NewTech Mobile zone Tankaicheena

NewTech Mobile zone Tankaicheena Deals in All kinds of mobile accessories,new and second hand Mobile phones at reasonable prices..

30/12/2023
آپ نے یقیناً کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو ...
25/06/2022

آپ نے یقیناً کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ قربانی کے گوشت کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، اس میں سے ایک ناگوار سی مہک یا بو آتی ہے اور یہ جلدی گلتا یعنی پکتا بھی نہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب کچھ آپ نے بھی محسوس کیا ہو۔ اگر ہاں تو کیا کبھی سوچا کہ ایسا کیوں یے؟ اگر غور کرنے کا وقت نہیں ملا تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے بڑا مہنگا جانور خرید رکھا ہو، لاریب کہ آپ کا جانور خوبصورتی میں بھی بے مثال ہو، لیکن معذرت کے ساتھ آپ کو جانور ذبح کرنا یا کروانا نہیں آتا۔ لیکن حقیقت یہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ اگر یقین نہیں آرہا تو پھر یہ باتیں غور سے سنیں، سمجھیں اور اس عید قربان پر ان پر عمل کریں۔ آپ خود ہی کہیں گے کہ قربانی کا گوشت تو ہم آج پہلی دفعہ کھا رہے ہیں، کیونکہ ایسا مزیدار، صحت بخش اور خوشبودار جنتی گوشت آپ نے پہلے کبھی نہیں کھایا ہوگا۔

اگر آپ پاکیزہ، خوشبودار اور ذائقہ دار گوشت کھانے کے واقعی خواہشمند ہیں تو پھر سنیے۔ ذبح کرنے کی چھری آپ کی نیتوں کی مثل اچھی طرح تیز ہونی چاہیے، ذبح کرنے سے قبل جانور کو خوب کھلا پلا لیں اور جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرکے خوف کا شکار مت کریں۔ ان تمام صورتوں میں جسم میں ایک کیمیکل 'ہسٹامین' خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے، جو خون کی نالیوں کو پھیلا دیتا ہے، جس سے خون سست رفتار ہوکر مکمل طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتا۔ اور یوں گوشت کی کوالٹی متاثر ہو جاتی ہے۔

اور سب سے اہم بات جو آپ نے دھیان میں رکھنی ہے وہ یہ کہ ذبح کرنے والے کو کبھی مذبوح کے حرام مغز کو نہیں کاٹنے دینا۔ اگرچہ وہ سو بہانے بنائے گا اور جانور کو جلدی ٹھنڈا کرکے اذیت سے نجات دلانے کے دعوے کرے گا، لیکن آپ نے سنی ان سنی کردینی ہے۔ اسے نہ آپ کے جذبہ قربانی کی فکر اور نہ بسمل کی تکلیف کا خیال۔ وہ تو بس اگلے گاہک اور اپنی ففٹی سنچری کے تصور میں ہوگا۔ اور شرعی طور پر بھی چھری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں تک لیجانا جانور کو بلاوجہ اذیت دینا اور مکروہ ہے۔ ذبح کی شرائط میں اول سانس کی نالی، دوم خوراک کی نالی، سوم دو جگلر آرٹریز اور چہارم دو کیروٹڈ آرٹریز میں سے کسی تین کا مکمل یا جزوی کٹ جانا اور خون کا بہہ جانا شامل ہے۔ چلیں آپ ساری نالیاں اور رگیں کاٹ دیں مگر مہروں تک چھری پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی دادوں پردادوں کے فن دکھانے کی کوشش میں حرام مغز کو کاٹ دیتا ہے تو جسم کا تڑپنا یکدم رک جائے گا اور یوں گوشت میں موجود باریک رگوں سے خون خارج نہیں ہوپائے گا۔ جس کا نتیجہ گوشت کی خرابی کی اور ذائقے کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

اور آخری بات، جانور کے تڑپنے کے ساتھ اس کی تکلیف کا کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دو تین سیکنڈ میں ہی جب سانس اور خون کی نالیاں کٹ جاتیں ہیں، تو اس کا دماغ بے حس ہوکر تکلیف محسوس کرنا بند کردیتا ہے۔ تڑپنا اس کے پٹھوں کی غیر ارادی حرکات کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس کے حرام مغز کے تحت ہوتی ہیں۔

