IKram Ullah Khan

IKram Ullah Khan Stay connected and stay informed with [IKram Ullah Khan] – where technology meets expertise!

"functions of keys in keyboard"Here’s a breakdown of the functions of common keys on a standard keyboard:Alphanumeric Ke...
21/10/2024

"functions of keys in keyboard"

Here’s a breakdown of the functions of common keys on a standard keyboard:

Alphanumeric Keys
These are the letter keys (A-Z), number keys (0-9), and symbols on the keyboard.

A-Z: Inputs corresponding lowercase or uppercase letters (with Shift/Caps Lock).
0-9: Enters numerical digits. Shift + number keys typically gives a symbol (e.g., Shift + 1 = !).
Symbol Keys: Such as @, #, $, %, &, *, (, ), etc., which can be used with or without Shift for various operations.
Modifier Keys
These keys modify the function of other keys when pressed together.

Shift: Capitalizes letters and produces the upper character on number/symbol keys.
Ctrl (Control): Executes shortcuts, e.g., Ctrl + C (copy), Ctrl + V (paste).
Alt: Used in combination with other keys for shortcuts, especially in software.
AltGr: On international keyboards, this is used for additional characters (like € on some keyboards).
Fn (Function Key): Mostly on laptops, it allows access to secondary functions of F1-F12 and other keys (e.g., screen brightness, volume).
Caps Lock: Toggles between uppercase and lowercase for letters.
Function Keys (F1–F12)
These keys perform specific functions, often dependent on the software.

F1: Usually opens Help in many programs.
F2: Often used to rename a file or folder.
F3: Opens a search feature in some applications.
F4: Combined with Alt (Alt + F4) closes the active window.
F5: Refreshes or reloads a page.
F6: Moves the cursor to the address bar in a web browser.
F7-F12: Often software-specific; e.g., F7 might spell check, and F11 toggles full-screen mode in a browser.
Navigation Keys
These control the movement of the cursor and screen.

Arrow Keys (↑, ↓, ←, →): Moves the cursor up, down, left, or right.
Home: Moves the cursor to the beginning of a line or page.
End: Moves the cursor to the end of a line or page.
Page Up (PgUp): Scrolls the page up.
Page Down (PgDn): Scrolls the page down.
Insert (Ins): Toggles between inserting and overwriting text.
Delete (Del): Deletes the character ahead of the cursor or selected items.
Editing Keys
These help in text editing and other operations.

Backspace: Deletes the character behind the cursor.
Enter/Return: Executes commands or moves to a new line in text.
Tab: Moves the cursor or selection forward (e.g., in forms).
Esc (Escape): Cancels an action or closes a menu.
Numeric Keypad
On full-sized keyboards, there's a numeric keypad on the right:

Numbers (0-9): Used for numerical input.
*Mathematical Operators (+, -, , /): Used for calculations.
Num Lock: Enables or disables the number functionality on the keypad.
Special Keys
Windows Key (Win): Opens the Start Menu (on Windows).
Command Key (⌘): Used on macOS for shortcuts (equivalent to Ctrl in Windows).
PrtSc (Print Screen): Captures a screenshot of the screen.
Scroll Lock: Rarely used today, but it originally modified the behavior of arrow keys.
Pause/Break: Used in some older applications to pause ex*****on or for debugging.

Each key can have different roles depending on the operating system or application you're using.

24/09/2024

یہ تحریر دوسرے پیج صفحہ سے منقول ہے ۔
Pakistan's Settalite MM1 is now operational

تحریر شاکر اللہ

پاکستان کی جانب سے 30 مئی 2024 کو ایک 5400 کلوگرام وزنی سٹیلائٹ سپیس میں بھیجا گیا تھا۔

Benifits of sending MM1 settalite to Space:
یہ سٹیلائٹ بھیجنے کا فائدہ کیا ہے؟

دور جدید میں آپ جو موبائل-ٹی وی-جی پی ایس سسٹم-لائیو براڈکاسٹنگ وغیرہ دیکھنے کے قابل بنے ہیں یہ سب انہی سٹیلائٹس کا ہی تو کمال ہے ۔

