It's Meenu

It's Meenu "It's me Meenu Haider, I'm BS & ID student"

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللّہ سے سوال کِیا: "اے خدا.! تُو لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر مار دیتا ہے اِس میں کیا حکمت ...
25/02/2026

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللّہ سے سوال کِیا: "اے خدا.! تُو لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر مار دیتا ہے اِس میں کیا حکمت ہے؟ "
حق تعالیٰ نے فرمایا: "چونکہ تیرا سوال انکار اور غفلت پر مبنی نہیں ہے اِس لیے میں دَرگُزر کرتا ہوں ورنہ سزا دیتا۔ تُو اِس لیے معلوم کر رہا ہے تاکہ عوام کو ہماری حِکمتوں سے آگاہ کر دے, ورنہ تجھے مخلوق کے پیدا کرنے میں ہماری حِکمتیں معلوم ہیں۔تیرا سوال علم کے منافی نہیں ہے۔ کسی چیز کے بارے میں سوال آدھا عِلم ہوتا ہے۔ اگرچہ تُو تو اِس سے واقف ہے لیکن تُو چاہتا ہے کہ عوام بھی آگاہ ہو جائیں۔ کسی چیز کا علم ہو جانے کے بعد ہی اُس کے بارے میں سوال جواب ہو سکتا ہے۔ عِلم ہی گُمراہی اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ نمی اور تَری ہی پھل میں شیرینی کے علاوہ تلخی بھی پیدا کرتی ہے۔ملاقات اور تعارف سے دوستی اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اور غذا ہی سے بیماری اور صحت دونوں پیدا ہوتی ہیں۔ اے موسیٰ تُو ناواقفوں کو حِکمتوں سے واقف کرانا چاہتا ہے اِس لیے تَجاہُلِ عارفانہ بَرت رہا ہے۔ ہم بھی اِس کے علم سے انجان بن کر تجھے جواب دیتے ہیں۔"
اللّہ تعالیٰ نے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو حُکم دیا کہ: "کھیتی بو دو۔" جب کھیتی تیار ہو گئی تو اُنہیں اُسے کاٹنے کا حُکم دیا۔ اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے پوچھا: "کہ تُو نے خود کھیتی بوئی اور پھر اُسے کیوں کاٹ ڈالا؟ "
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے عرض کِیا کہ: "کھیتی کے پکنے پر اُس میں دانہ اور بھوسا تھا اور دونوں کو مِلا جُلا دینا مناسب نہ تھا۔ حِکمت کا تقاضہ یہی تھا کہ دونوں کو الگ الگ کر دیا جائے۔"
حق تعالیٰ نے پوچھا کہ: "یہ عقل تم نے کہاں سے حاصل کی؟"
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ: "یہ دانش اور عقل آپ کی عطا کردہ ہے۔"
اللّہ تعالیٰ نے فرمایا: "پھر یہ دانش مجھ میں کیوں نہ ہو گی۔ دیکھو انسانوں کی رُوحیں دو قِسم کی ہیں ایک پاک, ایک ناپاک, سب انسانی جسم ایک رُتبے کے نہیں ہیں۔ کسی جسم میں موتی جیسی رُوح ہے اور کسی میں کنچ کی پوتھ کی طرح کی۔ اُن روحوں کو بھی اِسی طرح ایک دوسرے سے علیحدہ کر دینا مناسب ہے جس طرح گیہوں کو بھوسے سے تاکہ نیک رُوحیں جنّت کو چلی جائیں اور بُری دوزخ کو۔ پہلی حِکمت تو مارنے کی تھی اور پیدا کرنے کی حِکمت یہ ہے کہ ہماری صفات کا اِظہار ہو جائے۔"
حدیثِ قُدسی ہے کہ:"میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں لہٰذا میں نے مخلوق کو پیدا فرمایا۔"
مخلوقات مظہرِ صفاتِ خداوندی ہیں۔ انسان کے جسم میں جو موتی ہے اُس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

🖤 ✨ 🌸

ایک دن ایک کافر نے ایک عالم دین سے طنزیہ انداز میں پوچھاتم مسلمان دن میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہو، اور ہر نماز میں وہی سور...
24/02/2026

