07/03/2026
اسرائیل کا کل رقبہ 22 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ جبکہ ہمارے ایک ڈویژن بہاولپور کا رقبہ 45 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد ہے۔
پھر کیسے ایک ڈویژن سے بھی آدھے سائز کا ملک 57 اسلامی ممالک کو کھنڈر بنانے پر تلا ہوا ہے؟
اسرائیل کی اس تیاری کو غور سے سمجھیے۔ اسرائیل اپنے 15 سے 18 سال کے نوجوان کو مستقبل کی ورک فورس سمجھتا ہے، انہیں تحقیق، ٹیکنالوجی اور لیڈرشپ سکلز کی تربیت دیتا ہے جس کی وجہ سے ان کے نوجوان کم عمری میں ہی باصلاحیت ہوکر اپنے مذہبی اور قومی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس میں یہ بات واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے کہ اسرائیل کے نوجوان کم عمری میں ہی innovation اور entrepreneurship کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ OECD جو معیشت، تعلیم، روزگار اور پالیسی سازی پر تحقیق کرکے حکومتوں کو معیشت کی مضبوطی، روزگار اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر کرنے کیلئے ڈیٹا اور پالیسی آئیڈیاز دیتا ہے، اس کے مطابق اسرائیل کے سٹوڈنٹس creative thinking میں پوری دنیا کے مقابلے میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں اور ان کے تقریبا تمام طلبہ ہائر ایجوکیشن تک جاتے ہیں۔ یہ ذہنی فضا نوجوانوں کو یہ احساس دیتی ہے کہ وہ صرف امتحان پاس کرنے کے لئے نہیں بلکہ کارپوریٹ ورلڈ اور لیڈنگ کمپنیر کے پیچیدہ مسائل حل کرنے اور نئی ایجادات کرنے کے لئے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں کے وژن بناتے ہیں اور اسی کے مطابق چلتے ہیں۔
اسرائیل کی حکومت اور اسرائیل انوویشن اتھارٹی high-school کے طلبہ کو entrepreneurship اور technology میں مائنڈسیٹ اور سکلز کیلئے ٹریننگ فراہم کرتی ہے۔ ہر سال تقریباً 4,500 سے زائد اسکول طلبہ گوگل، Microsoft اور Intel جیسی tech companies کے ساتھ مل کر innovation اور startup پروگرامز میں حصہ لیتے ہیں۔ یعنی 16 سال کا جوان startup آئیڈیاز، robotics، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اور کوڈنگ جیسی سکلز پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس عمر کے نوجوان لڑکے انڈسٹری mentors کے ساتھ مل کر projects بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسرائیل کو “Startup Nation” کہا جاتا ہے۔ اس ماحول میں 16 یا 17 سال کا نوجوان اپنے آپ کو ایک future innovator کے طور پر دیکھتا ہے۔
دوسری طرف ہمارے پاکستان جوان ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے زیادہ تر graduates کے پاس market-relevant سکلز نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی ڈگری ان کیلئے مفید نہیں رہتی۔ نتیجتا اکثر انجینئرز کال سینٹرز پر روزی روٹی کماتے ہیں۔ زیادہ تر گریجویٹس clerical جابز ڈھونڈ کر کچن چلاتے ہیں یا پھر بے روزگاری کی زندگی گزارتے ہیں۔
بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ بچے کے بورڈ امتحانات تک کے 15 سالوں میں بچہ کچھ کرنا بھی چاہے تو والدین نہیں کرنے دیتے۔ پھر وہ 4 سال کیلئے random ڈگری پکڑ کر یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور اس کے بعد سوچنا شروع کرتا ہے کہ اب زندگی میں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے ابھی تک پاکستانی والدین کو بچوں کے اندر لیڈرشپ سکلز کیلئے شعور پیدا کرنے کی جتنی کوشش کی ہے اس کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے ہیں۔
سو باتوں کی بات یہ کہ کامیابی کوئی ایکسیڈنٹل ماڈل نہیں ہے کہ ہم اچانک سے کچھ چاہیں گے تو وہ ہو جائے گا اور اسرائیل جیسے ملکوں کے پاس یہ طاقت صرف نعروں سے نہیں آئی۔ دنیا میں قیادت کیلئے نسلوں کو لانگ ٹرم وژن، گھر اور معاشرے کی طرف سے سپورٹ سسٹم، مسلسل ٹریننگ اور کوالٹی ایجوکیشن دینا ضروری ہوتی ہے۔
میرے خیال سے آپ خود موازنہ کرسکتے ہیں کہ ان دو طرح کے سسٹمز سے نکلنے کے بعد 57 اسلامی ممالک کہاں کھڑے ہیں اور اکیلا اسرائیل کہاں تک پہنچا ہے۔ ہماری پروڈکٹیویٹی یہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم خوراک دوسرے ملکوں سے امپورٹ کرتے ہیں اور اسرائیل کی پروڈکٹیویٹی دیکھنا چاہیں تو اپنے گھر کو دیکھ لیں، اس درندے کی طرف سے اتنی تباہی کے باوجود ہم میں سے کسی کا گھر بھی اسرائیلی پراڈکٹس سے خالی نہیں ہے۔
- شہبازحفیظ
(تصویر 2022 میں ایک ٹریننگ کے دوران بنائی گئی تھی)