چلیں اس وقت MM1 settalite کے فائدوں کی بات کرتے ہیں۔
پاکستان منسٹر آف انفارمییشن ٹیکنالوجی "شازیہ فاطمہ خواجہ" PAKSAT-MM1 Satellite Application conference میں بتاتی ہیں کہ پاکستان کی ترقی کیلئے ہم نے ایڈوانس سپیس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا کیونکہ اس دور میں یہی اعلی درجے کی ٹیکنالوجی ہمیں ترقی کرنا سکھائے گی۔

Pakset-MM1
ہماری مواصلاتی ٹیکنالوجی (communication technology) کو بہت آگے لیکر جائے گی اور اسے زیادہ بہتری سے اور زیادہ آسانی سے عام لوگوں تک دستیاب کرے گی۔

اس سٹیلائٹ کا یہ فائدہ ہوگا کہ یہ ہمارے ریموٹ ٹیسٹینگ علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر اور آسان سہولت مہیا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی جس سے ایک ڈیجیٹل روشن پاکستان وجود میں آئے گا۔

ریموٹ ٹیسٹینگ علاقے کیا ہیں؟
ریموٹ ٹیسٹینگ علاقے وہ علاقے ہوتے ہیں جو کہ جیوگرافکلی بڑے شہروں Urban Areas سے دور ہوتے ہیں جہاں ہر سہولت میسر نہیں ہوتی ہے اور یا ان تک محدود کنیکشن ہی ممکن ہوتے ہیں یا ان تک رسائی آسانی سے نہیں ہوپاتی، مثلا پہاڑی علاقے جیسے کوھستان،سندھ اور بلوچستان وغیرہ کے علاقے۔

اسکے دوسرے فائدے کو ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کے حالات کے گیم چینجر کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ یہ Direct to Home services،ٹیکی-کمیونیکیشن-ٹیلی-میڈیسن وغیرہ کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہے۔

لیکن یہ سب چیزیں تو کچھ حد تک پاکستان میں پہلے سے ہی موجود ہیں تو اس نئے سٹیلائیٹ MM1 کی کیا ضرورت ؟
اسکی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اسکی اہم وجہ یہ بھی ہیکہ یہ ریموٹ ٹیسٹینگ ایریاز میں بھی انٹرنیٹ کی آسان اور تیز سہولت کو ممکن بنائے گا۔

اسکا تیسرا فائدہ کافی حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک عام شہری کو broadband مہیا کرے گا۔

یہ broadband ایک قسم کا ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کنیکشن ہے جو کہ آپکو کافی زیادہ تیز انٹرنیٹ کنیکشن (25Mbps) کی سپیڈ مہیا گرے گا جس سے آپ کا ڈیٹا ٹرنسمیشن ریٹ کافی زیادہ بڑھے گا اور آپ پہلے سے تیزی سے ڈاؤنلوڈنگ-اپلوڈینگ وغیرہ کر سکتے ہیں۔

چوتھے فائدے کے طور پر میں کہنا پسند کروں گا یہ آپکو (very small aperture terminal)VSAT مہیا کرے گا
VSAt کیا یے؟
یہ ایک سٹیلائٹ بیسڈ کمیونیکیشن سسٹم ہے جو کہ آپکو تیز اور آسان ٹو وے ڈیٹا کمیونیکیشن،انٹرنیٹ اسیز،اور سیکیور ڈیٹا ٹرنسمیشن میں مدد دے گا۔

اس سٹلائیٹ MM1 میں بہت سارے کمیونیکیشن ایڈوانس آلات لگے ہیں جو کہ کمیونیکیشن کو مزید بہتر بنائے گا۔اسکے اندر
C-band
Ku-band
Ka-band
L-band
لگے ہوئے ہیں جو کہ مختلف فریکوینسیز میں کام کرتے ہیں جیسے۔
C-band
اس مواصلاتی آلے کی فریکوینسی 4-8 GHz
(یہاں پر گیگا ہرٹز مطلب 4 سے 8 ارب بار "الیکٹرو میگنیٹک لہر") اپنی سمت میں تبدیلی لاتی ہے۔
یہ آلہ ٹیلی کمیونیکیشن-براڈکاسٹینگ اور موسمیاتی معلومات فراہم کرتا ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے کم ہی اثر ہوتا ہے۔