نیچے کچھ تصاویر میں مذبوح کے گلے میں موجود نالیوں اور خون کی رگوں کے مقام کو واضح کیا گیا ہے۔ دیکھ کر ذبح کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

15/05/2022

رات 3 بجے ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے پرانے قصبے میں فائر فائٹر ایرک کو ایک کال موصول ہوتی ہے جو نائٹ ڈیوٹی پر ہے۔
فون اٹھاتے ایک عورت کی چیخ سنائی دی
" میری مدد کرو میں اٹھ نہیں سکتی "
گھبرائیں مت میڈم ' ایرک بولا ' ہم ابھی پہنچ رہے ہیں آپ کہاں ہیں؟
مجھے نہیں معلوم، عورت نے لرزتی ہوئی آواز میں بتایا
آپ کا ایڈریس کیا ہے؟ ایرک نے پوچھا
"مجھے نہیں معلوم میں چکرا رہی ہوں "
ایرک :کیا آپ مجھے اپنا نام بتا سکتی ہیں
نہیں میں کچھ یاد نہیں کر پا رہی ، میں کیوں یاد نہیں کر پا رہی لگتا ہے میرے سر پر کچھ مارا گیا ہے "
اس کے فورا بعد ایرک فون کمپنی کو کال کرتا ہے اور آنے والی کال کی شناخت اور لوکیشن دریافت کرنے کا کہتا ہے
"ہم معزرت خواہ ہیں ہم یہ لوکیشن شناخت نہیں کر پا رہے"۔ دوسری طرف سے فون آپریٹر جواب دیتا ہے۔
ایرک واپس خاتون سے بات کرتا ہے " کیا آپ اپنا فون نمبر بتا سکتی ہیں، ہو سکتا ہے کہیں لکھا ہو ڈائری میں ۔
" نہیں میرے پاس نمبر کہیں نہیں لکھا اب میں کیا کروں، پلیز جلدی کریں، خاتون کی آواز مدہم اور کمزور پڑ رہی تھی
ایرک جلد سوچتے ہوئے ، اچھا اپنے اردگر دیکھیں اور منظر بتانے کی کوشش کریں
خاتون "میرے گھر میں ایک کھڑکی روشن ہے گلی کی طرف اور گلی میں اسٹریٹ لائٹ ہیں۔
ایرک :کھڑکی کس شکل کی ہے؟
"مستطیل نما ہے "
ایک پرانے ٹاون میں ایرک اس لوکیشن کے تک پہنچنے کی کوشش میں سوچتا ہے
"آپ اپنی جگہ پر رہیں زیادہ موومنٹ مت کریں ہم آپکو تلاش کرنے آ رہے ہیں"
ایرک کو کوئی جواب نا ملا سوائے زخمی خاتون کی لمبی سانسوں کے۔
ایک لمحہ سوچے بغیر ایرک نے اپنے کیپٹن کو کال کی، صورتحال بتا کر زیادہ سے زیادہ فائر ٹرک بھیجنے کے مطالبہ کیا،
"یہ بہت بڑا چلینج اور مشکل ٹارگٹ ہے لیکن کسی کی جان بچانا ہمارے لیئے اولین ترجیع ہے " کیپٹن نے جواب دیا
کچھ ہی دیر میں 15 فائر ٹرک ٹاون میں گلی کے ہر کونے پر پہنچ گئے
ایرک نے دوبارہ خاتون کو متوجہ کیا لیکن اب وہ جواب نہیں دے پا رہی تھئ، ایرک ابھی ابھی اس کی سانسوں کی اواز سن سکتا تھا،
فون پر ایرک کو فائر ٹرک کا سائرن سنائی دینا شروع ہوا۔ اس نے وائرلیس پر ٹرک کو ایک ایک کر کے اپنا سائرن بند کرنے کا بولا، فائر ٹرک نے باری باری اپنا سائرن بند کرنا شروع کیا۔
ٹرک نمبر 12 پر پہنچ کر ایرک کو سائرن کی آواز آنا بند ہوئی، اس نے دوبارہ ٹرک 12 کو سائرن چلانے کا بولا یہ اس گھر کے بہت قریب ہے "ایرک چلایا "
وہ خاتون کی رہائشی بلڈنگ کی گلی میں کامیابی سے پہنچ گیا لیکن ابھی گھر تلاش کرنا باقی تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ گھر کیسے تلاش کرے، اچانک اس کے زہن میں خیال آیا اس نے لاوڈ اسپیکر اٹھایا اور اس اسٹریٹ والوں سے مخاطب ہوا " ہمیں ایک خاتون کی تلاش ھے جو مصیبت میں ہے اسے ہماری ضرورت ہے مجھے معلوم ھے وہ یہاں قریب ہی ھے اس کے کمرے کی لائٹ آن ہے پلیز آپ لوگ اپنے گھر کی لائٹس آف کر دیں۔ کچھ ہی سکینڈ میں تمام لائٹ آف ہو گئیں سوائے ایک گھر کے،
ناقابل یقین، ایرک نے کر دیکھایا
فائرمین نے دروازہ توڑا اور دم توڑتی سانس لیتی زخمی خاتون کو اٹھا کر فوری وقت پر ہسپتال پہنچا دیا
دو ہفتے میں وہ مکمل صحتیاب ہو گئی اور اسکی یاداشت واپس آ گئی۔ ایرک نے اپنا فرض بغیر ہچکچاہت کے نبھانے کی مکمل کوشش کی اور کامیاب ہوا۔

