Zamatv

Zamatv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zamatv, Islamabad.

12/04/2026

خواجہ آصف کا ٹویٹ
آصف محمود

کیا خواجہ آصف کا ٹویٹ درست تھا؟ جی ہاں بالکل درست تھا، بالکل منطقی تھا ، بر محل تھا ، عین موقع پر تھا ، اور بہت ضروری تھا۔ ایک پاولے کو وارننگ تھی کہ آپ ہماری نظر میں ہیں ، یہاں کوئی گڑ بڑ نہیں کرنی۔

تین باتیں ذہن میں رکھیے: خواجہ آصف جو بھی ہےا ور جیسا بھی ہے سینیئر سیاست دان ہیں ، اور وزیر دفاع ہیں ا نہیں معلوم ہے کب کہاں کیا کہنا ہے۔ یہ ٹویٹ ایسے سلطان راہی بن کر نہیں دیا گیا ۔ جہاں جو پیغام پہمچانا تھا پہنچا دیا گیا۔ ان کی جیسی بھی افتاد طبع ہو اتنا تو انہیں معلوم ہی ہو گا کہ ہم کیسے ماحول سے گذر رہے ہیں اور ہم نے کیا کہنا ہےا ور کیا نہں کہنا ۔

جس طرح غیر ضروری جذباتیت اچھی نہیں ہوتی اسی طرح غیر ضروری خوف بھی مناسب نہں ہوتا ، اسرائیل کو ہم نے آج تک بطور ملک تسلیم نہیں کیا ۔ ہماری اس کے بارے وہی پالیسی رہی ہے جس کا خواجہ اصف نے اظہار کیا ہے۔ ناجائز اور ناپاک ریاست۔ اس کی تذکیر اگر اس وقت یوں کی گئےئی ہے تو کسی وجہ سے کی گئی ہو گی۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہم مذاکرات امریکہ ا ور ایران میں کروا رہے ہیں اسرائیل کی ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے نہ ہم اس کے وجود کو مانتے ہیں کہ ہم اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں ۔ اسرائیل کو تقدس کا لبادہ نہ اوڑھائیں ۔

نہ ہی ہر وقت اپنوں کو غلط ، اور احمق اور جذباتی قرار دینا کوئی عقل مندی ہے۔ وہ کہتے ہین کہ :
There is method in this madness

تصویر کا بہت سارا رخ ہم عوام ، تجزیہ کاروں، صحافیوں کے سامنے نہیں ہوتا ۔ دھیرج رکھیں دھیرج۔ ریاستیں صوفیانہ رقص سے نہیں چلتیں ، بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے اور بہت کچھ ہونا ہوتا ہے۔

ہر بات جذباتی نہیں ہوتی ، کچھ باتیں بہت کیلکولیٹڈ اور سوچ سمجھ کر کی جاتی ہیں ۔ ضروری ہوتی ہیں ۔
میں یہ بات کئی سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی فارن پالیسی شاندار ہے. اس نے فارن پالیسی ہی تو شاندار رکھی ہے. اس لیے پاکستانی قیادت کو گنجائش دیں. بات پلے نہ پڑے تو تنقید کو نہ شروع ہو جائیں.

پاکستان مایوس نہیں کرے گا. انشاءاللہ.

08/04/2026

بین الاقوامی سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کے عظیم کردار پر بھارت میں صف ماتم ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیے اور لطف لیجئے

05/04/2026

پاکستان عرب امارات کا قرض واپس کیوں کررہا ہے پوری کہانی سامنے آگئی
آپ کو یاد ہوگا چند دن قبل سعودیہ میں گیارہ مسلمان ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا اس اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں عرب ملکوں پر جملہ کرنے پر ایران کی مذمت تو شامل تھی لیکن اسرائیل کا ذکر کہیں بھی موجود نہیں تھا اس پر پاکستان نے اعتراض کیا کہ اس جنگ کی ابتدا کرنے والا اسرائیل ہے اس لیے اس اعلامیہ میں اس کی مذمت ازحد ضروری ہے پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی جانب سے عرب ممالک پر حملے کی بھی مذمت کی ہے لیکن اس پورے فساد کی جڑ اسرائیل ہے اس کا تزکرہ نہ کرنا نامناسب ہے اس پر بعض عرب ممالک نے پاکستان سے اصرار کیا کہ وہ اس اعلامیہ کو من و عن مان لے لیکن پاکستان اس پر تیار نہیں ہوا یہاں پاکستانی موقف کو لبنان اور ترکیہ کی بھی حمایت ہوئی جس سے پاکستان کا موقف مزید مضبوط ہوگیا اور اعلامیہ میں اسرائیل کی مذمت بھی شامل کرلی گئی اعلامیہ کے جاری ہونے سے پہلے ایک بار پاکستان سے بڑی شدومد کے ساتھ اصرار کیا گیا کہ وہ پچھلے اعلامیہ پر رضامندی کا اظہار کردے لیکن پاکستان کے کسی بھی طرح راضی نہ ہونے پر نیا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں اسرائیل کی مذمت شامل تھی بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں شامل بعض ممالک تو یہاں تک چلے گئے تھے کہ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل اگر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کردے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا ان کے اس موقف کی پاکستان نے سخت مخالفت کرتے ہوئے انہیں باور کروایا کہ اگر ایسا ہوگیا تو اسرائیل رکے گا نہیں اس کے بعد آپ کی باری آئے گی اسرائیل کے خلاف پاکستان کے اس سخت موقف پر ناراض ہوکر ہی عرب امارات نے پاکستان سے ساڑھے تین ارب ڈالر قرض واپس مانگ لیا ہے یہ قرض اپریل میں واپس کرنا ہے پاکستان نے کسی بھی دباؤ لینے سے انکار کرتے ہوئے اپنی معاشی مشکلات کے باوجود یہ قرض واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

