Let's Peek Info

Let's Peek Info Welcome to Let's Peek Info,
I'm Tayyab Shahnawaz.All the matters in this Page will be related to Science facts, Motivational video, Knowledge.

01/01/2024

تین خوبصورت جھیلیں تحریر : شیخ نوید اسلم
ڈرگ جھیل
کھارے پانی کی اس جھیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم میں دریائے سندھ کی گزر گاہ رہی ہوگی۔ اس پانی میں مون سون کی بارشوں اور قریب کے ندری نالوں میں داخل ہوتا ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کا رخ موڑنے اور آبی پودوں کی بہتات سے اس کی سطح اور رقبے میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ بگلوں کی کئی اقسام یہاںپر افزائش نسل میں مصروف رہتی ہے۔ سردیوں میں ہزاروں آبی پرندے جھیل پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھیل میں آبی پرندوں کا شکار ممنوع ہے۔
کینجھر جھیل
میٹھے پانی کی یہ بہت بڑی جھیل ٹھٹھہ شہر سے 19کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کو کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دو جھیلوں کلری اور کینجھرکو ملانے پر وجود میں آئی ہے۔ جھیل میں پانی دریائے سندھ سے نہر کے ذریعے آتا ہے۔ جھیل کے زیریں حصے پر ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر پانی کو روکا گیا ہے یہی ڈیم جھیل سے پانی کے اخراج کے کام بھی آتا ہے اس کے پانی سے کراچی اور اردگرد کی آبادی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ موسم سرما میں ہزاروں پرندے ہجرت کرکے اس جھیل کو اپنا عارضی مسکن بناتے ہیں۔ جھیل میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیرے پرند وں کو افزائش نسل کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں پر آبی پرندوں کا شکار بھی ممنوع ہے۔
ہالیجی جھیل
میٹھے پانی کی ایک جھیل کے اطراف مستقل رہنے والے پانی اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جھیل کے چاروں اطراف بند بنا کر پانی ذخیرہ کیا گیا ہے۔ یہ اپنے بہترین محل وقوع اور ماحول کی وجہ سے پرندوں کی جنت کہلاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کی بہترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ نقل مکانی کے موسم میں ہزاروں پرندے اس جھیل پر آتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کے آبی اور دیگر پرندوں کو ان افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔ جھیل کی اہمیت کے پیش نظر اس پر ہر قسم کے شکار پر پابندی ہے۔
شیخ نوید اسلم متعدد کتب کے مصنف ہیں، زیر نظر مضمون ان کی کتاب''پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ سے مقتبس ہے

22/05/2023

‏عورت کیلئے شادی کیوں ضروری ھے؟

ایک عورت ماھر نفسیات کے پاس گئی اور کہا میں شادی نہیں کرنا چاھتی کیونکہ میں پڑھی لکھی ھوں، خود کماتی ھوں اور خود مختار ھوں اس لئے مجھے خاوند کی ضرورت نہیں ھے مگر میں بہت پریشان ھوں کیونکہ میرے والدین شادی کیلئے دباؤ ڈال رھے ھیں۔

میں کیا کروں؟

ماھر نفسیات نے کہا بےشک تم نے بہت کامیابیاں حاصل کرلی ھیں لیکن بعض دفعہ تم کوئی کام کرنا چاھو مگر نا کر سکو
کبھی تم سے کوئی غلطی ھو جائے
کبھی تم ناکام ھو جاؤ
کبھی تمہارے پلان ادھورے رہ جائیں
کبھی تمہاری خواھشیں پوری نہ ھوں
تب تم کس کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟

کیا اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراؤ گی؟

لڑکی: نہیں بالکل نہیں

ماہر نفسیات: کیا اپنے والد یا بھائی کو قصور وار ٹھہراؤ گی؟

لڑکی: بالکل بھی نہیں

ماھر نفسیات: بالکل یہی وجہ ھے کہ تمہیں ایک خاوند کی ضرورت ہے جسے اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکو۔۔🤣
Copied..

