Pc Bank

Pc Bank Asalam-o-alaikum
Welcome to PC Bank
Deals in New & Used Computer & its Parts
For More Info
Write tex

24/03/2026

لفظ بہ لفظ ترجمہ

آپ کے دادا دادی (یا نانا نانی) کے ساتھ 1944 میں دھوکا ہوا تھا۔

اور آپ آج بھی اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

44 ملکوں سے 730 لوگ ایک پرتعیش ہوٹل میں داخل ہوئے۔

صرف ایک ملک وہاں سے زیادہ امیر ہو کر نکلا۔

یہ کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت تھا۔

امریکہ کے پاس دنیا کا 75 فیصد سونا موجود تھا۔

اس لیے قوانین بھی انہوں نے ہی لکھے۔

امریکی ڈالر عالمی کرنسی بن گیا۔

امریکہ نے وعدہ کیا کہ آپ کسی بھی وقت اپنے ڈالر کے بدلے اصلی سونا لے سکتے ہیں۔

ایک اونس سونے کی قیمت 35 ڈالر طے پائی۔

امریکہ ڈالر چھاپ سکتا تھا اور دنیا کو انہیں قبول کرنا ہی پڑتا تھا۔

ہر ملک کو ڈالر کمانے پڑتے تھے، لیکن امریکہ نے صرف پرنٹر (مشین) چلا دی۔

اسے "بے پناہ مراعات" کہا جاتا ہے۔

1971 میں صدر نکسن نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ توڑ رہے ہیں۔

اب ڈالر کے پیچھے سونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔

دنیا کی آنکھ کھلی تو ان کے ہاتھوں میں صرف کاغذ کے ٹکڑے تھے جن کی پشت پر کچھ بھی نہ تھا۔

آپ کی بچت کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور آپ کی تنخواہ سے کم چیزیں آتی ہیں۔
اب تفصیل سے پڑھیں
​اس ویڈیو میں رابرٹ کیوساکی (Robert Kiyosaki) ایک اہم تاریخی واقعے کا ذکر کر رہے ہیں جسے برائٹن ووڈز معاہدہ (Bretton Woods Agreement) کہا جاتا ہے۔
​1. 1944 کا دھوکا (برائٹن ووڈز)
​دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے قریب، دنیا کے بڑے ممالک نیو ہیمپشائر کے ایک ہوٹل میں جمع ہوئے۔ چونکہ اس وقت امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ سونا تھا، اس لیے یہ طے پایا کہ تمام کرنسیوں کی قیمت ڈالر سے جوڑی جائے گی اور ڈالر کی قیمت سونے سے۔ امریکہ نے وعدہ کیا کہ وہ اتنے ہی ڈالر چھاپے گا جتنا اس کے پاس سونا ہے۔
​2. ڈالر کا عالمی غلبہ
​اس فیصلے نے ڈالر کو دنیا کی سب سے طاقتور کرنسی بنا دیا۔ باقی تمام ممالک کو تجارت کے لیے ڈالر کمانے پڑتے تھے (محنت کر کے)، جبکہ امریکہ کو جب ضرورت ہوتی، وہ مزید ڈالر چھاپ لیتا۔ اسے معیشت کی زبان میں Exorbitant Privilege کہتے ہیں، یعنی ایسی رعایت جو صرف امریکہ کو حاصل ہے۔
​3. 1971 کا نکسن شاک (Nixon Shock)
​وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ نے سونے کی مقدار سے کہیں زیادہ ڈالر چھاپ دیے۔ جب دوسرے ممالک (خاص کر فرانس) نے اپنے ڈالر واپس کر کے سونے کا مطالبہ کیا، تو صدر رچرڈ نکسن نے اعلان کر دیا کہ اب ڈالر کے بدلے سونا نہیں ملے گا۔ اس دن ڈالر ایک "فیٹ کرنسی" (Fiat Currency) بن گیا، یعنی صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا جس کی قدر صرف حکومت کے بھروسے پر ہے۔
​4. عام آدمی پر اثر
​جب بھی امریکہ مزید ڈالر چھاپتا ہے، مارکیٹ میں ڈالر کی زیادتی ہو جاتی ہے جس سے افراطِ زر (Inflation) بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بینک میں رکھے ہوئے پیسوں کی قوتِ خرید کم ہو رہی ہے۔ آپ محنت کر کے پیسے بچاتے ہیں، لیکن حکومت مزید نوٹ چھاپ کر آپ کے پیسے کی اہمیت گھٹا دیتی ہے۔
​نتیجہ: ویڈیو کا پیغام یہ ہے کہ صرف نقد رقم (Cash) بچانے کے بجائے ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری کریں جن کی اپنی قیمت ہو، جیسے سونا، چاندی یا پراپرٹی، تاکہ آپ اس معاشی نظام کے نقصانات سے بچ سکیں۔

