19/07/2026
Alkhidmat Bano Qabil ❤️
کراچی میں لگایا گیا ایک پودا…
پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دیکھتے ہوئے چند سال قبل کراچی میں ایک منفرد پروگرام کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد نوجوانوں کو مفت IT کورسز فراہم کرنا تھا تاکہ وہ دوسروں کے محتاج بننے کے بجائے اپنے ہنر کے ذریعے خود کفیل بن سکیں اور اپنے خاندان کا سہارا بنیں۔
اس مشن کا آغاز اس وقت کے امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی، حافظ نعیم الرحمٰن (موجودہ امیر جماعتِ اسلامی پاکستان) اور ان کی ٹیم نے کیا۔ ابتدا میں شاید بہت کم لوگوں نے سوچا ہوگا کہ یہ ایک چھوٹی سی کوشش مستقبل میں ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر لے گی۔
وقت کے ساتھ مختلف اداروں اور تنظیموں نے بھی IT سے متعلق پروگرام شروع کیے یا کروائے گئے جیسے پاکستان میں ہوتا ہے، حقیقی تحریکوں کو دبانے کے لئے۔ مبصرین کی رائے ہے کہ اس سے بنو قابل جیسے منصوبے کی نمایاں حیثیت کو کم کرنے کی کوشش بھی ہوئی، تاہم حافظ نعیم الرحمٰن اور ان کی ٹیم نے کسی مقابلے کے بجائے اپنی توجہ مسلسل محنت، خدمت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے پر مرکوز رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے اس اخلاص میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ آج الخدمت بنو قابل کا سفر پاکستان کے 60 سے زائد شہروں تک پہنچ چکا ہے۔ ہزاروں نوجوان جدید IT مہارتیں حاصل کر کے روزگار، فری لانسنگ اور کاروبار کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور بے شمار خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔
آج کراچی میں الخدمت بنو قابل کے تحت تاریخ کے بڑے کنوکیشنز میں سے ایک منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات اپنی محنت کا ثمر، یعنی سرٹیفکیٹس، وصول کریں گے۔ یہ صرف اسناد کی تقسیم نہیں بلکہ امید، خود اعتمادی اور خود کفالت کے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت کے سفر کو مزید وسعت اور برکت عطا فرمائے، اور اسے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ترقی اور کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
جماعتِ اسلامی اگر اقتدار کے بغیر اتنا بڑا فلاحی کام کر سکتی ہے، تو ذرا سوچیں کہ حکومت ملنے پر تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے لیے کتنے بڑے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں
علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اس پوری جدوجہد کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے:
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
شیراز خان جدون