04/03/2026
تین نہیں، دو: فروخت کا ایک نفسیاتی گر
اس ویڈیو میں مشہور مصنف اور سپیکر سائمن سینک ایک پرانی مگر اثر دار کہانی سناتے ہیں:
"1950 کی دہائی میں لاس اینجلس کا ایک بہت کامیاب کاروباری شخص تھا جس کی خواتین کے جوتوں کی بہت ساری دکانیں تھیں۔ جب ایک صحافی نے اس سے اس کی کامیابی کا راز پوچھا، تو اس نے کہا: 'تین نہیں، دو۔'
اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب کوئی خاتون میری دکان پر آتی اور جوتوں کا ایک جوڑا پسند کرتی، پھر وہ دوسرا جوڑا دیکھنے کی فرمائش کرتی، تو میں وہ بھی لے آتا۔ لیکن جب وہ تیسرے جوڑے کی فرمائش کرتی، تو میں پوچھتا:
'ان پہلے دو جوڑوں میں سے میں کون سا واپس رکھ دوں؟'
اس کا تجربہ یہ تھا کہ جب لوگوں کے پاس تین چیزوں کا انتخاب ہوتا ہے، تو وہ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اکثر کچھ بھی نہیں خریدتے۔ لیکن جب ان کے پاس صرف دو آپشنز ہوتے ہیں، تو فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور وہ ایک چیز ضرور خرید لیتے ہیں۔
سائمن سینک کہتے ہیں کہ وہ خود بھی اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں۔ وہ آپشنز کو آپس میں مقابلہ کروا کر ایک ایک کر کے نکالتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ صرف دو بہترین آپشنز رہ جائیں۔ اس سے فیصلہ لینا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔"