04/01/2026
موبائل ٹیکنالوجی قسط نمبر 17 ۔۔ موبائل چارجر ۔
شاید 2013 کے آس پاس تک ۔۔ موبائل چارجر کا کام
صرف بجلی دینا ہوتا ہے ۔۔ بیٹری چارج کرنا ،
چارجنگ 5 واٹ تک کی سپیڈ میں ہوتی تھی ۔۔ بہت سلو ،
چارجر سمارٹ نہیں تھا ۔۔
چارجنگ ٹیکنالوجی نے ترقی کی ۔۔ فاسٹ اور سپر فاسٹ چارجنگ
شروع ہوئی ۔۔
چارجنگ اڈاپٹر بھی سمارٹ ہوگئے ۔۔ وائر کیبل بھی ۔۔
اب ہر موبائل برینڈ الگ الگ نام سے فاسٹ چارج سپورٹ کرتے ہیں ۔۔
• پی ڈی ۔ PD . Power Delivery
انٹرنیشنل ، سامسنگ ، گوگل پکسل ، آئی فون ۔
• کوالکوم ۔ Quick Charge ۔
زیادہ تر سنیپ ڈریگن پروسیسر والے فون ۔
• اوپو ، ریلمی ۔ Vooc / SuperVooc
• ون پلس ۔ Warp/ Dash Charge
• ویوو ۔ Flash Charger
اسی طرح ٹیکنو ، انفینکس وغیرہ ۔۔
موبائل اڈاپٹر اور کیبل بہت سمارٹ ہو گئے ہیں ۔۔
اب یہ صرف بجلی نہیں پھینکتے ، بلکہ موبائل سے سلام دعا
کرتے ہیں ، اس کہ بیٹری کنڈیشن پوچھتے ہیں ،
جیسے موبائل
بتاتا ہے ، اسی حساب سے چارج شروع کرتے ہیں ۔۔
کہ اب موبائل کی بیٹری کتنی موجود ہے ، موبائل کو کتنے
واٹ تک سپیڈ چاہیے ، بیٹری گرم تو نہیں ہو رہی ۔۔
اگر بیٹری مکمل چارج ہو گئی ہے ، تو چارجر آف کر دینا ۔
• پی ڈی . PD . چارجر ۔
یہ انٹرنیشنل چارجنگ پروٹوکول ہے جس کے اڈاپٹر اور کیبل دونوں ٹائپ سی (Type-C to Type-C) ہوتے ہیں۔
بڑی انٹرنیشنل کمپنیوں نے اتفاق کر لیا کہ ہم ایک ہی چارجنگ ٹیکنالوجی بناتے ہیں تاکہ کسٹمر کو ہر نئے فون کے ساتھ الگ چارجر خریدنے کے جھنجھٹ سے نجات ملے اور وہ ایک ہی معیاری چارجر سے اپنے تمام قیمتی فونز باآسانی چارج کر سکے۔
یہی وجہ ہے کہ اب آئی فون ہو ، سام سنگ، یا گوگل پکسل ، ایک ہی پی ڈی چارجر پر چارج ہو جاتے ہیں۔
پی ڈی PD کو آپ ایک چھوٹا سا سوفٹویئر سمجھ لیں ۔۔ جو
ایک کوڈنگ زبان میں موبائل سے معلومات لیتا ہے ۔
پی ڈی اڈاپٹر کے اندر ایک چھوٹا سا سرکٹ / سوفٹویئر ہوتا ہے ۔۔
اور سامسنگ ، گوگل پکسل ، آئی فون کے موبائل فون
میں بھی پاور آئی سی کے ساتھ یہ سرکٹ / سوفٹویئر ہوتا ہے ۔
جب ہم موبائل کو چارجر کے ساتھ لگاتے ہیں ، تو
ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ، یہ سلام دعا کرتے ہیں ۔۔
اسے ٹیکنیکل زبان میں Handshake کہتے ہیں۔
اگر یہ ہینڈ شیک کامیاب نہ ہو، تو چارجر سیکیورٹی کی وجہ سے سپیڈ کم کر دیتا ہے۔
چارجر پوچھتا ہے ، ہاں جی ! ۔۔
میں تیار ہوں، آپ کو کتنی بجلی چاہیے؟
فون جواب دیتا ہے: میری بیٹری ابھی 10٪ پر ہے اور میرا ٹمپریچر بھی ٹھیک ہے، مجھے پورے 45 واٹ ( یا جتنا فون سپورٹ کرتا ہے ) کرنٹ بھیج دو ۔
اسے Handshake کہتے ہیں ۔
اگر فون کی بیٹری 80٪ تک پہنچ جائے، تو فون دوبارہ چارجر
سے کہتا ہے ۔۔ اب بس کر دو، میری بیٹری بھرنے والی ہے، اب سپیڈ کم کر کے 10 واٹ کر دو تاکہ میں گرم نہ ہو جاؤں ۔۔
یہ موبائل فون ، اڈاپٹر ، کیبل ، تینوں چیزیں ، PD کی زبان سمجھتی ہیں ۔۔ ہینڈ شیک کے بعد چارجنگ شروع ہو جاتی ہے ۔
اسی طرح ، اوپو ، ویوو ، ون پلس ، کوالکوم کی چارجر ۔