ایک دن ایک کافر نے ایک عالم دین سے طنزیہ انداز میں پوچھا

تم مسلمان دن میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہو، اور ہر نماز میں وہی سورت وہی الفاظ بار بار دہراتے ہو... کیا تمہارا اللہ بھول جاتا ہے جو تم یاد دلاتے رہتے ہو ؟

عالم دین نے مسکرا کر نہایت پرسکون انداز میں جواب دیا

"تم اپنی ماں سے کتنا پیار کرتے ہو ؟

" كافر بولا بہت زیادہ

عالم نے کہا: تو کیا تم نے کبھی ماں سے کہا کہ اب تمہیں "ماں" نہ کہوں، بار بار ایک ہی لفظ دہرانا بیکار ہے ؟

کافر کچھ دیر خاموش رہا۔ عالم دین نے کہا

دیکھو، ماں کو بار بار ماں کہنا دل کا سکون ہے، محبت کا اظہار ہے

اسی طرح اللہ کو بار بار یاد کرنا ایمان کا سکون ہے، روح

کی غذا ہے۔

ہم نماز میں بار بار دہراتے نہیں، ہم بار بار جیتے ہیں.

ایمان کے احساس میں

پھر عالم نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی

" أَقِمِ الصَّلُوةَ لِذِكْرِي" <

[14 سورہ طہ : ] - نماز قائم کرو میری یاد کے لیے)
یعنی نماز کا مقصد یاد دلانا نہیں، اللہ کی یاد میں زندہ رہنا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا

نماز مؤمن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔" - (نسائی)" <

عالم دین نے کہا

جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو وہ زمین پر نہیں گرتا

بلکہ اپنے رب کے قریب چلا جاتا ہے۔

ہر بار جب ہم الحمد للہ رب العالمین کہتے ہیں تو ہم رب کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں

اور جب ہم ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتے ہیں، تو اپنی

بندگی کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ الفاظ دہرانا نہیں محبت کا عہد بار بار نبھانا ہے۔

پھر عالم نے نرمی سے کہا

اللہ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں 11

ہمیں اپنی بھول یاد دلانے کی ضرورت ہے۔

نماز وہ رشتہ ہے جو انسان کو دنیا کے شور سے نکال کر

سکون کی وادی میں لے جاتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں بندہ سب بھول کر صرف اپنے رب سے بات کرتا ہے۔

جس دن تم یہ بات سمجھ لو گے، تمہیں لگے گا کہ دنیا کا

سب سے حسین لمحہ وہی ہے
" جب تم سجدے میں ہو

یہ سن کر کافر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ بولا میں نے آج پہلی بار نماز کو سمجھا ہے اور وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا

دوستو

نماز بار بار نہیں دل سے بار بار جڑنے کا نام ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب رب تمہیں دیکھتا ہے اور تم رب کو محسوس کرتے ہو

🤲✨

🌸🖤

ایک مرتبہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف فرما رہے تھےکہ آپؐ نے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئ...
23/02/2026

ایک مرتبہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف فرما رہے تھےکہ آپؐ نے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر یاکریم یاکریم کی صدا تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا وہ اعرابی رکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور یہی یاکریم سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کیطرف دیکھا اور کہا اے روشن چہرے والے اے حسین قد والے اللہ کی قسم اگر آپؐ کا چہرہ اتنا روشن اورعمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ضرورکرتا کہ آپ مذاق اڑاتے ہیں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے تبسم فرمایا یعنی مسکرائےاور فرمایا کیا تو اپنے نبیؐ کو پہچانتا ہے؟ اعرابی نے عرض کیا جی نہیں پہچانتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے اعرابی نے عرض کیا بن دیکھے ان کی نبوت و رسالتؐ کو تسلیم کیا مانااور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالتؐ کی تصدیق کی آپؐ نے فرمایا مبارک ہو میں دنیا میں تیرا نبیؐ ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا
وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا
آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھےبشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام
آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپؐ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے اعرابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اللہ میرا حساب لے گا فرمایا ہاں اگر وہ چاہے تو حساب لیگا
اعرابی نے عرض کیا کہ اگر وہ اللہ میرا حساب لیگا تو میں اسکا حساب لونگا آپؐ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تومیں اسکی بخشش کا حساب لونگا میرے گناہ زیادہ ہیں کہ تیری بخشش اگر میری نافرنیوں کا حساب لیگا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا اگر اس نےمیرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش
مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبریل علیہ السلام آئےعرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ آپؐ کو سلام کہتا ہےاور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپؐ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلادی ہےاپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا

کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

کتاب.مسند احمد بن حمبل

🖤✨🌸

جن اور شیطان کھجور سے نفرت کیوں کرتے ہیں رسولِ اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ روزانہ کھجور کھایا کرو، خاص طور پر صبح کے وقت...
23/02/2026

جن اور شیطان کھجور سے نفرت کیوں کرتے ہیں

رسولِ اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی ہے کہ روزانہ کھجور کھایا کرو، خاص طور پر صبح کے وقت ۳، ۵ یا ۷ دانے۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کھجور کو طاق عدد (یعنی ۱، ۳، ۵، ۷...) میں کھاؤ، جفت عدد میں نہیں۔

یہ کیوں؟
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ جب انسان کھجور کھاتا ہے تو اس کے جسم میں ایک نیلی غیر مرئی توانائی پیدا ہوتی ہے جو پورے جسم کو گھیر لیتی ہے، اور اس توانائی کی وجہ سے جن، شیطان، جادو اور نظرِ بد سے حفاظت ہوتی ہے۔
لیکن یہ اثر صرف تب ہوتا ہے جب کھجور کو طاق عدد میں کھایا جائے (۳ یا ۵ یا ۷ عدد)۔

اگر کوئی شخص کھجور کو جفت عدد میں کھائے (مثلاً ۲، ۴ یا ۶)،
تو وہ جسم میں شکر کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتی ہے،
اور اس سے ذیابطیس یعنی شوگر کا مرض پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

دنیا کے سائنس دان حیران ہیں کہ
نبی کریم ﷺ نے صدیوں پہلے جن و شیطان کے اثر سے بچنے کا یہ قدرتی علاج بتایا۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"کھجور واقعی ایک عجیب دوا ہے۔"

اگر کسی کو خون کی کمی (انیمیا) ہو تو کیمیائی دواؤں کی ضرورت نہیں،
صرف روزانہ چند کھجوریں کھاؤ، خون کی کمی دور ہو جائے گی۔

اگر جگر چربی والا یا بڑا ہو گیا ہے تو روزانہ صبح کے وقت سات کھجوریں کھاؤ،
ان شاءاللہ چربی ختم ہو جائے گی۔

اگر تم سرد مزاج ہو تو روزانہ تین کھجوریں کھاؤ۔

کینسر ہر مسلمان کے لیے ایک خطرہ ہے —
لیکن کیا تم جانتے ہو کہ کینسر سے بچاؤ کا بہترین علاج بھی کھجور ہے؟

حدیثِ مبارک میں ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس گھر میں کھجور نہیں، وہ گھر یقیناً بھوکا ہے۔"

🌿 *نصیحتیں (قیمتی مشورے)*
*پہلی نصیحت:*
صبح بیدار ہوتے ہی جو بھی کام کرو، چھوٹا ہو یا بڑا،
ہمیشہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" سے شروع کرو،
اللہ تمہیں کامیابی عطا کرے گا۔

*دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی اتنا ہی پیو جتنی جسم کو ضرورت ہو۔
زیادہ پانی پینے سے جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے،
لیکن حقیقت میں پانی صرف ضرورت کے مطابق پینا چاہیے۔
جب پیاس لگے تب پانی پیو۔

*تیسری نصیحت:*
ہمیشہ ورزش کرو،
چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہو۔
جسم کو ہمیشہ حرکت میں رہنا چاہیے۔
چاہے چہل قدمی ہو، تیراکی ہو یا کوئی اور ورزش۔

