Pakistan Computer & Mobiles Battagram

Pakistan Computer & Mobiles Battagram ہمارے ہاں ہر قسم کے کمپوٹرز،لیپ ٹاپ،سیکورٹی کیمز،LCD/LED's,موبائل فون،سمارٹ فونزاور ہرقسم کے پارٹس دستیاب ہیں

16/03/2018
10/12/2016
24/11/2016

ایک پانچ چھ. سال کا معصوم سا بچہ 👦اپني چھوٹی بہن 👩 کو لے کر مسجد کے ایک طرف کونے میں بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا.

کپڑے میں میل لگا ہوا تھا مگر نہایت صاف، اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے.
بہت سے لوگ اس کی طرف متوذو تھے اور وہ بالکل بے خبر اپنے اللہ سے باتوں میں لگا ہوا تھا.

جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کے اس کا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا
"کیا مانگا اللہ سے"
اس نے کہا
"میرے پاپا مر گئے ہیں ان کے لئے جنت،
میری ماں روتی رہتی ہے ان کے لئے صبر،
میری بہن ماں سے کپڑے سامان مانگتی ہے اس کے لئے رقم ".
"آپ کو اسکول جاتے ہو"
اجنبی نے سوال کیا.
"ہاں جاتا ہوں" اس نے کہا.
"کس کلاس میں پڑھتے ہو؟" اجنبی نے پوچھا
"نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا، ماں چنے بنا دیتی ہے وہ اسکول کے بچوں کو فروخت کرتا ہوں، بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں، ہمارا یہی کام دھندہ ہے" بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا.

"تمہارا کوئی رشتہ دار"
نہ چاہتے ہوئے بھی اجنبی بچے سے پوچھ بیٹھا.
"پتہ نہیں، ماں کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا،
ماں جھوٹ نہیں بولتی،

پر انکل،
مجھے لگتا ہے میری ماں کبھی کبھی جھوٹ بولتا ہے،
جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمیں دیکھتی رہتی ہے،
جب کہتا ہوں
ماں آپ بھی کھاؤ، تو کہتی ہے میں نے کھا لیا تھا، اس وقت لگتا ہے جھوٹ بولتا ہے "
"بیٹا اگر تمہارے گھر کا خرچ مل جائے تو پڑھائی کرو گے؟"
"بلكل نہیں"
"کیوں"

"تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں انکل،
ہمیں کسی پڑھے ہوئے نے کبھی نہیں پوچھا - پاس سے گزر جاتے ہیں "
اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی.

پھر اس نے کہا "ہر روز اسی اس مسجد میں آتا ہوں، کبھی کسی نے نہیں پوچھا - یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے - مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا

"بچے زور زور سے رونے لگا" انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں؟ "
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ ہی میرے پاس بچے کے سوال کا جواب ہے.
ایسے کتنے معصوم ہوں گے جو حسرتوں سے زخمی ہیں

بس ایک کوشش کیجئے اور اپنے ارد گرد ایسے ضرورت مند يتمو، بےسهاراو کو ڈھوڈھيے اور ان کی مدد كجے .........

🙏 مدرسوں، مساجد میں سیمنٹ یا اناج کی بوری دینے سے پہلے اپنے آس - پاس کسی غریب کو دیکھ لینا شاید اس کو آٹے کی بوری کی زیادہ ضرورت ہو.

کچھ وقت کے لئے ایک کرب بے سہارا کہ آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھے آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے
تصویر یا ویڈیو بھیجنے کہ جگہ یہ میسیج کم از کم ایک یا دو گرپ میں ضرور ڈالے |

* خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کے کوشش جاری رکھیں. * 🎋🌹💐

18/10/2016

عمر بشیر کی زندگی کی سچی داستان

یہ اسلام آباد کی ایک بین الاقوامی سطح کی عمار ت ہے ، جس میں زیادہ تر دفاتر ملکی دفاتر قائم ہیں ۔

