KnowledgeLight Tv

KnowledgeLight Tv Media And Production

01/11/2021

In this Video U can learn about assets and kinds of assets. and also get concept of Accounting in balance sheet and we will cover the important points in this video.

💢 Assets
💢 Types of Assets
💢 Kinds Of assets
💢 Concept of Accounting

1. Types of Accounting +branches of Accounting ▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/V9VCcaVXVKQ

2. What is business & Types of Business

▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/HH29xm9wxtE

3. What is book keeping & Concept of Book keeping

▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/eWi8Yr6W_YI

For More informative Videos Like Share and Subscribe our channel

01/11/2021

In this Video U can learn about assets and kinds of assets. and also get concept of Accounting in balance sheet and we will cover the important points in this video.

💢 Assets
💢 Types of Assets
💢 Kinds Of assets
💢 Concept of Accounting

1. Types of Accounting +branches of Accounting ▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/V9VCcaVXVKQ

2. What is business & Types of Business

▶▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/HH29xm9wxtE

3. What is book keeping & Concept of Book keeping

▶▶▶▶▶▶▶▶ https://youtu.be/eWi8Yr6W_YI

For More informative Videos Like Share and Subscribe our channel

23/10/2021

Bhola Record New Video Viral

23/10/2021

Zara Socho......................................

کربھلا سوہو بھلاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بطخ دریا کے کنارے رہتی تھی کیونکہ اُسکا نرمرچکا تھا، وہ بیچاری ہمیشہ بیمار رہت...
23/10/2021

کربھلا سوہو بھلا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بطخ دریا کے کنارے رہتی تھی کیونکہ اُسکا نرمرچکا تھا، وہ بیچاری ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔ ایک دن اسکی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اُسے بتایا کہ تمہاری بیماری ایسی کہ تم جلد مرجاوٴ گی
جمعہ 29 جون 2018........
حماد سلطان:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بطخ دریا کے کنارے رہتی تھی کیونکہ اُسکا نرمرچکا تھا، وہ بیچاری ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔ ایک دن اسکی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اُسے بتایا کہ تمہاری بیماری ایسی کہ تم جلد مرجاوٴ گی۔

اُسے یہ سن کر صدمہ ہو ا کیونکہ اُسکے پاس ایک انڈا تھا۔ اُسے ڈرلگا کہ اگر وہ مر گئی تو اس انڈے کا کیا ہو گا جس میں سے جلد ہی بچہ نکلنے والا تھا اور پھر اس بچے کو کون سنبھالے گا۔ لہٰذا وہ جنگل میں رہنے والے اپنے سب دوستوں کے پا س گئی اور اُنہیں اپنی ساری کہائی سنائی لیکن ہرکسی نے ہی اُس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔
بیچاری بطخ نے اُن کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے تم لوگ مرنے کے بعد میرے بچے کو اپنا سایہ دینا لیکن کسی نے اُسکی بات نہ مانی ۔

بیچاری بطخ بھی کیا کرتی اُسکے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے بھائی مرغے کے پاس جایا جائے وہ ضرور میری مدد کرے گا لہٰذاوہ مرغے کے پاس گئی اوراُسے سارا قصہ سنایا۔

