07/02/2026
ایک نیوز رپورٹ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور پشاور پر 6 دہائیوں تک راج کرنے والے معروف سیاسی خاندان کے سربراہ، حاجی غلام احمد بلور نے سیاست سے کنارہ کشی کے بعد اب اپنے آبائی شہر پشاور کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اسلام آباد منتقل ہوگئے. بلور خاندان نے پشاور میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز ’بلور ہاؤس‘ کو بھی فروخت کردیا ہے۔
خاندان نے تصدیق کی ہے کہ غلام بلور نے گورنر ہاؤس کے قریب واقع پشاور کا واحد ذاتی گھر، بلور ہاؤس، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی رشتہ دار (JUI) ف کے رہنما اور سابق گورنر حاجی غلام علی کو بھاری قیمت پر فروخت کردیا ہے اور اب اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں ۔ ، جبکہ کبھی سیاسی سرگرمیوں سے گونجنے والا بلور ہاؤس اب ویران دکھائی دیتا ہے۔خاندان کے مطابق پشاور چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل تھا جو 2008 سے شروع ہوا۔ مرحوم ہارون بلور کے صاحبزادے دانیال بلور نے بتایا کہ غلام بلور نے یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔ خاندان کا 99 فیصد حصہ پہلے ہی پشاور سے منتقل ہو چکا تھا، اور الیاس بلور کی وفات کے بعد غلام بلور بھی اس فیصلے پر آمادہ ہوئے۔ دانیال بلور کے مطابق، بلور خاندان نے پشاور کو خود نہیں چھوڑا بلکہ حالات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔دانیال کے مطابق خاندان کو مسلسل دہشتگردی اور ناانصافیوں کا سامنا رہا۔ پہلے بشیر بلور کو خودکش حملے میں شہید کیا گیا، اس کے بعد ہارون بلور بھی انتخابی مہم کے دوران دہشتگردوں کا نشانہ بنے۔ ان حالات نے غلام بلور کو اندر سے توڑ دیا۔ ساتھ ہی ان پر مقدمات قائم کیے گئے، جائیداد پر قبضے کی کوششیں ہوئیں، اور عدالتی پیچیدگیوں میں الجھایا گیا۔ انتخابات میں بھی اُن کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا، جس سے وہ شدید مایوس ہوئے۔دانیال بلور نے بتایا کہ غلام بلور کا اکلوتا بیٹا شبیر بلور بھی سیاست کی نذر ہو گئےتھے، اور ان کا پوتا جو لندن سے تعلیم مکمل کرکے واپس آیا ہے، سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث پوتا اور دیگر اہل خانہ پہلے ہی اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے۔ پوتے ہی نے غلام بلور کو یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ غلام بلور کی 3 بیٹیاں بھی اسلام آباد یا بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
خاندان کے مطابق، غلام بلور اب عمر رسیدہ اور بیمار ہیں اور سکون چاہتے ہیں۔ دانیال بلور کے مطابق وہ اب بھی سماجی تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پشاور کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