الحمدللہ بطور پاکستانی ہمیں اس پاکستانی کردار پر فخر ہے کہ جس میں پاکستان نے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے باوجود اپنی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے بڑی جرات کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کیا
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

فیصل ندیم

جب PCB نے تیل کی بچت کے لیے خالی اسٹیڈیم میں میچز کرانے کا اعلان کیا تو وکرانت گپتا نے فوراً کہا:"تیل کا مسئلہ نہیں، سیک...
28/03/2026

جب PCB نے تیل کی بچت کے لیے خالی اسٹیڈیم میں میچز کرانے کا اعلان کیا تو وکرانت گپتا نے فوراً کہا:
"تیل کا مسئلہ نہیں، سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے ڈر لگ رہا ہے آج مودی سرکار نے فیصلہ کر لیا کہ IPL کے پہلے پانچ میچز کے بعد تیل کی بچت کے لیے میچز خالی اسٹیڈیم میں ہوں گے اب وکرانت گپتا کہہ رہے ہیں: "کرکٹ ملک سے بڑا نہیں، تیل کی قلت ہے تو بغیر تماشائیوں کے IPL کرانے میں کوئی حرج نہیں۔"

ساڈھے ڈیرے تے پنچائتاں 😎 ایران، امریکہ اسرائیل مابین مذاکرات ممکنہ طور پہ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد منعقد ہو رہے. ...
24/03/2026

ساڈھے ڈیرے تے پنچائتاں 😎
ایران، امریکہ اسرائیل مابین مذاکرات ممکنہ طور پہ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد منعقد ہو رہے. اس حوالے سے مجھ ناچیز کی تجویز ہے پاکستان ہر فریق سے دس دس ارب ڈالر بیعانہ بطور زر ضمانت پکڑ لے. پھر جو فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کرے اس کا بیعانہ نپ لیا جاوے. اور ہر تین فریقین کی رقم پاکستانی ریاستی سرکاری بینک میں اگلے دس سال پڑی رہے ۔ تاکہ کبھی کوئی فریق جارحیت یا خلاف ورزی کی کوشش نا کرے ۔ اس طرح بین الاقوامی امن کی تادیر ضمانت دی جا سکتی ہے.

نیز معاہدہ ہونے کے بعد ہر فریق سے دس ارب ڈالر بطور قرض بھی مانگی جا سکتی ہے. اتنے سستے میں امن، صرف پاکستان ہی دے سکتا ہے.

ماہر معاشیات و جوڑ توڑ!، منقول شریف!!

08/03/2026

کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی، اور ہر بار بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا، بغیر کسی وجہ کے جو اس کے والد کو معلوم ہوا۔ آخر کار، والد نے بیٹے کو بیویوں کو طلاق دینے کی وجہ سے محل سے نکال دیا۔
بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔
اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔
مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے تاکہ کچھ کام نمٹایا جا سکے۔
سفر کے دوران، وہ دونوں ایک گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے۔ نوجوان نے کہا، "کتنی زیادہ ہیں اور کتنی کم ہیں۔" مالک حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک اور گلہ بکریوں کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "کتنی کم ہیں اور کتنی زیادہ ہیں۔" مالک نے دل میں سوچا کہ یہ نوجوان بیوقوف ہے، اس لیے میری بیٹی نے مجھے اس کے ساتھ سفر کرنے کو کہا تھا۔
پھر وہ ایک قبرستان کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "تم میں زندہ بھی ہیں اور مردہ بھی۔"
پھر وہ ایک خوبصورت باغ کے پاس سے گزرے، نوجوان نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ یہ باغ ہرا بھرا ہے یا سوکھا ہوا ہے۔" مالک بہت حیران ہوا لیکن کچھ نہ بولا۔
پھر وہ ایک گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں دودھ دیا۔ نوجوان نے خود پیا اور پھر مالک کو دیا۔
پھر وہ ایک اور گاؤں میں پہنچے اور پانی طلب کیا، لوگوں نے انہیں پانی دیا۔ نوجوان نے پہلے مالک کو دیا اور پھر خود پیا۔
مالک نے دل میں سوچا کہ نوجوان نے مجھے دودھ دینے میں بے احترامی کی اور پانی دینے میں عزت دی۔
واپس سفر سے آ کر مالک نے اپنی بیٹی کو سارا ماجرا سنایا۔ بیٹی نے کہا کہ وہ نوجوان بہت اچھا انسان ہے۔
مالک نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسے؟
بیٹی نے جواب دیا:
پہلا گلہ بکریوں کا، اس میں مینڈھے زیادہ تھے اور بکریاں کم۔
دوسرا گلہ بکریوں کا، اس میں بکریاں زیادہ تھیں اور مینڈھے کم۔
قبرستان، جس نے اولاد چھوڑی وہ زندہ ہے اور جس نے نہیں چھوڑی وہ مردہ۔
باغ، اگر مالک نے اپنے پیسوں سے بنایا ہے تو ہرا بھرا ہے اور اگر قرضے سے بنایا ہے تو سوکھا ہوا ہے۔
دودھ جب برتن میں ڈالا جاتا ہے تو دودھ نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی اوپر آ جاتا ہے، اس نے پہلے پانی پیا اور آپ کو دودھ دیا۔
کنویں کا پانی، صاف پانی اوپر آتا ہے، اس نے آپ کو پہلے دیا۔
مالک نے بیٹی کی باتیں سن کر نوجوان سے اپنی بیٹی کی شادی کروا دی۔
شادی کے بعد جب نوجوان اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، "یہ سر کس کا ہے؟"
بیوی نے جواب دیا، "یہ میرا سر تھا اور اب تمہارا ہے۔"
نوجوان نے کہا، "سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، میں بکریاں چرانے والا نہیں ہوں، میں بادشاہ کا بیٹا ہوں اور میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا۔