05/08/2022

ڈاکٹر عبدالکلام کہتے ہیں:
میں نے 22 سال تک پڑھایا۔
1. میں نے کبھی حاضری نہیں لی کیونکہ کلاس اتنی دلچسپ ہوتی تھی کہ طلباء کو خود ہی آنا پڑتا تھا۔
2. میں نے کبھی بھی کلاس روم میں خوف پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ کلاس روم طلباء کا دوسرا گھر ہوتا ہے۔
3. کوئی بھی طالب علم جو دیر سے آیا، میں نے شرکت کی اجازت دی، چاہے وہ کلاس ختم ہونے سے دس منٹ پہلے ہی کیوں نہ ہو، اس کا مطلب ہے ذمہ داری کا احساس۔
4. میں نے کبھی بھی لفظ کو دو بار سے زیادہ نہیں دہرایا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ ہر کوئی اتنی گہرائی سے سن رہا ہے کہ اسے دہرانے کی ضرورت ہی نہیں ۔
5. میں نے کبھی بھی مکمل 90 منٹ تک نہیں پڑھایا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ اچھے، اوسط اور کمزور طلبہ کی حوصلہ افزائی مختلف ہوتی ہے۔
6. میں نے کبھی نقد جرمانہ نہیں کیا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ کلاس میں کوئی یتیم یا غریب بچہ ہوگا۔
7. میں نے اپنے طالب علموں کو کبھی اپنے دروازے کے پیچھے انتظار کرنے نہیں چھوڑا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ دروازے کے پیچھے کھڑا ہونا عزت نفس کو ختم کر دے گا۔
8. میں نے ہمیشہ اجتماعی سزا کو انفرادی سزا سے بہترسمجھا ، کیونکہ میں جانتا تھا کہ گروہ ناقابل فراموش تفریح ​​ہے، لیکن فرد دل دہلا دینے والا ہے۔
9. میں نے ہمیشہ طالب علم کو بورڈ پر بلایا اور اس سے وہ پوچھتا جو کچھ وہ جانتا تھا ۔