کچھ نیشنل کمپنیاں ہیں اور کچھ معروف این جی اوز ہیں، یہ عمارت ایک پس ماندہ ملک میں جدید ترین دنیا کا جزیرہ ہے ، اس میں بے شمار غیر ملکی مرد اور عورتیں کام کرتی ہیں، آپ کو اس میں ایسی عورتیں نظر آتی ہیں ، جنہوں نے اسکرٹ پہن رکھے ہیں، سوٹ بوٹ اور ٹائی والے صاحب نظر آتے ہیں، اس چھت کے نیچے انگریزی زبان ، قومی زبان ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے سے انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، تمام دفاتر کا اپنا سیکورٹی سسٹم ہے ، سارے دروازے برقی ہے اور آپ جب تک دروازے پر لگے کیمرے کو اپنا سیکورٹی کارڈ نہیں دکھاتے دروازہ نہیں کھلتا اور آپ اس کے اندر داخل نہیں ہوسکتے ۔

میں اس عمارت میں متعدد بار آیا تھا ، کبھی فلاں این جی اوز کے چیف ایگزیکٹیو سے ملنے اور کبھی کسی ملٹی نیشنل کے منیجر کے درشن کے لئے ، میں جب بھی آیا میری ملاقات کسی نہ کسی گورے صاحب سے ہوئی، کوئی نہ کوئی غیر ملکی میرا منتظر تھا ، ان تجربات کی بنیاد پر میں نے محسوس کیا کہ اس عمارت میں شاید ہی کوئی مقامی باشندہ ہو ، اگر ہو تو یقینا سیکورٹی گارڈ، چپراسی یا پھر فرش صاف کرنے والا کارکن ہوگا، ورنہ دفتر کے اندر کسی کرسی ، کسی عہدے پر کوئی مقامی آدمی تعینات نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔لیکن اس دن میں اس ولایتی عمارت میں ایک دیسی شخص سے ملنے گیا تھا ، مجھے عمر بشیر سے ملنا تھا ۔

عمر بشیر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا کنٹری منیجر تھا ، جب اس کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو میرا خیال تھا کہ وہ لازماً کسی عرب ملک کا باشندہ ہوگا ، اگرنہ ہوا تو وہ امریکہ یورپ کی کسی ماڈرن ازم سے متاثر ہوکر اسے پاکستان میں تعینات کیا ہوگا، لہذا آج کل وہ دفتر میں بیٹھ کر پاکستان کی بوریت اور خشک زندگی کا رونا روتا ہوگا ، وہ شکوہ کرتا ہوگا کہ اس ملک میں’’شوشل لائف‘‘نام کی کوئی چیز نہیں ، کلب ہیں نہ ڈسکو ہیں، اف کہاں پھنس گیا۔ اب مجھے تفریح کے لئے ہر مہینے دبئی جانا پڑتا ہے، سنا ہے بینکاک اور ممبئی بھی بہت سستے ہیں ، لیکن میں ابھی وہاں نہیں گیا، مجھے کوئی دوست بتارہاتھا کہ کراچی کے کچھ لوگوں کے اپنے فارم ہاؤسیز پر ایسے ہی خفیہ کلب بنارکھے ہیں، لیکن وہاں چھاپوں کا ڈر رہتا ہے اور میں کوئی رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہوں وغیرہ وغیرہ۔

