Daily Information

Daily Information Daily Information

سعودی عرب کے تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے حوالے سے جو خدشات آپ نے شیئر کیے ہیں، وہ عالمی م...
18/03/2026

سعودی عرب کے تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے حوالے سے جو خدشات آپ نے شیئر کیے ہیں، وہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی حساس نوعیت کے ہیں۔ اس صورتحال کو چند اہم پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت:
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔ عالمی منڈی میں سپلائی ہونے والے کل تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ 100 دن کے لیے بند ہو جائے تو نہ صرف سعودی عرب بلکہ کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات بھی رک جائیں گی۔
2۔ اسٹوریج اور پیداوار کا دباؤ:
جب تیل برآمد نہیں ہو پاتا تو اسے ذخیرہ (Storage) کیا جاتا ہے۔ لیکن ذخیرہ کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر اسٹوریج مکمل بھر جائے تو تکنیکی طور پر تیل کے کنوؤں سے پیداوار روکنی پڑتی ہے۔ تیل کی پیداوار کو اچانک روکنا اور پھر دوبارہ شروع کرنا ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے جو تیل کی تنصیبات کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
3۔ عالمی قیمتوں پر اثرات:
1973 کا تیل بحران اس وقت پیدا ہوا تھا جب اوپیک (OPEC) کے رکن ممالک نے تیل کی سپلائی روک دی تھی، جس سے قیمتیں راتوں رات چار گنا بڑھ گئی تھیں۔ موجودہ دور میں اگر ایسا کوئی بحران آتا ہے تو عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں طرح کے ممالک کو متاثر کرے گا۔
4۔ متبادل راستے:
سعودی عرب نے اس خطرے کے پیشِ نظر "ایسٹ ویسٹ پائپ لائن" (East-West Pipeline) جیسے منصوبے بنائے ہیں تاکہ تیل کو آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر (Red Sea) کے ذریعے برآمد کیا جا سکے، لیکن ان متبادل راستوں کی گنجائش اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ مکمل سپلائی کا بوجھ اٹھا سکیں۔
مختصر یہ کہ ایسی صورتحال میں عالمی توانائی کی حفاظت (Energy Security) داؤ پر لگ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے میں بحری راستوں کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ متحرک رہتی ہیں۔

🚨اگر ایران انٹرنیٹ فائبر کیبل کاٹ دے تو کیا ہوگا؟ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک نیا اور اہم خ...
16/03/2026

🚨اگر ایران انٹرنیٹ فائبر کیبل کاٹ دے تو کیا ہوگا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک نیا اور اہم خدشہ سامنے آ رہا ہے: سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ فائبر آپٹک کیبلز۔ اگر جنگی صورتحال میں ایران خلیج فارس کے قریب واقع آبنائے ہرمز کے نیچے موجود عالمی انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے یا کاٹنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی ڈیجیٹل نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ یہی زیرِ سمندر کیبلز خلیجی ممالک کو ایشیا، یورپ اور دنیا کے دوسرے حصوں کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑتی ہیں، اس لیے ان میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر مواصلاتی اور معاشی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

دنیا کے تقریباً 95 فیصد بین الاقوامی انٹرنیٹ ڈیٹا سمندر کے نیچے بچھے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا علاقہ ان عالمی ڈیجیٹل راستوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ یہاں سے گزرنے والی کئی بڑی کیبلز مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ ان میں کچھ بڑے کیبل سسٹمز جیسے SEA-ME-WE، FLAG Europe-Asia اور AAE-1 شامل ہیں۔ اگر ان کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔

اس صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں United Arab Emirates، Qatar، Bahrain، Kuwait اور Oman شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان ممالک کی بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بڑی حد تک انہی سمندری کیبلز پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ Pakistan اور India کی بھی بہت سی انٹرنیٹ ٹریفک انہی راستوں کے ذریعے یورپ اور دیگر خطوں تک پہنچتی ہے، اس لیے وہاں بھی انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو سکتی ہے یا عارضی طور پر سروس میں خلل آ سکتا ہے۔

اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہونا ضروری نہیں، لیکن رفتار بہت کم ہو سکتی ہے اور عالمی ڈیٹا ٹریفک دوسرے متبادل راستوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ویب سائٹس دیر سے کھل سکتی ہیں، ویڈیو اسٹریمنگ متاثر ہو سکتی ہے، آن لائن میٹنگز اور ویڈیو کالز میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور کلاؤڈ سروسز کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر نہ صرف عام صارفین بلکہ بڑے کاروباروں اور سرکاری اداروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ عالمی بینکنگ سسٹم، اسٹاک مارکیٹس، آن لائن تجارت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑا حصہ بھی انہی انٹرنیٹ نیٹ ورکس پر چلتا ہے۔ اگر انٹرنیٹ کے بین الاقوامی راستے متاثر ہوتے ہیں تو بین الاقوامی مالیاتی لین دین میں تاخیر ہو سکتی ہے، آن لائن بزنس متاثر ہو سکتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

سمندر کے نیچے موجود فائبر آپٹک کیبلز کی مرمت ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہوتا ہے۔ اس کے لیے خصوصی مرمت کرنے والے جہاز اور زیرِ آب روبوٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی جنگی صورتحال میں کیبل کو نقصان پہنچتا ہے تو مرمت کے کام میں کئی دن یا حتیٰ کہ کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ جنگ کے دوران اس علاقے میں مرمت کے جہازوں کا کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

تاریخ میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر 2008 میں مصر کے قریب چند سمندری انٹرنیٹ کیبلز کٹنے سے بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ شدید متاثر ہوا تھا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ عالمی انٹرنیٹ نظام کس حد تک زیرِ سمندر کیبلز پر منحصر ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا انٹرنیٹ نیٹ ورک مکمل طور پر ایک ہی راستے پر منحصر نہیں ہوتا۔ مختلف ممالک اور کمپنیاں متبادل راستے، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور دیگر کیبل سسٹمز استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی ایک راستے کے متاثر ہونے کی صورت میں مکمل نظام بند نہ ہو۔ اس کے باوجود اگر خلیج فارس جیسے اہم مقام پر انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اسی وجہ سے جدید جنگوں میں صرف زمین، سمندر اور فضا ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر حملوں، سیٹلائٹ سسٹمز اور عالمی ڈیٹا نیٹ ورکس کو نشانہ بنا کر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو آج کی دنیا میں عالمی معیشت اور رابطوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے
یہ ہیش ٹیگز آپ ایک ہی لائن میں استعمال کر سکتے ہیں

اگر آپ زیادہ محفوظ اور غیر اشتعال انگیز (safe / neutral) ہیش ٹیگز استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ بہتر ہیں:



Follow Me

ایران نے یو اے ای میں دبئی اور ابوظہبی کی بندرگاہ کے اطراف کے علاقے فوری خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ایرانی میڈیا رپورٹ کے م...
15/03/2026

ایران نے یو اے ای میں دبئی اور ابوظہبی کی بندرگاہ کے اطراف کے علاقے فوری خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ جبل علی، خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ کے گردو نواح سے شہری فوری نکل جائیں۔

ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ دبئی، ابوظہبی اور فجیرہ کی بڑی بندرگاہوں کے اطراف موجود لوگ فوری طور پر علاقہ خالی کر دیں کیونکہ ان مقامات کو ممکنہ میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ شہری بندرگاہیں دراصل ایسے مقامات بن چکی ہیں جہاں امریکی فوجی عناصر شہری تنصیبات کے درمیان چھپ کر موجود ہیں۔ تہران کے مطابق انہی تنصیبات کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے انہیں "جائز اہداف” قرار دیا گیا ہے۔

Follow Me

ایران انٹرنیٹ کیبل کاٹنے جا رہا ہے کیونکہ ترمپو پاگل پن کی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نےUAEکیلئےوار...
15/03/2026

ایران انٹرنیٹ کیبل کاٹنے جا رہا ہے کیونکہ ترمپو پاگل پن کی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے

ایرانی پاسداران انقلاب نےUAEکیلئےوارننگ جاری کر دی کہ یہ جبل علی بندرگاہ۔فجیرہ بندرگاہ اورخلیفہ بندرگاہ ہمارا براہ راست ہدف بننے جا رہے ہیں یہاں امریکی موجود ہیں ،اسلئےآس پاس کےلوگ زندگی عزیز ہے تو فوری طور پر ان مقامات کو خالی کر دیں
اگر ایران نے انٹرنیٹ کیبل کاٹ دی تو اسکے نقصان کیا ہوسکتے ہیں
اگر Iran جنگ کے دوران Strait of Hormuz کے قریب سمندر کے نیچے موجود انٹرنیٹ فائبر کیبل کو نشانہ بنا کر کاٹ دے تو اس کا اثر صرف ایک ملک پر نہیں بلکہ کئی ممالک پر پڑ سکتا ہے کیونکہ یہی راستہ خلیج کو ایشیا اور یورپ کے انٹرنیٹ نیٹ ورک سے جوڑتا ہے
اس صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک United Arab Emirates Qatar، Bahrain Kuwait اور Oman شامل ہیں اس کے علاوہ Pakistan اور India کی بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک بھی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے کئی ڈیٹا راستے خلیجی سمندری کیبلز سے جڑے ہوئے ہیں






















امریکہ کا سب سے بڑا اور پرانا بمبار طیارہ B-52 ایران پر گولہ بارود برسا کر واپس آرہا ہے۔یہ انیس سو پچپن (1955ء) میں امری...
14/03/2026

امریکہ کا سب سے بڑا اور پرانا بمبار طیارہ B-52 ایران پر گولہ بارود برسا کر واپس آرہا ہے۔

یہ انیس سو پچپن (1955ء) میں امریکی سروس میں شامل ہوا اور آج تک اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ جہاز بیک وقت 20 سے زیادہ کروز مزائل اٹھاتا ہے اور طویل پرواز کرسکتا ہے۔

اس جہاز کے آٹھ طاقتور انجن ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے ارد گرد فائٹر جیٹ ہوتے ہیں۔ اس کو خطرناک اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ اس جہاز میں ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

اس کے برابر کے جہاز چین اور روس کے پاس بھی موجود ہیں۔

مسلمانوں کو بھی ان کے مقابلے کے ہتھیار بنانے چاہییں!

Follow Me

کچھ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل حملے میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود امریکی فضائیہ کے 5 ری...
14/03/2026

کچھ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل حملے میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر موجود امریکی فضائیہ کے 5 ری فیولنگ طیارے متاثر ہوئے۔

یہ طیارے KC-135 ری فیولنگ ٹینکر تھے اور حملے کے وقت زمین پر کھڑے تھے۔
رپورٹس کے مطابق طیارے نقصان زدہ ہوئے مگر مکمل تباہ نہیں ہوئے اور ان کی مرمت کی جا رہی ہے۔
اس حملے میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم کچھ خبر رساں اداروں نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔

خبر مختلف میڈیا میں آئی ہے کہ ایران کے حملے میں امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا، لیکن اس کی مکمل سرکاری تصدیق ابھی واضح نہیں ہے، اس لیے اسے ابھی جزوی طور پر تصدیق شدہ خبر سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام نے عراق میں اپنا فوجی طیارہ KC-135 گرنے کے واقعے میں چار امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔حکام کا کہنا ہے...
13/03/2026

امریکی حکام نے عراق میں اپنا فوجی طیارہ KC-135 گرنے کے واقعے میں چار امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر عملے کے چھ اراکین سوار تھے جن میں سے چار کی ہلاکت ہوئی۔
حکام کے مطابق ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو مطلع کرنے کے بعد اُن کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔
امریکی فوج کا KC-135 ایندھن بھرنے والا طیارہ جمعرات کو مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’اسلامک مزاحمتی گروپ عراق‘ نے امریکی طیارے پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
گروپ کے مطابق اس نے امریکی فوجی طیارے کو 'عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع' میں نشانہ بنایا۔

یہ تصویر مسجدِ نبوی میں معتکفین (اعتکاف کرنے والے زائرین) کے لیے تیار کردہ خصوصی ہالز اور رہائشی کیبنز کی ہے۔جو مسجد نبو...
11/03/2026

یہ تصویر مسجدِ نبوی میں معتکفین (اعتکاف کرنے والے زائرین) کے لیے تیار کردہ خصوصی ہالز اور رہائشی کیبنز کی ہے۔