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک‎ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک‎حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک‎ک...
28/02/2026

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
‎ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
‎حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
‎کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک؟
‎فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
‎کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں
‎کون ہے تارکِ آئینِ رسُولِ مختارؐ؟
‎مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
‎کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
‎ہوگئی کس کی نِگہ طرزِ سلَف سے بیزار؟
‎قلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیں
‎کچھ بھی پیغامِ محمّدؐ کا تمھیں پاس نہیں

23/02/2026

‏"زبانِ غیر میں شرحِ گفتگو "

ظفر صاحب کی بیوی سرائیکی تھیں۔ انھیں بیگم کو انگلش سکھانے کا بہت شوق تھا۔ ابتدا میں دوپہر کا کھانا "لنچ" اور رات کا کھانا "ڈنر" سکھا دیا۔
دوسرے روز بیگم نے دوپہر کا کھانا لگایا اور بولیں
" ظفر صیب، ڈنر کر گِھنو"
ظفر صاحب بولے " میڈی شودی بھولی، میڈی مِٹھڑی، ایہہ ڈنر کئے نئیں لنچ اے ، ڈوپہر کُوں لنچ تِھیندا ہوندا ۔
بیگم فوراً جل کر بولی
" وئے نامراد جاہلا، ڈنگرا جیا ، شودا ہوسِیں تُوں، مر پَوویں شالا ، ایہہ راتی دا بچیا پیا ٹُکر ہا، میں اُوہو چا آئی آں ۔۔۔ ہُنڑ ڈٙس ایہہ لنچ اے یا پَیو تیڈے دا ڈِنر اے؟ 😠

سنا ہے اب ظفر صیب ہر کھانے کو ڈنر ہی کہتے ہیں، چاہے وہ رات کا بچا ہو نہ بھی ہو ... 😕😕