مرغ بھائی ! آپ میرے بچے کے ماموں جیسے ہو، پلیز آپ ہی میرے بچے کو میرے بعد اپنا سایہ دے دینا۔ مرغا بولا ! میں تمہارے بچے کو رکھ لیتا مگر میری بیگم مرغی یہ بات نہیں مانے گئی لہٰذا مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا لہٰذا تم مجھے معاف کر دینا۔
بطخ اِدھر ے مایوس ہو کر اپنے گھر واپس آگئی اور سوچنا شروع کر دیا کہ اب کیا کیا جائے اچانک اُسکے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور اس نے موقع ڈھونڈ کر یہ کام انجام دے دیا اور خود جا کر ایک درخت کے کنارے بیٹھ گئی۔ اسکے بعد بطخ کی طبیعت اور بگڑ گئی اور ایسی بگڑی کہ اُسی موت ہو گئی۔
جب مرغی کے انڈوں سے بچے باہر نکلے تو ان میں ایک بطخ کا بچہ بھی تھا مرغ تو سب جان گیا تھا لیکن اُس نے مرغی کو بتانا مناسب نہ سمجھا۔مرغی نے بہت شور شرابہ کیا اور ب ولی:” میرے بچوں کے ساتھ بطخ کا بچہ نہیں رہے گا“۔مرغ نے اُسے بہت سمجھایا لیکن مرغی نے اُسکا کہا نہیں مانا۔
مرغی نے اپنے بچوں کو منع کر دیا کہ کسی کو بھی بطخ کے بچے سے بات نہیں کرنی ہے۔ سب نے مرغی کی بات مان لی لیکن دو چوزوں نے اپنی ماں کی بات نہ مانی ، وہ جو خود کھاتے ، اپنے ساتھ اُس بطخ کے بچے کو بھی کھلاتے۔ مرغی کو بطخ کے بچے سے سخت نفرت تھی ، وہ اُسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔
ایک دن مرغی کے ذہن میں خیال آیا کہ ہم سب مل کر دریا کے کنارے سیر کو جائیں گے ہم سب واپس آ جائیں گے اور بطخ کے بچے کو وہیں چھو ڑ آئیں گے یوں اس سے جان چھوٹ جائے گی۔ وہ لوگ سیر کو نکلے وہاں پہنچتے ہی ایک چوزہ دریا کے کنارے چلا گیا اور ڈوبنے لگا۔
یہ دیکھ کر مرغی زور زور سے چیخنے چلانے لگی چونکہ بطخ کے بچے کو تیرنا آتا تھا لہٰذا اُ س نے فوراََ دریا میں تیرنا شروع کر دیا اور اُس چوزے کو نکال کر باہر لے آیا۔مرغی نے جب دیکھا تو اُسے اپنے کئے پر بڑی شرمندگی ہوئی اور اُس نے بطخ کے بچے سے معافی مانگ کر اُسے اپنا بیٹا بنا لیا اس طرح وہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
دیکھا بچو! کیسے بطخ کے بچے نے مرغی کو بچایا اور کیسے اُسکا بھلا ہوا۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ کر بھلا سو ہو بھلا۔

چینی بچوں میں ویڈیو گیمز کے منفی اثراتعالمی ادارہ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ...
23/10/2021

چینی بچوں میں ویڈیو گیمز کے منفی اثرات
عالمی ادارہ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ طور پر ایک ذہنی بیماری تسلیم کیا ہے۔ادارے نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بیماریوں کی تازہ ترین فہرست میں شامل کیا ۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسی فہرست اس سے قبل 1992 میں شائع کی گئی تھی۔..

عالمی ادارہ صحت نے پہلی مرتبہ الیکٹرانک گیمز یا ویڈیو گیمز کھیلنے کی لت کو باقاعدہ طور پر ایک ذہنی بیماری تسلیم کیا ہے۔ادارے نے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کو بیماریوں کی تازہ ترین فہرست میں شامل کیا ۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسی فہرست اس سے قبل 1992 میں شائع کی گئی تھی۔

ویڈیو گیمز بنانے والی صنعت نے ان ثبوتوں کو چیلنج کیا جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا کہ وہ معترضہ اور غیرحتمی ہیں۔
تاہم طبی ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر گیمرز خود کو یا دیگر افراد کو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں ان گیمز کی لت لگ جاتی ہے اور ان کا علاج کیا جانا چاہیے۔

اس بیماری کی علامتوں میں طویل دورانیے تک گیمز کھیلنا، گیمز کو دیگر معمولاتِ زندگی پر ترجیح دینا، منفی اثرات کے باوجود گیمنگ میں اضافہ شامل ہیں۔

سنوکر کے سابق عالمی چیمپیئن نیل روبرٹسن نے اعتراف کیا کہ ایک زمانے میں انھیں بھی ویڈیو گیمز کی عادت لگ گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہوتا یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ 12 گھنٹے گزر گئے ہیں یا 14۔ پلک جھپکتے وقت گزر جاتا ہے۔ مجھے شدید لت لگ گئی تھی اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں کئی برس تک اس سے انکار کرتا رہا اور کہتا تھا کہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔
یہ بہت اہم ہے جبکہ میں اصل مسئلے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔‘برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی گیمنگ کی لت کا علاج نجی سطح پر کیا جا رہا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کے اس فیصلے کے بعد اب برطانیہ میں اس لت کا شکار افراد سرکاری خرچے پر علاج بھی کروا سکیں گے۔
تاہم اس کے لیے انھیں دکھانا ہو گا کہ کم از کم ایک برس کے لیے اس لت کے ان کی ذاتی زندگی اور تعلیمی یا ملازمتی معاملات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک میں گیمنگ کی عادت سے نمٹنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان ویڈیو گیمز کھیلنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔جاپان میں کھلاڑی اگر مقررہ وقت سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلیں تو انھیں خبردار کیا جاتا ہے جبکہ چین میں انٹرنیٹ کمپنی ٹینسینٹ نے بچوں کے لیے مقبول گیمز کھیلنے کی مدت مقرر کی ہوئی ہے۔