*چوتھی نصیحت:*
کھانے کو کم کرو۔
حدیث میں ہے:
"آدمی کے لیے اتنا کھانا کافی ہے جتنا اس کی کمر کو سیدھا رکھے۔"
زیادہ کھانا چھوڑ دو،
کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے۔
سادی زندگی اپناؤ اور کھانے میں اعتدال رکھو۔

*پانچویں نصیحت:*
جہاں تک ممکن ہو،
گاڑی صرف ضروری موقعوں پر استعمال کرو۔
مسجد، دکان یا کسی عزیز کے گھر جانے کے لیے
ممکن ہو تو پیدل چلو۔

*چھٹی نصیحت:*
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
غصہ نہ کرو۔
پریشان مت ہو، درگزر کرو۔
غم اور غصہ تمہاری صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور خوشی کو ختم کر دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے ساتھ رہو جن کے پاس تمہیں سکون ملتا ہے۔

*ساتویں نصیحت:*
جیسے کہا جاتا ہے:
"اپنا مال دھوپ میں رکھو، خود سایہ میں بیٹھو۔"
زندگی کو اپنے اوپر اور دوسروں پر تنگ نہ کرو۔
مال اس لیے ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے استعمال ہو،
نہ کہ زندگی کو برباد کرنے کے لیے۔

*آٹھویں نصیحت:*
اس چیز پر حسرت نہ کرو جو تم حاصل نہیں کر سکتے۔
بھول جاؤ، اگر وہ تمہارے نصیب میں ہے تو
تمہارے پاس ضرور آئے گی،
چاہے تم اپنے بستر پر ہی کیوں نہ ہو۔
اور جو چیز تمہارے نصیب میں نہیں،
اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے روک دیتا ہے،
کیونکہ وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

*نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کرو،
عاجزی اختیار کرو۔
غرور اور تکبر مال و طاقت دونوں کو ختم کر دیتا ہے۔
تواضع تمہیں لوگوں میں محبوب بناتی ہے
اور اللہ کے نزدیک تمہارا درجہ بلند کرتی ہے۔

*دسویں نصیحت:*
سفید بالوں کا آنا زندگی کے خاتمے کی علامت نہیں،
بلکہ ایک نئی اور بہتر زندگی کی شروعات ہے۔
مثبت سوچ رکھو،
سفر کرو،
اور حلال روزی سے لطف اٹھاؤ۔

*ایک اور نصیحت:*
جلدی سو جاؤ ✔️
رات گئے جاگنا چھوڑ دو ✔️
یہ عادت صحت کے لیے بہتر ہے۔

🌙 *آخری اور سب سے اہم نصیحت:*
نماز کبھی مت چھوڑو۔
نماز کو اول وقت میں ادا کرو۔ کیونکہ نمازِ اول وقت دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے لیے نفع کا سود نامہ ہے۔
اس دن جب نہ مال فائدہ دے گا، نہ اولاد۔

*اگر یہ باتیں تمہیں اچھی لگیں تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ تاکہ نیکی پھیل جائے۔ اگر تمہیں پسند نہ آئیں تو بھی کسی کو محروم نہ کرو — شاید کسی دوسرے کے لیے یہ باعثِ خیر بن جائے۔*

منقول۔
اعلان دستبرداری **Disclaimer

ذیل میں پیش کیا گیا مواد صرف معلومات، آگاہی اور صحافتی مقاصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ابھا سے ریاض جاتے ہوئے راستے میں یہ منظر دیکھا تو دل بے اختیار رک گیا…یہ کوئی عام پتھر نہیں، یہ اللہ کی قدرت کی ایک خامو...
22/02/2026

ابھا سے ریاض جاتے ہوئے راستے میں یہ منظر دیکھا تو دل بے اختیار رک گیا…
یہ کوئی عام پتھر نہیں، یہ اللہ کی قدرت کی ایک خاموش نشانی ہے 🤲

نہ سہار ا، نہ زنجیر…
پھر بھی یہ پتھر کھڑا ہے، جیسے رب کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہو۔

تھوڑا سوچو
جس رب نے پتھر کو گرنے نہیں دیا،
وہ تمہیں بھی کبھی بے سہارا نہیں چھوڑے گا

سوال یہ نہیں کہ یہ پتھر کیسے کھڑا ہے…
سوال یہ ہے کہ ہم کب اللہ کی نشانیوں پر غور کریں گے؟

بے شک اللہ کی قدرت پر یقین ہی اصل سکون ہے۔ 🌸

اللہ تعالیٰ اس بابرکت دن کے صدقے ہمارے دلوں کو سکون، گھروں کو برکت اور دعاؤں کو قبولیت عطا فرمائے،!!!