اگر آپ کسی کام کا ٹھان لیں اور ہمت نا ہاریں تو آپ اپنی مہارت اور جذبے سے پہاڑوں کو ہلا سکتے ہیں اگر ہم ایک ٹیم ورک معاشرے طور پر اکھٹے ہیں تو ایک ناممکن سی صورتحال میں بھی کسی کی مدد کر سکتے ہیں ہم ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیے-
ماخوذ

13/03/2022

*کیا ہم لُٹیرے ہیں*

سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنیوالے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔
پہلا واقعہ:
مجھے آیرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔ اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔ ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ "آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے۔ ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جارہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے"

حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!!

دوسرا واقعہ:
میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔

ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھ رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے۔

مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟

اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔

میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا پیچ رہے ہیں۔
میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہوجائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔

اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔
میں نے مشورہ دیا کہ دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو ۔ کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا۔
اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا : کیا تم کوئی لٹیرے ہو (are you a robber) ؟؟؟
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟

یہ کون سا اخلاق ہے؟
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا۔

یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے ۔
یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے *نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم* نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن؟

اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے ہیں ؟؟؟
(کاپی پیسٹ )

07/10/2021

*میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں*

سیلزمین سے دوائیں نکلوانے کے بعد، پیسے دینے کے لیے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔
سب سے آگے ایک بوڑھی عورت، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔
میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ہی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید دبی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔
مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے۔۔۔ مگر دیر ہورہی تھی کیونکہ بوڑھی عورت کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔
میں نے دیکھا، وہ بار بار اپنے دبلے پتلے ، کانپتے ہاتھوں سے سر پر چادر جماتی تھی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اس کی چادر کسی زمانے میں سفید ہوگی مگر اب گِھس کر ہلکی سرمئی سی ہوچکی تھی۔ پائوں میں عام سی ہوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں عورت کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔
'980 روپے'۔ اس نے عورت کی طرف دیکھے بغیرپیسوں کے لیے ہاتھ آگے بڑھادیا۔
عورت نے چادر میں سے ہاتھ باہر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے مڑے تڑے ، 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے ۔ پھر سر جھکالیا۔
' بقایا ؟'۔ دکاندار کی آواز اچانک دھیمی ہوگئی۔بالکل سرگوشی کے برابر۔اس نے عورت کی طرف دیکھا ۔ بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رہی۔
شاید دو سیکنڈز کی خاموشی رہی ہوگی۔ ان دو سیکنڈز میں ہم سب کو اندازہ ہوگیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ہیں یا کم ہیں اور وہ کشمکش میں ہے کہ کیا کرے۔ مگر دکاندار نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے اس کی دوائوں کا ڈھیر تھیلی میں ڈال کرآگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔
بوڑھی عورت کا سر بدستور نیچے تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ہم سب اسے جاتا دیکھتے رہے۔میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سےمیں متاثر ہوا تھا۔
جونہی وہ باہر گئی، دکاندار پہلے ہمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا 'ڈونیشنز فار میڈیسنز' یعنی دوائوں کے لیے عطیات۔
اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آرہے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اوراس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ہاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ہوگیا ہے مگر دیکھتا رہا۔
دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔ اس نے پھر بوتل میں ہاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔
اب بوتل بالکل خالی ہوچکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔
اس نے بوڑھی عورت کے دیے ہوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے ۔ پھر مجھ سے آگے کھڑے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔'جی بھائی'۔
نوجوان نے،جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، ایک ہزار کا نوٹ آگے بڑھادیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کردیے۔
ایک لمحہ رکے بغیر، نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولاا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔اب خالی ہونے والی بوتل میں پھر سے، سو کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی ۔زور سے سلام کیا اور دکان سے چلاگیا۔
بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائ نے میرے رونگھٹے کھڑے کردئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ہوگئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، زندگی کے اسکرین سے غائب ہوگئے تھے۔ صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔
'بھائی یہ کیا کیا ہے آپ نے؟'۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔'یہ کیا کام چل رہا ہے؟'۔
'اوہ کچھ نہیں ہے سر'۔ دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔'ادھر یہ سب چلتا رہتا ہے'۔
'مگر یہ کیا ہے؟۔ آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ہیں؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم۔اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ہیں۔ تو کیا یہ اکثر ہوتا ہے؟'۔
میرے اندر کا پرانا صحافی بے چین تھا جاننے کے لیے کہ آخر واقعہ کیا ہے۔
'کبھی ہوجاتا ہے سر۔ کبھی نہیں۔ آپ کو تو پتا ہے کیا حالات چل رہے ہیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔'دوائیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ہیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ہوتے۔ تو ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ہے، اتنی مدد کردیتے ہیں۔ باقی اللہ ہماری مدد کردیتا ہے'۔
اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔
'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ہے؟'۔ میں نے پوچھا۔
'دن کدھرسر'۔ وہ ہنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھرجائے گی'۔
'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ہوتی ہے؟'۔
'یہ خالی نہیں ہوتی سر۔ اگر خالی ہوجائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ہے۔ دن میں تین چار بار خالی ہوکر بھرتی ہے۔ شکر الحمدللہ'۔ دکاندار اوپر دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔
'اتنے لوگ آجاتے ہیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔
'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ہے سر'۔ وہ ہنسا۔'بوتل خالی ہوگئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رہی۔ شاید دس سیکنڈ۔ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔
'پیسے دینے والے کون ہیں؟۔
'ادھر کے ہی لوگ ہیں سر۔ جو دوائیں لینے آتے ہیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ہیں'۔
'اور جو دوائیں لیتے ہیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ہیں؟'۔ میں نے پوچھا۔
'وہ بھی ادھر کے ہی لوگ ہیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاہیے ہوتی ہیں'۔ اس نے بتایا۔
'لڑکے؟'۔ میرا دل لرز گیا۔'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں؟'۔
'سر اتنی بے روزگاری ہے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ہوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔'اب گھر میں ماں باپ ہیں۔ بچے ہیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ہوگئے ہیں اس بوتل میں سے دوا لینے کے لیے۔ کیا کریں۔ کئی بار تو ہم نے روتے ہوئے دیکھا ہے اس میں سےلڑکوں کو پیسےنکالتےہوئے۔ یقین کریں ہم خود روتے ہیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔
'اچھا میرا کتنا بل ہے؟'۔ میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔
'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔
'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑادی۔
میں سوچتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا۔
غربت کی آگ ضرور بھڑک رہی ہے ۔مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔
مگرآسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رہے ہیں۔
خدا کے بندے اپنا کام کررہے ہیں۔چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔
اس یقین کے ساتھ کہ خدا دیکھ رہا ہے اورمسکرارہا ہے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ہیں۔