13/03/2026

Earphones vs earbuds?
Which one is better for your health

شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں ...
04/03/2026

شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں میں تقسیم ہے۔۔۔ یعنی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا۔ پہلے یہ ایک ملک تھا۔۔ پھر گھر کا معاملہ گلی محلے تک پہنچ گیا۔ دونوں لڑ پڑے اور الگ ہو گئے۔ سال 1950 میں انہوں نے اتنی سخت لڑائی لڑی تاریخ لکھتی کہ جنوبی کوریا کے ایک لاکھ ستر ہزار "فوجی" مـارے گئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔

آج شمالی کوریا کا صدر کم جونگ ان ہے،،، انتہائی بدمعاش شخص ہے وہ جو نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اپنے ملک کی انتظامی مشینری پر اس کی گرفت بہت مضبوط ہے، جب باقی ممالک ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،، تو کم جونگ ان کو کہتے ہیں کہ میں کسی اور کی شرکت کے بغیر اپنے خاندان کے معاملات کی ذمہ دار ہوں۔۔۔ اگر میں اپنے خاندان کی عورتوں کو برقع پہن کر رکھوں اور بچوں کو گلی کے لڑکوں کی صحبت میں جانے سے روکوں، تو تم انکے بھائی اور ماموں کیوں بننا چاہتے ہو؟ شمالی کوریا کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے اس وجہ سے کسی سے نہیں ڈرتا۔

یہ ایک کمیونسٹ نظریہ کے حامل ملک ہے۔۔۔ اس کے پاس نہ صرف ایٹم بــم ہے بلکہ اس کے پاس ایسے میـــــــزائل بھی موجود ہے جو شمالی کـــوریا سے واشنگٹن ڈی سی امریکہ ہیٹ کرسکتے ہیں جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا،،،، اس وجہ سے امریکہ بھی ان سے نہیں جھگڑتے اور نہ ہی دھمکی وغیرہ دیتے ہیں ہر ماہ میزائل کے تجربات کرتے ہیں ان کے میزائلوں کے رینچ 25 ہزار کلومیٹر تک ہے،، اور ایسے میزائل پاکستان اور اسسرائیل کے پاس بھی نہیں ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر میـــزائل کے ساتھ ہر وقت جوہری وار ہیڈ منسلک ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک اس کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔ پھر امریکہ نے پاکستان کو اپنے پاس بٹھایا اور سمجھایا کہ اچھے بچے برے بچوں سے نہیں کھیلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وجہ سے ہمارے درمیان وہ تعلقات ختم ہوگئے۔۔۔۔سمالی کوریا انتہائی مضبوط ملک ہے اور اسکی بنیادی وجہ ڈر ہے، عوام شمالی کوریا صدر کم جونگ ان سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے طرف صرف سافٹ ویئر ابڈیٹ کرتے ہیں،، جب کہ کم جونگ ان سیدھا گولی مارتا ہے ان کے قانون میں معافی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے شمالی کورین اپنی مرضی سے بال نہیں کٹوا سکتے انہیں حکومت کی منظور شدہ ہئیر سٹائل ہی رکھنے کی اجازت ہے۔

شمالی کوریا میں نیلی جینز پہننا غیر قانونی ہے شمالی کوریا میں اگر کوئی بیرون ملک جانا چاہتا ہے،، تو اس کو حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے،، شمالی کوریا میں صرف دو تین چینلز ہی دیکھائے جاتے ہیں جو کہ سرکار کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔شمالی کوریا میں کسی بھی دین کی پیروی کرنا جرم ہے وہاں مسجد، چرچ اور مندر وغیرہ نہیں ہے،، شمالی کوریا میں کسی بھی بندے کا ملک سے باہر کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا "غیر قانونی" ہے اور جو پکڑا گیا اس کی سزا صرف موت ہے