02/08/2022

ہسپانیہ(اسپین)میں اسلامی حکومت
1 August, 2022تحریر : مترجم:غلام رسول مہر
فتوحات کا دور(711ء تا715ء)
711ء میں عربوں اور بربروں کا ایک مخلوط لشکر، طارق کی سرکردگی میں، جو خود بربر تھا، افریقہ سے ہسپانیہ پہنچا۔ جس مقام پر یہ لشکر اترا تھا، اس کا نام جبل الطارق(جبرالٹر) پڑ گیا۔ مغربی گاتھوں کے آخری بادشاہ راڈرک نے وادی لطہ(وادی برباط) کی جنگ میں شکست فاش کھائی اور اس کی سلطنت کا قصر دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔ مسلمانوں نے قرطبہ اور ہسپانیہ کے دارالحکومت طلیطہ پر قبضہ کر لیا۔ طارق کے بعد 712ء میں اس کا آقا موسیٰ بن نصیر بھی ہسپانیہ پہنچ گیا اور اس نے مدینہ شذونہ، اشبیلیہ، ماردہ اور سرقسطہ فتح کر لیے۔ بہت جلد مسلمان جبل البرانس کے دامن میں پہنچ گئے اور بچے کچھے عیسائی شمال اور مغرب کے پہاڑوں میں چلے گئے۔ پھر مسلمان فرانس میں داخل ہو گئے۔ چارلس مارٹل اور فرینکوں نے انہیں جنگ تو رز میں فیصلہ کن شکست دی۔759ء تک وہ فرانس سے بالکل خارج ہو چکے تھے۔
اُموی قرطبہ میں (756ء- 1031ء)
امیر عبدالرحمن (ء756ء۔788ء) دمشق کے اُموی خلیفہ ہشام کا پوتا تھا۔ اسی نے ہسپانیہ میں اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ عیسائیوں کے ساتھ جزیہ ادا کرنے پر رواداری کا برتائو کیا گیا۔ یہودیوں سے بہت عمدہ سلوک ہوا۔ البتہ عرب اُمراء نے عبدالرحمن کی سخت مخالفت کی۔ باہر سے سپین اور شارلیمن ان کو امداد دے رہے تھے۔
شارلیمن کا حملہ (777ء)
شارلیمن نے حملہ کیا لیکن سر قسطہ کے جوانمردانہ دفاع نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس کی فوج کا عقبی حصہ 778ء میں رون کس والس میں کاملاً تباہ کر ڈالا گیا۔ فرینکوں کے ساتھ لڑائیاں اس صدی کے آخر تک جاری رہیں۔ انجام کار شارلیمن نے شمالی ہسپانیہ کو دریائے ابرہ تک فتح کر لیا۔(برشلونہ کی تسخیر 711ء میں ہوئی)
ہشام اور حکم (788ء۔822ء)
عبدالرحمن کے بعد اس کا بیٹا ہشام امیر بنا۔ اس کے عہد میں ہسپانیہ کے اندر رفقہ مالکی جاری ہوئی۔796ء میں اس کا بیٹا حکم تخت امارت پر بیٹھا۔ طلیطلہ(814ء) اور قرطبہ (805ء اور817ء) میں بغاوتیں ہوئیں۔ قرطبہ کے باغیوں کو ہسپانیہ سے نکال دیا گیا۔ وہ پہلے اسکندریہ پہنچے اور وہاں سے جزیرہ کریٹ چلے گئے، جسے انہوں نے دوبارہ فتح کر لیا۔
عبدالرحمن ثانی (822ء۔852ء)
حکم کے بیٹے عبدالرحمن ثانی کے عہد حکومت میں الفا نسودوم والی لیونش(لی اون) نے ارغون اے، ایران گون پر حملہ کیا لیکن شکست کھائی اور اس کی سلطنت تباہ ہو گئی۔ فرینکوں کو بھی قیطلونیہ سے نکال دیا گیا۔ نارمنس سب سے پہلے اسی دور میں سواحل پر نمودار ہوئے۔ طلیطلہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی بغاوت فرو کر دی گئی(837ء) لیکن مسیحیت کے مذہبی جنونیوں کی سرگرمیاں جاری رہیں، خصوصاً قرطبہ میں۔
محمد اوّل(852ء۔886ء)
قرطبہ میں مسیحی سرکشوں کی سرکوبی لیونش جلیقیہ اے (گلیشیہ) اور نبر(نوارا) کی مسیحی ریاستوں کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں ہوئیں۔861ء میں ہنبلونہ (پمپی لونا، نوارا کا دارالحکومت) پر قبضہ ہوا۔ محمد اول کے بعد منذر نے دو سال (886ء۔888ء) تک حکمرانی کی۔ پھر منذر کا بھائی عبداللہ چوبیس سال (888ء۔912ء) تک برسر حکومت رہا۔
عبدالرحمن ثالث (912ء۔961ء)
یہ امویان اندلس میں سب سے بڑھ کر قابل اور خاص خداداد صلاحیتوں کا مالک تھا۔ 929 ء میں اس نے خلیفہ کا لقب اختیار کیا، اس طرح بغداد کے عباسی خلفاء کے مقابلے میں اپنی مذہبی برتری بحال کی۔ اس کے عہد حکومت کی بنیادی خصوصیات یہ ہیں کہ ملک میں امن کی بحالی، نظام حکومت کی تکمیل(مرکزیت) بحری سرگرمیاں، زراعت کا فروغ و توسیع، صنعت و حرفت کی ترقی، قرطبہ( آبادی کا پانچ لاکھ) یورپ کا سب سے بڑا علمی مرکز بن گیا۔ وہاں کاغذ کی تجارت بہت وسیع پیمانے پر پہنچ گئی۔بڑے بڑے کتب خانے اور ممتاز ترین درسگاہیں قائم ہو گئیں۔(طب، ریاضیات، فلسفہ و حکمت، شعر و ادب، موسیقی) یونانی اور لاطینی زبان کی کتابوں کے بکثرت ترجمے کیے گئے۔
مسلمانوں کے درمیان بلند ترین مقام ابند رشد(یورپی اسے Averroesکہتے تھے) نے حاصل کیا۔ (تقریباً 1126ء۔ 1198ء) جو بہت بڑا فلسفی، طبیب اور افلاطون و ارسطو شارح تھا۔ مسیحی متکلمین کا استاذ الاساتذہ بھی وہی تھا۔
اس زمانے تک پرانا طبقہ امراء تقریباً ناپید ہو گیا اور اس کی جگہ دولت مند متوسط طبقے اور جاگیردارانہ سپہ گری نے لے لی۔ مسیحی اور یہودی وسیع روادرانہ حسن سکول سے بہرہ اندوز رہے۔
عبدالرحمن ثالث کے عہد کی جنگیں
عبدالرحمن نے لیونش اور نبرہ کے خلاف جنگیں بھی جاری رکھیں، جو اس کے عہد حکومت کے بڑے حصے پر پھیلی ہوئی تھیں۔ 955ء میں لیونس کے حاکم اردون ثالث کے ساتھ معاہدہ صلح ہوا۔ اس کے مطابق لیونش اور نبرہ کی آزادی تسلیم کر لی گئی اور اسلامی سرحد دریائے ابرہ پر آ گئی۔ ساتھ ہی لیونش اور نبرہ نے خلیفہ کی سیادت تسلیم کر لی اور خراج ادا کرنے لگے۔957ء میں اردون کے بھائی شنشو نے یہ صلح توڑ دی، لیکن شکست کھائی اور رعایا نے اسے سلطنت سے خارج کردیا۔ 959ء میں خلیفہ نے اسے بحال کر دیا۔
حکم ثانی (961ء۔976ء)
قشتلہ(کیسٹیل) لیونش اور نبرہ کے خلاف لڑائیاں (961ء۔970ء) جاری رہیں، یہاں تک کہ ان کے حاکم صلح پر مجبور ہو گئے۔ ساتھ ساتھ مراکش میں فاطمیوں کے خلاف جنگ،973ء میں فاطمی مراکش سے نکالے گئے اور یہ ملک امویوں کے قبضے میں آ گیا۔
ہشام ثانی (976ء۔1009ء)
اس کے عہد میں اُمیہ خاندان کا زوال شروع ہو گیا۔ تمام اختیارات حکومت محمد بن ابی عامر نے سنبھال لئے اور حاجب المنصور کا لقب اختیار کیا۔ اسے فوج اور نظم و نسق دونوں کی اصلاحات میں امتیازی درجہ حاصل تھا۔ لیونش، نبرہ، قیطلونیہ، ماری ٹانیا کے خلاف کامیاب مہمین، مذہبی اور نسلی اختلافات کو عارضی طور پر روکا جو انجام کار اُموی خلافت کی تباہی کا سبب بنے۔ 1002ء میں المنصور کی وفات پر اس کا بیٹا عبدالملک المظفر مختار سلطنت بنا۔ اس نے بار ہا مسیحیوں کو شکستیں دیں۔ پھر اس کے بھائی عبدالرحمن نے کاروبار حکومت سنبھالا۔ وہ شنشول کے لقب سے مشہور تھا۔ شنشول نے ہشام ثانی کو مجبور کرکے اپنی ولی عہدی کا پروانہ حاصل کر لیا۔ شاہی خاندان کے ایک فرد محمد کی سرکردگی میں قرطبہ کے اندر بغاوت ہوئی۔ ہشام ثانی، محمد کے حق میں دست برداری پر مجبور ہوگیا۔ شنشول کو قتل کردیا گیا۔ اس اثناء میں بربروں نے سلیمان کو خلافت کیلئے نامزد کیا۔ ملک میں خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔ ہسپانیہ تقریباً بیس چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں بٹ گیا۔ سلطنت میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہو گیا اور مسیحیوں کیلئے اسے دوبارہ مسخر کر لینا سہل ہو گیا۔ ہشام ثالث ہسپانیہ کا آخری اُموی خلیفہ تھا۔ ہشام ثانی 1027ء سے 1030ء تک حکمران رہا۔

