یہ لباس پھر سردی گرمی عید تہوار ہر موقع پر چلتا ہے۔

سب سے خوبصورت خوشبو ماں کی ہوتی ہے بھلے وہ مویشیوں کا گوبر ڈھونے والی مزدور ہی کیوں نہ ہو، اس کی اولاد کیلئے اس کی خوشبو سے بهترین کوئی نہ ہوگی۔

لڑکی نے کہا سب سے بہترین کھانا بھوکے پیٹ کاکھانا ہے۔
بھوک ہو تو سوکھی روٹی بھی لذیذ لگتی ہے۔

دنیا کا نرم ترین بستر بهترین انصاف کرنے والے کاہوتا ہے۔
ظالم کو ململ و کمخواب سے آراستہ بستر پر بھی سکون نہیں ملتا۔

یہ کہہ کر لڑکی گھوڑے پر بیٹھ گئی، بادشاہ جو مبہوت یہ سب سُن رہا تھا اچانک اس نے چونک کر کہا لڑکی تم نے آخری سوال کا جواب نہیں دیا۔۔

سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے۔؟؟

لڑکی نے کہا بادشاہ سلامت دنیا کا سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو، جہاں کوئی غلام نہ ہو اور جہاں کے حکمران ظالم اور جاہل نہ ہوں۔

لڑکی کے اس آخری جواب میں انسانیت کی ساری تاریخ کا قصہ تمام ہوتا ہے۔

سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ...
16/09/2024

سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
‘ آپ غالِب، میر، داغ، جِگر، ساحر , فیض, امرتا پریتم , منیر, جون ایلیا، پروین شاکر، اور دیگر اردو شُعرا کی کتابیں پڑھ لیں، اِنکا کثیر حِصہ وصل و ہجر و فراق، اَن کہے جذبات، حسرتوں، اور پچھتاووں کے موضوعات پر مُشتمل ہو گا (سوائے ساحر و فیض ۔۔۔)۔ ۔ ۔
آپ گُوگل کے اعداد و شُمار کا تجزیہ بھی کر لیں، پاکستان کا شُمار اُن مُمالک میں ہوگا، جہاں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے ۔ ۔ ۔
آپ خیبر سے کراچی تک کا سفر بھی کر لیں، عورت چاہے شٹل کاک بُرقعے میں ہی ملبُوس کیوں نہ گُزر رہی ہو، آس پاس موجود مَرد حضرات اُسے تب تک گُھورتے رہیں گے جب تک وہ گلی کا موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے ۔ ۔ ۔
آپ کِسی سے بھی گُفتگو کر کے دیکھ لیں، ہر دو فقروں کے بعد ماں بہن کے جِنسی اعضا پر مُشتمل گالیاں شامِل ہوں گی۔ آپ مذہبی مُبلغین و عُلما کے بیانات بھی سُن لیں ۔ ۔ ۔
اِن میں بہتر حُوروں کے نشیب و فراز کے سائز پر سیر حاصِل روشنی ڈالی گئی ہوگی۔ آپ پاکستان کے ڈرامے، ناول، ڈائجسٹ، فلمیں بھی دیکھ لیں، یہ عِشق معشوقی، اور لو افئیرز کے اِرد گِرد گھوم رہے ہوں گے ۔ ۔ ۔
آپ ہر روز اخبار بھی پڑھ کر دیکھ لیں، کِسی ن نے م بی بی کے ساتھ یا کِسی ف نے کِسی ش بی بی کے ساتھ زیادتی بھی کی ہوئی ہوگی،
ننھے بچے حتیٰ کہ قبر میں زون کی عزت بھی محفوظ نہیں مِلے گی۔ آپ کو کہیں سائینسی ڈاکومنٹری، مریخ پر زندگی، یا روبوٹس کا تذکرہ نہیں مِلے گا، کوئی نِطشہ، رسل، آئینسٹائین، یا فلسفہ پر گفتگو کرتا نہیں مِلے گا ۔ ۔ ۔