اس کے علاؤہ شمالی کوریا میں عام لوگ "انٹر نیٹ" استعمال نہیں کر سکتے اسکی اجازت صرف فوج میں کرنل اور جرنل کو حاصل ہیں اور وہ بھی رینڈم استعمال نہیں کرسکتے شمالی کوریا میں ہر گھر میں صدر کم جونگ ان کے باپ دادا کی "تصویر" لگانا اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے،،، دوسرے لوگوں کی تصویر لگانا جرم ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شـــمالی کوریا میں ہر پانچ سال بعد الیکش ہوتے ہیں مگر امیــــدوار صرف ایک ہی کھڑا ہوتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں ہوتا، بلکہ اس "تصویر" میں نظر آنے والا شخص کم جونگ ہی ہوتا ہے ان کے مقابلے کے لیے "ایکشن" میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا سب ان سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

نمک حرامی بچپن سے یہ جملہ سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں نمک حرام نکلا۔۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا درس سنتے ہوئے نمک حرامی کا ذکر...
28/02/2026

نمک حرامی

بچپن سے یہ جملہ سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں نمک حرام نکلا۔۔

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا درس سنتے ہوئے نمک حرامی کا ذکر ہوا تو خیال آیا کہ نمک تو کھانے میں بالکل معمولی سی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ باقی اشیاء کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو ایسا ہی کیوں کہا جاتا ہے۔۔

نمک کی جگہ چینی حرام۔۔ گھی حرام۔۔ گندم حرام۔۔ گوشت حرام۔۔ وغیرہ کیوں نہیں کہتے۔۔

جو بات میری سمجھ میں آئی وہ یہ کہ اس کا مقصد اور مطلب یہ ہے کہ کوئی بندہ آپ کے ساتھ معمولی سی یعنی کھانے میں نمک کے برابر بھی اچھائی کر دے تو اس کا برا نہیں سوچنا چاہیئے۔

بشارت حمید

نشر مکرر

جاوید چودھری صاحب کی تحریروں کا ایک حصہ وہ ہے جس سے ہم سب نے کچھ نہ کچھ سیکھا پے۔ یہ بھی ان کی ایسی ہی مفید تحریر ہے۔میز...
23/02/2026

جاوید چودھری صاحب کی تحریروں کا ایک حصہ وہ ہے جس سے ہم سب نے کچھ نہ کچھ سیکھا پے۔
یہ بھی ان کی ایسی ہی مفید تحریر ہے۔

میزبان اور مہمان

تحریر: جاوید چوہدری
یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی صاحب کے گھر مدعو تھا‘ میرے پاس اس دن تین پرانے دوست آئے ہوئے تھے‘ میں انھیں بھی ساتھ لے کر میزبان کے گھر پہنچ گیا‘ میرے ساتھ تین لوگ دیکھ کر میزبان کا رنگ بدل گیا لیکن مجھے وجہ سمجھ نہیں آئی‘ ہم پنجابی صدیوں سے یہ حرکت کرتے آ رہے ہیں۔

ہم کسی جگہ اکیلے نہیں جاتے جہاں بھی جاتے ہیں دو چار لوگ ساتھ لے جاتے ہیں اور ہمارے میزبان اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں‘ ہم لوگ صدیوں سے یہ سوچ کر روزانہ زیادہ کھانا بناتے ہیں کہ کوئی مہمان نہ آ جائے اور ہمارے ہاں اکثر بن بلائے مہمان آتے رہتے ہیں اور ہر مہمان اپنے ساتھ دو چار اضافی مہمان لے آتا ہے۔

انتقال پر بھی جنازے کے مقابلے میں کھانے پر زیادہ لوگ ہوتے ہیں چناں چہ ہمارے لیے یہ معمول ہے لیکن میرا میزبان پنجابیوں کی اس حرکت سے واقف نہیں تھا چناں چہ اس کا رنگ فق ہو گیا مگر ہم جب اندر داخل ہوئے تو اس وقت میزبان کی پریشانی سمجھ آئی‘ اس کی ڈائننگ ٹیبل پر پہلے سے چار لوگ بیٹھے تھے‘ اس نے اس دن اپنے چار دوستوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا‘ ٹیبل پر چھ لوگ بیٹھ سکتے تھے‘ ایک وہ خود تھا‘ دوسرا میں تھا اور باقی چار اس کے دوست تھے۔

