07/09/2024
سگی ماں نے پرائے معاشرے میں اپنے ہی جگرکے ٹکڑوں کو زہر دے دیا😭😭😭
فیصل آباد میں محنت مزدوری کی تلاش میں گئے شوہر منڈی بہاؤالدین چک رائب کے رہائشی توقیر احمد کی بیوی مہوش نے گھر میں بجلی راشن نا ہونے کی وجہ سے فون پر شوہر سے جھگڑا کیا کہ خرچہ بھیجو دس ہزار روپے بجلی بل آیاہے واپڈاوالے بجلی میٹر اتار کر لے گئے ہیں۔
ساری ساری رات بچے گرمی میں روتے ہیں۔ دو دن سے گھر میں آٹا تک نہیں ہے۔ بچے بھوکےہیں میں انہیں بھوکا نہیں دیکھ سکتی ہوں۔ تم بس جیسے بھی کرو پیسے بھیجو۔۔۔ شوہر نے کہا ابھی مجھے کام نہیں ملاجیسے ہی کام ملے گا میں پیسے بھیج دونگا۔
کہیں سے ادھار لے لو۔۔۔ ادھار اب کوئی نہیں دیتا۔ لہٰذہ اپنے تین بیٹوں سات سالہ سفیان احمد، پانچ سالہ سبحان احمد اور دس سالہ محمد اویس کو پانی کے ساتھ گندم میں رکھنے والی گولیاں کھلا دیں۔
جنہیں حالت غیر ہونے پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ملکوال لے جایا گیا۔ جہاں محمد اویس کو طبی امداد کے بعد بچا لیا گیا جبکہ سفیان اور سبحان کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاؤالدین منتقل کردیا گیا۔ لیکن وہاں سے بھی انہیں تشویشناک حالت کے باعث لاہور ریفر کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پولیس تھانہ ملکوال نے ملزمہ کو گرفتار کر کے لاشیں پوسٹمارٹم کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال ملکوال منتقل کر دیں 😭😭
اللّٰہ ایسے حالات کے ذمہ داروں کو غارت کرے 😡
سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کی تمام تر ذمہ دار بس یہ اکیلی خاتون ہے؟
1۔ سب سے پہلے ہمسائے اللہ کی عدالت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جو اپنے ہمسائیوں کے حالات سے بے خبر ہیں۔
2۔ کرپٹ واپڈا اہلکار اس کے ذمہ دار ہیں۔
3۔ گلی میں موجود دوکاندار اسکا ذمہ دار ہے جو اشیائے خوردونوش کی من مرضی کی قیمتیں گاہکوں سے وصول کررہا ہے۔
4۔ وہ ایم این اے ذمہ دار ہے جو پیسوں کے عوض اپنے ضمیر بیچ دیتا ہے۔
5۔ اسسٹنٹ و ڈپٹی کمشنر اسکا ذمہ دار ہے جو قیمتوں کی روک تھام کیلیے اقدامات نہیں کرتے۔
6۔ حکمران سب سے زیادہ ایسے واقعات کے ذمہ دار ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود کے علاوہ سب کچھ کرتے ہیں، اپنی نسلوں کے آرام و آسائش کیلیے۔
7۔ پاکستان کی سپریم کورٹ اسکی ذمہ دار ہے جو طاقتور کرپٹوں کو قانون کے شکنجہ میں لاتی۔
8۔ پاکستان کی موجود عسکری قیادت اس واقعہ کی ذمہ دار ہے۔ جنہوں نے ملک میں خفیہ مارشل لاء نافذ کررکھا ہے۔ اور چوروں کے تحفظ میں دن رات کام کررہی ہے۔
یہ سب دنیا کی گرفت سے محدود وقت کیلیے تو بچ جائیں گے مگر انکی روحیں اس وقت تک ان کے جسموں سے نہیں نکلنی جبتک کہ مکافات کے شکنجے سے گزر نہ جائیں۔ اور پھر آخرت میں ان سے مزید شدید بدلہ لیا جانے والا ہے۔