آپ اندازہ کریں کہ قائداعظم پر بننے والی فِلم جِناح ایک برطانیہ کے پروڈکشن ہاوُس نے بنائی، اور صلاح الدین ایوبی پر کِنگڈم آف ہیون نامی فِلم ہالی وُڈ نے بنائی ۔ ۔ ۔
ہمیں توفیق نہ ہوئی کہ کبھی قائداعظم، علامہ اقبال، یہ اپنی تاریخ پر کوئی ایسی فِلم یا ڈاکومنٹری ہی بنا لیں جو ہم فخر سے باہر کی دُنیا کو دیکھنے کیلیے پیش کر سکیں ۔ ۔ ۔
ہم ہالی وُڈ کی فلموں پر تو بین لگا دیتے ہیں، مگر سٹیج ڈراموں کے نام پر مجرے اور کیا کُچھ نہ دِکھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
آپ اندازہ کریں کہ ہم نے صدیوں کے غوروفکر کے بعد اپنی ذریں روایات و اقدار کی بنیاد پر ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں شادی کرنے کیلیے ایک مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے تعلیمی ڈگریوں کے انبار، نوکری، گھر، گاڑی، بینک بیلنس بنائے، تاکہ جب جوانی اختتام پذیر ہو، تب شادی کا سوچے، یعنی اپنی آدھی سے زیادہ عُمر کنوارا گھومتا رہے ۔ ۔ ۔

لڑکیوں پر جہیز کا بوجھ الگ۔ اگر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنسی تسکین ایک بُنیادی اِنسانی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔
اور جب تک انسان کی یہ بنیادی ضروت پوری نہ ہو، انسان دیگر تخلیقی کاموں پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا، ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے، تو ہم یہ حقیقت ماننے سے انکاری کیوں ہیں ؟ ؟ ؟

ہم کب تک نیوٹن، آئینسٹائین، بِل گیٹس کے بجائے شاعر، مجنوں، رانجھا، اور غمزدہ نسلیں پیدا کرتے رہیں گے ؟ ؟ ؟
ہم کب تک زندگی کے چار میں سے دو دن آرزو اور باقی کے دو دن انتظار میں گزارنے پر نوجوانوں کو مجبور کرتے رہیں گے ؟ ؟ ؟
دُنیا کی کون سی سائینس، دُنیا کی کون سی نفسیات، اِس معاشرت کو درُست کہے گی ؟ ؟ ؟
ہم کِس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ ؟ ؟
ہم کِس سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ ؟ ؟
یہ کیسا نظامِ زندگی ہے جہاں بُنیادی اِنسانی ضروریات کے اظہار، اور تکمیل پر پابندی ہے، گھُٹن ہی گھُٹن ہے ؟ ؟ ؟
جب سچائی اور حقیقتوں کے اظہار کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں، تو ہوتا تو تب بھی سب کُچھ ہے، مگر مُنافقت کے پردہ میں،
ہر شخص فرشتہ صفت ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے، اور ڈھونڈنے سے بھی کہیں کوئی اِنسان دِکھائی نہیں دیتا۔
ہمیں ماننا پڑے گا کہ مُنافقت پر مبنی مُعاشرے کََسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کا بیوپار کرتے ہیں، اور خمیازہ بھی پھر خُود ہی بھُگتتے ہیں ۔ ۔ ۔
منٹو بتا گیا تھا ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اپنی خواہشات کے دبانے کو بڑا ثواب تصور کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ ۔
حوالہ متن ۔ اداس نسلیں ( ناول ) از عبد اللہ حسین

"مذہبی لوگ جب دوسروں کے ساتھ بد اخلاقی کرتے ہیں تو وہ شرمندہ یا پشیمان نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی پرورش ہی اس تصور پر ہوئی ...
15/08/2024

"مذہبی لوگ جب دوسروں کے ساتھ بد اخلاقی کرتے ہیں تو وہ شرمندہ یا پشیمان نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی پرورش ہی اس تصور پر ہوئی تھی کہ عبادت گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔"

گستاوف لی بون

انسان کو ان شہروں میں جہاں اس سے محبت کی گئی ہو، جہاں اس نے وقت گزارا ہو، جہاں اس پر مختلف کیفیات گزری ہوں، وہاں اسے دوب...
15/08/2024

انسان کو ان شہروں میں جہاں اس سے محبت کی گئی ہو، جہاں اس نے وقت گزارا ہو، جہاں اس پر مختلف کیفیات گزری ہوں، وہاں اسے دوبارہ نہیں جانا چاہیے۔ کیونکہ لوگ بدل چکے ہوتے ہیں، جا چکے ہوتے ہیں، نئی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہوتی ہیں، شہر وہ نہیں رہتے۔ بہت حماقت ہوتی ہے کہ خوشی کی تلاش میں آپ پھر وہیں جائیں‘

مستنصر حسین تارڑ

20/06/2024
سرائیکی علاقے کا ایک شخص اپنی جُگتوں کی وجہ سے مشہور تھا ساتھ کے لوگ اکثر اسکی غیر سنجیدگی کی وجہ سے اس سے نالاں رہتے تھ...
12/06/2024