Desi Months Dates
30/07/2022

Desi Months Dates

30/07/2022

سائیکالوجسٹ اور سائیکا ٹرسٹ کا فرق

عام طور پر لوگ psychologist اور psychiatrist کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔
اکثر سائیکالوجسٹ سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ دوائیاں کیوں نہیں دیتے اور جب انھیں جواب دیا جائے کہ دوائیاں دینا سائیکالوجسٹ کا کام نہیں بلکہ سائیکاٹرسٹ کا کام ہے تو انہیں تھوڑی حیرت ہوتی ہے کہ اچھا یہ دو الگ الگ شعبے ہیں۔
آج کی تحریر میں میں چند بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی جائے گی کہ کیسے یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟

1۔ ایک سائیکاٹرسٹ MBBS کی ڈگری حاصل کرتا ہے، یعنی کسی میڈیکل کالج میں پانچ سال زیر تعلیم رہنا جیسا کہ ایک عام ڈاکٹر کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ (psychiatry )میں مہارت حاصل کرتا ہے اور (psychiatrist )کہلاتا ہے۔

دوسری طرف سائیکالوجسٹ نفسیات میں( Fsc) کے بعد نفسیات میں چار سالہ ڈگری حاصل کرتا ہے ۔ اس کے بعد دو سالہ مزید ایم ایس یا پھر ایک سال کا (clinical psychology) میں ڈپلومہ کرتا ہے اور (psychologist ) کہلاتا ہے۔

2۔ دوسرا اور بنیادی فرق نظریے کا ہے سائیکاٹرسٹ کے نزدیک ہمارے جسم اور ہمارے دماغ میں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔ ان کی کمی یا زیادتی ہمارے رویوں میں تبدیلی لاتی ہے اور (abnormal behaviour) کی طرف لے جاتی ہے۔
دوسری طرف (psychologists) کا یہ ماننا ہے کہ ان کیمیکلز کی کمی یا زیادتی کے پیچھے ہماری "سوچ” ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کیمیکلز میں تبدیلی ایک ثانوی چیز ہے جبکہ بنیادی چیز ہماری سوچ اور ہمارے خیالات ہیں پہلے انسانی دماغ میں خیال پیدا ہوتا ہے اور اس خیال کی وجہ سے ہی دماغ میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

