18/03/2026
اس لڑکے کو گھر میں پیار سے ببلو کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ والد کا نام عبد الستار والدہ کا نام آمنہ ہے۔
بھائیوں کے نام الطاف اور زین۔
بہن کا نام مریم تھا۔
ببلو آج سے سترہ سال قبل سندھ کے شہر سکھر میں دوستوں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا،دور کہیں جاکر بھٹک گیا ۔
گھر کا راستہ معلوم نہیں تھا کسی نے کچھ دن اپنے گھر رکھا ورثاء نہیں ملے تو بذریعہ پولیس ایک شیلٹر میں جمع ہوا۔ یہاں ببلو کا نام ممتاز رکھا گیا۔
ببلو کا کہنا ہے کہ ایک ڈیڑھ سال بعد سال 2011 میں اسی ادارے کے کراچی والے شیلٹر میں منتقل کیا گیا اور میں یہیں کا ہوگیا۔
سال دوہزار سترہ کو میں شیلٹر سے بھاگ گیا اور باہر آکر مختلف جگہوں میں کام کرتا رہا۔ مجھے سکھر میں اپنا علاقہ یاد نہیں تھا جسکی وجہ سے مجھے ڈر تھا کہ کہیں گھر تلاش کرنے جاکر وہاں کسی اور کے ہاتھ نا لگ جاؤں۔ (یعنی شیلٹرز کا خوف سر پر سوار تھا)۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا اور میں جس مسجد میں پڑھنے جاتا تھا اس مسجد کا نام قائد مسجد تھا۔ اسکے علاوہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں اور اکیلے رہتا ہوں۔گھر والے بہت یاد آتے ہیں- میں نے زاہد کی ویڈیو دیکھی آپ نے اسکو ملایا۔ وہ میرا دوست ہے ہم ایک ساتھ شیلٹر میں تھے۔ مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملاو -
ببلو کا کیس کوئی مشکل تو نہیں لیکن معصوم بچہ شیلٹر میں آیا۔ سب کچھ یاد ہونے کے باوجود اسکی زندگی کے قیمتی 17 سال برباد ہوگئے۔ یہ سترہ سال کیسے گزرے،ببلو کی زبانی چند جملے سنے تو دل پھٹنے لگا۔
سکھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
18 Mar 2026