19/02/2026

کچھ سال قبل اہلیہ کے ہمراہ کزن کی شادی میں گیا.. لڑکی کا بڑا بھائی ٹیبل پر آیا اور کہنے لگا.. آصف بھائی آپ نے نکاح میں گواہ بننا ہے.. زندگی میں پہلی بار اتنی عزت مجھے کسی نے دی تھی.. تو ظاہر ہے فخر سے کالر تو "کھڑے" ہونے ہی تھے.. وہ تو ہوئے ہوئے.. ساتھ ہی گردن بھی کچھ اکڑگئی.. کزن کے جانے کے بعد اہلیہ کہنے لگیں .. سرتاج گردن "ڈھیلی" کرلیں.. سگنیچر کرتے وقت مشکل پیش آسکتی ہے..جواب دیا.. دیکھ لیں.. بیگم صاحبہ.. لوگ کتنی عزت دیتے ہیں مجھے..اور ایک آپ ہیں..جو دو ٹکے کیا.. ایک ٹکا عزت دینے پر بھی تیار نہیں.. اہلیہ مسکرائیں.. حضور پہلے آپ "کرتوت" تو عزت والے بنالیں.. چلیں جائیں اسٹیج پر قاضی صاحب نکاح کی کارروائی شروع کرنے والے ہیں.. اور ہاں دعا ضرور کرلیجیے گا.. میں "اونہہ.. جل ککڑی" کہہ کر جانے کے لئے کھڑا ہوگیا.. گریبان کے کھلے بٹن بند کرے.. کنگھی سے بالوں کو سیدھا سر پر چپکایا.. جیب سے ٹوپی نکال کر سر پر لگائی..اہلیہ کے پرس میں رکھی تسبیح نکالی.. اور شان بےنیازی سے چلتا یوا اسٹیج پر پہنچ گیا.. قاضی صاحب مجھے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے.. قریب بلاکر کہنے لگے.. میاں تمہاری شکل کچھ جانی پہچانی لگ رہی ہے..تمہارا نکاح کب اور کہاں ہوا تھا؟؛؛؛... یہ بھیانک غلطی ملیر میں ہوئی تھی اور بدقسمتی سے اکیس سال ہوچکے ہیں.. اس غلطی کو سہتے ہوئے..یہ جواب دیتے ہوئے میری معصوم
آنکھوں سے دو قطرے آنسو کے نکل پڑے.. یاد آگیا.. قاضی صاحب فوراً بولے.. قاضی صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی یاد آگیا.. یہ وہی قاضی صاحب تھے جنہوں نے میرا نکاح پڑھایا تھا اور نکاح کی فیس کے آدھے پیسے سکہ رائج الوقت مبلغ ڈھائی ہزار روپے کا میں قرضدار تھا.. نکاح کے ایک ہفتے بعد دینے کا وعدہ تھا.. لیکن جب نکاح کے پانچ دن بعد ہی اس مہلک غلطی کا "خمیازہ" بھگتنا شروع کیا.. تو بطورِ سزا قاضی صاحب کی آدھی فیس"غڑپ" کرلی تھی وہ بیچارے تین ماہ تک چکر لگاتے رہے اور آخرکار مایوس ہوکر دو چار پھپھو کٹنی والے "شراپ" دے کر چلے گئے.. پھر دوبارہ نہیں آئے.. اور آج پورے اکیس سال بعد ان کے "شراپ" نے حقیقت کا روپ "دھار" ہی لیا.. اب میری عزت ان کے ہاتھ میں تھی..چپ چاپ پچیس سو روپے نکال کر ان کے ہاتھ پر رکھ دیے.. قاضی صاحب پہلی بار اتنی عزت ملی ہے.. پلیز آپ اسے خاک میں نہیں ملانا.. قاضی صاحب نے دانت نکالے.. میاں اکیس سال پہلے کے پچیس سو آج کے پچیس ہزار کے برابر ہیں..قاضی صاحب اور میں سرگوشیوں میں "پلی بارگینگ" کرنے لگے.. آخرکار پانچ ہزار روپے میں یہ ڈیل ہوگئی..اب قاضی صاحب کاروائی شروع کرنے لگے.. میں فخر سے سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھنے لگا..لوگ بھی بڑی عزت سے دیکھ رہے تھے.. پہلی بار اپنے "معزز" بننے کی خوشی کا احساس بڑا فرحت انگیز لگ رہا تھا.. بال پوائنٹ پکڑا جیسے ہی نکاح نامے پر دستخط کرنے لگا.. ایک آواز کانوں میں آئی..رک جاؤ آصف بھائی..میں "ہڑبڑاکر"
کر رک گیا.. دیکھا تو دولہا سہرا اٹھائے مجھے غصے سے گھوررہا تھا.. لڑکی کا بھائی گھبراگیا.. کیا ہوا فہیم خیریت تو ہے.. ہم سے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی؟؛؛؛... فرحان بھائی آپ سے غلطی نہیں.. بلکہ بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے.. نکاح جیسے "مقدس" فریضے پر آصف بھائی جیسے "گمراہ" شخص کو گواہ بنارہے ہیں.. آپ نہیں جانتے انہیں.. یہ فیس بک پر شادی شدہ آصف بھائی کے نام سے بیویوں کے خلاف تواتر سے لکھتے آرہے ہیں..درجنوں کنوارے ان کی پوسٹیں پڑھ کر شادی سے "بدظن" ہوچکے ہیں.. بیوی کو ظالم بنا کر پیش ایسے کرتے ہیں.. کہ کنواروں کو بیوی کے نام سے ہی خوف آنے لگا ہے.. بلکہ کئی کو غشی کے دورے بھی پڑچکے ہیں.. میں بھی پہلے ان کی فرینڈ لسٹ میں تھا.. لیکن ان کی منحوس اور "گمراہ کن" پوسٹیں پڑھ کر انہیں بلاک مارکر ان کی نحوست سے اپنے آپ کو محفوظ کرچکا ہوں.. فرحان بھائی آپ خود سوچیں.. اگر میں انہیں بلاک نہیں مارتا تو آپ کو مجھ جیسا اچھا اور شریف بہنوئی کیسے ملتا.. دولہے کی بات سن کر میرے کزن نے مجھے ہاتھ سے پکڑکر اٹھایا..
اور سیدھا اہلیہ کے سامنے بٹھادیا.. اور یہ کہتے ہوئے چلاگیا آصف بھائی مجھے تو آپ کو بڑا بھائی کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے.. بھابھی آپ ان کی "لگام" کھینچ کر رکھیں.. اہلیہ نے میرے زخم پر مزید نمک چھڑکا.. دیکھا میں نا کہتی تھی.. کسی دن آپ اپنی بناوٹی مظلومیت کے ہاتھوں ہی ذلیل ہوں گے.. میں "تڑپ" کر رہ گیا لیکن سر جھکائے اس ذلت بھرے درد کو سہتا رہا.. آدھے گھنٹے بعد قاضی صاحب میری ٹیبل پر تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے.. آصف میاں.. دیکھ لیا آپ نے مولوی کی بددعا لینے کا انجام.. میں دانت پیس کر رہ گیا.. پر کچھ کہہ نا سکا.. قاضی صاحب نے پچیس سو روپے میرے ہاتھ پر رکھے اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے.. یہ لیں اپنے پچیس سو روپے رشوت کے.. میں سود نہیں لیتا... میں نے خاموشی سے پچیس سو جیب میں ڈال لیے.. اور فہیم کو "کوسنے" دیتے ہوئے گھر آگیا.. کچھ عرصے بعد حسب معمول اپنی ٹوٹل بیستی بھول گیا.. کل رات گھر گیا تو گھر میں موجود مہمان کو دیکھ کر
اسٹنگ کا زوردار "جھٹکا" لگا.. فہیم اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا.. مجھے دیکھتے ہی اٹھا اور بڑے "جوش" سے مجھ سے بغلگیر ہوگیا.. اور سسک سسک کر رونے لگا..کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا..آصف بھائی مجھے معاف کردو..میں ہی گمراہ تھا..آپ حق پر تھے.. واقعی بیوی بڑی خوفناک مخلوق ہے..
پلیز مجھے دوبارہ ایڈ کرلیں.. تاکہ میں بھی آپ کے ساتھ مل کر "آہ و زاریاں" کرسکوں..

