01/10/2022
*🥀🧕 عورت_بحثیت_بیٹی" ۔۔۔!!!🥀*
*👈 (قسط نمبر)/2)💫*
*قبل از اسلام اگر کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اس کے پیدا ہونے معیوب سمجھا جاتا۔ ماں باپ کو کوسا جاتا اور معاشرتی اعتبار سے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ بھائی کو بہن کا طعنہ دیا جاتا۔ پھر اللہ نے اسلام کو دینِ حق بنایا اور عورت کو عزت و تکریم سے نوازہ اور اپنے محبوب ﷺ کو بیٹی سے نوازہ اور جنت کی عورتوں کی سردار بنایا۔*
*عورت بحثیت بیٹی اک ایسی زندگی گزارتی ہے جس میں اسے یہ خیال اور فکر لاحق رہتی ہے کہیں اسکی وجہ سے اس کے ماں باپ کو کوئی دشواری یا ندامت نہ ہو۔*
*وہ اپنی اور اپنے والدین اور دوسرے کئی رشتوں کی لاج رکھتے ہوئے اپنے احساسات اور جزبات وقت کے ساتھ ساتھ دفن کرتی چلی جاتے ہے۔ وہ خدا کی رحمت ہونے کا حتی الامکان ثبوت دیتی ہے۔ عالمِ جوانی میں بیٹی کا امتحان شروع ہوتا ہے جب وہ خود کو لوگوں کی شہوتی نظروں کا شکار ہوئے بغیر پاکدامن رہتی ہے۔ قدرت نے زن و مرد میں اک عجیب کشش رکھی ہے اور اک بیٹی اس کشش کو دفع کرنے میں رہتی ہے مگر وہ اس بات کا ارمان اور امید اپنے اندر ہے کہیں دفن کر دیتی ہے کہ کشش اس کو اک حسین احساس دلانا شروع کر* *چکی ہے جسے صاحبِ علم محبت کا نام دیتے ہیں۔ بیٹی نہ چاہتے ہوئے بھی محبت کا زہر پی جاتی ہے جو اسکے زہن اور اندر کے انسان کو نیلا کر دیتا ہے مگر ضبط کی انتہا کا عالم قابلِ رشک ہوتا۔ عالمِ جوانی میں عورت جب غیر منکوحہ ہوتی ہے تو وہ خوابوں خیالوں کی مسافرہ ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کوئی حسین شہزادہ اس کے خوابوں کو تعبیر دے گا۔ والدین کو امید ہوتی ہے کہ بیٹی کو کسی محسن کے ہمراہ رخصت کریں گے۔ یعنی امید یہاں بھی ہوتی ہے۔ اک نوجوان دوشیزہ جب کسی ہم سفر کا تصور باندھتی ہے تو اسے ہر وہ شخص لبھاتا ہے جو اس سے محبت کی زبان بولتا ہے۔ مگر وہ اپنا آپ صرف اس کو سونپتی ہے جس کا فیصلہ اس کے والدین کرتے ہیں۔ کبھی کسی کا لہجہ اچھا لگنے لگتا ہے تو کبھی کسی کی صورت و عادات۔ الغرض عورت بھی محبت کے جزبات سے کنارہ نہیں کر سکتی۔ کسی اپنے کے چلے جانے پر بیٹی رات کی تنہائی میں اشکوں کا دریا بہاتی ہے کہ دن کے اجلاے میں اسکا ٹوتا ہوا ضبط باقی افراد کو شاید برداشت نہ ہو سکے۔ بیٹی اللہ کا اک عظیم تحفہ اور رحمت ہے۔ داستانیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کی بیٹے کہیں نہ کہیں ماں باپ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں مگر بیٹی کی بے وفائی کی کہانیاں شاید ہی سننے کو ملیں۔* *مشرقی بیٹی حوصلے، جزبے، اور وفا کی اپنی مثال آپ ہے۔* *کیونکہ مغربی آزاد خیال عورت اپنے جزبات اور احساسات کو بیان کر دیتی ہے اور اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے کئی رشتوں کو روند دیتی ہے مگر مشرقی بیٹی رشتوں کی اہمیت کو مقدم سمجھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زمانہء جدید میں کیا ہو رہا ہے مگر فطری طور پر بیٹی کا وفا و حیا کا پیکر سمجھا جاتا ہے_*
*جاری_ہے________!!*