ہر برینڈ کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے ، سوفٹویئر کی زبان ۔۔
یہ چھوٹی سی سوفٹویئر چِپ چارجنگ اڈاپٹر میں بھی انسٹال
ہوتی ہے ۔۔ کیبل بھی یہ زبان سمجھتی ہے ، موبائل کے اندر بھی یہ سوفٹ ویئر لگا ہوتا ہے ۔۔
اس لیے ویوو کا اڈاپٹر صرف ویوو کے موبائل کو فلیش چارج کرے گا ۔۔ اوپو کا اوپو کے موبائل کو ۔
یہاں پر ایک دلچسپ چیز ہے ۔۔
سامسنگ کے فون پی ڈی چارجر کو سپورٹ کرتے ہیں ۔۔
ویوو کا اپنا ، فلیش چارج کے نام سے فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی ہے ۔۔
اب اگر سامسنگ کے فون کو ، ویوو کا فلیش چارج والا ،
چارجر لگائیں تو ۔۔ ان کی زبان الگ الگ ہوتی ہے ۔
چارجر کہتا ہے ۔۔ میں ویوو کی ' فلیش چارج ' زبان بولتا ہوں
اور میرے پاس 80 واٹ کی بجلی دینے کی طاقت ہے،
کیا آپ تیار ہیں ؟
سام سنگ کا فون جواب دیتا ہے ۔۔ بھائی ! میں تو صرف
'پی ڈی' (PD) کی زبان سمجھتا ہوں،
آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔
نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
چونکہ ان دونوں کے درمیان " بات چیت " مکمل نہیں
ہو پاتی اور دونوں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھ پاتے،
اس لیے وہ ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے۔
چارجر اور فون کی بیٹری دونوں ڈر جاتے ہیں کہ کہیں زیادہ کرنٹ سے دھماکہ نہ ہو جائے یا سرکٹ نہ جل جائے۔
ایسی صورتحال میں چارجر بہت ہی " محتاط " ہو جاتا ہے اور وہ
تیز چارجنگ کے بجائے بالکل سست رفتار
(عموماً 5 واٹ یا 10 واٹ) پر بجلی دینا شروع کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کا 80 واٹ والا مہنگا چارجر سام سنگ
کے فون کو چارج کرنے میں 3 گھنٹے لگا دیتا ہے، کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے " اجنبی " ہوتے ہیں ۔۔
کیبل کا کردار بھی اہم ہے ۔۔!
صرف اڈاپٹر سمارٹ نہیں ہوا ، بلکہ اب کیبل کے اندر بھی
ایک چھوٹی سی چِپ لگی ہوتی ہے
جسے E-Marker کہتے ہیں ۔
یہ چِپ چارجر کو بتاتی ہے کہ فکر نہ کرو ، میں ایک اچھی
کوالٹی کی کیبل ہوں اور مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ میں 100 واٹ تک بجلی اپنے اندر سے گزار سکوں ۔۔
اگر آپ چارجر اصلی لگائیں لیکن کیبل ہلکی یا لوکل استعمال کریں،
یعنی کیبل ای مارکر نہ ہو ، تو چارجر کیبل کی بات سن کر سپیڈ خود بخود کم کر دے گا تاکہ کیبل گرم ہو کر پگھل نہ جائے ۔
یہاں ایک دو اور چیزیں بھی ہیں ۔۔
• اچھے چارجرز کے اندر ایک خاص ' حفاظتی سرکٹ ' protection circuit لگا ہوتا ہے جو بجلی کے اتار
چڑھاؤ پر نظر رکھتا ہے۔
اگر کبھی بجلی کا زوردار جھٹکا آئے یا شارٹ سرکٹ ہو، تو یہ سرکٹ خود تو جل جاتا ہے لیکن بجلی کو آگے
نہیں جانے دیتا، جس سے ہمارا قیمتی موبائل فون مکمل
محفوظ رہتا ہے ۔
• پی پی ایس ( PPS )
پی پی ایس (PPS) یہ بھی پی ڈی ٹیکنالوجی کا ایک جدید
فیچر ہے جو چارجر کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ موبائل کی
ضرورت کے مطابق وولٹیج کو تھوڑا تھوڑا کر کے