10/02/2026

میں آج اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ موٹر سائیکل پہ حسن ابدال بازار جا رہا تھا
بازار سے جوتے اور کپڑے لینے تھے تو دو دن سے سرکھائے جارہی تھی کہ مجھے بازار لے چلیں
اتوار کا پلان ترتیب دیا اور آج گھر سے چل پڑے مکمل حجاب اور خود کو مکمل ڈھانپ کر میرے ساتھ سوار ہوگئی
ہم جیسے ہی شاہراہ قراقرم (ہزارہ روڈ) پہ پہنچے تو پاس سے ایک سوٹڈ بوٹڈ کوئی لڑکا گزرا اس نے گردن موڑ کر میری ہمشیرہ کی طرف دیکھا لیکن وہ مکمل حجاب میں تھی
میری نظریں لڑکے پر ہی تھیں لھذا میں نے ایک بار نظر انداز کردیا
جیسے ہی وہ دوبارہ مڑا میں نے اسے بائیک سائڈ پہ لگانے کا بولا
وہ رک گیا میں نے اپنی موٹر سائیکل تھوڑی آگے روک کر ہمشیرہ کو اتارا اور خود چلتا ہوا اس لڑکے کے پاس آگیا
اسے سلام کیا حال احوال پوچھا اور ساتھ ہی یہ سوال داغ دیا کہ بھائی گھر میں بہن ہے؟
کہنے لگا جی سر !
پھر دوسرا سوال داغا کہ ماں ہے.؟
کہنے لگا جی الحمدللہ وہ بھی ہیں

پھر میں نے اسے یہ پوچھا کہ میری ہمشیرہ کی طرف دوبار مڑ کردیکھنے کی وجہ ؟؟؟
اس سوال پہ لڑکے کا رنگ اڑ گیا اور وہ شرمسار ہوگیا
مجھے غصہ بھی بہت آیا ہوا تھا خیر
میں نے لڑکے کو ایک ہی بات بولی

کہ وہ کون سی فالتو چیز ہے جو تمھاری بہن اور ماں میں نہیں ہے اور میری بہن میں ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہو؟

لڑکے نے پہلے تو سیانا بننے کی کوشش کی اور تھوڑی گرمی دکھائی
لیکن جیسے ہی الٹا ہاتھ رخسار پہ ثبت ہوا تو لڑکا ایک بار گھوما
پھر گالوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
بھائی اب نہیں دیکھوں گا

میں نے پھر وہی سوال پوچھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو تمھاری بہن اور ماں میں نہیں اور میری بہن میں ہے جو تم غور سے دیکھ رہے تھے
بس لڑکے نے نظریں جھکا کر شرمندگی کا اظہار کیا اور معافی مانگ لی

سبق سکھانے کے لیے اتنا کافی تھا میں نے لڑکے کو جانے دیا
وہ میری بائیک کے پاس سے گزرا لیکن اس بار اس کی نظریں سامنے کی طرف تھیں اس نے مڑ کر میری ہمشیرہ کو نہیں دیکھا

یہ ایک واقعہ نہیں ایک پیغام ہے اور ایک سرعام میسج ہے معاشرے کے تمام مرد حضرات اور لڑکوں کے لیے کہ روڈ پہ گزرتے ہوئے اگر کسی کی بہن بیٹی کھڑی ہو، جارہی ہو, بیٹھی ہو یا
اپنے بھائی، بیٹے یا شوہر کے ساتھ گاڑی یا بائیک پہ بیٹھی ہو
تو
خدارا 🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼

گردن گھما کر اور ٹکٹکی باندھ کر اسے یہ پیغام نہ دیا کریں کہ آپ کا تعلق کسی ایسی نسل سے ہے جہاں عورت کی کوئی عزت نہیں
اور
یقیناً آپ جس لڑکی کو گھور رہے ہوتے ہیں اس میں بھی کچھ ایسا فالتو نہیں ہوتا جو آپ کی بہن ، ماں اور بیٹی میں نہ ہو

اگر آپ کے ڈر سے کوئی عورت یا لڑکی راستے سے گزرنا چھوڑ دے
تو گلی کے ک۔۔۔ت۔۔ے اور آپ میں کوئی فرق نہیں

لھذا اپنی ذات کو ایسا بنائیں کہ عورت ذات آپ کے سائے میں تحفظ محسوس کرے نا کہ غیر محفوظ

ہمارےمعاشرے کا سب سےبڑا المیہ ہے کہ جب تک مولوی صاحب، پروفیسر صاحب، مفتی صاحب ، ڈاکٹر صاحب ، ٹیچر صاحب، بزنس مین صاحب اور ہر طبقہ فکر کے لوگ روڈ پہ
جب بھی کسی لڑکی کو دیکھتے ہیں اسے تاڑنا اور گردن موڑ کر بار بار دیکھنا فرض عین سمجھتے ہیں

لھذا ایک بار پھر وہی بات آپ سب مردوں کے لیے ہے جو میں نے اس لڑکے سے بولی ہے

اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں
کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔

08/01/2026

کیا ابھی بھی ٹک ٹاک پر پابندی نہیں ہونی چاہۓ۔۔ اففف کتنے سفاک لوگ ہیں ہم؟؟
پیشے کے لحاظ سے موٹر سائیکل مکینک رضوان اقبال کا کہنا ہے کہ جب 19 دسمبر کو وہ معمول کے مطابق کام کاج کے بعد شام کو گھر واپس آئے تو اُن کی والدہ نے بتایا کہ ’تمھاری بیوی بچوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر نکلی تھیں کہ میں بچوں کے گرم کپڑے وغیرہ لینے بازار تک جا رہی ہوں اور ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی۔ لیکن جب انھیں گئے پانچ گھنٹے ہو گئے ہیں تو اہلخانہ کو پریشانی ہوئی۔
والدہ کے ہمراہ موجود تینوں بچوں، سات سالہ فجر، چار سالہ حرم اور دو سالہ محمد ذکریا، کے لاپتہ ہونے پر والد نے کہا کہ ’اپنی والدہ کی یہ بات سُن کر میں پریشان ہوا، لیکن انھیں تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں وہ جلد گھر واپس آ جائیں گے۔‘
رضوان کے مطابق پھر انھوں نے اپنی اہلیہ کے دونوں موبائل نمبرز پر کال کی تو وہ بند تھے جس پر وہ گھبرا گئے۔ اُس وقت تک اُن کے رشتہ دار اور ہمسائے بھی اس بارے میں لاعلم تھے۔
’میں نے فوراً بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ بازار جاتے ہوئے بھی میں پاگلوں کی طرح بار بار دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ واپس آتی ہی ہو گی۔ میں نے دو تین گھنٹے اسی بھاگ دوڑ میں گزار دیے لیکن اُن کا کچھ پتہ نہ چلا۔‘
’گھر واپس لوٹا تو دماغ میں عجیب طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ گھر کے افراد کی باتوں سے یہی لگ رہا تھا کہ بیوی گھر سے بھاگ گئی ہے لیکن دل نہیں مان رہا تھا۔
بقول رضوان کے ’بیوی بچوں کے بغیر پہلی رات قیامت کی رات تھی۔ میں نے گھر کا بیرونی دروازہ کھلا رکھا تھا کہ شاید وہ اچانک آ جائیں۔
رضوان اقبال کے بقول وہ دو دن تک اپنے بیوی بچوں کو تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئی کامیابی نہ ملی۔ وہ 21 دسمبر کو علاقے کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھانے گئے اور پولیس کو درخواست دی۔
گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خاتون کے زیرِ استعمال دونوں موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور لوکیشن حاصل کی جس سے معلوم ہوا کہ ان کی آخری لوکیشن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بھمبھر آزاد کشمیر کی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خاتون کو ٹریس کر کے ٹریپ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ ہماری انٹیلیجنس ٹیم اس میں کامیاب رہی اور خاتون کو ٹریپ کر کے واپس سرائے عالمگیر کے قریب بلوایا گیا جہاں پہلے سے موجود پولیس کی خفیہ ٹیم کے اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں خاتون کی نشاندہی پر اُن کے دوست ملزم بابر حسین کو بھی پکڑ لیا گیا۔‘
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعمرفاروق نے بتایا کہ اس وقت تک یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ تینوں بچے کہاں ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ ’کبھی کہتی تھیں کہ بچے گوجرانوالہ میں رشتے دار کے گھر ہیں اور کبھی کہتی کہ انھیں راولپنڈی بھجوا دیا ہے۔‘
تاہم کچھ گھنٹوں بعد پولیس افسر کے بقول خاتون نے ’اعتراف کیا کہ اس نے بابر حسین کے ساتھ مل کر بچوں کو مار دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر اُن کی شادی نہیں ہو سکتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ جب تفتیشی افسران نے پوچھا کہ لاشیں کہاں ہیں تو خاتون نے کہا کہ ’(ملزم) بابر کو اس علاقے کا علم ہے، جہاں لاشیں دفن ہیں۔
گجرات پولیس نے بھمبھر کی پولیس سے رابطہ کیا اور کرائم سین انویسٹیگیشن کی ٹیم وہاں روانہ کی جنھوں نے ’ملزمان کی نشاندہی پر‘ ویران پہاڑی علاقے میں ایک مقام پر کھدائی کر کے بچوں کی لاشیں برآمد کیں۔
ملزمان کے بیانات کی روشنی میں پولیس کا الزام ہے کہ دونوں ملزمان شادی کرنا چاہتے تھے مگر اس منصوبے کی راہ میں ’بچے رکاوٹ تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا کہ ملزم بابر نے ملزمہ کی جانب سے بچے ہمراہ لانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ’اسی بحث و تکرار میں دونوں نے مبینہ طور پر فیصلہ کر لیا کہ بچوں کو ٹھکانے لگانا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن اور سرائے عالمگیر کے ڈی ایس پی ممتاز میکن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے ’اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے بڑی مقدار میں بچوں کو فروٹ چاٹ نیند کی گولیاں دیں۔ جب وہ گہری نیند میں چلے گئے تو انھوں نے باری باری تینوں بچوں کے گلے دبا کر انھیں قتل کر ڈالا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ایک ویران مقام پر ’لاشیں جلا دیں تاکہ وہ شناخت کے قابل نہ رہیں جس کے بعد انھوں نے لاشوں کو وہیں دفن کر دیا۔
یاد رہے کہ عدالت میں پولیس کی جانب سے لیے گئے اعترافی بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔
پولیس کے تفتیشی افسران کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ اُن کی ڈیڑھ سال قبل بابر سے ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی تھی۔
’جب انھوں نے شادی کا پلان بنایا تو ملزمہ نے اپنے خاوند سے طلاق لینے کے لیے کئی بار بات کی اور جھگڑے کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دوسرے ملزم بابر کا تعلق بھمبھر سے ہے۔
تھانہ سٹی بھمبھر کے ڈیوٹی آفیسر سجاد حسین شاہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ بابر حسین کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر والے تالہ لگا کر نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے ہیں۔
سجاد حسین شاہ نے بتایا کہ ملزم بابر حسین غیر شادی شدہ ہیں۔
خواتین سے معذرت کے ساتھ
"یہاں پر میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی ایک بات کا حوالہ ضرور دینا چاہونگا انہونے کہا تھا احادییث کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہوگی کہ تم اپنی عورتوں کو زنجیروں سے جکڑ بھی دوگے لیکن وہ آزادی کے نام پر زنجیریں توڑ کر پھر بھی باہر نکلے گی" اگر آپ ٹک ٹاک پر پابندی نہیں لگوا سکتے تو کم سے کم اپنے گھر کی خواتین کے موبائل میں سے کم سے کم ٹاک کو ڈیلیٹ کیجۓ ورنہ رسوائی اور ذلت کے لیۓ تیار رہیۓ۔۔ شکریہ