ترکی: تاریخ کی پہلی باحجاب خاتون وزیرترک صدر رجب طیب اردگان نے آج جمعہ 20 فروری کو ایک تاریخی صدارتی فرمان جاری کیا، جس ...
21/02/2026

ترکی: تاریخ کی پہلی باحجاب خاتون وزیر
ترک صدر رجب طیب اردگان نے آج جمعہ 20 فروری کو ایک تاریخی صدارتی فرمان جاری کیا، جس کے تحت افیون قره حصار کی گورنر محترمہ ڈاکٹر کبری یغیت باشی کو ان کے منصب سے ہٹا کر نائب وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ترکی کی تاریخ کی پہلی باحجاب خاتون نائب وزیر بن گئیں، جبکہ کبری یغیت باشی کو ترک تاریخ میں پہلی باحجاب خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔
واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ہی اردگان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسے شخص کو وزیر داخلہ مقرر کیا ہے، جو نہ صرف قرآن کریم کا پکا حافظ ہے، بلکہ مجود قاری اور علوم شریعہ کا فاضل بھی۔ 11 فروری کو علی یرلکایا کی جگہ مصطفٰی چفتجی کو وزارت داخلہ کا قلمدان سپرد کیا گیا۔
کبری یغیت باشی کی عمر 47 سال اور تعلق انقرہ سے۔ دلچسپ ترین بات یہ کہ انہوں نے تعلیم فلم اور ٹی وی کی حاصل کی ہے۔ گوکہ سیاست میں بھی پی ایچ ڈی ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار افسر ہیں جنہوں نے اپنے کیریئر میں کئی اہم انتظامی اور حکومتی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ وہ اپنی مہارت، قابلیت، پیشہ ورانہ دیانت داری اور معاشرتی خدمت کے جذبے کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔
یہ ایک طویل سفر کی تکمیل ہے… وہ خواتین جو دہائیوں پہلے اپنے حجاب کی وجہ سے سرکاری عمارتوں اور ملازمتوں سے محروم کر دی جاتی تھیں، آج ریاست کے اعلیٰ منصبوں پر فائز ہو رہی ہیں اور ترکی میں خواتین کے لیے نئے مواقع کی علامت بن گئی ہیں۔ لیکن سیکولر عناصر پر قیامت ٹوٹی پڑی ہے۔

یوں ہی نہیں اللہ مکھی کی مثال بیان کرتا، تصویر میں ایک قسم کی مکھی کا پر ہے جسے دیکھ کر اس کے بنانے والے کا پتہ چلتا ہےی...
20/02/2026

یوں ہی نہیں اللہ مکھی کی مثال بیان کرتا، تصویر میں ایک قسم کی مکھی کا پر ہے جسے دیکھ کر اس کے بنانے والے کا پتہ چلتا ہے
یٰاَ یُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلُ فَاسْتَمِعُوْ ا لَہ ط اِ نَّ الَّذِ یْنَ تَدْعُوْ نَ مِنْ دُوْ نِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْ ا ذُ بَا بًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْ ا لَہ ط وَ اِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّ بَا بُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُ وْہُ مِنْہُ ط ضَعُفَ الطَّا لِبُ وَ الْمَطْلُوْ بُ ہ مَا قَدَ رُ و ا ا للّٰہَ حَقَّ قَدْ رِ ہ ط اِ نَّ اللّٰہَ لَقَوِ یُّ عَزِیْزُ
''لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بزدل ہے طلب کرنے والا اور بڑا بزدل ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور و قوت والا اور غالب و زبردست ہے.'' ۔ (الحج: 73-74)