3۔ تیسرا فرق طریقہ علاج کا ہے۔ (Psychiatrist )چونکہ کیمیکلز کو بنیادی وجہ مانتے ہیں اس لیے وہ دوائیوں کے ذریعے ان کیمیکلز کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بنیادی طریقہ دوائیوں کے ذریعے علاج کرنا ہوتا ہے۔

دوسری طرف (psychologist) کے نزدیک جیسا کہ بنیادی وجہ خیال یا سوچ ہے سو ان کا نظریہ یہ ہےکہ اگر ہم کسی کے خیالات یا سوچنے کے طریقے کو تبدیل کردیں تو وہ شخص ٹھیک ہو سکتا ہے ان کے نزدیک دوائیاں دینے کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی درخت کو اکھاڑنا چاہتے ہیں لیکن ہم صرف اس کی شاخیں کاٹ رہے ہیں جبکہ سائیکوتھراپی اور کاؤنسلنگ کے ذریعے ہم بیماری کے اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

کسی مریض کو نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے کس کے پاس جانا چاہئیے ؟سائیکالوجسٹ کے پاس ؟ یا سائیکاٹرسٹ کے پاس ؟

جواب : کسی بھی نفسیاتی مسئلے کے لیے سائیکالوجسٹ کے پاس جائیں۔ وہ آپ کے ساتھ (Talk Therapy) کرے گا / گی اور آپ کی سوچ، جذبات اور رد عمل کو ایک مختلف زاویہ اور مثبت طرز دے گا / گی جس سے آپ اپنی دنیاوی مشکلات کو آرام سے ہینڈل کرنا سیکھ جائیں گے
اور کسی نفسیاتی الجھن کا شکار نہیں ہوں گے بعض قابل سائیکالوجسٹ (Hypnotherapy) بھی کرتے ہیں اس طریقہ علاج میں آپ کے شعور کو سلا کر آپ کے لاشعور سے رابطہ کیا جاتا ہے اور آپ کے تمام مسائل کی وجہ اور ان کے اثرات آپ کے لا شعور سے نکال دئیے جاتے ہیں۔ جس سے آپ پھر سے توانا اور فریش ہو جاتے ہیں۔اگر آپ کا مرض زیادہ ہو جس کا علاج( Talk therapy) یا (Hypnotherapy) کے ذریعے نہ ہو سکتا ہو تو سائیکالوجسٹ آپ کو خود سائیکاٹرسٹ کے پاس بھیج دے گا۔

29/07/2022

چارلی چیپلن کو 88 سال بیت گئے ۔

چارلی چیپلن کے 4 بیانات :

(1) اس دنیا میں ہمیشہ کے لیئے کچھ بھی نہیں ، ہمارے مسائل بھی نہیں ۔

(2) مجھے بارش میں چلنا پسند ہے کیونکہ کوئی بھی میرے آنسو نہیں دیکھ سکتا ہے ۔

(3) زندگی میں سب سے زیادہ کھوئے ہوئے دن وہ دن ہیں جس دن ہم ہنستے نہیں ہیں ۔

(4) دنیا کے چھ بہترین ڈاکٹر

1. سورج The Sun
2. آرام Rest
3. ورزش Exercise
4. غذا Food
5. عزت نفس Self Respect
6. دوست Friends

اپنی زندگی کے تمام مراحل پر ان پر قائم رہیں اور صحت مند زندگی سے لطف اٹھائیں چاند دیکھو گے تو حسن نظر آئے گا اگر آپ سورج دیکھیں گے تو آپ خدا کی طاقت دیکھیں گے اگر آپ آئینہ دیکھیں گے تو آپ کو خدا کی بہترین تخلیق نظر آئے گی ۔ تو یقین کرو ۔

ہم سب سیاح ہیں ، خدا ہمارا ٹریول ایجنٹ ہے جس نے پہلے ہی ہمارے راستوں ، بکنگ اور منزلوں کی نشاندہی کی ہوئ ہے اس پر بھروسہ کریں اور زندگی سے لطف اٹھائیں ۔

زندگی صرف ایک سفر ہے !
لہذا ، آج زندہ رہو

کل نہیں ہو سکتا .
Copied

29/07/2022

Fluctuation of the Dollar rate in Pakistan from 1947 to 2022 which is given as follows:

In 1947 1 USD was 3.31 PKR
In 1948 1 USD was 3.31 PKR
In 1949 1 USD was 3.31 PKR
In 1950 1 USD was 3.31 PKR
In 1951 1 USD was 3.31 PKR
In 1952 1 USD was 3.31 PKR
In 1953 1 USD was 3.31 PKR
In 1954 1 USD was 3.31 PKR
In 1955 1 USD was 3.91 PKR
In 1956 1 USD was 4.76 PKR
In 1957 1 USD was 4.76 PKR
In 1958 1 USD was 4.76 PKR
In 1959 1 USD was 4.76 PKR
In 1960 1 USD was 4.76 PKR
In 1961 1 USD was 4.76 PKR
In 1962 1 USD was 4.76 PKR
In 1961 1 USD was 4.76 PKR
In 1962 1 USD was 4.76 PKR
In 1963 1 USD was 4.76 PKR
In 1964 1 USD was 4.76 PKR
In 1965 1 USD was 4.76 PKR
In 1966 1 USD was 4.76 PKR
In 1967 1 USD was 4.76 PKR
In 1968 1 USD was 4.76 PKR
In 1969 1 USD was 4.76 PKR
In 1970 1 USD was 4.76 PKR
In 1971 1 USD was 4.76 PKR
In 1972 1USD was 11.01 PKR
In 1973 1 USD was 9.99 PKR
In 1974 1 USD was 9.99 PKR
In 1975 1 USD was 9.99 PKR
In 1976 1 USD was 9.99 PKR
In 1977 1 USD was 9.99 PKR
In 1978 1 USD = 9.99 PKR
In 1979 1 USD = 9.99 PKR
In 1980 1 USD = 9.99 PKR
In 1981 1 USD = 9.99 PKR
In 1982 1 USD = 11.85 PKR
In 1983 1 USD = 13.12 PKR
In 1984 1 USD was 14.05 PKR
In 1985 1 USD = 15.93 PKR
In 1986 1 USD = 16.65 PKR
In 1987 1 USD = 17.4 PKR
In 1988 1 USD = 18 PKR
In 1989 1 USD = 20.54PKR
In 1990 1 USD = 21.71 PKR
In 1991 1 USD = 23.8 PKR
In 1992 1 USD = 25.08 PKR
In 1993 1 USD = 28.11 PKR
In 1994 1 USD = 30.57 PKR
In 1995 1 USD = 31.64 PKR
In 1996 1 USD = 36.08 PKR
In 1997 1 USD = 41.11PKR
In 1998 1 USD = 45.05 PKR
In 1999 1 USD = 51.90 PKR
In 2000 1 USD = 51.90 PKR
In 2001 1 USD = 63.5 PKR
In 2002 1 USD = 60.5PKR
In 2003 1 USD = 57.75 PKR
In 2004 1 USD = 57.8 PKR
In 2005 1 USD = 59.7 PKR
In 2006 1 USD = 60.4 PKR
In 2007 1 USD = 60.83 PKR
In 2008 1 USD = 81.1 PKR
In 2009 1 USD = 84.1 PKR
In 2010 1USD = 85.75 PKR
In 2011 1 USD = 88.6 PKR
In 2012 1 USD = 96.5 PKR
In 2013 1 USD = 107.2PKR
In 2014 1 USD = 103 PKR
In 2015 1 USD = 105.20 PKR
In 2016 1 USD was 104.6 PKR
In 2017 1 USD = 110.01 PKR
In 2018 1 USD = 139 PKR
In 2019 1 USD = 163.75 PKR
In 2020 1 USD = 168.88PKR
In 2021 1 USD = 179.16PKR
In 2022 1 USD = 230.00PKR ( July 26)
And now 1 USD = 242.00

29/07/2022

دنیا میں اس وقت 200 کے لگ بھگ ممالک ھیں ا
ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ھے جو
روس سے کم از کم 10 گنا چھوٹا ھے لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے 3 گنا بڑا ھے ۔
یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے،
خوبانی ، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے،
پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں،
کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
گندم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ھے ۔
یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں 25 ویں نمبر پر ھے ۔
اس کی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور براعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ھے ۔
یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے 55 نمبر پر ھے ۔
کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ھے ۔
سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ھے ۔
اس ملک کے گیس کے ذخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ھیں

اور
یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ھے ۔.....,...لیکن
سب سے حیرت انگیز بات یہ ھے کہ

* یہ ملک نااہلوں، ایمان اور ملک فروشوں اور لوٹوں لٹیروں کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ھے۔۔۔ ! *
اور اس ملک کا نام ھے ۔
* پاکستان *

یہاں کے لوگ
کسی نیک، ایماندار اور صالح قیادت کو منتخب کرنے کی بجائے،
بار بار کرپٹ اور دھوکے باز سیاستدانوں کو ہی ووٹ دیتے ہیں.