میز پر چائے کے بھی چھ برتن لگے تھے اور میں بھی اپنے ساتھ تین لوگ لے آیا تھا اور یوں ہم کل نو لوگ ہو گئے لہٰذا وہاں بحران پیدا ہو گیا‘ میزبان بیچاراسارا وقت اضافی چائے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہا‘ اس کے دوست ہمارے لیے ٹیبل خالی کرنے پر مجبور ہو گئے‘ ہم میز پر بیٹھ گئے جب کہ وہ بے چارے اسٹول پکڑ کر دائیں بائیں فٹ ہو گئے‘ بہرحال قصہ مختصر وہ ملاقات ٹھیک ٹھاک کرائسیس کا شکار ہو گئی‘ ہم کوئی ڈھنگ کی بات کر سکے اور نہ میزبان ٹک سکا۔

میری زندگی کا دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ ہول ناک ہے‘ کراچی کے ایک صاحب میرے فین تھے‘ وہ بے چارے غریب انسان تھے‘ ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کرتے تھے‘ وہ مجھے کھانے پر بلانے کے لیے بہت اصرار کرتے تھے‘ میں نے ایک دن ان کا دل رکھنے کے لیے ہاں کر دی‘ وہ اسلام آباد آئے ہوئے تھے‘ انھوں نے مجھے ایک ریستوران میں دعوت دے دی اور میں اس بار بھی دو بندے ساتھ لے گیا‘ ہم ریستوران پہنچے تو اس شریف آدمی نے اپنے ایک دوست کو بھی انوائٹ کیا ہوا تھا‘ اس کے پاس صرف تین لوگوں کا بجٹ تھا جب کہ ہم پانچ ہو گئے ‘ وہ بے چارہ کھانے کے دوران مسلسل دائیں بائیں دیکھتا رہا۔

میں اس وقت زیادہ بولڈ اور مہذب نہیں تھا ورنہ میں بل دے کر اس کی ٹینشن کم کر دیتا‘ میں اگر آج یہ غلطی کرتا ہوں تو میں ریستوران میں داخل ہوتے ہی میزبان بن جاتا ہوں اور ویٹر کو شروع میں ہی بتا دیتا ہوں تم نے بل مجھ سے لینا ہے‘ میں میزبان کو بھی اطلاع کر دیتا ہوں اور وہ خواہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو مگر میں اسے بل نہیں دینے دیتا لیکن اس زمانے میں مجھے ان باریکیوں کا اندازہ تھا اور نہ اتنی جرات تھی لہٰذا میں اس دن بل کے وقت خاموش بیٹھا رہا‘ وہ بے چارہ بل دیکھ کر پریشان ہو گیا اور وہ بل اس کے دوست اور اس نے پیسے ملا کر دیا اور میں آج تک اپنی اس حماقت پر شرمندہ ہوں۔ میرے ساتھ بھی ایک دن یہی ہوا‘ یہ 20سال پرانی بات ہے۔

میں نے پانچ مختلف لوگوں کو کھانے پر بلایا اور وہاں چودہ لوگ پہنچ گئے‘ ریستوران مکمل بک تھا لہٰذا ہمیں ٹیبل چھوڑ کر بڑی میز کے لیے پون گھنٹہ انتظار کرنا پڑا‘ دوسرا میرے پاس اضافی لوگوں کے بل کے لیے رقم نہیں تھی‘ میں اس زمانے میں کریڈٹ کارڈ بھی نہیں رکھتا تھا اور میرے پاس ڈرائیور بھی نہیں تھا چناں چہ میں شدید پریشانی میں دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور مجھے اپنے کسی مہمان کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی‘ بہرحال قصہ مختصر میں منیجر کے پاس گیا اور اسے ساری بات سمجھائی‘ وہ بھلا آدمی تھا‘ اس نے میری مدد کی اور میں نے دوسرے دن اس کا بل ادا کیا۔

میں نے ان واقعات کے بعد زندگی میں اصول بنا لیا‘ مجھے اگر کسی جگہ مدعو کیا جاتا ہے تو میںاکیلا جاتا ہوں اور اگر کسی کو ساتھ لے جانا ضروری ہو تو پہلے میزبان سے اجازت لیتا ہوں اور اسے اپنے ساتھی کے پروفائل اور ساتھ آنے کی وجہ بتاتا ہوں‘ اس سے میں‘ میزبان اور میرے ساتھ جانے والا شخص شرمندگی سے بچ جاتے ہیں‘ میں نے اب ’’بے شرمی‘‘ کے ساتھ اپنے ملاقاتیوں سے بھی پوچھنا شروع کر دیا ہے ’’آپ اکیلے تشریف لا رہے ہیں یا آپ کے ساتھ بھی کوئی ہو گا‘‘ اس سے مجھے میز پر کھانا اور چائے لگانے میں سہولت ہو جاتی ہے۔