غرض عمر بشیر کی شخصیت کے خالی تصورات کے ساتھ جب میں ان کے دفتر میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا ، ہمارے سامنے مولانا کے حلیے کا ایک جوان شخص بیٹھا تھا ، سیاہ گھنی داڑھی، مونچھوں کی جگہ خالی ، ماتھے پر سجدے کا نشان ، دانت سفید، آنکھوں میں حیا اور گلاب کے عطر کی ہلکی ہلکی خوشبو، میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا ، میں نے آگے پیچھے دیکھا اور جھجکتے جھجکے عرض کیا:’’مجھے عمر بشیر صاحب سے ملنا تھا۔‘‘ وہ مسکرایا اور دھیمے لہجے میں بولا:’’خاکسار ہی کو عمر بشیر کہتے ہیں ۔‘‘ میں نے لمبی سانس بھری، جسم کو ڈھیلا چھوڑا اور ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھ گیا ، اس نے کہا:’’میرے پاس۴۵؍منٹ ہیں،۱۵؍ منٹ آپ کو اپنے لنچ ٹائم سے دے دوں گا ، مجھے معلوم ہے آپ کام کی باتوں کے علاوہ میرے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ جاننا چاہیں گے ۔ چنانچہ ہمارے لئے ایک گھنٹہ کافی ہوگا ، ہم سب سے پہلے کام کی بات کرتے ہیں۔‘‘میں اس کے میکنیکل لہجے پر مزید حیران ہوگیا، پھر میں نے فائل کھولی اور عمر بشیر کے سامنے رکھ دی ، میں نے نوٹ کیا، جب خاتون اندر داخل ہوئی تو عمربشیر نے نظریں جھکالیں ، انہوں نے سکریٹری کی طرف دیکھا تک نہیں ، سیکریٹری واپس چلی گئی تو عمر بشیر نے انگریزی میں گفتگو شروع کردی، وہ بڑی خوبصورت انگریزی بول رہے تھے ، ان کا لہجہ کیلی فورنیہ کے پڑھے لکھے امریکیوں جیسا تھا ، ان کی کمپنی پاکستان میں فلاحِ عامہ کا کوئی ایسا کام کرنا چاہتی تھی ، جس سے انتہائی غریب لوگوں کو کوئی فائدہ پہنچ سکے، وہ اس سلسلے میں میری مشاورت چاہتے تھے، انہوں نے بڑے کاروباری انداز سے بات چیت کی، اپنی کمپنی کا پس منظر بیان کیا ، اپنا ٹرن آؤٹ بتایا ، دنیا بھر میں پھیلے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات دیں ، دنیا کے کون کون سے ملک میں ان کی کمپنی نے آج تک کیا کیا فلاحی کام کئے؟ انہوں نے اس کے بارے میں بتایا اور آخر میں پاکستانی معاشرے کے اجزاء اس کے مسائل اور فلاحی کاموں کی نوعیت کے بارے میں گفتگو کی ۔ ان کی یہ ساری بات چیت انگریزی زبان میں تھی ، اور درمیان میں انہوں نے اردو میں جمائی اور ہچکی تک نہ لی ۔ وہ مسلسل انگریزی بولتے چلے گئے، آخر میں مَیں نے اپنی معلومات کا حوالہ دیا، وہ تمام سیکٹر بتائے جن میں کام ہوسکتا ہے، اور ان کاموں کے لئے انہیں کون کون سے کارکن کہاں کہاں مل سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ہماری یہ بات چیت آدھے گھنٹے تک جاری رہی، آدھے گھنٹے بعد ہم فارغ تھے ، انہوں نے کاغذ سمیٹے ، سیکریٹری کو بلایا جوں ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی ، انہوں نے نظریں جھکائیں اور مجھے اگلی ملاقات کا وقت دینے کی ہدایت کردی ، انہوں نے لکھوایا کہ اگلی میٹنگ میں فلاں فلاں لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے ، ان کے کام کرنے کا سارا اسٹائل امریکی تھا، لیکن ان کی شخصیت، ان کا حلیہ، اس اسٹائل سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ، وہ اس سارے ماحول میں اجنبی اجنبی سے محسوس ہوتے تھے، جوں ہی سیکریٹری باہر گئی انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اردو میں نرم لہجے میں بولے :’’ہم ذاتی گفتگو کرسکتے ہیں۔‘‘میں بڑی دیر سے اپنی بے چینی کو دبائے بیٹھا تھا ، میں نے ان پر سوالات کی بوچھار کردی، وہ میرا سوال سنتے رہے ، جب میں تھک کر خاموش ہوا تو وہ گویا ہوئے :