23/09/2021

09/09/2021

Imran khan notice lele..plz 😂😂😂

05/09/2021

*ایک شخص اپنے دوستوں کی محفل میں باقاعدگی سے شریک ہوتا تھا، اچانک کسی اطلاع کے بغیر اس نے آنا چھوڑ دیا۔*'

*کچھ دنوں کے بعد ایک انتہائی سرد رات میں اس محفل کے ایک بزرگ نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اس کے گھر گئے۔*

*وہاں انہوں نےاس شخص کو گھر میں تنہا، ایک آتشدان کے سامنے بیٹھا پایا، جہاں روشن آگ جل رہی تھی۔ ماحول کافی آرام دہ تھا۔ اس شخص نے مہمان کا استقبال کیا۔ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے، اور آتشدان کے آس پاس رقص کرتے شعلوں کو دیکھتے رہے۔*

*کچھ دیر بعد، مہمان نے ایک لفظ کہے بغیر، جلتے انگاروں میں سے ایک کا انتخاب کیا جو سب سے زیادہ چمک رہا تھا، اس کو چمٹے کے ساتھ اٹھایا اور ایک طرف الگ رکھ دیا۔ میزبان خاموش تھا مگر ہر چیز پر دھیان دے رہا تھا۔*

*کچھ ہی دیر میں تنہا انگارے کا شعلہ بجھنے لگا، تھوڑی سی دیر میں جو کوئلہ پہلے روشن اور گرم تھا اب ایک کالے اور مردہ ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تھا۔*

*سلام کے بعد سے بہت ہی کم الفاظ بولے گئے تھے۔ روانگی سے پہلے، مہمان نے بیکار کوئلہ اٹھایا اور اسے دوبارہ آگ کے بیچ رکھ دیا، فوری طور پر اس کے چاروں طرف جلتے ہوئے کوئلوں کی روشنی اور حرارت نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔*

*جب مہمان روانگی کے لئے دروازے پر پہنچا تو میزبان نے کہا: "آپ کی آمد کا، اور آپ کے اس خوبصورت سبق کے لئے بہت شکریہ، میں جلد ہی آپ کی محفل میں واپس آؤں گا"*

*گروپ بھی ایک کنبہ کی طرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کبھی کبھی ہم کچھ پیغامات سے ناخوش اور ناراض ہوتے ہیں، جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس تعلق کو قائم رکھنا چاہیے ۔ ہم یہاں ایک دوسرے کی خیریت سے آگاہ رہنے کے لئے ، خیالات کا تبادلہ کرنے ، یا محض یہ جاننے کے لئے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں ۔*

*دوسروں سے حرارت لیں اور اپنی حرارت سے دوسروں کو مستفید کریں اور سب کو دعاؤں میں یاد رکھیں*

*اس شعلہ کو زندہ رکھیں اور اللہ کی بخشی گئی سب سے خوبصورت چیز ، "دوستی" کو ہمیشہ قائم و دائم رکھیں....

Mukhtalif rango wale helmets ⛑️ kon kon kiss leye use karta ha uske tafseel..
18/08/2021

Mukhtalif rango wale helmets ⛑️ kon kon kiss leye use karta ha uske tafseel..

ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔...
09/08/2021

ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔
صنعت کار: تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟
مچھیرا: کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔
صنعت کار: تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟
مچھیرا: میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟
صنعت کار: تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہوگی جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے, تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے, اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے۔ جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔
مچھیرا: اس کے بعد میں کیا کروں گا؟
صنعت کار: پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔
مچھیرا: تو تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟

To check your sim number dial the following code
05/07/2021

To check your sim number dial the following code

Address

Ground Charbagh
Charbagh

Telephone

+923176085132

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NewTech Mobile zone Tankaicheena posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NewTech Mobile zone Tankaicheena:

Share