مہمان اگر کھانے کے وقت آ رہے ہوں تو میں ان کو لنچ اور ڈنر کی دعوت بھی دے دیتا ہوں‘ یہ اگر میری دعوت قبول کر لیں تو میں ان سے ان کی مرضی کا کھانا بھی پوچھ لیتا ہوں‘ آج کے زمانے میں لوگ مخصوص کھانا کھاتے ہیں‘ کوئی نمک مرچ پسند نہیں کرتا‘ کوئی میٹھے سے پرہیز کرتا ہے اور کسی کو کھٹے کھانوں سے الرجی ہوتی ہے‘ کچھ لوگ دیسی کھانے کھاتے ہیں اور کچھ پورپین کھانے پسند کرتے ہیں‘ آج کل مہمانوں کی مرضی کے مطابق ریستوران سے کھانا بھی منگوایا جا سکتا ہے چناں چہ پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا‘ میرے ایک دوست مجھ سے زیادہ چالاک ہیں‘ وہ مہمان سے پوچھنے کے بجائے اسے بتا دیتے ہیں۔

میرے پاس بڑی اچھی مچھلی یا اچھا گوشت اور اچھی سبزی ہے اور میرا کک فلاں فلاں ڈش بہت اچھی بناتا ہے‘ آپ کیا پسند کریں گے‘ مہمان کے پاس اب تین چار آپشنز ہوتے ہیں‘وہ ان میں سے کوئی ایک سلیکٹ کر لیتا ہے‘ میں نے وقت کے ساتھ یہ بھی سیکھا جب کوئی شخص دعوت دے تو وقت پر پہنچیں‘ ہو سکتا ہے اس کے بعد اس کی کوئی مصروفیت ہو یا اگر اس نے کسی ریستوران پر دعوت دی ہے تو ریستوران نے کھانے کا وقت فکس کر رکھا ہو اور ہمارے بعد کسی دوسرے کی بکنگ ہو‘ میرے ایک پرانے دوست ہیں۔

جاوید اقبال‘ یہ کارٹونسٹ ہیں‘ چالیس سال سے جنگ اخبار کے لیے کارٹون بنارہے ہیں‘ میں نے ان سے ایک حیران کن چیز سیکھی‘ یہ جب بھی میرے پاس آتے ہیں‘ یہ اپنی آمد کے ساتھ رخصتی کا وقت بھی بتا دیتے ہیں‘ یہ بتاتے ہیں میں اڑھائی بجے آپ کے پاس آئوں گا اور سوا تین بجے چلا جائوں گا‘ اس کے بعد میری کسی جگہ مصروفیت ہے اور یہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیتے ہیں یہ کیا کھائیں گے اور کیا پئیں گے‘ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں‘ میزبان اپنے شیڈول کو ری شیڈول کر لیتا ہے اور دوسرا وہ ان کی مرضی کی چائے اور کھانے پینے کا اہتمام کر سکتاہے‘ اس سے وقت اور خوراک ضایع ہونے سے بچ جاتی ہے۔

ہمارے گھروں میں روزانہ مہمان نوازی کی مد میں ٹنوں کے حساب سے خوراک ضایع ہوتی ہے‘ خواتین سارا سارا دن خوراک تلتی اور پکاتی رہتی ہیں اور مہمان بعض اوقات انھیں چھوئے بغیر واپس چلے جاتے ہیں اور یوں خوراک‘ توانائی اور وقت تینوں برباد ہو جاتے ہیں‘ ریستورانوں میں یہ بدعت عام ہے‘ ہم غیر ضروری آرڈر کرتے ہیں اور یہ خوراک بعدازاں ڈسٹ بنوں میں چلی جاتی ہے اور یہ اس ملک میں ہوتا ہے جس کی ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے‘ یہ نہیں ہونا چاہیے چناں چہ میں بھی اب جاوید اقبال صاحب کی پیروی میں میزبان کو پہلے بتاتا ہوں میں فلاں وقت آئوں گا اور فلاں وقت واپس چلا جائوں گا اور صرف چائے کا ایک کپ یا گرین ٹی پیوں گا اور بس۔

