Hunar kada

Hunar kada "Hunar Kada" is a mission-based institute, targeting to make the nation skilful, focussing on women.

*************** *اہم اعلان* ***********السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہحکومت پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق بسلسلہ *یوم ولاد...
25/12/2025

*************** *اہم اعلان* ***********
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حکومت پاکستان کے اعلامیہ کے مطابق بسلسلہ *یوم ولادت قائد اعظم* کل *25 دسمبر 2025 بروز جمعرات* عام تعطیل ہے۔ لہٰذا ہنر کدہ میں تمام تدریسی اور دفتری امور معطل رہیں گے۔

شکریہ
انتظامیہ
*ہنر کدہ*
Institute of Skill Development

اسلام علیکم! ہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپسز کا آغاز *14جولائی 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔Beautician (3pm to 4pm) ...
12/07/2025

اسلام علیکم!
ہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپسز کا آغاز *14جولائی 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔

Beautician (3pm to 4pm)
English Language (4pm to 5pm)

خواہشمند طلبہ آفس سے رابطہ کریں یا درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
0344-2577034
0315-2121860

Facebook:
https://www.facebook.com/share/1GZaeZRxtX/

Instagram:
https://www.instagram.com/hunarkadainstitute.com.pk?igsh=Njh2b2RicDFvNTQy

*Hunar kada*
_Institute of Skill Development_

اسلام علیکم! ہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپسز کا آغاز *30 جون 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔خطاطی (Calligraphy) 5 بجےس...
29/06/2025

اسلام علیکم!
ہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپسز کا آغاز *30 جون 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔

خطاطی (Calligraphy) 5 بجے

سوشل میڈیا مارکٹنگ 6 بجے

خواہشمند افراد درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں۔
0315-2121860
0344-2577034

*Facebook:*
https://www.facebook.com/share/1GZaeZRxtX/

*Instagram:*
https://www.instagram.com/hunarkadainstitute.com.pk?igsh=Njh2b2RicDFvNTQy

*Hunar kada*
_Institute of Skill Development_

اسلام علیکمہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپ کا آغاز *30 جون 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔* خطاطی (Calligraphy)  *5 بجے*...
24/06/2025

اسلام علیکم
ہنر کدہ میں درج ذیل نئے گروپ کا آغاز *30 جون 2025* بروز *پیر* سے کیا جا رہا ہے۔

* خطاطی (Calligraphy) *5 بجے*

خواہشمند طلبہ آفس سے رابطہ کریں۔

شکریہ
انتظامیہ
*ہنر کدہ*
Institute of Skill Development

اسلام علیکم*کورسز کے نئے گروپ کا آغاز  *12 مئی 2025* بروز پیر سے کیا جا رہا ہے۔خواہشمند طالبات درج ذیل نمبرز پر رابطہ کر...
06/05/2025

اسلام علیکم

*کورسز کے نئے گروپ کا آغاز *12 مئی 2025* بروز پیر سے کیا جا رہا ہے۔

خواہشمند طالبات درج ذیل نمبرز پر رابطہ کریں۔
0334-3723263 & 0315-2121860

شکریہ
انتظامیہ
*ہنر کدہ* Institute of Skill Development

05/03/2025
21/07/2024

سیدازم

یو پی انڈیا میں ایک پرانی کہاوت ہے
کل میں جولاہا تھا، آج کل میں شیخ ہوں، اگر میری زمین نے غلہ زیادہ اگلا تو کل میں سید بھی بن جاؤں گا. اس کہاوت میں سیدوں کی پیداوار اور برصغیر میں ذاتوں کی درجہ بندی کی ساری سائنس چھپی ہے.

اسلام جب ہندوستان میں آیا تو یہاں کے کلچر کو فتح نہ کر سکا بلکہ ہندوستانی تہذیب نے ہی اسلام کو مغلوب کر لیا ہندوستانی تہذیب اور اسلام کے ملاپ سے جس تہذیب نے جنم لیا اس کی ایک شاخ سید پرستی بھی ہے

ہندؤں میں جہاں پہلے برہمن مقدس تھے اور خود کو اونچی ذات کا باور کرواتے تھے اسلام نے اسی ”برہمن ازم“ کو مسلمان کر لیا۔ نچلی ذات کے جو ہندو اسلامی مساوات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے تھے، اُنھیں یہاں بھی سیدوں کی شکل میں ”برہمن ازم“ کا سامنا کرنا پڑا. بس فرق اتنا تھا کہ وہ ذات سے جولاہے، قصائی، نائی اور موچی بن گئے۔