’’میرا تعلق ملتان کے ایک دوردراز علاقے سے ہے، میرا گھر انا مذہبی ہے ، والد صاحب مدرسے کے منتظم ہیں، ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، ہمارے خاندان کا کوئی فرد آج تک ملک سے باہر نہیں گیا، میری تعلیم و تربیت بھی مذہبی ماحول میں ہوئی، مجھے مدرسے کے ساتھ ساتھ عام اسکول میں بھی داخل کردیا، میرا ذہن اچھا تھا، میں نے ایک طرف حفظ کیا اور دوسری طرف عام عصری تعلیم میں آگے بڑھتا گیا ، میں اسکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا،میں نے میٹرک بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ گائوں میں انگریزی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ میں نے اس کا حل یہ نکالا کہ میں بی بی سی اور وائس آف امریکہ سننے لگا، میں روزانہ انہیں سنتا ، دس الفاظ روزانہ یاد کرتا ، ریڈیو رپورٹ انائونسر کے لہجے میں نقل کرتا، حفظ کی وجہ سے میری یادداشت بڑی شاندار تھی ، میں پوری پوری ریڈیو رپورٹ یاد کرجاتا تھا، ساری ساری خبریں مجھے ازبر ہوجاتیں، میں شام کو کھیتوں میں نکل جاتا، پودوں ، درختوں اور فصلوں کو یہ ساری خبریں، یہ ساری رپورٹیں انگریزی لہجے میں سناتا۔ میں برسوں یہ پریکٹس کرتا رہا ، یہاں تک کہ مجھے انگریزی لہجے پر عبور حاصل ہوگیا ، لوگ میری انگریزی سن کر چونک اٹھے اور دعوے سے کہتے کہ میں امریکہ لندن میں پیدا ہوا ہوں ، کالج میں مَیں نے انگریزی کتب کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔ اس سے میرے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوگیا، میرے دوسرے مضامین بھی اچھے تھے، ان میں بھی میرے نمبر اچھے تھے ، کالج جاتا تو میں شلوار کرتا پہن رکھا ہوتا تھا، پائوں میں کھلی چپل ہوتی تھی اور سر پر عمامہ ، شروع شروع میں لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے، لیکن میری قابلیت نے جلد ہی انہیں میرے احترام پر مجبور کردیا، بی اے میں میری یونیورسٹی میں پوزیشن آگئی، ان دنوں امریکہ نے تیسری دنیا کے نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دینا شروع کئے تھے ، میں نے اپلائی کیا، ٹیسٹ انٹرویو ہوا، میری اس میں پہلی پوزیشن تھی، انہوں نے میرے حلیے پر ہلکا سا اعتراض کیا ، لیک میں نے ان سے کہا:’’اگر سکھوں، یہودیوں اور عیسائیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کو وظائف دیتے وقت ان کے حلیے پر اعتراض کرتے ہیں تو مجھ پر بھی کریں ، ورنہ پھر دوسروں کی طرح مجھے بھی برداشت کریں ۔‘‘ وہ لوگ ہنس پڑے، یوں مجھے میرے حلیے سمیت امریکہ ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں داخل مل گیا، وہاں بھی لوگ مجھے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے ، لیکن میں نے کسی کی پروانہ کی، میں نے اپنے ڈین سے مل کر نماز کی اجازت لے لی ، انہوں نے میرے لئے اپنے دفتر کا ایک کارنر مخصوص کردیا ، اچھا طالب علم تھا ، مجھے تمام متعلقہ علوم ازبر ہوتے تھے، میں کل ہونے والی پڑھائی کے بارے میں پہلے ہی سے تمام مواد پڑھ لیتا تھا ، اپنا کام وقت پر کرتا تھا انگریزی میری بہت اچھی تھی، لہذا تمام اساتذہ اور طالب علم میرا احترام کرنے لگے ، ایک دن کلاس کے دوران میں قرآن مجید کی تلاوت کی تو تمام لوگ حیران رہ گئے ، ان کے لئے یہ حیران کن بات تھی کہ مجھے پورا قرآن زبانی یاد ہے، انہوں نے میرا امتحان شروع کردیا ، اب میں فارغ وقت میں انہیں قرآن مجید سنانے لگا ، میں نے انہیں قرآن مجید کے احترام کے بارے میں بتادیا تھا، میں جب تلاوت شروع کرتا تھا تو خواتین خود بخود سر ڈھانپ لیتی تھیں ، لڑکے سگریٹ بجھا دیتے تھے اورباتیں کرنے والے خاموش ہوجاتے تھے ۔ امریکہ میں ایک اور دلچسپ روایت ہے ، وہاں مختلف ادارے یونیورسٹیوں سے رابطہ کرتے ہیں ، اور مختلف شعبوں میں بہترین پوزیشن لینے والے طالب علموں کو اپنے ادارے میں نوکری کی پیشکش کرتے ہیں ، یونیورسٹی کے پروفیسر ان نوکریوں کی تقسیم اداروں کی سطح اور طالب علموں کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں ، میری پوزیشن چونکہ سب سے اچھی تھی ، لہذا میرے ڈین نے میرا نام ایک ملٹی نیشنل کمپنی کو دے دیا ، میں انٹرویو کے لئے گیا تو وہ لوگ بھی اپنے دفتر میں ایک’’طالبان‘‘ کو دیکھ کر پریشان ہوگئے ، انہوں نے مجھے ’’ان ٹرن شپ‘‘ کی پیشکش کردی ، میں نے وہ ادارہ جوائن کرلیا، میں وہاں جزوقتی ملازم تھا ، لیکن چند گھنٹوں میں اتنا کام کرجاتا تھا ، جتنا ان کے کل وقتی ملازموں کا پورا شعبہ نہیں کرتا تھا ، میں چھ ماہ ان کا جز وقتی ملازم رہا ، اس دوران میں نے کمپنی کوبعض مشورے دیے، انہوں نے طویل تکرار کے بعد ان پر عمل کیا، کمپنی کے منافع میں سو فیصد اضافہ ہوگیا ، وہ میری کارکردگی پر حیران رہ گئے ، چھ ماہ بعد انہوں نے مجھے پانچ ہزار ڈالر ماہوار کی آفر کردی ، میں نے آفر قبول کرلیا ، نوکری کے دوران میں نے ہمیشہ وقت کی پابندی کی ، ذمہ داری سے بڑھ کر کام کیا ، ماتحتوں کے ساتھ اخلاق کا مظاہرہ کیا ، ان سے پیارو محبت سے کام لیا، لہذا میری کارکردگی نے امریکیوں کو حیران کردیا ، میں حافظ ِ قرآن تھا، میرے سینے میں موجود قرآن مجید نے میری رہنمائی کی ، وہ برکت بن کر میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا ، میرے سارے کام آسان ہوگئے ، میں ترقی کرتا چلا گیا ، یہاں تک کہ میری تنخواہ پچیس ہزار ڈالر ماہانہ ہوگئی ، پوری کمپنی میں صرف۲۰؍ بندے تھے جن کی اتنی یا اس سے زیادہ تنخواہ تھی ، میرا دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ۔ ۲۰۰۰ء میں والد صاحب نے مجھے واپس آنے کا حکم دے دیا۔ میں نے استعفیٰ پیش کردیا، انہوں نے وجہ پوچھی ، میں نے بتایا تو وہ مزید حیران ہوگئے کہ ایک شخص اپنے بوڑھے والد کی خواہش پر اتنی بڑی نوکری چھوڑ کر جارہا ہے ۔ انہوں نے مجھے سمجھایا ، جب میں نہ مانا تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا، انہوں نے پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے کا اعلان کردیا، انہوں نے یہ دفتر بنایا، عملہ رکھا اور مجھے کنٹری منیجر بنا کر یہاں بھجوادیا۔