جو مسجد نبوی PBUH کے بالائی حصے پر بنائے گئے ہیں

ریاست نے اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے والوں کی سہولت اور ان کی عبادات کو پرسکون ماحول میں یقینی بنانے کے لیے یہ جدید انتظام متعارف کرایا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والے کیبنز ائیر کنڈیشنڈ ہیں اور ان میں آرام کی بنیادی سہولیات موجود ہیں، تاکہ زائرین بغیر کسی پریشانی کے اپنی پوری توجہ اللہ کی طرف لگا سکیں۔
ہر زائر کو ایک مخصوص کیبن الاٹ کیا جاتا ہے، اور اس پورے ایریا کی صفائی اور انتظام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک بہترین اور منظم قدم ہے جو زائرین کے روحانی تجربے کو مزید بہتر بناتا ہے۔

- روسی انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایران کی جوابی کارروائی کے ابتدائی 72 گھنٹوں میں اسرائیل کو تباہ کن نقصانات کا سام...
11/03/2026

- روسی انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایران کی جوابی کارروائی کے ابتدائی 72 گھنٹوں میں اسرائیل کو تباہ کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو کہ نیتن یاہو کے عوامی اعتراف سے کہیں زیادہ ہے۔

- لیک شدہ تشخیص سے کلیدی نتائج میں شامل ہیں:

- ڈیمونا جوہری ری ایکٹر کا مکمل آپریشنل نقصان، اسرائیل کی اہم جوہری سائٹ۔

- دیمونا اور متعلقہ تنصیبات پر ایرانی حملوں کی وجہ سے 11 اعلیٰ جوہری سائنسدانوں کی موت۔

- ٹارگٹڈ قتل اور میزائل حملوں کے ذریعے 6 سینئر IDF جنرلوں کا خاتمہ۔

- ایئر فورس کے 198 افسران کا نقصان، جن میں سینئر پائلٹ اور کمانڈ اسٹاف بھی شامل ہیں۔

- زمینی کارروائیوں اور بیس حملوں میں 462 فوجی مارے گئے۔

ناکام خفیہ کارروائیوں میں موساد کے 32 ایجنٹ مارے گئے۔

- اشرافیہ کی کل ہلاکتیں 700 اہلکاروں سے زیادہ ہیں، جو ممکنہ طور پر اسرائیل کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو برسوں سے معذور کر رہی ہے۔

- عوامی ردعمل میں شامل ہے۔
سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا، ایسے تبصرے جو نقصانات کی شدت اور اسرائیلی فوجی بالادستی کے مضمرات کو اجاگر کرتے ہیں۔

- نیتن یاہو نے عوامی طور پر ڈیمونا کے نقصان پر خطاب نہیں کیا، لیکن مبینہ طور پر ہنگامی جنگی کابینہ کے اجلاس ہو رہے ہیں۔

- ایران کی IRGC نے عوامی سطح پر پیش رفت کا جشن منایا ہے، انہیں "الہی انصاف" کے طور پر تیار کیا ہے۔

- صورتحال مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔‼️

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پورٹ قاسم پر پیٹرول سے لدے 4  جہاز پہنچ گئے۔پورٹ حکام کے مطابق تقریباً 2...
10/03/2026

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پورٹ قاسم پر پیٹرول سے لدے 4 جہاز پہنچ گئے۔
پورٹ حکام کے مطابق تقریباً 25 کروڑ لیٹر پیٹرول سے لدے جہاز پورٹ قاسم پہنچ گئے اور ایک جہاز سے37 ہزار ٹن پیٹرول کی منتقلی مکمل کرلی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک اور جہاز سے 50 ہزار ٹن پیٹرول کی ترسیل کا عمل جاری ہے ۔
جب کہ 55 ہزار ٹن پیٹرول لے کر آنے والا ایک اور جہاز 12 مارچ کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوگا۔

حکام نے بتایا کہ اس کے علاوہ ایک اور جہاز 13 مارچ کو پہنچے گا جو تقریباً 34 ہزار ٹن پیٹرول اتارے گا

Address

KSA
Bahawalpur
21955

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share