It's Meenu

ایک پائی کی کرپشن نہیں کی، ورنہ ماں کا گوشت کھایا ہوتا!محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک موقع پر درد بھرے لہجے می...
19/02/2026

ایک پائی کی کرپشن نہیں کی، ورنہ ماں کا گوشت کھایا ہوتا!
محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک موقع پر درد بھرے لہجے میں فرمایا تھا کہ پرویز مشرف بھی میرے جیسا مہاجر تھا، اس کی تعلیمی قابلیت مجھ سے کم تھی، مگر آج اس کے پاس ساٹھ ستر کروڑ روپے کی پراپرٹیز ہیں جبکہ میرے پاس ایک کروڑ کی بھی کوئی جائیداد نہیں، میں نے زندگی میں ایک پائی کی کرپشن نہیں کی، اگر کی ہوتی تو گویا میں نے اپنی مری ہوئی ماں کا گوشت کھایا ہوتا، یہ بیان ان کی صداقت، قربانیوں اور ملک کے لیے بے لوث خدمات کی زندہ مثال ہے جو آج بھی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔

👌 قرآن میں "چھ دنوں" (ستۃ أیام) کا ذکر کئی جگہ آیا ہے، جیسے سورۃ یونس (10:3)، سورۃ اعراف (7:54)، سورۃ فصلت (41:9-12)، او...
17/02/2026

