16/05/2026
# تاشقند میں چار دن
ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک خوبصورت اور تاریخی ملک ہے، جو اپنی ثقافت، مہمان نوازی اور دلکش مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ میرا تاشقند کا چار دن کا سفر بھی ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا۔ اس سفر کے دوران مجھے ازبکستان کی خوبصورت سڑکیں، مزیدار کھانے، تاریخی مقامات اور قدرتی مناظر دیکھنے کا موقع ملا۔
# # پہلا دن — تاشقند سے پہلی ملاقات
ہم صبح کے وقت تاشقند پہنچے۔ ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی شہر کی صفائی اور منظم ٹریفک نے بہت متاثر کیا۔ سڑکیں کشادہ اور خوبصورت تھیں، لیکن ایک چیز کافی مختلف لگی کہ وہاں عام طور پر سڑکوں پر یوٹرن نہیں ہوتے۔ اگر کسی جگہ واپس مڑنا ہو تو کافی آگے جا کر مخصوص راستے سے آنا پڑتا ہے۔ شروع میں یہ عجیب لگا مگر بعد میں احساس ہوا کہ اسی وجہ سے ٹریفک کافی منظم رہتی ہے۔
تاشقند میں گھومنے پھرنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ **یاندیکس (Yandex)** ہے۔ ہم نے بھی اسی ایپ کے ذریعے ٹیکسی بک کی۔ کرائے کافی مناسب تھے اور سفر آسان ہوگیا۔
ایک اور بات جو فوراً محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ ازبکستان کے زیادہ تر لوگ انگریزی نہیں سمجھ سکتے۔ زیادہ تر لوگ ازبک یا روسی زبان میں بات کرتے ہیں، اس لیے ابتدا میں بات چیت میں کچھ مشکل پیش آئی، لیکن موبائل ٹرانسلیٹر نے کافی مدد کی۔
ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے وہ بہت شاندار، صاف ستھرا اور آرام دہ تھا۔ ہوٹل کی سروس بھی کافی اچھی تھی، لیکن اسی دوران ہمیں ایک مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ہم جس ہوٹل میں قیام پذیر تھے اس میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہوٹل کے واش رومز میں مسلم شاور موجود نہیں تھے۔ اس وجہ سے ہمیں کافی دشواری محسوس ہوئی، کیونکہ ہم اس سہولت کے عادی ہیں۔ یہ چیز پاکستانی اور دیگر مسلم سیاحوں کے لیے کچھ پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
# # دوسرا دن — بازار، کھانے اور شہر کی رونق
دوسرے دن ہم نے تاشقند کے بازاروں اور مختلف مقامات کی سیر کی۔ بازار بہت صاف ستھرے اور منظم تھے۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ازبکستان میں بہت سی چیزیں کافی سستی ہیں۔ کھانے، پھل، کپڑے اور ٹیکسی کے کرائے پاکستان کے مقابلے میں کم محسوس ہوئے، جس کی وجہ سے خریداری میں کافی مزہ آیا۔
لیکن اس سفر کی سب سے بہترین چیز وہاں کا کھانا تھا۔ ازبکستان کا کھانا واقعی بہت لذیذ ہے، خاص طور پر ان کا مشہور **ازبک پلاؤ**۔ بڑے دیگچوں میں تیار ہونے والا یہ پلاؤ خوشبو، نرم گوشت اور منفرد ذائقے کی وجہ سے دل جیت لیتا ہے۔ ہم نے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں پلاؤ کھایا جو اس سفر کی یادگار ترین چیزوں میں سے ایک بن گیا۔
شام کے وقت ہم نے **میجک سٹی (Magic City)** کا رخ کیا۔ یہ جگہ روشنیوں، خوبصورت عمارتوں اور فیملی انٹرٹینمنٹ کی وجہ سے بہت دلکش محسوس ہوئی۔ رات کے وقت وہاں کا ماحول کسی فلمی منظر جیسا لگ رہا تھا۔ ہر طرف رنگ برنگی روشنیاں اور خوشگوار ماحول تھا، جہاں بچے اور بڑے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔
# # تیسرا دن — تاریخ اور خوبصورت شام
تیسرے دن ہم نے شہر کے تاریخی اور تفریحی مقامات دیکھے، جن میں **امیر تیمور پارک (Amir Temur Park)** خاص طور پر قابلِ ذکر تھا۔ پارک کے درمیان امیر تیمور کا مجسمہ موجود ہے جبکہ اردگرد سرسبز درخت، خوبصورت راستے اور پرسکون ماحول انسان کو دیر تک وہاں بیٹھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ شام کے وقت پارک کی خوبصورتی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہم نے شہر کی مختلف سڑکوں اور مقامی بازاروں کا بھی دورہ کیا۔ تاشقند کا ماحول بہت پرسکون محسوس ہوا۔ لوگ خوش اخلاق اور مددگار تھے۔ اگرچہ زبان کا فرق موجود تھا، لیکن ان کے رویے میں خلوص نمایاں تھا۔
# # چوتھا دن — چمگان ماؤنٹین اور امیرسائے ریزورٹ
چوتھے دن کا سفر سب سے زیادہ خوبصورت اور یادگار ثابت ہوا۔ ہم صبح سویرے **چمگان ماؤنٹین (Chimgan Mountains)** اور **امیرسائے ریزورٹ (Amirsoy Resort)** کی طرف روانہ ہوئے۔ تاشقند سے باہر نکلتے ہی شہر کا شور پیچھے رہ گیا اور قدرت کے حسین مناظر سامنے آنے لگے۔ راستے میں سبز پہاڑ، صاف آسمان اور ٹھنڈی ہوائیں سفر کو مزید خوشگوار بنا رہی تھیں۔
چمگان ماؤنٹین پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے انسان قدرت کی اصل خوبصورتی کے بہت قریب آگیا ہو۔ بلند پہاڑ، ٹھنڈی ہوا اور خاموش ماحول دل کو عجیب سکون دے رہے تھے۔
اس کے بعد ہم امیرسائے ریزورٹ پہنچے، جو ازبکستان کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں کی کیبل کار رائیڈ اس سفر کا سب سے دلچسپ حصہ تھی۔ اوپر جاتے ہوئے پورے پہاڑی علاقے کا منظر انتہائی دلکش دکھائی دیتا تھا۔ ہر طرف سبز پہاڑ اور قدرتی حسن بکھرا ہوا تھا۔ وہاں موجود کیفے میں بیٹھ کر گرم کافی پینا ایک الگ ہی احساس تھا۔
شام کے وقت جب ہم واپس تاشقند لوٹے تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ چار دن پل بھر میں گزر گئے ہوں۔
# # اختتام
ازبکستان کا یہ سفر میرے لیے ایک خوبصورت یاد بن گیا۔ تاشقند کی صاف سڑکیں، سستی چیزیں، مزیدار کھانے، خاص طور پر ازبک پلاؤ، اور چمگان و امیرسائے کی قدرتی خوبصورتی ہمیشہ یاد رہے گی۔ اگرچہ زبان کا فرق اور بعض سہولیات کی کمی کچھ مشکلات کا باعث بنی، لیکن مجموعی طور پر یہ سفر نہایت شاندار اور یادگار رہا۔