میں نے وقت کے ساتھ ایک اور چیز بھی سیکھی اور یہ بھی میرے دوستوں نے مجھے سکھائی‘ ہم جب کسی کے گھر دعوت پر جاتے ہیں تو ہم کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے کر جاتے ہیں اور اپنے مہمان کو پہلے اس چیز کے بارے میں اطلاع کرتے ہیں مثلاً ہم ڈنر پر مدعو ہیں‘ ہم اپنے میزبان کو بتائیں گے آپ سویٹ ڈش تیار نہ کیجیے گا‘ ہم فلاں کیک‘ قلفی‘ کھیر یا حلوہ لے کر آ رہے ہیں اور ہم مل کر اسے انجوائے کریں گے‘ اس سے دو فائدے ہوتے ہیں‘ ہم میزبان کا بوجھ بانٹ لیتے ہیں اور دوسرا خواتین سویٹ بنانے کے جھنجٹ سے بچ جاتی ہیں۔

آپ کو اگر یہ آئیڈیا اچھا لگے تو پھر آپ ایک اور چیز کا خیال بھی رکھیں‘ آپ زیادہ مقدار میں چیز لے کر جائیں تاکہ میزبان کے گھر والے بھی اسے ایک دو دن انجوائے کر سکیں‘ ایسا نہ ہو آپ اپنی قلفی خود ہی کھا کر رخصت ہو جائیں اور خواتین بے چاری جھوٹے برتن مانجھتی رہ جائیں اور آخری بات جس شخص کے گھر یا دفتر جائیں اور وہ آپ کی خدمت کرے تو اس کا شکریہ ضرور اداکریں‘ کھانے اور سروس کی تعریف بھی کریں اور اس کے گھر‘ دفتر اور ریستوران کی بھی۔

ریستوران کا انتخاب میزبان نے کیا ہے اور آرڈر بھی اس نے دیا ہے لہٰذا وہ تعریف کا مستحق ہے‘ کھانے میں کبھی نقص نہ نکالیں‘ نہ سامنے اور نہ بعد میں‘ یہ انتہائی واہیات حرکت ہوتی ہے‘ کھانے کے دوران کوئی اضافی چیز مثلاً دہی‘ اچار‘ سلائس‘ چمچ یاپلیٹ نہ مانگیں‘ ہو سکتا ہے میزبان کے پاس وہ موجود نہ ہو اور وہ شرمندہ ہو جائے لہٰذا جو سامنے ہے اسی کو انجوائے کریں اور کھل کر اس کی تعریف کریں یہ منافقت نہیں ہوتی‘اسے تہذیب اور شائستگی کہتے ہیں

بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس

کمپیوٹر اور لیپٹاپ کے مخلتف bios مینو میں کیسے جاتے ہیں آئیں سیکھتے ہیں
23/02/2026

کمپیوٹر اور لیپٹاپ کے مخلتف bios مینو میں کیسے جاتے ہیں آئیں سیکھتے ہیں

پیسہ شور سے ڈرتا ہےآپ نے شاید کبھی سوچا ہو کہ بینکوں میں موسیقی کیوں نہیں چلتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیسہ شور سے ڈرتا ہے۔ ...
14/02/2026

پیسہ شور سے ڈرتا ہے
آپ نے شاید کبھی سوچا ہو کہ بینکوں میں موسیقی کیوں نہیں چلتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیسہ شور سے ڈرتا ہے۔ ہم نے کبھی ارب پتیوں کو ان کلبوں میں نہیں دیکھا جہاں تیز آواز میں موسیقی بج رہی ہو۔ وہ ان کلبوں میں بیٹھتے ہیں جہاں ہلکی موسیقی چل رہی ہو اور وہ کاروباری معاملات پر بات کرتے ہیں۔
جہاں بھی آپ لوگوں کو اونچی آواز میں موسیقی پر دھوم دھام سے ناچتے اور پسینے میں شرابور دیکھتے ہیں، بس یہ جان لیں کہ وہاں پیسہ بہت غیر حاضر ہے، سوائے کلب کے مالک کے۔
اور جب آپ کسی کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ بہت امیر ہیں اور اپنے اثاثے دکھا رہے ہوتے ہیں، تو جان لیں کہ پیسہ جلد ہی ان سے دور ہونے والا ہے کیونکہ پیسہ شور سے ڈرتا ہے۔

