Fatima Feroze & Co. Tax & Corporate Consultants

Fatima Feroze & Co. Tax & Corporate Consultants Deals in Income Tax and Sales Tax matters including Registration, E-Filing and software applications

07/09/2022

سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ
آخری تاریخ
30-09-2022

02/09/2022

کن افراد پر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کر وانالازم ہے؟

- تنخواه دار افراد

- کار و باری حضرات

- تمام طرح کی کمپنیاں

- تمام غیر منافع بخش تنظیمیں

- گاڑی کی ملکیت کے حامل افراد

- ٹیکس میں پہلے سے رجسٹر ڈ افراد

- غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کے حامل افراد

- کمرشل یا انڈسٹریل بجلی کے کنکشن کے حامل افراد

- کسی بھی ٹریڈ یا پروفیشنل باڈی سے رجسٹرڈ افراد

- گزشتہ دو سالوں میں ٹیکس جمع کروانے والے افراد

- پاکستان میں رہ کر بیرون ملک میں اثاثہ جات رکھنے والے افراد

- این ٹی این ہولڈرز افراد

- پاکستان میں موجود بیرونی ملک سے آمدن حاصل کرنے والے افراد

https://adilabbasi.com/12013/
15/08/2022

https://adilabbasi.com/12013/

ٹیکس کے قوانین اور ادائیگیوں کے حوالے سے تعمیل قانونی پریشانیوں کو کم کرتی ہے۔ ٹیکس کی منصوبہ بندی سرمایہ کاری کے حوالے سے بہتر فیصلہ سازی میں مدد کرتی ہے۔ یہ آپ کو پی...

05/01/2022

ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ، کاروبار ی آسانی کے فروغ اور تعمیلی لاگت میں تخفیف کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کی مہم کے تسلسل میں،ایف بی آر نے نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن کی تیاری کر کے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ۔ یہ ہر لحاظ سے آٹومیشن، ڈیٹا انٹیگریشن اور ٹیکسوں کی ہم آہنگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن صوبائی حکومتوں اور ان کی متعلقہ ریونیو اتھارٹیز کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد تیار کیا گیا اور اس میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تاثرات کو شامل کیا گیا۔ یہ ڈیجیٹل سہولت ٹیکس جمع کرانے کے طریقہ کار کو آسان بنائے گی جس سے تعمیلی اخراجات کی بچت ہو گی ۔ یہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں کی اہم سفارشات میں سے ایک ہے۔

نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن اعداد و شمار اور حساب کتاب کی غلطیوں جیسے عام مسئلوں کو حل کر کے ڈیٹا کے اندراج کو کم سے کم کر دے گا ۔ یہ نظام اِن پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس اتھارٹیز میں ٹیکس کی ادائیگیوں کی خودکار طریقے سے تقسیم کرے گا، اس طرح جانچ پڑتال اور ادائیگی کی منتقلی کی ضرورت کا خاتمہ ہو گا ۔ اس نظام کے ذریعے تمام ریونیو اتھارٹیز کے افسران ٹیکس دہندگان کے معاملات کے حوالےسے بہتر طور پر باخبر فیصلے کر سکیں گے۔ اس سے ٹیکس اکٹھا کرنے والے بغیر آڈٹ کے ریونیو حصول اورٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے کے قابل ہوں گے۔ اس نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے وفاقی حکومت اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے طریقہ کار، قوانین میں ہم آہنگی اور تشریح کو فروغ ملے گا اور قومی یکجہتی کا عمل یقینی بنے گا ۔

پاکستان میں اشیاء پر سیلز ٹیکس ایف بی آر وصول کرتا ہے جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس چاروں صوبوں میں سے ہر ایک اپنے علاقے میں وصول کرتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خدمات پر سیلز ٹیکس بھی ایف بی آر وصول کرتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی اپنی ٹیکس اتھارٹیز ہیں۔

اس وجہ سے ٹیکس دہندگان کو ہر ماہ الگ الگ سیلز ٹیکس گوشوارے مختلف اتھارٹیز میں جمع کرانے پڑتے تھے جہاں وہ کاروبار کرتے تھے،لہذا انہیں مشکلات کا سامنا تھا اور تعمیلی اخراجات بھی زیادہ تھے۔ مثلاً پورے پاکستان میں کام کرنے والے ٹیلی کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والے کو ہر ماہ ایف بی آر، سندھ ریونیو بورڈ، پنجاب ریونیو اتھارٹی، خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی، بلوچستان ریونیو اتھارٹی، آزاد کشمیر کونسل بورڈ آف ریونیو اور گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی کو گوشوارے جمع کروانے پڑتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی کٹھن اور اکتا دینے والا عمل تھا جس کی وجہ سے اکثر غلطیاں اور تنازعات رونما ہوتے تھے۔

مذکورہ بالا وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سنگ میل اقدام نہ صرف ریونیو پوٹینشل کی بڑھوتری میں معاون ہو گا بلکہ جعلی/فلائنگ انوائسنگ اور سیلز کو مخفی رکھنے کے کلچر کا خاتمہ کرتے ہوئے پورے پاکستان میں ٹیکس تعمیل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔
FBR