Ku-band (12-18 GHz)
یہ آلہ broadband internet,TV communication اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہمی جو موثر بنائے گا۔

Ka-band (26-40 GHz)
یہ مواصلاتی آلہ 5G نیٹورک سپیڈ-HD video transmission -اور ہائی سپیڈ نیکٹ جنریشن سپیڈ مہیا کرے گا۔
L-band (1-GHz)
یہ آلہ GPS-Mobile networks اور Emergency Communication میں مدد دے گا ۔

MM1 settalite کی زندگی:
یہ سٹیلائٹ اگلے 15 سالوں تک مسلسل اپنی سروسز مہیا کرے گا اور تقریبآ سال 2039 تک اپنی زندگی کو پوری کر چکا ہوگا۔
یہ ایک جیوسٹیشنری کمیونیکیشن اور جیو سٹیشنری آربٹ سٹیلائٹ ہے جو کہ اعلی کمیونیکیشن آلات سے لیس ہے۔

جیسے کہ اب پاکستان کا سٹلائیٹ اونچائیوں کو چھو رہا ہے ویسے ہی انشاء اللہ اب پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے۔

یہاں X-Ray، CT-Scan، MRI، اور PET-Scan کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات پیش کی جا رہی ہیں:1. ایکس رے (X-Ray):مقصد: زیادہ ...
17/09/2024

یہاں X-Ray، CT-Scan، MRI، اور PET-Scan کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات پیش کی جا رہی ہیں:

1. ایکس رے (X-Ray):

مقصد: زیادہ تر ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ، نمونیا، دانتوں کے مسائل، اور سینے میں انفیکشن کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امیج: جسم کے مخصوص حصے کی 2D تصویر بناتا ہے جو ہڈیوں اور ٹھوس ڈھانچوں کو ظاہر کرتی ہے۔

تابکاری: کم مقدار میں تابکاری ہوتی ہے لیکن بار بار استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

فائدے:

تیز رفتار اور کم قیمت۔

ہسپتالوں اور کلینکس میں با آسانی دستیاب۔

نقصانات:

نرم ٹشوز (پٹھے، دماغ وغیرہ) کی تفصیلات واضح نہیں ہوتیں۔

---

2. سی ٹی اسکین (CT-Scan):

مقصد: نرم ٹشوز، ہڈیوں، خون کی نالیوں، اور دیگر اندرونی اعضاء کی تفصیلات دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر دماغی چوٹ، فالج، اور کینسر کے مریضوں کے لیے مفید۔

امیج: 3D تصویر فراہم کرتا ہے جس میں جسم کے اندرونی ڈھانچے کی مکمل اور تفصیلی معلومات ہوتی ہیں۔

تابکاری: ایکس رے سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے کم استعمال کی تجویز دی جاتی ہے۔

فائدے:

جسم کے کسی بھی حصے کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔

سنگین چوٹوں کی تشخیص میں مدد کرتا ہے۔

نقصانات:

تابکاری کی بلند سطح۔

تھوڑا مہنگا اور بعض اوقات خاص تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

---

3. ایم آر آئی (MRI):

مقصد: دماغ، ریڑھ کی ہڈی، پٹھے، جوڑوں اور پیٹ کے امراض کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر نرم ٹشوز کی تفصیلات کے لیے بہترین۔

امیج: 3D تصویر بناتا ہے جو نرم ٹشوز کی بہترین وضاحت فراہم کرتا ہے۔

عمل: طاقتور مقناطیس اور ریڈیو لہروں کی مدد سے جسم کے اعضاء کی تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔

تابکاری: تابکاری بالکل نہیں ہوتی۔

فائدے:

نرم ٹشوز جیسے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کی بہت اعلیٰ تفصیلات فراہم کرتا ہے۔

تابکاری کے بغیر محفوظ طریقہ۔

نقصانات:

بہت مہنگا اور زیادہ وقت طلب۔

بعض افراد کو مقناطیسی فیلڈ میں بند ہونے کی وجہ سے گھبراہٹ ہو سکتی ہے۔

---

4. پی ای ٹی اسکین (PET-Scan):