👌 قرآن میں "چھ دنوں" (ستۃ أیام) کا ذکر
کئی جگہ آیا ہے، جیسے سورۃ یونس (10:3)، سورۃ اعراف (7:54)، سورۃ فصلت (41:9-12)، اور دیگر سورتوں میں۔
اللہ جب چاہتا ہے تو وہ کچھ ہو جاتا ہے وقت درکار نہیں لگتا تو یہاں چھ دن کیوں درکار ہوئے اور یہ چھ دن کیا ہیں اور کیوں ضرورت پڑی چھ دن کی؟ حقیقت میں کیا مطلب ہے؟
یہ چھ دن کون سے ہیں اور یوم کا مطلب دن ہی ہوتا ہے یا اور کچھ؟
جب سورج، چاند، ستارے کچھ بھی نہیں تھے یہ کائنات نہیں تھی اور بننے کے پروسیس میں تھی تو اس وقت دن کا بیان کس تصور کو پیش کرتا ہے؟
1. "کن فیکون" اور "ستۃ أیام" کا تعلق
"کن فیکون" قرآن میں اللہ کی قدرتِ کاملہ کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے: جب وہ کسی چیز کے وجود کا فیصلہ کرتا ہے، تو کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ یہ اللہ کی طاقت کی صفت ہے۔
"چھ دن" تخلیق کا ذکر اس کی حکمت، تدریج اور نظام کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ کائنات ایک منظم مرحلہ وار پروسس کے تحت بنی ہے، نہ کہ حادثاتی طور پر۔
➝ یعنی اللہ چاہتا تو ایک لمحے میں سب کچھ بنا دیتا، لیکن چھ دنوں کا ذکر ہمیں نظامِ تخلیق، ترتیب اور وقت کے تصور کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔
2. یہ "دن" کون سے ہیں؟
قرآن کے "یوم" (دن) کو ہمیں لازماً انسانی کیلنڈر یا سورج و زمین کے حساب سے محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس وقت نہ سورج تھا، نہ زمین گھوم رہی تھی، تو ظاہر ہے یہ دن ہمارے "24 گھنٹے والے دن" نہیں تھے۔
سورۃ الحج (22:47):
> وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ
(تمہارے شمار کے ہزار سال کے برابر ایک دن ہے اللہ کے نزدیک
سورۃ المعارج (70:4):
> فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(ایک دن جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے)
➝ اس سے واضح ہے کہ "یوم" = ایک دور (period, stage, phase) ہے۔
3. پھر "چھ دن" کا مطلب کیا ہوا؟
"چھ دن" کو اکثر مفسرین نے یوں سمجھا ہے:
یہ چھ بڑے مراحلِ تخلیق تھے، جیسے کائنات کی ابتدائی تخلیق (Big Bang)، آسمان و زمین کی جداکاری، کہکشاؤں و ستاروں کی بناوٹ، زمین کی ترتیب، پانی اور نباتات کا وجود، اور آخر میں حیوانات و انسان کی تخلیق۔
یہ چھ دن ہمیں بتاتے ہیں کہ تخلیق کا عمل تدریجی تھا، مگر مکمل طور پر اللہ کے ارادے کے مطابق۔
یہاں "دن" سے مراد کائناتی مراحل، وقت کے ادوار ہیں، جو اللہ کے علم میں ہیں، ہماری گھڑی یا سورج کے حساب سے نہیں۔
یہ "دن" اس کائناتی وقت (cosmic time) یا تخلیقی مرحلوں کے لیے استعارہ ہیں، نہ کہ موجودہ کیلنڈر والے۔
👌۔ یہ سوال ہمیشہ سے مفسرین، اہلِ علم اور سائنس کے محققین کے لیے غور کا موضوع رہا ہے کہ "سماوات" اور "ارض" سے مراد کیا ہے، اور سات آسمان یا سات زمینیں کس مفہوم میں ہیں۔
آئیے اس کو قرآن و سنت اور عقل/سائنس کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
1. قرآن کا بیان
قرآن میں اکثر جگہ آتا ہے:
"خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ"
یعنی "آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا"۔
اور سورۃ الطلاق (65:12) میں ہے:
> اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ
(اللہ نے سات آسمان بنائے اور زمین میں بھی اُن جیسی [چیزیں/طبقات])
➝ یہاں "سات آسمان" کا ذکر تو بالکل واضح ہے، اور ساتھ ہی "زمین کی مثل" کہا گیا ہے، لیکن زمینوں کو کھلی طرح "سات زمین" نہیں کہا بلکہ "مِثلَہُنَّ" (ان جیسی) کہا ہے۔
2. "سماوات" کا مطلب
"سماء" عربی میں اوپر کی ہر چیز کے لیے بولا جاتا ہے، خواہ وہ بادل ہوں، فضا ہو یا پوری کائنات۔
مفسرین کا موقف: سات آسمان الگ الگ طبقات یا نظام ہیں۔
سائنسی زاویہ:
یہ آسمان کائنات کے فلکیاتی طبقات ہو سکتے ہیں، جیسے کہکشائیں، کونیاتی پرتیں (cosmic layers)، یا آسمانی قوانین کے بڑے بڑے دائرے۔
کچھ نے کہا یہ سات بڑے کونیاتی زون ہیں۔
کچھ نے کہا یہ فضا کے سات حصے ہیں (atmosphere layers: troposphere, stratosphere, mesosphere وغیرہ)، لیکن یہ قرآن کے وسیع مفہوم سے محدود معلوم ہوتا ہے۔
➝ زیادہ قوی بات یہ ہے کہ "سات آسمان" = کائنات کی سات بڑی سطحیں/مراحل/نظام ہیں، جنہیں صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دریافت کرتا ہے۔
3. "ارض" اور "سات زمینیں"
حدیث (بخاری و مسلم): "جو ظلم کرے ایک بالشت زمین کا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔"
➝ اس سے "سات زمینوں" کا تصور آتا ہے۔
مفسرین کی آراء:
کچھ کہتے ہیں "سات زمینیں" = زمین کے اندر کے طبقات (layers) ہیں (crust, mantle, outer core, inner core وغیرہ)۔
