13/07/2026
اکیس سال بعد خوفناک زلزلے کی یادیں تازہ ہوگئیں جب ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کے علاقے گراں ڈھیری محلہ خواجہ خیلی میں پانچ سالہ جمال شفیق ولد قاری شفیق الرحمن کی لاش برآمد ہوئی۔ آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں مکان کے نیچے دب کر وہ شہید ہو گیا تھا۔ والد قاری شفیق الرحمن نے بتایا کہ کئی ماہ تک بچے کی لاش ملبے میں تلاش کی گئی مگر ناکامی ہوئی۔ اب، اکیس سال بعد جب مکان کی دوبارہ تعمیر کے لئے کھدائی شروع کی گئی تو دورانِ کھدائی بچے کے کپڑے نظر آئے اور ملبہ ہٹانے پر بچے کی نعش برآمد ہوئی۔ اس کے بعد بچے کی نماز جنازہ ادا کر کے اسے قریبی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ والد شفیق الرحمن نے کہا کہ جمال شفیق کے لاپتہ ہونے پر اکیس سال کرب میں گزارے، لیکن اب لاش ملنے سے پرانے زخم تازہ ہوگئے، مگر بچے کی آخری آرامگاہ بنا کر تسلی بھی ہوئی۔ واضح رہے کہ زلزلے میں
شفیق الرحمن کی والدہ، اہلیہ اور دونوں بچے شہید ہوگئے تھے۔