سید خود کو حضرت علی کی نسل سے جوڑ کر مقدس بنا لیتے ہیں۔
اس سے ان کا سماجی رتبہ بلند ہوتا ہے اور پھر کئی معاشی اور سیاسی فوائد بھی ملتے. اس لئے سید پیدواری کا دھندہ خاصا زرخیز ہوتا گیا۔ یوپی والی کہاوت کے مطابق ”جن جولاہوں کی فصل اچھی ہوتی گئی وہ سید بنتے گئے۔“ سید پیدواری کے عمل نے مسلمانوں میں بھی ذات پیدا کرنا شروع کر دئیے، مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ایک طرف خود کو عربی النسل کہلانے والے اشراف بن گئے۔

اور دوسری طرف ہندوستانی نسل والوں پر اجلاف کا کلنک لگا دیا گیا۔
کسی انسان کو اس کے نسب کی بنیاد پر مقدس اور کمتر قرار دینا انسانیت کی سب سے بڑی توہین ہے۔
سید خود کو بہت ہی بلند تر سمجھتے۔ غیر سید سے رشتہ کرنے کو اپنی توہین سمجھتے یہ کیا ہے؟
یہاں کی جاہل عوام کو دیکھیں خود کو شودر سمجھ کر اُنھیں مقدس دیوتا بنا دیا میں نے خود لوگوں کے منہ سے سنا ہے جو خود کو سیدوں کا کتا کہلواتے ہیں، سگ فلاں اور سگ فلاں۔ اس سے بڑھ کر انسان کی توہین کیا ہوگی۔

برلن کی یونیورسٹی نے شیعب نیازی صاحب کا آرٹیکل پبلش کیا تھا۔ جس باریکی سے نیازی صاحب نے ہندوستانی مسلمانوں کے بیچ ذاتوں کی درجہ بندی کو بیان کیا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔

اُنھوں یو پی جھاڑ کھنڈ کے قصبے امروہہ کی ذاتوں کے ڈھانچے پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ امروہہ وہی قصبہ ہے جہاں سے رئیس امروہوی اور سید جون ایلیاء تعلق رکھتے تھے یہاں خود کو سید اور عباسی کہلوانے والے کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ اسی وجہ سے امروہہ کو قصبہ سادات بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں کی آبادی عربی، عجمی اور ہندی نسل میں منقسم ہے۔ عربوں میں ہاشمی انصاری اور قریشی تھے. عجمیوں میں مغل اور پٹھان جبکہ ہندی مسلم آبادی پیشہ وروں یعنی جولاہوں، میراثیوں وغیرہ پر مشتمل تھی۔
مسلم سماج میں ذاتوں کی یہ کشمکش صرف امروہہ میں ہی نہیں بلکہ ہر قصبے میں نظر آتی ہے۔

اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ
کیا اتنی کثیر تعداد میں سادات کی ہندوستان کی جانب ہجرت کی کوئی تاریخی وجہ نظر آتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
ہندوستان میں جو زیادہ تر سید آئے وہ ایران افغانستان کے راستے آئے۔
اور ان کی آمد کا مقصد تبلیغی نوعیت کا تھا نہ کہ آبادکاری کا،
یہاں پر ایک اور لطیف نکتہ بیان کروں کہ جدید سید پرستی کی ایک لاشعوری وجہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں جتنی بھی اصلاحی اور قوم پرستى تحريکیں اُبھریں ان میں سے اکثر کی قیادت سید برادری کے پاس رہی۔
چاہے شاہ ولی الله ہوں،
شاہ اسماعیل شھید،
پير صبغت الله راشدى،
جی ایم سید
یا سید احمد شہید،
جماعت اسلامی کے سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب۔ یا صوفی سلاسل کے امیر!!
مگر یہاں سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں سادات برصغیر میں کیا کر رہے ہیں۔ ہر گاؤں، محلے میں کوئی نہ کوئی سید فیکٹری لگی ہوئی ہے۔
سن دو ہزار میں اس موضوع پر ایک جینیاتی تحقیق ہوئی تھی۔
اس میں انڈیا اور پاکستان کے سیدوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا۔
اس کے رزلٹ حیران کن تھے۔

جو سید خود کو ایک ہی عربی نسب سے جوڑتے ہیں ان میں زیادہ تر کا ڈی این اے عرب ڈی این اے سے میچ ہی نہیں کرتا تھا اور اس سے بڑی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انڈیا پاکستان کے سیدوں کے
Y chromosomes
کا گروپ ایک جیسا ہوتا کیونکہ دونوں کا سلسلہ نسب ایک تھا مگر تشویشناک بات یہ تھی کہ
لکھنو کے سید اور پنجاب کے سید کے ڈی این اے میں وہی فرق نظر آ رہا تھا جو ایک مغل اور آرائیں کے ڈی این اے میں آنا چاہیے تھا۔
بعدا ازاں اسی جینیاتی تحقیق پر
Else MS bellie
نے
The Y chromosomes of self identified sayyids in indo pak sub continent
کے نام سے یہ مقالہ لکھا اور یہ مقالہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے. گوگل پر موجود ہے۔
اس کے مطابق بیشتر سیدوں کا
ڈی این اے
(halplo group j1 j2)
سے تعلق رکھتا ہے جو سینٹرل ایشیائی لوگوں کا ہوتا ہے نہ کہ عربی لوگوں کا.
اس کی تاریخی وجہ بھی نظر آتی ہے۔ ہندوستان میں بیشتر مسلم اشرافیہ سینٹرل ایشیا سے وارد ہوئی جو بعدازاں برہمن ازم کے اثر تلے سید بن گئے۔

یہی ہندوستانی مسلمان کا تہذیبی مسئلہ رہا ہے کہ وہ اپنی ہندوستانی نسبت سے ہمیشہ بھاگتا رہا ہے، کبھی وہ خود کو نیل کے ساحل سے جوڑتا رہا، کبھی غرناطہ سے، تو کبھی سمرقند اور بخارا سے اور جس فخر سے پاکستان کے مسلمان اپنے شجرے سینٹرل ایشیاء اور عرب سے جوڑتے ہیں اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ عربی اور ترکستانی حملہ آوروں نے برصغیر کو گائنی وارڈ بنا رکھا تھا جہاں وہ بچے پیدا کرنے آتے تھے۔

منقول

************** *اہم اعلان* ***********اسلام علیکممختلف کورسز کے *نئے گروپس* کا آغاز کیا جا رہا ہے.* بیوٹیشن اور انگلش لی...
11/07/2024

************** *اہم اعلان* ***********
اسلام علیکم

مختلف کورسز کے *نئے گروپس* کا آغاز کیا جا رہا ہے.

* بیوٹیشن اور انگلش لینگویج۔ 22 جولائی 2024
* کٹنگ اور اسٹچنگ۔ 24 جولائی 2024
* سی آئی ٹی 05 اگست 2024
* گرافکس ڈیزائیننگ 05 اگست 2024

خواہشمند طلبہ شام 3 بجے سے 7 بجے کے دوران رابطہ کریں۔

شکریہ
انتظامیہ
ہنر کدہ (An Institute of Skill Development)

09/07/2024

فخر پاکستان ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی کا کراچی والو کیلئیے ایک اور تحفہ۔

09/07/2024

************** *اہم اعلان* ***********
اسلام علیکم
برسات کے باعث آج (9 جولائی 2024) بھی *ہنرکدہ میں تمام تدریسی اور دفتری امور معطل رہیں گے*

شکریہ

انتظامیہ
Hunar kada (ہنر کدہ)
An an Institute of Skill Development

05/07/2024

🥀 _*استاد اور شہد کی مکھی*_ 🥀

ایک طالبِ علم نے اپنے استاد صاحب سے عرض کی استاد محترم آپ کے پیریڈ میں ہم بات اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں آپ کی باتوں کا لطف بھی اٹھاتے ہیں اور اس لیے آپ کے پیریڈ کا انتظار بھی رہتا ہے لیکن جب ہم کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں وہ لطف حاصل نہیں ہوتا جو آپ کے پیریڈ میں حاصل ہوتا ہے
استاد صاحب نے فرمایا شہد کی مکھی شہد کیسے بناتی ہے؟
ایک طالب علم نے جواب دیا پھولوں کے رس سے
استاد صاحب نے پوچھا اگر تم پھولوں کو یونہی کھا لو تو ان کا ذائقہ کیسا ہو گا؟
طالب علم نے جواب دیا کڑوا ہوگا
استاد صاحب نے فرمایا
اے میرے بیٹے درس وتدریس کا شعبہ بھی شہد کے مکھی کے کام کی طرح ہے استاد شہد کی مکھی کی طرح لاکھوں پھولوں (کتب، تجربات، مشاہدات) کا دورہ کرتا ہے اور پھر اپنے طلبہ کے سامنے ان پھولوں کے رس کا نچوڑ میٹھے شہد (خلاصے) کی صورت میں لا کر رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جو انبیاء کے اس کام سے تعلق رکھتا ہے
ہمارے ہر استاد اور استانی کے لیے سلامتی ہو🌹

استاد کا کام شہد کی مکھی کے کام کی طرح سخت اور تھکا دینے والا ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی شہد جیسا لذیذ وشیریں ہے❤️

Address

Khurram Zaki Shaheed Road
Karachi
75850

Opening Hours

Monday 03:00 - 19:00
Tuesday 03:00 - 19:00
Wednesday 03:00 - 19:00
Thursday 03:00 - 19:00
Saturday 03:00 - 19:00

Telephone

+923343723263

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hunar kada posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hunar kada:

Share