سرائیکی علاقے کا ایک شخص اپنی جُگتوں کی وجہ سے مشہور تھا ساتھ کے لوگ اکثر اسکی غیر سنجیدگی کی وجہ سے اس سے نالاں رہتے تھے۔

ایک مرتبہ اپنے مرشد کے پاس بیٹھا تھا کہ نہ جانے سوچ میں کیا آیا، کہنے لگا مُڑ سائیں تُساں جے میں کوں حج تے گَھل دیو تے کیا ہی بات ہو

مرشد نے جواب دیا ول تُؤ اُوتھاں وَنج کے وِی ایہائی کُجھ کریِسیں۔

(یعنی وہ مقام ادب ہے، اور تم وہاں بھی اپنی جُگت لگانے کی عادت سے باز نہیں آؤ گے اور سنجیدگی سے مناسک اور عبادت وغیرہ نہیں کرو گے)۔

اس نے التجا کی مُرشد ،میں اّوس تھاں ایسا کُجھ نہ کریساں میں وِعدہ کرینداں

مرشد نے کہا فیر حلف اٹھا تے میں کوں لکھ کے دے
اس وقت اس شخص سے ایک کاغذ پر حلف نامہ پر دستخط کروائے گئے کہ وہ وہاں صرف عبادت کرے گا سنجیدہ رہے گا اور کوئی فالتو بات نہیں کرے گا کسی پہ فقرہ نہیں کسے گا کسی کو جگت نہیں مارے گا اور حج کرکے واپس آجائے گا۔

اس نے باقی مریدوں کی موجودگی میں حلف نامے پر خوشی خوشی دستخط کر دیے۔

مرشد نے ایک مرید سے کہا کہ اسے قافلے میں شامل کر کے اپنےساتھ حج پہ لے جاؤ اور اس کا خیال رکھنا۔

اب حج ہو گیا سر منڈوانے کی باری آئی تو سر جھکا کے عاجزی سے سر بھی منڈوا لیا طواف وداع کے بعد قافلے نے واپسی کی راہ لی تو وہ بھی سب کے ساتھ واپس ہو لیا۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب حج کا سفر اونٹوں، گدھوں اور خچروں پر طے کیا جاتا تھا واپسی کے سفر پر اب اس کا سر مُنڈا ہوا تھا اور وہ گدھے پر بیٹھا اللہ کریم سے راز و نیاز میں مصروف ہو گیا۔

کہنے لگا اللہ سائیں ساڈے علاقے وچ چور جے پھڑیا ونجے تے اُن دی ٹِنڈ کرا کے کھوتے تے بھاندے نے مولا ہُن ٹِنڈ وی کرا لئی اے تے ول کھوتے تے وی بیٹھ گئے آں جے ہُن وی جاں بخشی نہ ہوئی تے فیر گَل تے نہ بنی نا وہ گدھے پر بیٹھا اپنی دھن میں مست اللہ سے باتیں کرتا چلا جا رہا تھا۔

دور بیٹھے ایک صاحب نظرر بزرگ نے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ قافلے میں یہ شخص کون ہے؟

بتایا یہ فلاں فلاں ہے اور اپنی جملہ بازی اور جگتوں کی وجہ سے بدنام ہے ابھی اس کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ اُن بزرگ نے اسے خاموش کروا دیا۔

کہنے لگے خاموش اسے بلانا مّت وہ تو اس وقت وہاں ہے جہاں ہم بھی نہیں میں دیکھ رہا ہوں وہ اللہ سے قریب ہے وہ مانگ رہا ہے اور اللہ اسے عطا کر رہا ہے وہ ایسے انداز سے مانگ رہا ہےکہ اُسی وقت پا رہا ہے۔

اللہ کو آپ کی کب کون سی ادا بھا جائے یہ آپ بھی نہیں جانتے اس لیے اس سے مانگیں اپنی زبان، اپنے انداز میں وہ سب زبانیں سمجھتا ہے سب انداز ادائیں جانتا ہے۔

ایک دوسرے کو مسلمان کافر کے سرٹیفکیٹ دینا بند کیجئے وہاں سکے نہیں نیتیں چلتی ہیں وہ بخشنے پر آئے تو ایک معمولی شکوے پر بھی بخش دے

10/06/2024

Bad performance of cricket team

Like and follow my page.
08/06/2024

Like and follow my page.

Address

Huma Block, Allama Iqbal Town
Lahore
54570

Telephone

+923367119988

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nizami Alchemy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nizami Alchemy:

Share