یہاں گزشتہ 40 سال سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے...
لیکن لوگ بھوکے رہ کر بھی انہی کرپٹ خاندانوں، سیاستدانوں اور ان کی پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں...
جو ملک کو تباہ کرنے میں برابر کے شریک ہیں....

اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور اہل اور دیانت دار قیادت کو منتخب کرنے کی توفیق عطا فرمائے.... آمین۔

27/07/2022

زمین کی محوری گردش
26 July, 2022تحریر :
سورۃ الحجر کی آیت نمبر19میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''ہم نے زمین کو پھیلایا ایک ڈھنگ سے اس میں ہر نوع کی شے ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے پیدا کی ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی اس آیت میں زمین کی ساخت اور بناوٹ کے متعلق حقیقت بیان کی ہے۔
زمین کا اپنے محور پر 23.5ڈگری جھکائو ہے۔اگر زمین کا جھکائو 25 ڈگری پر ہوتا تو قطبین کے سرے چند ہی سالوں میں پگھل جاتے اور دنیا کے سمندر بہتی ہوئی برف سے اٹ جاتے۔ دوسری طرف یہ جھکائو 22 ڈگری پر ہوتا تو قطب شمالی کی برف سارے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی اور زندگی کا وجود زمین کے خط استوار والے حصے میں ہی ممکن ہو سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس حقیقت کو کمال صراحت سے بیان کر دیا ہے کہ اس نے زمین کو نپے تلے طریقے سے بچھایا ہوا ہے۔
زمین کا ایک خاص ترتیب سے پھیلائو اپنے محور پر 24گھنٹوں میں گردش کرنے سے خاص تعلق رکھتا ہے۔ اگر یہ اپنی گردش کو 30گھنٹوں میں پورا کرتی تو اس کے نتیجے میں اس قدر تیز و تند ہوائیں چلتیں کہ یہاں کسی قسم کی مخلوق زندگی نہ گزار سکتی۔
دوسری طرف اگر زمین اپنی گردش 20گھنٹوں میں پورا کرتی تو زمین پر اگنے والی نباتات کی اکثریت اپنی حیاتیاتی زندگی پوری نہ کر پاتی اور اس وجہ سے زمین خشک سالی کا شکار ہو کر رہ جاتی۔
زمین کا پھیلانا اور اس کو ایک طریق یا ڈھنگ دینا تب ہی ممکن تھا جب زمین اپنے محور پر خوش اسلوبی اور ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص زاویے پر ایک ترتیب سے گردش کرے۔ اسی خاص تناسب کی وجہ سے زمین و آسمان کی رعنائیاں اور رونقیں قائم و دائم ہیں۔
ڈاکٹر آصف محمود جاہؔ(ستارۂ امتیاز)کی
کتاب '' زلزلے، زخم اور زندگی‘‘ سے اقتباس

