28/05/2026
بیٹیوں کے نصیب کے لئے دعا میں صرف اچھا مرد مانگنا چھوڑ دیں ۔
اچھا نصیب صرف اچھا مرد نہیں ہوتا ۔
اب ایسے جملے اور کوٹس بنانا چھوڑ دیں جنکا مقصد صرف عورتوں کو مردوں کے کنٹرول میں رکھنا ہے۔ جیسا کہ بہت سے لوگ اس طرح کی باتوں پر آمین کرتے دیکھے گئے ہیں بلکہ صدق دل سے یقین بھی کرتے ہیں ۔
“آپ بھلے جتنی بھی ذہین ہوں ، پڑھی لکھی ہوں ، قابل ہوں اگر آپکی زندگی میں آنے والا مرد جاہل ہے تو آپ بھی بد نصیب ہیں ”
مطلب بھیا عورت نہ ہوگئی گائے بھینس بکری ہوگئی جو روٹی پانی سے لے کر اپنی زندگی تک مالک کی محتاج رہے گی ۔
اگر اتنی ہی بات تھی تو عورت کو دفنایا بھی اسکے آدمی کے ساتھ جاتا اور پیدا بھی وہ اسی کے ساتھ ہوتی ۔ عورت یا مرد بطور پارٹنر ایک دوسرے کی زندگی آسان بنانے کو بنائے گئے ہیں ۔ انکا کسی کی قابلیت ، زہانت یا نصیب خراب کرنے سے کوئی تعلق نہیں ۔
اچھا مرد آپکی زندگی کو خوشگوار بنا سکتا ہے اور برا مرد اسے جہنم بنا سکتا ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں ۔ رہی بات نصیب کی تو کون بد نصیب ہے اور کون خوش نصیب ہے یہ رب کی باتیں اسی پر رہنے دیں آپ رب کا قلم اپنے ہاتھ میں لے کر چھرلیاں چھوڑنا بند کر دیں ۔
ایک پڑھی لکھی عورت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ایک جاہل مرد کو اپنی زندگی سے نکال کر آگے بڑھ جائے جسکی اجازت اسے ہر مذہب، قانون اور معاشرہ دیتا ہے ۔ رہی بات کہ طلاق اللّٰہ کے نزدیک کیسا عمل ہے تو یہ فیصلہ بھی آپ اسکو یا اسکے بندے کو کرنے دیں۔ رہنے دیں یہ مورل سکولنگ کے نام پر لوگوں کو ٹاکسک لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا ۔ کہ جی اللّٰہ کے نزدیک طلاق ناپسندیدہ عمل ہے ۔ تو بیٹا یہ بھی پڑھ لینا کہ اللّٰہ کے نزدیک ظلم سہنے کی کیا حثیت ہے اور اسلام کی آیتوں کو اپنی طرف موڑ کر بدعت پیدا کرنے کی کیا سزا ہے ۔
قصّہ مختصر کہ عورت کی کمائی ، اسکی تعلیم ، ایک نعمت ہیں جو اسنے کوشش سے حاصل کی ہیں اور اسکی زہانت اور خوبصورتی خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے ۔اللّٰہ محنتوں کو بد نصیبی میں کبھی نہیں بدلتا اور نہ ہی دی گئی چیزیں کسی کے کہنے میں آ کے واپس لیتا ہے ۔
اسلئے “پڑھی لکھی عورت ایک پاور ہے جسکا نصیب کسی پر ڈیپینڈ نہیں کرتا “ کو تسلیم کریں بجائے ایسی بیوقوفانہ باتوں پر یقین کرنا کے ۔ تا کہ سب ایک پروگریسیو زندگی جِیئیں ۔
خوش رہیں اور خوش رہنے دیں ۔