چین میں حکام نے بچوں کی قریب کی نظر کم ہونے کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے لیے ویڈیو گیمنگ کو کنٹرول کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ریگولیٹرز نئی ویڈیو گیمز کی تعداد کو محدود کرنے، کھیلنے کا وقت کم کرنے اور عمر کی پابندی کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

چین میں سنہ 2015 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 50 کروڑ افراد کو بصری معذوری کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے نصف آبادی پانچ برس کی تھی۔
واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی گیمنگ مارکیٹ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد مقامی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے رواں ہفتے کے اوائل میں نظر کی قومی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا جس کے بعد چین کی وزارتِ تعلیم نے جمعرات کو نئی پالیسی جاری کی ہے۔
اس پالیسی نے قریب کی نظر کی اعلیٰ سطح پر بھاری مطالعہ کے بوجھ، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے پھیلاو¿، بیرونی سرگرمیوں اور مشق کی کمی پر الزام عائد کیا ہے۔

گو کہ اس اس پالیسی میں اس امر پر اتفاق نہیں ہے کہ گیمنگ کی وجہ سے بچوں کی قریب کی نظر متاثر ہو رہی ہے تاہم مطالعہ کو ایک ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں لوگوں کی بینائی کم ہونے کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں شرح سب سے زیادہ ہے۔

چین میں حالیہ دنوں میں جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے بعد جمعہ کو چین کی گیمنگ کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ (ب

بزرگوں کی رائے اہمیت کھونے لگی....
23/10/2021

بزرگوں کی رائے اہمیت کھونے لگی....

بوڑھے کی دعاجو کام تم سورج غروب ہونے کے وقت شروع کرو گی وہ چاند کے نکلنے تک جاری رہے گا...شمع خانمسز خان ایک موٹی عورت ت...
23/10/2021

بوڑھے کی دعا
جو کام تم سورج غروب ہونے کے وقت شروع کرو گی وہ چاند کے نکلنے تک جاری رہے گا...

شمع خان
مسز خان ایک موٹی عورت تھی جو اکیلی ایک الگ تھلگ مکان میں رہتی تھی۔اس کا اپنے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ ایک اچھی عورت ہے۔ وہ اکثر اپنی سہیلیوں کو بتاتی کہ میں بہت مہربان ہوں،لیکن خود کہنے سے تو کبھی کوئی مہربان نہیں ہو جاتا۔
ایک دن ایک آدمی نے مسز خان کے گھر کے دروازے پہ دستک دی۔وہ بہت غریب تھا۔اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے،بال بکھرے ہوئے تھے۔وہ بہت پریشان حال تھا۔آدمی نے مسز چُن سے کھانے کے لئے کچھ مانگا۔مسز خان غصے سے تلملاتی ہی باہر نکلی اور یہ کہتے ہوئے اس غریب آدمی پر برس پڑی، ”جاؤ دفع ہو جاؤ۔
میرے پاس تمہیں کھلانے کو کچھ نہیں۔اگر اتنے ہی بھوکے ہو تو خود محنت کرو اور کھاؤ“۔
یہ کہہ کر اس نے زور سے دروازہ بند کر دیا اور وہ غریب آدمی بند دروازے کو حسرت سے دیکھتا رہ گیا۔

دروازہ بند کرنے کے بعد مسز خان نے اندر جا کر اپنے لیے چائے کا ایک گرم کپ تیار کیا اور مزے لے لے کر پیتی رہی۔