کچھ نے کہا "سات زمینیں" = مختلف علاقے یا خطے۔
کچھ نے کہا یہ ہماری زمین جیسے دیگر سیارے ہیں (جیسے آج ہمیں exoplanets کا علم ہے)۔
➝ مطلب یہ کہ قرآن نے "سات زمینوں" کو vague رکھا، تاکہ ہر دور میں انسان اپنے علم کے حساب سے اس کو سمجھ سکے۔
4. مرحلے اور سسٹم کا تصور
کوئی "مَیٹر" (material) بنایا گیا اور پھر اس کے "فیزز" (stages) بنے، یہ بالکل قرآن کے ساتھ میل کھاتی ہے۔
"سماوات" = کائناتی layers یا systems
"ارض" = وہ بنیاد (base, habitat) جہاں زندگی کی practical system سازی ہوئی۔
5. خلاصہ
"سماوات" = اوپر کے سات بڑے نظام/طبقات (صرف فضا نہیں بلکہ cosmic structure)۔
"ارض" = صرف یہ زمین نہیں بلکہ زمین کی سات سطحیں یا پھر زمین جیسے دوسرے طبقات/سیارے۔
قرآن نے ان کو بیان کیا مگر "ڈیٹیل سائنس" کے ساتھ نہیں، تاکہ ہر دور میں انسان غور و فکر کرے اور اپنے علم سے اللہ کی تخلیق کو پہچانے۔
✨ دوسرے لفظوں میں:
قرآن "سات آسمان اور زمین" کو ایک جامع، نظامی فریم ورک کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ صرف ظاہری فضا اور مٹی کے گولے کے طور پر۔
قرآن کا اسلوب یہی ہے کہ کائناتی تخلیق (macro creation) اور انسانی تخلیق (micro creation) کو ایک ہی اصول اور نظامِ تدریج میں بیان کرتا ہے۔
1. کائنات کی تخلیق = چھ مراحل
قرآن میں آتا ہے کہ اللہ نے "السماوات والارض" کو ستۃ أیام (چھ دن/مراحل) میں بنایا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری کائنات، اس کا مادہ (ارض) اور اس کے مختلف نظام (سماوات)، سب ایک تدریجی عمل سے گزرے۔
یہ "کن فیکون" سے متصادم نہیں، بلکہ اس کی تفصیل اور حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔
2. انسان کی تخلیق = چھ مراحل قرآن
ماں کے پیٹ میں انسان کے وجود کو بھی تدریجی اور مرحلہ وار بیان کرتا ہے:
نطفہ (drop of fluid)
علقہ (clinging clot)
مضغہ (chewed-like lump)
عظام (bones)
لحم (flesh covering)
نشأةً أخرى (a new creation / روح پھونکنا)
➝ یہ سب مراحل مل کر انسان کی تکمیل کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون 23:12-14)
3. قرآن کا اشارہ
سورۃ فاطر (35:11): "اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر جوڑا جوڑا بنایا" → تدریج۔
سورۃ نوح (71:14): "اس نے تمہیں مراحل میں بنایا" (وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا)۔
➝ بالکل وہی اصول جو پوری کائنات پر چلتا ہے، وہی انسان پر بھی۔
4. مماثلت (Analogy)
کائنات:
Base = ارض (مادہ)
Systems = سماوات
Completion = 6 مراحل میں کائنات کی تخلیق
انسان:
Base = نطفہ
Systems = مختلف جسمانی و حیاتیاتی مراحل
Completion = 6 مراحل میں انسان کی تخلیق
5. خلاصہ:
اللہ کا طریقہ تخلیق = تدریج (stages)
کائنات اور انسان دونوں کو ایک ہی اصول پر بنایا گیا → stages (چھ) میں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار کہتا ہے: "کیا وہ تمہاری تخلیق اور پہلی تخلیق (کائنات) کو یاد نہیں کرتے؟"
➝ یعنی انسان اپنے وجود کو دیکھے تو پوری کائنات کی تخلیق سمجھ سکتا ہے۔
✨ دوسرے لفظوں میں:
انسان = کائنات کا آئینہ
انسانی تخلیق کے چھ مراحل = کائنات کی تخلیق کے چھ مراحل ۔
faheemullah

  🖤✨🌸تاریخ جان کر جیو 🍁ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧ...
15/02/2026

🖤✨🌸

تاریخ جان کر جیو 🍁

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘی ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیے
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ،
✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ
ﮐﯿﺎ
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
’’ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
◾ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"
◾ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘
◾ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، *ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘
ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ*، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 4 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
*ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘
جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا."
ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋمر ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمنٹ تحریر کے لئے .
#ابوعمر
نشر مکرر 🌿

Address

Haripur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when It's Meenu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share