یہاں میرے اختیارات کا یہ عالم ہے کہ پورے ایک مہینہ کے لئے جہاز چارٹر کرسکتا ہوں ، دس کروڑ روپئے تک کا چیک ہیڈ کوارٹر کی منظوری کے بغیر سائن کرسکتا ہوں، ایشیاء کے ۱۲؍ ممالک میرے ماتحت ہیں، لوگ میرا حلیہ دیکھتے ہیں اور پھرمیری پوزیشن پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا، آپ کو بھی حیرانی ہوگی ، میں نے پوری زندگی شیو نہیں کی ، کوئی نماز قضا نہیں کی ، روزہ نہیں چھوڑا ، میں نے پوری زندگی پتلون نہیں پہنی، شرٹ نہیں پہنی ، ٹائی نہیں لگائی ، سرننگا نہیں رکھا، لیکن اس کے باوجود ملٹی نیشنل کمپنی کی انتظامیہ میں شامل ہوں، لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں ، وہ ہمیں دہشت گرد اور جنونی سمجھتے ہیں ، ہم ان کی رائے بدل نہیں سکتے ، لیکن اگر ہم اس دنیا میں ان لوگوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ان لوگوں کو اپنی محنت، قابلیت اور ذہانت سے متاثر کرنا ہوگا ، اگر مدرسے کا ایک بچہ ایسا کرسکتا ہے تو ہم لوگ اپنی صلاحیتوں سے انہیں متاثر کیوں نہیں کرسکتے ۔