17/12/2025

تحریر ۔ عاصمہ شہزاد
میں نے آٹھ سال تک اپنے نواسے نواسیوں کی پرورش کی۔ کل انہوں نے کہا کہ انہیں دوسری دادی زیادہ پسند ہے—کیونکہ وہ آئی پیڈ خرید کر دیتی ہے۔ میں “چکن سوپ والی دادی” ہوں۔
وہ جو ہر صبح موجود ہوتی ہے۔ وہ جو اسکول چھوڑنے جاتی ہے، بہتی ناکیں صاف کرتی ہے اور کچن ٹیبل پر بیٹھ کر ریاضی سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اور دوسری دادی؟
وہ خاص مواقع والی دادی ہے۔ سال میں دو بار آتی ہے، مہنگے تحائف سے بھرا سوٹ کیس لاتی ہے اور مشکل وقت شروع ہونے سے پہلے واپس چلی جاتی ہے۔ کل میرا دل تھوڑا سا ٹوٹ گیا جب میرے نواسے نواسیوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں میں بھی اُس جیسی بنوں۔
یہ سب یوں ہوا۔ میری کمر ہر وقت درد کرتی ہے— صرف اس لیے نہیں کہ میں 62 سال کی ہوں بلکہ اس لیے کہ میں ایسے بیگ اٹھاتی ہوں جو میرے نہیں، اور ایسی گندگیاں صاف کرتی ہوں جو میں نے نہیں پھیلائیں۔ میری زندگی میری بیٹی سارہ اور اُس کے دو بچوں کے گرد گھومتی ہے: میٹ، جو ابھی آٹھ کا ہوا ہے اور صوفی، جو چھ سال کی ہے۔ سارہ اور اُس کے شوہر دونوں فل ٹائم کام کرتے ہیں۔ ڈے کیئر مہنگا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ “ہم اجنبیوں پر بھروسا نہیں کرتے”،
اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ میں خوشی خوشی اپنی ریٹائرمنٹ دوسری نسل کی پرورش میں لگا دوں گی۔
اور میں نے لگا دی۔ کیونکہ میں اُن سے محبت کرتی ہوں۔
ہر ہفتے کے دن میں صبح 6:30 بجے اُن کے گھر ہوتی ہوں۔ ناشتہ بناتی ہوں، کار پول کے لیے ڈرائیو کرتی ہوں، گھر سمیٹتی ہوں کیونکہ “جب آپ یہاں ہی ہیں،امی۔۔”اور ہوم ورک، ضد اور سونے کے معمولات سنبھالتی ہوں۔ میں وہ دادی ہوں جو کہتی ہے،
“سبزیاں کھاؤ”، “دانت برش کرو”، اور “پہلے ہوم ورک”۔
میں نظم و ضبط والی دادی ہوں۔ بورنگ دادی۔
پھر شیلا ہے—میرے داماد کی ماں۔ وہ فلوریڈا میں رہتی ہے۔ اُس کے پاس پیسہ ہے۔ اُس کے ناخن ہمیشہ سجے ہوتے ہیں اور کپڑے کبھی لانڈری روم نہیں دیکھتے۔ شیلا وہ دادی ہے جو تہواروں پر کسی مشہور مہمان کی طرح آتی ہے—برانڈڈ تحائف اور میٹھے لوازمات کے ساتھ جو عام دنوں میں “منع” ہوتے ہیں۔ کل میٹ کی سالگرہ تھی۔
میں فجر سے پہلے اُٹھ گئی، اُس کا پسندیدہ کیک گھر پر بنایا۔۔
اپنی محدود آمدن میں سے ایک گرم سویٹر اور مہماتی کہانیوں کی کتاب خریدی۔
چار بجے شیلا مہنگے عطر کی خوشبو کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ “میرے بچے!” اُس نے پکارا۔ بچے میرے پاس سے دوڑتے ہوئے نکل گئے۔
اُس نے دو چمکتے سفید ڈبّے نکالے۔
بالکل نئے آئی پیڈ۔ “تاکہ تم بور نہ ہو جاؤ،” اُس نے خوشی سے کہا۔ “اور آج ۔۔۔کوئی اصول نہیں۔۔” بچے خوشی سے چیخے اور اسکرینوں میں گم ہو گئے۔
میری بیٹی اور اُس کا شوہر دمک رہے تھے۔ “اوہ، شیلا، آپ نے تکلف نہیں کرنا تھا! آپ کمال ہیں!”
میں کچن میں کھڑی وہ کیک کاٹ رہی تھی جسے کوئی دیکھ نہیں رہا تھا۔
جب میں نے میٹ کو اُس کا تحفہ دیا، اُس نے بمشکل نظر اٹھائی۔ “ابھی نہیں، دادی۔ میں اپنا کردار سیٹ کر رہا ہوں۔”
میں نے کیک کا ذکر کیا۔ وہ جھنجھلا گیا۔
“ہمیشہ کیک ہی ہوتا ہے۔ دادی شیلا آئی پیڈ لائیں۔ وہ اصل تحفہ ہے۔ آپ تو بس کپڑے اور بورنگ کتابیں لاتی ہیں۔”