غریب آدمی سڑک کے کنارے چلتا ہوا ایک دوسرے مکان پر پہنچا جہاں مسز بشیر رہتی تھی۔جونہی مسز بشیر کی نظر اس غریب آدمی پر پڑی وہ اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔مسز بشیر نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا،”تم تھکے ہوئے دکھائی دیتے ہو اور تمہیں سردی بھی لگ رہی ہے۔
آؤ!اندر آجاؤ اور یہاں بیٹھ جاؤ۔اگرچہ میرے پاس کوئی چائے وغیرہ نہیں ہے،لیکن تم پریشان نہ ہو۔میرے پاس ایک روٹی اور تین خوبصورت سیب ہیں۔ایک سیب میں کھا لیتی ہوں اور دو تم کھا لو۔“
وہ آدمی اس عورت کے گھر کے اندر گیا اور بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر تک ان دونوں نے باتیں کیں۔پھر مسز بشیر اور اس آدمی نے مل کر روٹی اور سیب کھائے۔تب وہ آدمی کھڑا ہو گیا اور مسز بشیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا،”آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔لہٰذا سورج غروب ہوتے وقت آپ جو کام شروع کریں گی وہ چاند کے نکلنے تک جاری رہے گا“۔

پھر اس آدمی نے دوبارہ خاتون کا شکریہ ادا کیا اور اللہ حافظ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔مسز بشیر سوچنے لگی کہ اس آدمی نے کیا عجیب و غریب بات کہی ہے کہ جو کام تم سورج غروب ہونے کے وقت شروع کرو گی وہ چاند کے نکلنے تک جاری رہے گا۔
وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اس بات سے اس کی کیا مراد ہے؟
پھر مسز بشیر کو میز پر ایک سیب رکھا ہوا دکھائی دیا۔وہ خود سے کہنے لگی،”بیچارے نے صرف ایک سیب کھایا ہے۔جب کہ میری خواہش تھی کہ وہ دونوں کھائے۔کیوں نہ میں اس بچے ہوئے سیب کو ٹوکری میں رکھ دوں“۔

اس نے وہ سیب اٹھایا اور بڑی ٹوکری میں ڈال دیا۔پھر اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک اور خوبصورت سا سیب میز پر رکھا ہوا دکھائی دیا۔”یہ تو بڑی عجیب بات ہے!میں نے ٹوکری میں سیب ڈال دیا تھا،مگر یہ پھر کہاں سے آگیا“۔
اس نے وہ سیب اٹھا کر پھر ٹوکری میں ڈال دیا اور مطمئن ہو گئی،مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اسے میز پر ایک اور سیب رکھا نظر آیا۔
جب وہ سیب ٹوکری میں ڈالتی تو اسے میز پر ایک اور مل جاتا۔اب مسز بشیر سمجھ گئی کہ اس آدمی کی بات کا مطلب کیا تھا۔وہ ٹوکری میں سیب ڈالتی رہی،یہاں تک کہ چاند نکل آیا اور پھرمیز پر کوئی سیب نظر نہ آیا۔اب اس کی ٹوکری سیبوں سے بھر چکی تھی۔
دوسرے دن اس نے وہ سیبوں سے بھری ٹوکری بازار میں جا کر بیچ دی۔اس طرح اس کے پاس بہت سی رقم آگئی۔
مسز بشیر کی ساحلی مسز خان جس نے اس غریب کو دھکے دے کر نکال دیا تھا اس نے جب مسز بشیر کی سیبوں بھری ٹوکری دیکھی تو حیرت سے اس کی آنکھیں کھل گئیں۔
اس نے مسز بشیر سے پوچھا،”یہ تمام سیب تم نے کہاں سے لیے ہیں؟تمہارے گھر میں تو سیب کا کوئی درخت بھی نہیں ہے!
مسز بشیر نے اسے پورا واقعہ سنایا کہ کس طرح اس نے اس غریب آدمی کو کھانے کے لئے روٹی اور سیب دیے تھے اور کس طرح اس نے شکریہ ادا کیا۔
مسز خان نے مسز بشیر سے تو کچھ نہ کہا،لیکن اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب کی بار وہ بوڑھا آئے گا تو اس کو خوب کھلاؤں گی، خوب پلاؤں گی۔
اگلے دن وہ بوڑھا دوبارہ آیا۔مسز خان اس کو دیکھ کر خوشی سے پھولی نہ سمائی۔اس نے بوڑھے آدمی سے درخواست کی،”مہربانی کرکے میرے گھر کے اندر آئیں۔
میں آپ کی خاطر مدارات کروں گی“۔
بوڑھا گھر کے اندر آگیا۔مسز خان نے اسے پینے کے لئے چائے اور کھانے کے لئے بہت سے کیک دیے۔بوڑھے آدمی نے بہت سے کیک کھائے اور بہت سی چائے پی۔تب وہ کھڑا ہو گیا اور مسز خان کا شکریہ ادا کیا۔
مسز خان غور سے وہ باتیں سننے کے انتظار میں تھی جن کے بعد اسے اپنی من پسند چیز ڈھیروں مل سکتی تھی۔
پھر بوڑھا آدمی بولا،”سورج ڈوبنے کے وقت جو کام تم شروع کرو گی وہ چاند نکلنے تک کرتی رہو گی“۔
یہ کہنے کے بعد بوڑھے نے اللہ حافظ کہا اور چلا گیا۔
چونکہ مسز خان کے ذہن میں تھا کہ سورج غروب ہونے کا وقت اسے کیا کرنا ہے۔اس لئے اس نے ایک شلنگ کا سکہ میز پر رکھا اور کہا،”جب سورج غروب ہونا شروع ہو گا تو میں شلنگ اٹھا کر بیگ میں رکھوں گی اور پھر چاند کے نکلنے تک سکے اُٹھاتی اور بیگ میں ڈالتی رہوں گی جب کہ آج رات چاند دیر سے نکلے گا۔
اس طرح صبح سے پہلے میں بہت دولت مند ہو جاؤں گی“۔
آخر سورج غروب ہونے لگا اور وہ وقت آپہنچا جس کا مسز خان کو بے چینی سے انتظار تھا۔سورج غروب ہونے کے قریب ہی تھا کہ مسز خان بے دھیانی میں تیزی سے مڑی جس کے نتیجے میں وہ میز پر رکھے ہوئے چائے سے بھرے برتن سے ٹکرا گئی اور چائے فرش پر گر کر بہنے لگی۔
اس نے جلدی سے کپڑا لیا اور فرش صاف کرنے لگی۔جب وہ یہ کر رہی تھی تو اس وقت سورج غروب ہو گیا۔
پھر کیا ہوا!
وہ بیچاری فرش صاف کرتی رہی کرتی رہی،یہاں تک کہ چاند نکل آیا اور اس رات چاند دیر سے نکلا تھا۔چونکہ اس نے لالچ کی خاطر بوڑھے کی مدد کی تھی،اس لئے اسے اپنے کیے کی سزا مل گئی۔
سچ کہتے ہیں”لالچ بری بلا ہے“۔

