04/07/2026
بچپن سے ہی مجھے اخبارات اور رسالے پڑھنے کا بہت شوق تھا ہمارے گھر میں بچوں کے لیے رسالے آیا کرتے تھے ان میں جب میں بچوں کے نام اور ان کی لکھی کہانیاں یا ان کی تصویریں شائع ہوتی دیکھتی تو میرا بھی دل کرتا تھا کہ ایک دن میرا نام بھی کسی اخبار یا رسالے میں آئے میری کوئی تحریر یا پینٹنگ شائع ہو تو کتنا اچھا ہو اس وقت یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہوتی تھی
اسی شوق میں میں نے اپنی پینٹنگز مختلف رسالوں میں بھیجنا شروع کر دیں ایک روپے کی پوسٹ والی ٹکٹ آتی تھی تب میری پہلی پینٹنگ تقریباً 2004 یا 2005 میں غزوہ میں شائع ہوئی اس کے بعد بھی میں پینٹنگز بھیجتی رہی کچھ شائع ہو جاتیں اور کچھ نہیں ہوتیں لیکن میں نے بھیجنا نہیں چھوڑا تھا ( اور جو نہیں ہوئی وہ گڑیا والی تھیں یا کسی جانور والی)
پھر 2010 میں میں نے نونہال کے لیے ایک کہانی بھیجی یہ گلہری والی کہانی تھی جو امی مجھے بچپن میں سنایا کرتی تھیں خوش قسمتی سے وہ کہانی نونہال میں شائع ہوگئی اُس سے پہلے ریجیکٹ بھی ہوتی رہی
اس کے بعد ہمارے گھر میںاخبار دنیا آنا شروع ہوگیا دنیا اخبار میں بچوں کے لیے تارے زمین پر کے نام سے ایک صفحہ آتا تھا جو ہفتہ کو ہوتا تھا بس میں نے اس کے لیے سنڈریلا کی کہانی بھیجی اپنی طرف سے بڑی دکھی قسم کی بنا کر
میں نے ایک دو تین ہفتے انتظار کیا لیکن وہ نظر نہیں آئی تو پھر میں بھی بھول گئی ایک دن میرے ماموں پاس وہ اخبار آیا تو انہوں نے میری کہانی دیکھ لی انہوں نے اخبار سنبھال لیا اور بعد میں کالج جا کر میرے سر کو بھی دکھایا مجھے سر سے پتا چلا ایک کہانی پبلش ہوئی ہے میری
ابو نے بھی مجھے اخبار دکھایا کہتے دیکھومیرا نام بھی اخبار میں آیا ہےمجھے لگا انھوں نے بھیجا ہوگا کچھ اخبار رسالے میں لیکن وہ تو میری ہی والی تھی 🤷♀️
یہ سنڈریلا کی ایک جانی پہچانی کہانی ہے جو ہر بچے نے سنی ہو گی لیکن اسے اپنے انداز میں لکھ کر اخبار میں شائع ہوتے دیکھنا میرے لیے بہت خاص بات تھی
سکول میں پھوپھو لائبریرین تھیں ان کی وجہ سے ہمیں آسانی سے کتابیں مل جاتی تھیں لوگوں کو ایک ملتی تھیں میں جتنی مرضی لے آؤں اس لیے میں نے بچپن میں بہت سی کہانیاں پڑھیں گھر میں پھپھو کے لیے شعاع اور آپی کا خواتین ڈائجسٹ آتا تھا اس کو بھی کبھی کبھار پڑھ لیتی جو اچھی کہانیاں ہوتی ایسے ہی لکھنے کا شوق ہو گیا
ڈائری لکھنی شروع کی۔۔ (یہ والی کہانی فر سہی)
ماریہ رائٹر سی