پیسہ فطرتاً خاموش رہتا ہے۔
جب بھی کسی خاندان میں جھگڑے شروع ہوتے ہیں، پیسہ پر لگاتا ہے۔ اور اچانک سے وہاں مایوسیاں آ جاتی ہیں، بیماریاں جن کے علاج کے لیے اسپتال کے اخراجات درکار ہوتے ہیں، اور دیگر مسائل جن کی وجہ سے پیسہ خاندان سے نکلتا چلا جاتا ہے۔

اگر آپ پیسے کے لیے سازگار ماحول بنانا چاہتے ہیں تو بس اپنے ارد گرد امن کو برقرار رکھیں، تو پیسہ وہاں ٹھہر جائے گا۔ ایک بے چین آدمی بہت بدقسمت ہوتا ہے۔ اگر آپ مالی برکت چاہتے ہیں تو غیر ضروری جھگڑوں اور الزام تراشیوں سے پرہیز کریں۔

لوگ کہتے ہیں کہ پیسہ بولتا ہے ،لیکن ہم کہتے ہیں کہ پیسہ سنتا ہے۔

میری جاہل بیوی روٹی تک نہ بنا سکتی تھی۔ نہ سلیقہ، نہ بات کرنے کا ڈھنگ، نہ میرے شہر کے معیار کی کوئی سمجھ۔ میں اسے گاؤں م...
13/02/2026