کاغذ کی تھیلیبیکری والا جس کاغذ کی تھیلی میں ڈبل روٹی رکھ کر دینا چاہتا تھا،وہ ہاتھ سے نہ کھلی تو اس نے منہ کے قریب تھیل...
23/10/2021

کاغذ کی تھیلی
بیکری والا جس کاغذ کی تھیلی میں ڈبل روٹی رکھ کر دینا چاہتا تھا،وہ ہاتھ سے نہ کھلی تو اس نے منہ کے قریب تھیلی لا کر زور زور سے پھونکیں ماریں..

مسعود احمد برکاتی
سلمان ایک چھوٹا سا لڑکا تھا۔وہ ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔اس نے اپنی کتاب میں پڑھا تھا کہ کوئی چیز ٹھنڈی کرنی ہو تو اُسے منہ سے پھونک پھونک کر ٹھنڈا نہیں کرنا چاہیے۔
پھونکنے سے منہ کے جراثیم اس چیز میں پہنچ جاتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں۔
جب سے سلمان نے کتاب میں یہ بات پڑھی اس وقت سے وہ خود بھی احتیاط کرنے لگا اور دوستوں اور بھائی بہنوں کو بھی منہ سے پھونک کر کھانا یا چائے ٹھنڈی کرنے سے روکنے لگا۔
ایک دن وہ ڈبل روٹی لینے بیکری گیا۔بیکری والا جس کاغذ کی تھیلی میں ڈبل روٹی رکھ کر دینا چاہتا تھا،وہ ہاتھ سے نہ کھلی تو اس نے منہ کے قریب تھیلی لا کر زور زور سے پھونکیں ماریں۔

تھیلی کا منہ کھل گیا۔سلمان یہ دیکھ رہا تھا ،جب بیکری والے نے ڈبل روٹی تھیلی میں رکھنا چاہی تو سلمان چیخ کر بولا:”ٹھیرو،رک جاؤ۔
منہ سے پھونک کر تھیلی نہیں کھولتے،تمہارے منہ کے سارے کیڑے تھیلی میں چلے گئے،وہ گندی ہو گئی،دوسری تھیلی ہاتھ سے کھولو اور مجھے اس میں روٹی رکھ کر دو۔