27/07/2022

انسان مصنوعی ذہانت کا محتاج ہے؟
26 July, 2022تحریر : عمائمہ ارشد
پتھر کے زمانے سے اب تک انسان نے ترقی کی بہت سی منازل طے کی ہیں۔پیغام رسانی کا سفر کبوتر سے ہوتا ہوا ٹیلی گرام اوروٹس ایپ تک پہنچ چکا ہے۔گھوڑوں پر میلوں سفر کرتے انسان نے شاید یہ سوچا بھی نہ تھا کہ جس پیغام کو پہنچانے کیلئے وہ کئی کئی دن گھوڑا دوڑارہا ہے یہی کام آنکھ جھپکنے سے بھی کم وقت میں ہو جائے گا اور دنیا کے سات سمندر پار بیٹھا شخص بھی نہ صرف آواز بلکہ اپنے عزیز واقارب کی ویڈیو بھی دیکھ سکے گا۔
ٹیکنالوجی نے انسان اور اس کے طرز زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔اب آپ اپنے گھر اور کمرے میں بیٹھے دنیا کے کسی بھی حصے سے کچھ بھی خرید سکتے ہیں۔ دنیا کی ہر چیز آپ سے صرف ایک سرچ بٹن کے فاصلے پر موجود ہے۔کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہو پاتا ہے؟ اگر آپ کسی انسان کو اپنی پسند نا پسند سے آگاہ کر دیں تو وہ اس کو یار رکھتا ہے لیکن یہ کام آپ کے موبائل میں موجود ایپلی کیشن کیسے کر پاتی ہے؟ آپ ایک مرتبہ کسی پراڈکٹ کے متعلق سرچ کرتے ہیں اور پھر اسی طرح کی مصنوعات آپ کے سامنے موبائل پر آنے لگتی ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کو مصنوعی ذہانت یا مشین لرننگ کہا جاتا ہے۔
اسی مصنوعی ذہانت نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر کام کا آغاز2007ء میںپروفیسر کائی فلیو نے اپنے پراجیکٹImage netکے ذریعے کیا تھا۔اس پراجیکٹ پرفیکٹ بنانے میں اسے 8سال کا عرصہ لگا۔ اب یہ کمپیوٹر پروگرام نہ صرف دو تصاویر میں فرق بتا سکتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر سکتا ہے کہ ان تصاویر میں کیا ہو ر ہا ہے۔
14فروری 2016ء میں مصنوعی ذہانت نے ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں کئی نئے باب کھول دئیے۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا روبوٹ بنایا گیا جو انسانی خصوصیات کا حامل تھا ۔اس روبوٹ کو دنیا ''صوفیا‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ 2017ء میں اسی روبوٹ کو سعودی عرب کی جانب سے پہلے انسانی روبوٹ کے طور شہریت بھی دی گئی۔
2017ء میں انسان کی جانب سے جدت کی ایک اور سیڑھی پر قدم رکھا گیا ۔ گوگل نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سافٹ وئیر بنایا جس میںآپ گوگل ایپلی کیشن سے مخاطب بھی ہو سکتے ہیں۔ اسے ''گوگل اسسٹنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام میں انسانی احساسات کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ''گوگل اسسٹنٹ‘‘ سے آپ جس مزاج میں بات کریں گے یہ آپ کو اسی طرح کا جواب دے گی۔ مصنوعی ذہانت ایسے آلات بنانے میں بھی کامیاب ہو چکی ہے جو خودکار طریقے سے جہاز ، ڈرونز اور جنگی جہاز بھی اڑا رہے ہیں ۔چین میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیمز بھی تعمیر کئے جارہے ہیں۔
اتنی جدت اور ترقی کی باوجود اب بھی مصنوعی ذہانت انسانی دماغ کی طرح اچھائی اور برائی میں فرق نہیں کر سکتی ۔ کسی کے حذبات کو نہیں سمجھ سکتی۔ یہ اندازہ نہیں لگا سکتی کے کسی شخص یا دوست کو اس کی مدد کی ضرورت ہے۔ انسانوں اور مشینوں کے درمیاں یہی بنیا دی فرق ہے ۔ مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت جتنی بھی ترقی کر لے و ہ اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی،یہ وہی کرے گی جو اس کے پرواگرام میں انسٹال کر دیا جائے گا۔ایلون مسک کی دو نان پرافٹ کمپنیا ں اسی کام میں مصروف ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ایسے آلات تیار کئے جاسکیں جو انسانی فطرت کو سمجھتے ہوں اور استعمال کرنے میں بھی آسان ہوں۔ان کی ایک کمپنی ایسے پراجیکٹ پر بھی کام کر رہی ہے جس میں کمپیوٹر چپ کو انسانی دماغ میں پیوست کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دور میں مصنوعی ذہانت اس قدر تیز رفتاری سے ترقی کرے گی کہ قوی امکان ہے کہ موبائل فونز کی جگہ سمارٹ لینز اور چشمے لے لیں۔ ایسے روبوٹس تیار کر لیے جائیں گے جو انسانوں کی طرح سوچ سمجھ سکیں گے۔ کیا آپ نے سوچا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال انسانی دماغ کے استعمال کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرئے گا کیونکہ انسان جتنا دماغ کو دوڑاتا ہے وہ اتنا ہی کھلتا جاتاہے ۔اللہ نے انسان کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچ سمجھ سکتا ہے ،نئی چیزیں ایجاد کر سکتا ہے۔ اگر کسی مشین کو بھی استعمال نہ کیا جائے تو وہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور بیکار ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر انسانی دماغ کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کا محتاج بنا دیا گیا تو انسان کی قدرتی ذہانت جو مصنوعی ذہانت سے ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے وہ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

22/07/2022

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _

Address

Khanpur

Telephone

+923067628699

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Let's Peek Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Let's Peek Info:

Share