نوٹ :اس مضمون کورفاہ عام کے لئے کاپی پیسٹ کی عام اجازت ہے
طلب دعا سمیع اللہ

پاکستان کمپیوٹرز بٹگرام کی طرف سے تمام مسلمانوں کو عیدالاضحٰی مبارک ہو
12/09/2016

پاکستان کمپیوٹرز بٹگرام کی طرف سے تمام مسلمانوں کو عیدالاضحٰی مبارک ہو

29/08/2016

Frwrd as rcvd

*اسلام علیکم*

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ " ﻟﮑﮭﺎ ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻠﮑﮧ یه *" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ …
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮا- ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ گا خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ " ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ " ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ " ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ " ( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎ ﺍﻟﻠﮧ )

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ " ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ-
ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ
" ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے...

1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ – ( ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ ) , 78

2. ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﮧَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ , ـ ( ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ) 20

3. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً – ( ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ ) , 35

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " ﺍﻟﻠﮧ " ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔۔

ﻟﻔﻆ " ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*

" ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ "
" ﺷﺎﺀ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ "
" ﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ "...

ﺗﻮ ﻟﻔﻆ *" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔

1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ – ( ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ ) 70

2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ – ( ﯾﻮﺳﻒ ) 99

3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ – ( ﺍﻟﮑﮩﻒ ) 69

4. ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ – ( ﺍﻟﻘﺼﺎﺹ ) 27

ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ
*" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "*
ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
*" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "*
ﺗﻮ ﺍسے ایسےھی ﻟﮑﮭﻨﺎ ﭘﺎﻟﮑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ھو گا ۔۔

انگریزی میں یوں لکھ جا سکتا ھے..
*"In Sha Allah"*

صدقه جاریه کے طور پر اس معلومات کے پرچار کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست ھے..
*والسلام*

21/08/2016

📍🚦📱📱📱📱📱📱📱🚦📍

ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﺼﯿﺤﺖ

اپنے اپنے متعلقین کو ضرور بھیجیں

🚦📍🚦📍🚦📍🚦📍🚦

ﺭﻭﻧﮕﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ
----'---'--------'-----'''--''----

📍💦📍💦📍💦📍💦📍💦📍

: ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺍﺕ ِﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ؓ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﺎﻟﺖ ِ ﺍﺣﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ - ﺣﺞ ﻭ ﻋﻤﺮﮦ ﮐﮯ ﺍﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ - ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭ ﺍٓﻻﺕ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ
ﭘﮑﮍﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﮯ۔

🌻📍🌻📍🌻📍🌻📍🌻📍
ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ :
’’ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺍٓﺯﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﻮﮔﮯ ، ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺳﺰﺍ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﻮﮔﺎ۔ ‘‘ ( ﻣﺎﺋﺪﮦ : ۹۴ )
ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﺘﻼﺀ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﭘﯿﺶ ﺍٓﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻗﺪﺭﮮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ۔

💠📍💠📍💠📍💠📍💠📍
ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﮯ ؟
ﺍٓﺝ ﺳﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ۱۰ -- ۲۰ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﺤﺶ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﮐﻠﭙﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﮐﻞ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﯾﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﮨﻠﮑﺎ ﺳﺎ ﭨﭻ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻋﺎﺫﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻨﮧ ( ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﻙ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺋﯿﮟ )
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻮﺭ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ :
ﻟﯿﻌﻠﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻦ ﯾﺨﺎﻓﮧ ﺑﺎﻟﻐﯿﺐ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺒﺎﻧﮧ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻭ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﮍﻭ؛ ﺍﺳﻠﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍٓﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔

⭐💦⭐💦⭐💦⭐💦⭐💦
ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ :
’ ﺍٓﺝ ﮨﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﮩﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﻮﺕ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔

🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁‘
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺫﮨﻦ ﻧﺸﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ :
’ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺍٓﺯﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﻮﮔﮯ ، ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺳﺰﺍ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﻮﮔﺎ۔ ‘
ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺼﯿﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ۔

💞💞💞💞💞💞💞💞
ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ :
’’ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ، ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺍٓﺩﻣﯽ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍٓﮔﯿﺎ، ﺗﻮﯾﮧ ﮈﺭﻧﺎ ﺍﺱ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ‘‘ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﯾﺸﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺍٓﮨﭧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
’ ﮐﻠﯿﺠﮧ ﻣﻨﮧ ﮐﻮﺍٓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،ﺳﺎﻧﺲ ﺭﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﻭﮨﺎﮞ ﺑﻠﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

🔮🔮🔮🔮🔮🔮🔮🔮 ‘
! ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ؟
ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ
ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰﺍﻭﺭﺭﺳﻮﺍﮐﻦ ﺣﺮﮐﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﮬﯿﺎﻥ ‘ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﺣﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔

💠💠💠💠💠💠💠💠

ﻋلماء عظام ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ کہ:
ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﯾﻌﻨﯽ ’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﮬﯿﺎﻥ ‘ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﻋﻆ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﯼ۔ﭘﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﺩﮐﮭﻼﻧﺎ ﺑﮍﯼ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﺑﺰﺭﮒ ﺷﺨﺺ :
ﮐﺴﯽ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ : ﻇﺎﮨﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭﺑﺎﻃﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮧ ﺑﻨﻮ۔

💦💦💦💦💦💦💦💦
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻢ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ’’: ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﮧ ﻧﺴﺒﺖ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺗﮏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺑﮩﺖ ﺍٓﺳﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ‘‘ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ’ ﺗﺮﮎ ﺣﺮﺍﻡ ‘ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔ ‘‘
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ، ﺑﻄﻮﺭﺧﺎﺹ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ، ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺍﻭﺭﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﺰﻥ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺧﻠﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﮈﮔﻤﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮞﺎﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﻻﺯﻡ ﭘﮑﮍﻭ۔ ﺗﻢ ﺍ ﺱ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺷﮩﻮﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﮑﮍ ﻣﯿﮟ ﺍٓﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﻮﮔﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﻤﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺍﻗﺒﮧ ﯾﻌﻨﯽ ’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﮬﯿﺎﻥ ‘ ﮐﻮ ﻻﺯﻡ ﭘﮑﮍ ﻟﻮ۔
ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻘﯿﻢ ؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﺧﻠﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺭﺍﮦ ِﺣﻖ ﺳﮯ ﻣﺘﺰﻟﺰﻝ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﺛﺒﺎﺕ ﻗﺪﻣﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺑﻨﺪﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻠﻮﺕ ﮐﻮ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻗﺪﺭ ﺷﺎﺩ ﻭ ﺍٓﺑﺎﺩ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔

📍🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ﺭﮨﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺳﻨﻮ !
ﺣﻀﺮﺕ ﺛﻮﺑﺎﻥ ؓ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ : ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
’’ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ
لوﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺟﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﮯ ؛ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﯼ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮐﺎﺭﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺛﻮﺑﺎﻥ ؓ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ! ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺻﺎﻑ ﻭ ﻋﻼﻣﺘﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﻼ ﺩﯾﺠﺌﮯ : ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺑﮯ ﺧﺒﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺳﻨﻮ ! ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ( ﮐﯽ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ) ﮐﻮﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮞﮕﮯ ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺮﺩﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻠﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺣﺪﻭﺩ ﺗﻮﮌ ﮐﺮﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ( ﺭﻭﺍﮦ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ‘‘(
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﮏ ﻻﮐﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ۔