سلمان نے اس سختی سے یہ بات کہی کہ بیکری والے کو غصہ آگیا۔وہ کہنے لگا:”ہمارا منہ گندا تھوڑی ہے،نہ میرے پاس اتنا وقت ہے کہ تھیلی کو ہاتھ سے مسلتا رہوں۔“
سلمان نے اپنی بات دُہرائی تو بیکری والا بھی اپنی بات پر اَڑ گیا۔
اس نے کہا:”لینا ہے تو لو،ورنہ جاؤ،میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے۔“
سلمان خالی ہاتھ گھر آگیا۔جب اس کے ابو کو قصہ معلوم ہوا تو انھوں نے سلمان سے کہا کہ بات تو تمہاری بالکل صحیح ہے،لیکن تمہارے کہنے کا انداز اور تمہارے الفاظ سخت تھے،اس لئے وہ ضد پر آگیا۔
بات کرنے کا انداز ہوتا ہے۔اچھی بات کو اچھے الفاظ اور اچھے لہجے میں ہی کہنا چاہیے،اسی کو اخلاق اور اسی کو تہذیب کہتے ہیں۔ہمارے ہاں جہالت عام ہے،ابھی تمام لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ان کو بہت سی باتیں نہیں معلوم،اسی لئے وہ بیمار رہتے ہیں اور ان کو اخلاق سے کام لینا نہیں آتا۔
بیکری والا بھی انھی لوگوں میں سے ہے۔اگر تم اس کو میٹھی زبان میں منہ سے پھونکنے کے نقصانات بتاتے اور نرمی سے کہتے کہ تمہارا منہ گندا نہیں ہے،لیکن جراثیم ہر ایک انسان کے جسم میں ہوتے ہیں،جو دوسروں کے لئے مضر ہوتے ہیں۔اس لئے ذرا سی تکلیف اُٹھا کر کاغذ کی تھیلی کا منہ ہاتھ سے کھول لیا کرو،تو وہ شاید بات مان جاتا۔
بیکری والے نے جو طریقہ اختیار کیا وہ بھی صحیح نہ تھا،نہ انسان کی حیثیت سے اور نہ تاجر کی حیثیت سے۔اس انداز سے بات کرنے سے اس کا نقصان بھی ہوا،مگر اس کی جہالت اور اخلاقی کمزوری نے اس کو یہ نقصان برداشت کرنے پر مجبور کیا۔

اپنے ابو کی یہ باتیں سلمان کی سمجھ میں آگئیں۔وہ شام کو پھر اسی بیکری والے کے پاس گیا اور اس کو اخلاق و محبت سے یہ ساری باتیں سمجھاتا رہا۔شروع شروع میں بیکری والا اُلجھنے کی کوشش کرنے لگا،لیکن سلمان کی باتوں کی مٹھاس نے اس کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔آخر وہ سلمان کی بات مان گیا۔
سلمان خوشی خوشی گھر واپس آیا۔اس نے آج ایک اخلاقی سبق خود سیکھا تھا اور صحت کا ایک اُصول ایک دوسرے انسان کو سکھایا تھا۔

دہشتگردوں کو امن واستحکام برباد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گےدہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشن جاری رہیں گے، عوام کی سماج...
23/10/2021

دہشتگردوں کو امن واستحکام برباد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے
دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشن جاری رہیں گے، عوام کی سماجی واقتصادی ترقی کو سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائےگا...
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو امن واستحکام برباد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشن جاری رہیں گے، عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی کو سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر نے ہرنائی میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردوں کو امن واستحکام برباد نہیں کرنے دیں گے، کسی صورت امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشن جاری رہیں گے۔ عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی کو سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز نے ہرنائی میں فائرنگ کے تبادلے میں6 دہشتگرد ہلاک کردیے، ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم بی ایل اے کمانڈر طارق عرف ناصر بھی ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانے سے ہتھیار اور گولیاں بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں جمبورو کے قریب دہشتگردوں کیخلاف کاروائی کی، سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ہرنائی میں آپریشن کیا، آپریشن کے دوران دہشتگردوں نے فرار ہوتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی ، فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشتگرد مارے گئے، ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم بی ایل اے کمانڈر طارق عرف ناصر سمیت 6 دہشتگرد شامل ہیں۔

آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے سے ہتھیار اور گولیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

24/09/2021

New Funny video 2022.....

Address

Alipur Janubi
34201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KnowledgeLight Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KnowledgeLight Tv:

Share