مقصد: جسم میں میٹابولک تبدیلیوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر کینسر کی تشخیص اور اس کے پھیلاؤ کی جانچ کے لیے۔

عمل: مریض کے جسم میں تابکار مادہ (radioactive tracer) داخل کیا جاتا ہے، جو جسم کے میٹابولک ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔

فائدے:

کینسر کے علاج کی کامیابی کی نگرانی میں مدد کرتا ہے۔

کینسر، دل کی بیماری اور دماغی عوارض کی تفصیلی جانچ کے لیے مفید۔

نقصانات:

مہنگا اور تابکاری شامل ہوتی ہے۔

وقت طلب اور خاص تیاری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

---

یہ معلومات آپ کو مختلف طبی ٹیسٹوں کے انتخاب میں مدد دے سکتی ہیں اور یہ سمجھنے میں بھی کہ کون سا طریقہ آپ کی حالت کے لیے زیادہ مناسب ہے۔

ڈی این اے سے بنا نیا کمپیوٹر سو ارب سے زیادہ پروگرام چلا سکتا ہے۔ذرا تصور کریں! آپ کا ڈی این اے کمپیوٹرز کی طرح کام کرنے...
10/09/2024

ڈی این اے سے بنا نیا کمپیوٹر سو ارب سے زیادہ پروگرام چلا سکتا ہے۔

ذرا تصور کریں! آپ کا ڈی این اے کمپیوٹرز کی طرح کام کرنے لگے؟ جی ہاں، سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایک ایسا کمپیوٹر تیار کیا ہے جو ڈی این اے کی مدد سے کام کرتا ہے، اور یہ کمپیوٹر ایک ساتھ 100 ارب سے زیادہ پروگرام چلا سکتا ہے۔ اس کمپیوٹر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ڈی این اے سالمات کو تاروں کی طرح استعمال کرتا ہے۔

یہ کیسے ہوتا ہے؟
بس، ڈی این اے کے مختلف ٹکڑوں کو ملایا جاتا ہے اور یہ ڈی این اے سرکٹس بناتے ہیں جو عام کمپیوٹرز کی طرح کام کرتے ہیں۔ ان سرکٹس کو ڈی این اے پر مبنی پروگرام ایبل گیٹ ایریس (DPGA) کہا جاتا ہے۔ یہ سرکٹس پیچیدہ ریاضی کے مسائل جیسے اسکوئر روٹس اور کواڈریٹک ایکویشنز کو حل کر سکتے ہیں۔ لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سرکٹس ہمارے جسم کے اندر موجود کیمیائی مالیکیولز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جیسے کہ الیکٹران تاروں میں سفر کرتے ہیں۔

اس کے ذریعے سائنسدانوں نے ایک ایسا سرکٹ بنایا ہے جو گردوں کے کینسر سے وابستہ آر این اے مالیکیولز کو شناخت کر سکتا ہے! مطلب یہ کہ مستقبل میں ڈی این اے کمپیوٹرز بیماریوں کی تشخیص میں مدد کر سکیں گے، اور وہ بھی جسم کے اندر رہتے ہوئے۔

یہ ڈی این اے کمپیوٹر اتنے طاقتور ہیں کہ ایک چھوٹے سے پینسل ایریزر کے برابر جگہ میں 1000 لیپ ٹاپ جتنا ڈیٹا محفوظ کر سکتے ہیں! اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں زیادہ سستے، ماحول دوست اور چھوٹے کمپیوٹر بنائے جا سکیں گے، جو عام کمپیوٹرز کی طرح ڈیٹا کو اسٹور، ریٹریو، پروسیس، مٹا اور دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں یہ ٹیکنالوجی کمپیوٹنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف صحت کے مسائل حل ہوں گے بلکہ ڈیٹا اسٹوریج اور کمپیوٹنگ میں بھی بے مثال ترقی ہوگی۔ کیا آپ تیار ہیں ڈی این اے کے مستقبل کا حصہ بننے کے لیے؟

ترجمہ و تلخیص: حمزہ زاہد۔

Welcome to IT PAGE
04/09/2024

Welcome to IT PAGE

Stay connected and stay informed with [IKram Ullah Khan] – where technology meets expertise!

Address

Swat Kpk
Kpk
KABAL

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IKram Ullah Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share