میری جاہل بیوی روٹی تک نہ بنا سکتی تھی۔ نہ سلیقہ، نہ بات کرنے کا ڈھنگ، نہ میرے شہر کے معیار کی کوئی سمجھ۔ میں اسے گاؤں میں چھوڑ کر شہر آ گیا اور وہاں دوسری شادی کر لی۔ شہر کی پڑھی لکھی، سلیقہ مند، بناؤ سنگھار جاننے والی عورت مجھے زیادہ موزوں لگی۔ میں نے گاؤں والی بیوی سے تعلق تقریباً ختم ہی کر دیا۔ کبھی کبھار خرچ بھیج دیتا، بس یہی سمجھتا تھا کہ میرا فرض پورا ہو گیا۔
سال گزرتے گئے۔ ایک دن کسی کام سے گاؤں جانا پڑا۔ دل میں وہی پرانا خیال تھا کہ کچا گھر ہوگا، ویرانی ہوگی، شاید بیوی اب بھی اسی حالت میں ہو جس حالت میں چھوڑ کر آیا تھا۔ مگر جیسے ہی گاؤں کی حدود میں داخل ہوا، میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
جہاں کبھی میرا کچا سا گھر ہوا کرتا تھا، وہاں اب ایک شاندار حویلی کھڑی تھی۔ اونچا دروازہ، پکی دیواریں، اندر صحن میں ٹھنڈا پانی، درخت، اور سکون۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ سب کس کا ہے۔ کسی نے بتایا،
“یہ تو آپ کا ہی گھر ہے۔”
میرے قدم لرز گئے۔
میں ابھی حیرت سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ گاؤں کے بڑے بڑے زمیندار، وہی لوگ جو کبھی مجھے سلام تک کا جواب مشکل سے دیتے تھے، آ کر میرے قدموں میں بیٹھ گئے۔
“بھائی صاحب، ذرا اپنی بیوی سے کہہ دیجئے…”
“ہمارا مسئلہ حل کروا دیں…”
“کسی کا بیٹا جیل میں ہے، کسی کی زمین کا جھگڑا ہے، کہیں بجلی کا مسئلہ ہے، کہیں پانی کا…”
میں ہکا بکا رہ گیا۔
میری جاہل بیوی؟
جو روٹی تک نہ بنا سکتی تھی؟
یہ سب کیسے؟
میں دل ہی دل میں پریشان تھا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ اسی لمحے وہ سامنے آئی۔
میں نے سر اٹھایا تو میرا سر شرم سے جھک گیا۔ وہ عورت جسے میں نے جاہل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا، آج ایک باوقار، پُرسکون اور رعب دار خاتون کے طور پر میرے سامنے کھڑی تھی۔ سادہ لباس، آنکھوں میں اعتماد، چہرے پر وقار۔ نہ غرور، نہ شکایت۔
اس نے مجھے دیکھا، پہچانا، مگر کوئی شکوہ نہ کیا۔ بس آہستہ سے بولی،
“آپ آ گئے؟ اندر تشریف لائیے۔”
میں اس کے پیچھے چل دیا۔ حویلی کے اندر ہر چیز ترتیب سے تھی۔ نوکر تھے، مگر بے جا شور نہیں۔ ہر کام وقت پر، ہر شخص مطمئن۔
میں نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا،
“یہ سب… کیسے؟”
وہ مسکرائی،
“جب آپ چلے گئے تھے تو میں واقعی جاہل تھی۔ مگر میں نے ایک بات سمجھ لی تھی… جاہل وہ نہیں ہوتا جسے کچھ نہیں آتا، جاہل وہ ہوتا ہے جو سیکھنا نہیں چاہتا۔”
وہ بولتی گئی اور میں خاموش سنتا رہا۔
“میں نے روٹی بنانا سیکھا، حساب کتاب سیکھا، قرآن سمجھ کر پڑھا، لوگوں کی بات سننا سیکھا۔ جب گاؤں کے لوگوں کو مسئلے درپیش ہوتے، وہ میرے پاس آ جاتے۔ میں نے انہیں جوڑنا سیکھا، توڑنا نہیں۔”
وہ رکی، پھر آہستہ سے بولی،
“آپ نے مجھے چھوڑا، مگر ذمہ داری نہیں چھوڑی۔ جو تھوڑا بہت خرچ آتا تھا، میں نے اسے امانت سمجھ کر بڑھایا۔ زمین سنبھالی، فیصلے کیے، ظلم کے آگے کھڑی ہوئی۔”
میری آنکھیں نم ہو گئیں۔
اسی وقت ایک بوڑھا زمیندار اندر آیا۔ ہاتھ جوڑ کر بولا،
“بی بی جی، اللہ آپ کو سلامت رکھے، میرے بیٹے کا مسئلہ حل ہو گیا۔”
وہ سر ہلا کر بولی،
“اللہ کا شکر ادا کریں، میرا نہیں۔”
وہ بوڑھا مجھے دیکھ کر بولا،
“بھائی صاحب، آپ خوش نصیب ہیں۔ ایسی عورتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔”
میرا دل بیٹھ سا گیا۔
میں نے لرزتی آواز میں پوچھا،
“تمہیں مجھ سے کوئی شکوہ نہیں؟”
وہ میری طرف دیکھی، اس نظر میں نہ غصہ تھا نہ نفرت۔
“شکوہ تب ہوتا ہے جب امید باقی ہو۔ میں نے اپنی امید اللہ سے جوڑ لی تھی۔”
وہ بات میرے سینے میں تیر کی طرح لگی۔
میں نے اس دن جانا کہ میں نے دولت نہیں، عقل نہیں، بلکہ ایک ہیرے کو ٹھوکر مار دی تھی۔
میں جسے جاہل سمجھتا رہا، وہ اصل میں صابر تھی۔
جس کو کم عقل سمجھا، وہ تدبر والی نکلی۔
اور جسے چھوڑ آیا، وہ پورے گاؤں کی ماں بن گئی۔
شام کو میں حویلی کے صحن میں اکیلا بیٹھا تھا۔ وہ میرے پاس آئی اور بولی،
“آپ چاہیں تو یہاں رہ سکتے ہیں، یہ گھر اب بھی آپ کا ہے۔”
میں نے نظریں جھکا لیں۔
“یہ گھر تمہارا ہے… اور یہ عزت بھی۔”
اس دن مجھے سمجھ آیا کہ عورت کو جاہل کہہ کر چھوڑ دینا آسان ہوتا ہے،
مگر اس کے صبر کے آگے ایک دن بڑے بڑے مردوں کے سر جھک ہی جاتے ہیں۔
اور میں…
میں ساری زندگی یہ سوچتا رہ گیا کہ کاش میں نے روٹی نہ بنا سکنے پر فیصلہ نہ کیا ہوتا،
کیونکہ اس عورت نے جو زندگی بنائی، وہ کسی باورچی خانے سے کہیں بڑی تھی۔

Address

G164 Naz Plaza M. A Jinnah Road
Karachi

Opening Hours

Monday 01:00 - 22:00
Tuesday 01:00 - 22:00
Wednesday 01:00 - 22:00
Thursday 01:00 - 22:00
Friday 01:00 - 22:00
Saturday 01:00 - 22:00

Telephone

+923002278053

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pc Bank posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pc Bank:

Share

Category