میں نے سارہ کی طرف دیکھا، یہ امید کرتے ہوئے کہ وہ بیچ میں بولے گی۔ یہ یاد دلائے گی کہ روز اسے کون سنبھالتا ہے۔
اس کے بجائے وہ ہنس پڑی۔ “امی، ذاتی نہ لیں۔ بچوں کو ٹیکنالوجی پسند ہوتی ہے۔۔۔ شیلا فن دادی ہے۔۔ آپ تو روٹین دادی ہیں۔۔۔”روٹین۔۔
آج محبت، استحکام اور گرم کھانے اسی نام سے پکارے جاتے ہیں۔
پھر صوفی نے آہستہ سے کہا، “کاش دادی شیلا یہاں رہتیں۔ وہ ڈانٹتی نہیں۔ جو چاہیں کرنے دیتی ہیں۔ آپ ہمیشہ تھکی ہوتی ہیں۔”
میں نے کیک کی چھری رکھ دی اور کاؤنٹر سے ٹکرانے کی آواز سنی۔
میں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا—صفائی اور دیکھ بھال کے برسوں سے گھسے ہوئے۔۔۔ میں نے شیلا کو دیکھا— پرسکون اور چمکتی ہوئی۔ ۔ میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو مشروب کا گلاس لیے مطمئن تھی، مطمئن کہ بعد میں، میں ہی سب سنبھال لوں گی۔
میں نے اپنا ایپرن اتارا اور تہہ کر دیا۔ “سارہ،” میں نے کہا،
“میں جا رہی ہوں۔” وہ چونکی“کہاں؟ ہم نے ابھی کیک بھی نہیں کاٹا
“بس یہی تو بات ہے،” میں نے کہا۔ “صفائی تم سنبھالو گی۔”
اُس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ “امی، کل مجھے کام پر جانا ہے۔ اسکول ڈراپ آف کون کرے گا؟” “مجھے نہیں معلوم،”
میں نے سکون سے کہا “شاید فن دادی کچھ دن اور رک جائیں یا شاید اُن آئی پیڈز میں سے ایک بیچ کر مددگار رکھ لو"۔
وہ گھبرا گئی۔ “ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔”
“تمہیں میری ضرورت ہے،” میں نے کہا، “مگر تم میری قدر نہیں کرتے۔ میں یہاں خاندان نہیں—بلا معاوضہ مدد ہوں”
میں دروازے کی طرف بڑھی۔
میٹ نے آخرکار نظر اٹھائی۔ “دادی، کیا آپ کل آ رہی ہیں؟”
میں نے اداس مسکراہٹ دی۔ “نہیں، پیارے۔ کل تم آزاد ہو گے۔ نہ ہوم ورک کی یاد دہانی، نہ سبزیاں۔”
تب سے میرا فون بند نہیں ہوا۔ سارہ کہتی ہے یہ بس مذاق تھا۔
اُس کا شوہر کہتا ہے میں نے حد سے زیادہ ردِعمل دیا۔۔۔
مگر میں واپس نہیں جا رہی۔ کل میں نو بجے تک سوؤں گی۔۔۔
کافی اُس وقت پیوں گی جب وہ گرم ہو۔ بچا ہوا کیک کھاؤں گی ۔۔۔
اور اپنا پسندیدہ صبح کا شو دیکھوں گی— اکیلی اور سکون میں۔
میں نے ایک بات دیر سے سہی، مگر بہت دیر نہیں سیکھی: جب آپ سارا کام کریں، عزت نہ ملے، اور تالیاں کوئی اور لے جائے—
تو آپ کو چاہا نہیں جا رہا۔ آپ سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
اور میں نے باضابطہ طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
یہ ایک کہانی ہے مگر اس کے ساتھ کچھ سوال بھی جڑے ہیں۔۔
سوال:
کیا واقعی گرینڈ پیرینٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نواسے، نواسیوں یا پوتے، پوتیوں کی پرورش کریں—یا ہم خاموشی سے “خاندان” کے نام پر مفت چائلڈ کیئر بن چکے ہیں؟
کوی بھی انسان جو ہم سے جڑا ہے وہ اپنی ایک الگ جگہ رکھتا ہے، اور ہمیں یہ احساس تب ہوتا ہے جب وہ نہیں ہوتا۔
لہٰذا اپنے ساتھ رہنے والے قریبی لوگوں کی خدمت کا اعتراف بھی کریں اور انہیں احساس دلائیں کہ وہ اہم ہیں۔

Courtesy Muzaffar Khan

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zamatv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zamatv:

Share