Farhat writes

Farhat writes ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے.

جا کسی اور سے محبت کرمیں ہوں احساسِ کمتری کا شکارشاعر: تنویر حسین
14/04/2026

جا کسی اور سے محبت کر
میں ہوں احساسِ کمتری کا شکار

شاعر: تنویر حسین

میں ریگِ شیشہِ ساعت پہ کیا ابھر آیا کہ ڈھانپنے کو مجھے سایہ ءِ شجر آیاگیاہِ زرد تجھے دیکھتا رہا کل شب تو پہلی بار مجھے س...
12/04/2026

میں ریگِ شیشہِ ساعت پہ کیا ابھر آیا
کہ ڈھانپنے کو مجھے سایہ ءِ شجر آیا

گیاہِ زرد تجھے دیکھتا رہا کل شب
تو پہلی بار مجھے سبز سا نظر آیا

گنے جو نام سرِ لوحِ رفتگاں میں نے
تمہارا نام ہی میری زبان پر آیا

نفیس شخص ترے ساتھ کیا ہوا ہوگا
ترا خیال مجھے دشت دیکھ کر آیا

کوئی تو پوچھے کسی رہ نوردِ الفت سے
وہ کس طرح سے سلامت پلٹ کے گھر آیا

ضیاء بلتستانی

09/04/2026
31/03/2026

poet: Sajid Rahim

میں روز خواب میں اونچی جگہ سے گرتا ہوںتو مجھ کو چھوڑنے والا ہے تو بتا دے یارعلی ارتضیٰ
29/03/2026

میں روز خواب میں اونچی جگہ سے گرتا ہوں
تو مجھ کو چھوڑنے والا ہے تو بتا دے یار

علی ارتضیٰ

تو نے تو بس رد کیا اور دیکھ کیا کیا ہو گیامیں جواں لڑکا تھا جو لمحے میں بوڑھا ہو گیادکھ یہی ہے خالق عالم تیرے ہوتے ہوئےا...
31/01/2026

تو نے تو بس رد کیا اور دیکھ کیا کیا ہو گیا
میں جواں لڑکا تھا جو لمحے میں بوڑھا ہو گیا

دکھ یہی ہے خالق عالم تیرے ہوتے ہوئے
ایک ہنستا کھیلتا انساں تماشہ ہو گیا

اک نظر میری طرف اے چار اگر اے بے خبر
میں ترے ہی واسطے دریا سے صحرا ہو گیا

اب کہاں وہ نوجوانی کے مشاغل دوستا!!
مجھ کو اس دشت جنوں میں آئے عرصہ ہو گیا

شاہ زادی بس تمھارے دیکھنے کی دیر تھی
اور مریض لا دوا اک دم سے اچھا ہو گیا

ساحر بلتستان

30/05/2025

ہزار عُذر تراشے ہیں زندگی کے لیے
مگر یہ کام مصیبت ہے آدمی کے لیے
میں اپنی عمر کے اُس موڑ پر کھڑا ہوں جہاں
کوئی جواز نہیں ہے تری کمی کے لیے

علی قائم نقوی

ہاتھوں میں لگائی گئی زنجیر کے آگےدونوں کی نہیں چلتی ہے تقدیر کے آگےپھر ذہن میں آئے کئی بیتے ہوئے لمحےپھر رونے لگا میں تِ...
16/05/2025

ہاتھوں میں لگائی گئی زنجیر کے آگے
دونوں کی نہیں چلتی ہے تقدیر کے آگے

پھر ذہن میں آئے کئی بیتے ہوئے لمحے
پھر رونے لگا میں تِری تصویر کے آگے

اوروں کو تو اوقات میں رکھتا ہُوں میں لیکن
چلتی نہیں شہزادیٔ کشمیر کے آگے

وہ پِیٹھ کے پیچھے تو بہت بکتے ہیں لیکن
کُچھ بول نہیں پاتے ہیں تنویر کے آگے

تنویر حسین

زہر کا راج تھا تریاق نہیں ہوتا تھا  جب تیری آنکھ کا ادراک نہیں ہوتا تھا پہلے پہلے اسے آتی تھی فن بخیہ گری پہلے یہ سینہ ص...
13/05/2025

زہر کا راج تھا تریاق نہیں ہوتا تھا
جب تیری آنکھ کا ادراک نہیں ہوتا تھا

پہلے پہلے اسے آتی تھی فن بخیہ گری
پہلے یہ سینہ صد چاک نہیں ہوتا تھا

جو در جوق چلے اتے تھے پنچھی ساحر
راہ میں جب کوئی قذاق نہیں ہوتا تھا

ساحر بلتستانی

Poet: Sahir Baltistani

Series #02

Address

03
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farhat writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Farhat writes:

Share