05/10/2026
دوہری خوشیوں کا دن
پھولوں کی مہک اور جگمگاتی روشنیوں نے پورا ہال سجا دیا تھا۔ گیندے کے پھولوں کی لمبی مالائیں اور گلاب کی پنکھڑیاں اس رات کو اور بھی خاص بنا رہی تھیں۔ آج کا دن عام دن نہیں تھا؛ آج ایک ہی چھت کے نیچے دوہری خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔
ابو نے اپنی کریم کلر کی شروانی کے کالر کو ہلکا سا ٹھیک کیا اور فخر سے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو صرف ایک باپ کو اپنی بیٹیوں کی شادی پر محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں، عائشہ اور مریم کو دیکھا، جو آج کسی رانیوں سے کم نہیں لگ رہی تھیں۔ دونوں نے گہرے سرخ (Maroon) رنگ کے بھاری بھرکم لیہنگے پہنے تھے، جن پر سونے کا کام چمک رہا تھا۔
امی، جو آج گہرے جامنی رنگ کے جوڑے میں بے حد پُرجلال لگ رہی تھیں، اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپاتے ہوئے مسکرائیں۔ انہوں نے باری باری دونوں بیٹیوں کے ماتھے پر لگی ٹیکے کو ٹھیک کیا اور ان کے ہاتھوں میں چوڑیوں کی کھنک کو سنا۔
"دیکھو ابو،" امی نے فخر سے کہا، "ہماری دونوں چڑیاں آج اپنے گھر بسانے جا رہی ہیں۔"
عائشہ اور مریم، جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کی بہترین دوست رہی تھیں، آج بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں۔ ان کے چہروں پر شرم اور خوشی کا انوکھا امتزاج تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما، جیسے کہہ رہی ہوں کہ "چاہے زندگی میں کچھ بھی ہو جائے، ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی۔"
فوٹوگرافر نے کیمرہ سیٹ کیا اور کہا، "تھوڑا مسکرائیں پلیز!"
جیسے ہی کیمرے کی فلیش چمکی، اس نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے قید کر لیا۔ اس تصویر میں صرف چار لوگ نہیں تھے، بلکہ ایک مکمل خاندان کی محبت، ان کی قربانیاں، اور ان کی دعائیں تھیں جو ان دونوں بیٹیوں کے ساتھ تھیں۔
ابو نے دونوں بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور دل ہی دل میں دعا کی: "اللہ تمہاری زندگیوں کو بھی اسی طرح خوبصورت اور روشن کرے جیسے آج تمہارا یہ دن ہے۔"
یہ تصویر صرف ایک یادگار نہیں تھی، بلکہ ایک کہانی تھی—ایک ایسی کہانی جو نسل در نسل سنائی جائے گی۔
https://reshvara.com/