تبدیل کر سکے۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ چارجنگ کے دوران موبائل کم گرم ہوتا ہے اور بیٹری زیادہ تیزی اور حفاظت سے چارج ہوتی ہے ۔
آج کل فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی میں ہر برینڈ دوسرے پر
سبقت لے جانا چاہتا ہے ۔۔
چارجنگ کی دنیا میں اس وقت دو الگ الگ نظریات چل رہے ہیں۔
• ایک طرف وہ کمپنیاں ہیں جو "حفاظت اور بیٹری کی زندگی "
پر توجہ دیتی ہیں، یعنی ، بیٹری کو زیادہ فاسٹ چارج کریں
تو اس کی لائف کم ہو سکتی ہے ۔
• اور دوسری طرف وہ کمپنیاں ہیں جو " بجلی کی رفتار " میں
ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتی ہیں۔۔
گروپ نمبر 1 ۔ یہ گروپ PD والوں کا ہے ۔۔
یعنی
سامسنگ ، آئی فون ، گوگل پکسل ، مائیکروسافٹ ۔۔
ان کے بقول کے زیادہ فاسٹ چارجنگ سے موبائل کی بیٹری
کی لائف کم ہو سکتی ہے ۔
اسی لیے یہ 45 واٹ سے آگے نہیں بڑھ رہے ۔
دوسرے گروپ میں چائنیز اور دوسری موبائل کمپنیاں ۔۔
جیسے ون پلس ، اوپو ، ویوو ، ٹیکنو ، انفینکس ، ریلمی وغیرہ ۔
ان کا ماننا ہے کہ ہماری فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی سے بیٹری کو نقصان نہیں پہنچتا ، کیونکہ بہترین کولنگ سسٹم کی وجہ سے
بیٹری زیادہ ہیٹ نہیں ہوتی ۔
کیونکہ فاسٹ چارجنگ بذات خود نقصان دہ نہیں ، بلکہ بیٹری کا ہیٹ ہونا نقصان دہ ہے ۔
اور فاسٹ چارجنگ والے، گروپ ، موبائل فون میں اب ایک بڑی بیٹری کی جگہ ، دو چھوٹی بیٹریاں لگا دیتے ہیں ، اس طرح ،
80 واٹ کی سپیڈ بھی آگے جا کر دو الگ الگ بیٹریوں میں ،
40/40 کے واٹ سے چارج کرتی ہے ۔
بہ ہر حال ! ۔۔
آج کل بجٹ رینج کے موبائل فون میں بھی 18 واٹ سے
کم چارجنگ نہیں ہونی چاہیے ۔۔ یہ ڈیرھ سے دو گھنٹے میں موبائل کو زیرو سے 100 تک چارج کر دے گا ۔
ورنہ نارمل 33 یا 45 واٹ تک چارجنگ سپیڈ والے موبائل
لینے چاہیے ۔۔
ویوو ابھی تک ابھی Y سیریز کے چھوٹے ماڈل میں ، بڑے آرام سے 15 واٹ کے چارجر چپکا رہا ہے ۔۔
حالانکہ اس بجٹ میں باقی تقریبا سب کمپنیاں ، کم از کم 18 واٹ نہیں تو 33 واٹ تک کا چارجر دے رہی ہیں ۔
اچھا ، ان کی مرضی ۔
لیکن ایک چیز ہمیشہ کیلئے یاد رکھیں ۔۔
چارجر ہمیشہ اوریجنل یا کسی اچھے برانڈ کا ہی استعمال کریں اور لوکل چارجرز سے ہرگز بچیں ۔۔
یہ لوکل چارجر دراصل اصلی برانڈز کی زبان (کوڈنگ) چوری کر کے ایک سستی چِپ میں بھر لیتے ہیں،
جس کی وجہ سے موبائل کا پاور آئی سی دھوکہ کھا کر
" فاسٹ چارجنگ " دکھانا شروع کر دیتا ہے۔
لیکن یہ صرف ایک ریکارڈ شدہ '' جھوٹی سلام دعا '' ہوتی ہے ۔۔
اصلی چارجر کے برعکس یہ بعد میں موبائل کی بات نہیں سنتے اور بس اندھا دھند بجلی پھینکتے رہتے ہیں۔
اس طرح آپ کو سپیڈ تو مل جاتی ہے لیکن ان میں نہ تو پروٹیکشن سرکٹ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ
سمارٹ ہوتے ہیں، یہ چارجنگ تو تیز کر دیتے ہیں ،
لیکن کسی بھی خرابی یا بجلی کے جھٹکے کی صورت میں آپ
کے قیمتی فون کو بچانے کی ان میں کوئی صلاحیت
نہیں ہوتی ۔