27/12/2021
29/12/2020

ضروری اعلان برائے ٹیکس فائلرز
تمام ٹیکس فائلر کو اکتیس دسمبر بیس۔بیس سے قبل اپنا آئرس کا پروفائل اپڈیٹ کرنا ہے، جس میں خصوصوی طور پر اپنا بینک اکاؤنٹ اور اس کا آئی۔بین نمبر بتانا لازم ہے، پروفائل اپڈیٹ نہ کرنے والوں کو اکتیس دسمبر کے بعد ایکٹیو ٹیکس پئیر لسٹ سے ریمووو کر دیا جائے جس میں دوبارہ شامل ہونے کیلئے کمپنیز کو بیس۔ہزار روپے، فرمز کو دس۔ہزار اور عام افراد کو ایک۔ہزار روپیہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

ایکٹیو لسٹ میں شامل نہ ہونے والوں کو جہاں ٹیکس کی چھوٹ ہے وہاں ٹیکس لگنا شروع ہو جائے گا اور جہاں سنگل ٹیکس لگتا ہے وہاں ڈبل ٹیکس لاگو ہو جائے گا لہذا ایکٹیو لسٹ میں رہنا بہت ضروری ہے۔

وہ تمام حضرات جنہوں نے اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کر دیا ہے وہ ایکبار اپنے پروفائل کا جائزہ لے لیں، جو اپنے کنسلٹینٹ یا وکیل سے فائلنگ کراتے ہیں وہ ان سے فوری طور پر کنفرم کر لیں کہ آپ کا پروفائل اپڈیٹ ہو چکا ہے یا نہیں؟

جن حضرات کی ریٹرن ابھی فائل نہیں ہوئی لیکن انہیں تیرہ جنوری تک کی ایکسٹینشن ملی ہوئی ہے وہ بھی اکتیس دسمبر سے قبل اپنا پروفائل لازمی اپڈیٹ کر دیں، ریٹرن بیشک بعد میں جمع کرادیں۔

اس معاملے میں مزید توسیع کا اعلان متوقع ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ اس دس منٹ کے کام کو فوری طور پر مکمل کر لیا جائے۔
۔۔۔

21/12/2020

EDITORIAL: The Federal Board of Revenue’s (FBR’s) directive that taxpayer profiles shall be filed electronically...

17/11/2020

فیڈرل بور ڈ آف ریونیو نے ایک مرتبہ پھر تمام ٹیکس گزاروں کو یاددہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے حتمی تاریخ 8 دسمبر 2020 تک جع کرا لیں کیونکہ اس تاریخ میں مزید توسیع نہیں ھوگی۔ ایف بی آر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کے سیکشن 114 کے تحت و ہ تمام افراد جو 500 مربع گز سے زیادہ کا گھر یا 1000 سی سی یا اس سے زیادہ کی گاڑی رکھتے ہیں وہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایسے افراد جن کاسالانہ کمرشل بجلی کا بل 5 لاکھ سے زائد ہو یا وہ افراد جن کی کاروباری آمدنی ٹیکس سال میں تین لاکھ سے تجاوز کر جائے وہ بھی اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں۔ چھ لاکھ سے زائد آمدنی والے تنخواہ دار افراد کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرائیں۔ ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ سالانہ ٹیکس گوشوارے بروقت جمع نہ کرانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

*Comprehensive video on Foreign Currency Rules 2020*https://youtu.be/Q6lFby879Qw*KARACHI: State Bank of Pakistan (SBP) o...
12/10/2020

*Comprehensive video on Foreign Currency Rules 2020*
https://youtu.be/Q6lFby879Qw

*KARACHI: State Bank of Pakistan (SBP) on Sunday issued Frequently Asked Questions (FAQs) in response to SRO issued by the finance ministry related to foreign currency account rules.*

_Following are the FAQs:_

Question 1. Why there was a need to issue SRO by Ministry of Finance, if there is no change in existing foreign exchange regulations?

Ans. Protection of Economic Reforms Act 1992 (PERA) was amended in 2018. The amendments made in PERA included, inter alia, that federal government may make rules governing deposits into and withdrawals from the foreign currency accounts. The purpose for issuance of these rules is to provide enabling provisions for SBP to issue instructions related to deposits in FCY accounts, including those already in place as well as any that may be issued in future.

In this way, these rules aim to provide a framework for the operation of individual foreign currency accounts. In addition, the rules also formalize the mandate given to SBP to strengthen the foreign exchange regime and to make it easier for the individuals to meet their foreign currency needs through banking channels.


Question 2. Would SBP issue any guidelines for FCY accounts in accordance with the rules to clarify the situation?

Ans. There is no change in State Bank’s existing regulations regarding FCY accounts and these regulations do not conflict with the rules issued by Ministry of Finance.

Question 3. Do the rules have any impact on the newly introduced Roshan Digital Accounts (RDA) for Non-Resident Pakistanis?

Ans. No, RDA is a distinct scheme for Non Resident Pakistanis, offering both FCY and PKR accounts. Funds can be received into these accounts from abroad but they cannot be fed from within Pakistan. Proceeds of investments, profit thereon and any balances in these accounts are freely repatriable without any approval or hindrance. For more details, please refer to:

Address

Multan Road
Lahore
54000

Telephone

03355713957

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fatima Feroze & Co. Tax & Corporate Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fatima Feroze & Co. Tax & Corporate Consultants:

Share