25/09/2026
ہسپتال کے بستر پر برطرفی کا پیغام: نعیم الیکٹرونکس گوجر خان کی انتظامیہ کے غیر انسانی رویے پر سنگین سوالات
گوجر خان (ٹیم سرکار نیوز) — گوجر خان کے معروف کاروباری ادارے "نعیم الیکٹرونکس" کی برانچ میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے تجارتی اداروں کے اندر ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے انسانی رویوں اور انتظامی پالیسیوں پر شدید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
ہسپتال میں موت و حیات کی جنگ لڑنے اور آپریشن کے مرحلے سے گزرنے والے ایک ملازم کو مبینہ طور پر بیماری کی حالت میں ملازمت سے فارغ کیے جانے پر ہر مکتبہ فکر کی طرف سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات: بسترِ مرگ پر برطرفی کا انکشاف
نعیم الیکٹرونکس گوجر خان برانچ کے سابق اے وی او (AVO) محمد عرفان راجہ نے اپنی ایک تفصیلی روداد میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اس وقت نوکری سے نکال دیا گیا جب وہ گزشتہ تقریباً دس روز سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے اور ان کا بڑا آپریشن ہونے والا تھا۔
عرفان راجہ کے مطابق، انہوں نے اپنی تمام تر طبی رپورٹس اور ہسپتال میں داخلے کی اطلاع باقاعدہ طور پر انتظامیہ تک پہنچا دی تھی، لیکن کمپنی کے ذمہ داران نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انہیں اس کٹھن وقت میں برطرفی کا پروانہ تھما دیا۔
دس ماہ کی دن رات محنت کا انوکھا صلہ
متاثرہ سابق اے وی او کا کہنا ہے کہ انہوں نے نعیم الیکٹرونکس میں تقریباً دس ماہ تک پوری دیانت داری، محنت اور وفاداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان کے دعوے کے مطابق:
نمایاں کارکردگی: پنڈی ریجن میں ان کی کارکردگی شاندار رہی اور وہ رخصت پر جانے سے قبل بھی پرفارمنس میں پوزیشن نمبر 3 پر براجمان تھے۔
اضافی خدمات: انہوں نے محض نوکری تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ گوجر خان برانچ کے لیے کمپنی کا آفیشل فیس بک پیج بنانے سمیت کئی دیگر امور میں بھی بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا۔
انتظامیہ کی بے حسی: ایک فون تک نہ کیا گیا
محمد عرفان راجہ نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہسپتال میں شدید علالت اور آپریشن کے قریب ہونے کے باوجود انتظامیہ کے کسی فرد نے فون کر کے ان کی خیریت تک دریافت کرنا گوارا نہیں کیا۔
"ہمیں توقع تھی کہ ایک مستحکم ادارہ اپنے ملازم کی مجبوری کو سمجھے گا، مگر ہمیں وفاداری اور محنت کا صلہ بیماری کے دوران نوکری سے نکال کر دیا گیا۔"
اٹھنے والے بنیادی سوالات
یہ معاملہ اب صرف ایک فرد کی روزی روٹی چھن جانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے تجارتی ماحول کے
لیے چند اہم سوالات جنم دیے ہیں:
اگر انتظامیہ کو ملازم کی بیماری اور میڈیکل رپورٹس کا مکمل علم تھا، تو اتنی جلدی اور سفاکانہ فیصلے کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
کیا تجارتی اداروں میں ملازمین صرف روبوٹس کی طرح کام کرنے کے لیے ہیں، اور ان کی انسانی مجبوریوں اور بیماری کی کوئی وقعت نہیں؟
کیا گوجر خان کے تاجر اور انتظامی حلقے اس بظاہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کا نوٹس لیں گے؟
سماجی حلقوں، شہریوں اور ملازمین نے اعلیٰ حکام اور نعیم الیکٹرونکس کی مرکزی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ایک زیرِ علاج ملازم کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے۔