12/04/2026
خواجہ آصف کا ٹویٹ
آصف محمود
کیا خواجہ آصف کا ٹویٹ درست تھا؟ جی ہاں بالکل درست تھا، بالکل منطقی تھا ، بر محل تھا ، عین موقع پر تھا ، اور بہت ضروری تھا۔ ایک پاولے کو وارننگ تھی کہ آپ ہماری نظر میں ہیں ، یہاں کوئی گڑ بڑ نہیں کرنی۔
تین باتیں ذہن میں رکھیے: خواجہ آصف جو بھی ہےا ور جیسا بھی ہے سینیئر سیاست دان ہیں ، اور وزیر دفاع ہیں ا نہیں معلوم ہے کب کہاں کیا کہنا ہے۔ یہ ٹویٹ ایسے سلطان راہی بن کر نہیں دیا گیا ۔ جہاں جو پیغام پہمچانا تھا پہنچا دیا گیا۔ ان کی جیسی بھی افتاد طبع ہو اتنا تو انہیں معلوم ہی ہو گا کہ ہم کیسے ماحول سے گذر رہے ہیں اور ہم نے کیا کہنا ہےا ور کیا نہں کہنا ۔
جس طرح غیر ضروری جذباتیت اچھی نہیں ہوتی اسی طرح غیر ضروری خوف بھی مناسب نہں ہوتا ، اسرائیل کو ہم نے آج تک بطور ملک تسلیم نہیں کیا ۔ ہماری اس کے بارے وہی پالیسی رہی ہے جس کا خواجہ اصف نے اظہار کیا ہے۔ ناجائز اور ناپاک ریاست۔ اس کی تذکیر اگر اس وقت یوں کی گئےئی ہے تو کسی وجہ سے کی گئی ہو گی۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہم مذاکرات امریکہ ا ور ایران میں کروا رہے ہیں اسرائیل کی ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے نہ ہم اس کے وجود کو مانتے ہیں کہ ہم اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں ۔ اسرائیل کو تقدس کا لبادہ نہ اوڑھائیں ۔
نہ ہی ہر وقت اپنوں کو غلط ، اور احمق اور جذباتی قرار دینا کوئی عقل مندی ہے۔ وہ کہتے ہین کہ :
There is method in this madness
تصویر کا بہت سارا رخ ہم عوام ، تجزیہ کاروں، صحافیوں کے سامنے نہیں ہوتا ۔ دھیرج رکھیں دھیرج۔ ریاستیں صوفیانہ رقص سے نہیں چلتیں ، بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے اور بہت کچھ ہونا ہوتا ہے۔
ہر بات جذباتی نہیں ہوتی ، کچھ باتیں بہت کیلکولیٹڈ اور سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں ۔ ضروری ہوتی ہیں ۔
میں یہ بات کئی سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی فارن پالیسی شاندار ہے. اس نے فارن پالیسی ہی تو شاندار رکھی ہے. اس لیے پاکستانی قیادت کو گنجائش دیں. بات پلے نہ پڑے تو تنقید کو نہ شروع ہو جائیں.
پاکستان مایوس نہیں کرے گا. انشاءاللہ.