📍💖💖💖💖💖💖📍
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ، ﺑﺎﻟﻔﺎﻅ ﺩﯾﮕﺮ ’ ﺑﯿﻨﮏ ﻻﮐﺮ ‘ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭ ﯾﺎ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ۔ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
-----------------------------
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮈﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﺸﯿﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﮨﻢ تجھ ﺳﮯ ﺧﻠﻮﺕ ﻭﺟﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟتیری ﺧﺸﯿﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨ

📍🌹🌹🌹🌹📍

ان آیات پر بھی غور و فکر کرتے رہیں

♦♦♦♦♦♦🌅🌅🌅🌅🌅🌅

41 : سورة حم السجدہ آیات 19 تا 25

وَ یَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾

اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی ۔

حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾

یہاں تک کہ جونہی اس کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے ۔

وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾

اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو ۔

وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔

وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے ۔

فَاِنۡ یَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّسۡتَعۡتِبُوۡا فَمَا ہُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِیۡنَ { 24﴾

اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ(عذر و) معافی کے خواستگار ہوں تو بھی معذور و) معاف نہیں رکھے جائیں گے۔
وَ قَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿ ۲۵﴾

ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کر دکھاتے تھے ، آخرکار ان پر بھی وہی فیصلہ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقینا وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے۔☀☀☀☀☀☀☀☀☀☀🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴

خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ نے
یہودیوں کو سنیچر میں مچھلیوں کے شکار سے منع کر کے آزمایا
حالانکہ مچھلیاں صرف سنیچر کے روز ہی آتی تھی ◼◼◼◼◼

اور صحابہ رضی اللّٰہُ عنهم كو احرام کی حالت میں شکار سے روکا جبکہ شکار کے جانور انکے ہاتھوں کے سامنے اور انکے نیزوں کی زد میں آ جاتے تھے
🎿🎿🎿🎿🎿🎿🎿🎿🎿🎿

اسی طرح اس دور کا فتنہ اور آزمائش انٹرنیٹ وغیرہ ہے کہ بند کمرے میں
بغیر کسی محنت کے فحاشی کے پروگرامز دیکھے جا سکتے ہیں
🛬✈🛫🚖🚘🚒🚜🚛🚲🚑🚝🚞🚋🚇🚊🚉🚁🚆🚨⛵🚢💽💾📲📱💻⌨🖥🖨🖲🕹📷📸📹📟📠📺📻⌛⏳🖼📭💌✂✂🔐

مگر محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم
نے فرمایا ✅ کہ تقوی دل ❤ میں ہوتاہے ✅(صحیح مسلم )🔐🔐🔐🔐🔐🔐🔐💌💌💌

اگر کوئی اس فتنہ میں مبتلا ہے تو
اللہ سے سچی توبہ کرتے ہو ئے خود کو ہمہ وقت حصول علم اشاعت دین ذکر الہی وغیرہ جیسے نیک کاموں میں مشغول رکھے کہ شیطان کا تسلط ختم ہوجائے
اور بری ساتھیوں کو مکمل طور پر چھوڑ کر اچھے ساتھیوں کی مجلس اختیار کرے⛰⛰⛰⛰⛰🛣
تمام افراد اور گروپس میں شیئر کریں? � جزاكم الله خير

پاکستان کمپیوٹرز بٹگرام کی طرف سے تمام اہل وطن کو یوم آزادی مبارک ہو.
13/08/2016

پاکستان کمپیوٹرز بٹگرام کی طرف سے تمام اہل وطن کو یوم آزادی مبارک ہو.

21/07/2016

بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو 8 دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں..
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو..
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں
بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں
مگر یہ کیا؟؟؟؟ بھیڑئیوں نے تو ان پر حملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا
آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے... !!!

Address

Batagram
21040

Telephone

+923449555164

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Computer & Mobiles Battagram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Computer & Mobiles Battagram:

Share